صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 8)

حضرت حاجی محمد موسیٰ صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ:
ایک دفعہ میرے لڑکے عبدالمجید نے جس کی عمر اُس وقت قریباً چار برس کی تھی۔ اس بات پر اصرار کیا کہ میں نے حضرت صاحب کو چمٹ کر یعنی ’’جپھی‘‘ ڈال کر ملنا ہے۔ اُس نے مغرب کے وقت سے لے کر صبح تک یہ ضد جاری رکھی اور ہمیں رات کو بہت تنگ کیا۔ صبح اُٹھ کر پہلی گاڑی میں اُسے لے کر بٹالہ پہنچا اور وہاں سے ٹانگے پر ہم قادیان گئے اور جاتے ہی حضرت صاحب کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا کہ عبدالمجید آپ کو ملنا چاہتا ہے۔ گلے ملنا چاہتا ہے یا ’’جپھی‘‘ ڈالنا چاہتا ہے۔ (چھوٹا سا بچہ ہی تھا۔ چار سال عمر تھی) حضورؑ اس موقع پر باہر تشریف لائے اور عبدالمجید آپ کی ٹانگوں کو چمٹ گیا اور اس طرح اُس نے ملاقات کی اور پھر وہ چار سال کا بچہ کہنے لگا کہ ’’ہن ٹھنڈ پے گئی اے۔ ‘‘
(ماخوذ ازرجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ12 روایت حضرت حاجی محمد موسیٰ صاحبؓ)

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے صحابہؓ کی مالی قربانیوں کا خود بھی ذکر فرمایا کرتے تھے ۔ آپؑ فرماتے ہیں:
”میاں شادی خان لکڑی فروش ساکن سیالکوٹ ہیں۔ ابھی وہ ایک کام میں ڈیڑھ سو روپے چندہ دے چکے ہیں اور اب اس کام کے لیے دو سو روپے چندہ بھیج دیا ہے اور یہ وہ متوکّل شخص ہے کہ اگر اس کے گھر کا تمام اسباب دیکھا جائے تو شاید تمام جائداد پچاس روپیہ سے زیادہ نہ ہو۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ‘‘چونکہ ایامِ قحط ہیں اور دنیوی تجارت میں صاف تباہی نظر آتی ہے تو بہتر ہے کہ ہم دینی تجارت کر لیں اس لیے جو کچھ اپنے پاس تھا سب بھیج دیااور درحقیقت وہ کام کیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔‘‘
)مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 315۔ اشتہار یکم جولائی1900ء)

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 6)

حضرت میاں محمد دین صاحبؓ 313 اصحاب میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ آپ بچپن میں پنجوقتہ نمازوں اور تہجد کا اہتمام کرتے تھے مگر پھر اپنے ماحول کے زیر اثر تارک صلوٰۃ ہوگئے اور دہریت کا شکار ہوتے گئے۔ تقدیرِ الٰہی کے تابع آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ پڑھنے کی توفیق ملی اور ہستی باری تعالیٰ کے دلائل پڑھ کر دہریت کے سارے زنگ اُتر گئے۔ اُسی وقت کپڑے دھوئے اور گیلے کپڑے پہن کر ہی نماز پڑھنی شروع کی۔ محویت کے عالَم میں ایک طویل نماز پڑھی۔ فرماتے ہیں یہ نماز ’’براہین‘‘ نے پڑھائی اور بعد ازاں آج تک کوئی نماز مَیں نے نہیں چھوڑی۔

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 5)

مکرم مولانا محمد صدیق امرتسری مرحوم سابق مبلغ سیرا لیون اپنی سوانح عمری میں تحریر کرتے ہیں:
جہاں تک مجھے یاد ہے سیرالیون میں الحاج علی روجرز واحد ایسے مسلمان ہیں جنہوں نے احمدی ہوتے ہی الحاج مولانا نذیر احمد علی کی تحریک پر محض اسلام کی تعلیم پر صحیح طور پر عمل کرنے کی خاطر اور خوفِ خدا دل میں رکھتے ہوئے اور قیام شریعت کی غرض سے اپنی 15 بیویوں میں سے صرف چار دیندار اور مناسب حال منتخب کر کے باقی گیارہ بیویوں کو طلاق دے کر با عزت و احترام رخصت کر دیا تھا۔ حالانکہ ان میں سے اکثر اچھے خاندان اور امیر گھرانوں کی با اولاد خواتین تھیں۔
(روح پرور یادیں صفحہ424)

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 4)

حیدرآباد دکن سے بیعت کرنے والے سب سے پہلے خوش قسمت حضرت میر مردان علی صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں:
’’اگر ہماری جانیں بھی حضورؑ کے قدموں پر نثار ہوجائیں تو ہم حقِ خدمت سے سُبکدوش نہیں ہو سکتے۔ ‘‘
(الحکم 21؍جنوری 1903ء صفحہ 4)

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 3)

حضرت قاضی ضیاء الدین صاحبؓ آف قاضی کوٹ ضلع گوجرانوالہ حضورؑ کے دعویٰ سے بہت پہلے فروری 1885ء میں حضورؑ کی زیارت سے پہلی بار مشرف ہوئے اور صرف پانچ روزہ قیام میں حضورؑ کی صحبت سے اس قدر متأثر ہوئے کہ واپس روانگی سے پہلے مسجد اقصیٰ کی دیوار پر یہ فارسی شعر لکھ گئے۔
حسن و خوبی و دلبری بر تو تمام
صحبتے بعد از لقائے تو حرام

یعنی حسن و خوبی اور دل کشی کا خدا داد ملکہ آپؑ کی ذات پر مکمل ہو چکا ہے۔ اس لیے اب کوئی بھی صحبت آپؑ کی صحبت اور ملاقات کے بعد حرام ہے۔
(اصحاب احمد جلد ششم صفحہ11)

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 2)

جلسہ کے تیسرے روز اختتامی خطاب کے بعد نظمیں پڑھنے کی روایت ہے۔ جس میں اسٹیج کے قریب والے حاضرین کھڑے ہو کر حضور انور کا قریب سے دیدار کرتے ہیں۔ جلسہ سالانہ برطانیہ 2021ء چونکہ Covid 19 کے تمام تر SOPs کے ساتھ منعقد ہو رہا تھا۔ جس میں حاضرین کا ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنا ضروری تھا۔حاضرین نظموں کے دوران حسب سابق اسٹیج کے ارد گرد اکٹھےہو کر کھڑے ہوگئے تو حضور انور نے کرونا کے خطرے کو بھانپتے ہوئے فرمایا:
’’اپنی کرسیاں چھوڑ کر کیوں آگے آئے ہیں اپنی اپنی کرسیوں پر واپس جائیں‘‘
تو یہ خلافت کے متوالے اور جماعت کے فدائی اپنی کرسیوں پر واپس اِس طرح لپکے ہیں جس طرح عقاب اپنے شکار پر لپکتا ہے اور دوستوں کو جہاں جہاں جگہ ملی وہاں بیٹھ گئے۔ ایم ٹی اے کے توسط سے یہ تاریخی نظارہ ساری دنیا نے بالعموم اور احمدیوں نے بالخصوص دیکھا۔

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحبؓ کے محاسن کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اُن کے مال سے جس قدرمجھے مدد پہنچی ہے مَیں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اُس کے مقابل پر بیان کر سکوں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم از روحانی خزائن جلد3صفحہ520)

مزید پڑھیں

بزہد و ورع کوش و صدق و صفا         و لیکن میفزائے بر مصطفٰی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یاد رکھو! ہماری جماعت اس بات کے لئے نہیں ہے جیسے عام دنیا دار زندگی بسر کرتے ہیں۔ نِرا زبان سے کہہ دینا کہ ہم اس سلسلہ میں داخل ہیں اور عمل کی ضرورت نہ سمجھی جیسے بد قسمتی سے مسلمانوں کا حال ہے کہ پوچھو تم مسلمان ہو؟ تو کہتے ہیں شکر الحمدللہ! مگر نماز نہیں پڑھتے اور شعائرُ اللہ کی حرمت نہیں کرتے۔ پس مَیں تم سے یہ نہیں چاہتا کہ صرف زبان سے ہی اقرار کرو اور عمل سے کچھ نہ دکھاؤ یہ نکمّی حالت ہے۔ خدا تعالیٰ اِس کو پسند نہیں کرتا اور دنیا کی اس حالت نے ہی تقاضا کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اصلاح کے لئے کھڑا کیا ہے۔ پس اب اگر کوئی میرے ساتھ تعلق رکھ کر بھی اپنی حالت کی اصلاح نہیں کرتا اور عملی قوتوں کو ترقی نہیں دیتا۔ بلکہ زبانی اقرار ہی کو کافی سمجھتا ہے۔ وہ گویا اپنے عمل سے میری عدمِ ضرورت پر زور دیتا ہے۔ پھر تم اگر اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہتے ہو کہ میرا آنا بے سود ہے، تو پھر میرے ساتھ تعلق کرنے کے کیا معنے ہیں؟ میرے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہو تو میری اغراض و مقاصد کو پورا کرو اور وہ یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنا اخلاص اور وفا داری دکھاؤ اور قرآن.شریف کی تعلیم پر اُسی طرح عمل کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا اور صحابہ نے کیا۔ قرآن شریف کے صحیح منشا کو معلوم کرو اور اس پر عمل کرو۔خدا تعالیٰ کے حضور اتنی ہی بات کافی نہیں ہو سکتی کہ زبان سے اقرار کر لیا اور عمل میں کوئی روشنی اور سرگرمی نہ پائی جاوے۔ یاد رکھو کہ وہ جماعت جو خد اتعالیٰ قائم کرنی چاہتا ہے وہ عمل کے بدوں زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہ وہ عظیم الشّان جماعت ہے جس کی تیاری حضرت آدم کے وقت سے شروع ہوئی۔ کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا جس نے اس دعوت کی خبر نہ دی ہو۔ پس اِس کی قدر کرو اور اِس کی قدر یہی ہے کہ اپنے عمل سے ثابت کر کے دکھاؤ کہ اہلِ حق کا گروہ تم ہی ہو۔‘‘
(ملفوظات جلد3 صفحہ370-371 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

مسلمانوں پہ تب اِدبار آیا  کہ جب تعلیمِقرآں کو بُھلایا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے اور ایسی کامیابی ایک خیالی امر ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔ صحابہ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو۔ دیکھو! انہوں نے جب پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا تو وہ سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کئے تھے،پورے ہو گئے۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ409 )

مزید پڑھیں