حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ صوفیاء کا طریقہ تھا کہ دل سے دل کو پڑھاتے تھے وہ تمام سبق اسی طرح پڑھتے تھے۔ وہ بات زبان سے حاصل نہیں ہو سکتی تھی جو ایک قلب سے دوسرے قلب کو بجلی کی رَو کی طرح حاصل ہوتی ہے۔ الفاظ کا اثر کانوں کے ذریعہ ہوتا ہے مگر الفاظ بعض کیفیات کے متحمّل نہیں ہو سکتے۔ اصل سبق تو وہی تھے جو قلوب کے ذریعہ توجہ سے ہوتے تھے مگر آجکل کے جھوٹے صوفیوں نے جن کا نام توجہ کہا ہے یہ نہیں۔ وہ بھی خواہش اور کامل تزکیہ سے حاصل ہوتی ہے جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ظلّ اور بُروز کہا ہے ۔ ایک شخص خواہ کیسا ہی فصیح البیان ہو الفاظ کے ذریعہ ایک تصویر کو نہیں دکھا سکتا، لیکن اگر فوٹو سامنے رکھ دیا جائے تو فوراً تصویر کی تمام چیزیں نظر آجائیں گی۔ یہ سبق نہایت کار آمد اور اہم ہے لیکن اس کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ پس بعض تفصیلات الفاظ کے ذریعہ ادا نہیں ہو سکتیں۔ بلکہ بروز کے طور پر آتی ہیں۔ مثلاً کوئی شخص کہتا چلا جائے کہ ناک ایسی ہے کان ایسے ہیں آنکھ ایسی ہے مگر کوئی چیز ہو بہو سمجھ میں نہیں آسکتی ۔ ہاں فوٹو کے ذریعہ سب کچھ سمجھ میں آجاتا ہے۔ ‘‘
(خطبات محمود جلد6صفحہ 35-34)
مزید پڑھیں