سُستیاں ترک کرو طالبِ آرام نہ ہو

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کام کی یہ حالت ہوتی کہ ہم جب سوتے تو آپ کو کام کرتے دیکھتے اور جب آنکھ کھلتی تب بھی آپ کوکام کرتے دیکھتے اور باوجود اتنی محنت اور مشقّت برداشت کرنے کے جو دوست آپ کی کتابوں کے پروف پڑھنے میں شامل ہوتے آپ ان کے کام کی اس قدر، قدر فرماتے کہ اگر عشاء کے وقت بھی کوئی آواز دیتا کہ حضور! مَیں پروف لے آیا ہوں تو آپ چارپائی سے اُٹھ کر دروازہ تک جاتے ہوئے راستہ میں کئی دفعہ فرماتے جزاک اللّٰہ۔ آپ کو بڑی تکلیف ہوئی جزاک اللّٰہ۔ آپ کو بڑی تکلیف ہوئی۔ حالانکہ وہ کام اس کام کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہوتا تھا جو آپ خود کرتے تھے۔ غرض اس قدر کام کرنے کی عادت ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں دیکھی ہے کہ اس کی وجہ سے ہمیں حیرت آتی۔ بیماری کی وجہ سے بعض دفعہ آپ کو ٹہلنا پڑتا مگر اس حالت میں بھی آپ کام کرتے جاتے۔ سیر کے لئے تشریف لے جاتے تو راستہ میں بھی مسائل کا ذکر کرتے اور سوالات کے جوابات دیتے۔“

مزید پڑھیں

صحبتِ صالحین اور ہمارے جلسے (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس جلسہ سے مدعا اور مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کرلیں کہ اِن کے دل آخرت کی طرف بکلّی جھک جائیں اور اِن کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مؤاخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکساری اور تواضع اور راستبازی اِن میں پیدا ہو اور وہ دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں‘‘
(شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد6صفحہ 394)

مزید پڑھیں

صحبتِ صالحین اور ہمارے جلسے (تقریر نمبر1)

حضر ت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’دو چیزیں ہیں ایک تو دعا کرنی چاہئے اور دوسرا طریق یہ ہے کُونُوا مَعَ الصّٰدِقِینَ راستبازوں کی صحبت میں رہو تاکہ ان کی صحبت میں رہ کر تم کو پتہ لگ جاوے کہ تمہاراخدا قادر ہے، بینا ہے، دیکھنے والا ہے، سننے والا ہے، دعائیں قبول کرتا ہے اور اپنی رحمت سے اپنے بندوں کو صدہا نعمتیں دیتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد ششم صفحہ62)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (تربیتِ اولاد) (تقریر نمبر10)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اِس دنیا کی اصلاح کے لیے بکثرت احمدیوں کی ضرورت ہے جو مصلح موعود کی صفات سے آراستہ ہوں جو اُن تمام ہتھیاروں سے لیس ہوں جو مصلح موعود کو عطا کیے گئے تھے پس جب مَیں کہتا ہوں کہ آپ مصلح موعود بنیں اور آپ کے بڑے بھی مصلح موعود بنیں تو ہر گز یہ نہیں کہتا کہ بلند مراتب کی تمنا کریں بلکہ مَیں یہ کہتا ہوں کہ ان صفات کی اپنے ربّ سے بھیک مانگیں جو صفات آج کے زمانہ کے انسان کے احیاء نو کے لیے ضروری ہیں ۔ ‘‘
(خطاب حضور رحمہ اللہ 23 فروری 1986ء بحوالہ ماہنامہ خالد فروری 1991ء)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (انعامات الٰہی  و شکر خداوندی) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یہ اللہ تعالیٰ کا کمال فضل ہے کہ اس نے کامل اور مکمل عقائد صحیحہ کی راہ ہم کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بدوں مشقت اور محنت کے دکھائی ہے۔وہ راہ جو آپ لوگوں کو اس زمانے میں دکھائی گئی ہے بہت سے عالم ابھی تک اس سے محروم ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کے اس فضل اور نعمت کا شکر کرو اور وہ شکر یہی ہے کہ سچے دل سے ان اعمال صالحہ کو بجا لاؤ جو عقائد صحیحہ کے بعد دوسرے حصہ میں آتے ہیں اور اپنی عملی حالت سے مدد لے کر دعا مانگوکہ وہ ان عقائد صحیحہ پر ثابت قدم رکھے اور اعمال صالحہ کی توفیق بخشے‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ95-94)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (صحابہ رضوان اللہ علیہم) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’حقیقت میں کوئی قوم اور جماعت تیار نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس میں اپنے امام کی اطاعت اور اتباع کے لئے اس قسم کا جوش اور اخلاص اور وفا کا مادہ نہ ہو۔حضرت مسیحؑ کو جو مشکلات اور مصائب اٹھانے پڑے، ان کے عوارض اور اسباب میں سے جماعت کی کمزوری اور بیدلی بھی تھی ……اِس کے برخلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے وہ صدق و وفا کا نمونہ دکھایا جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ انہوں نے آپؐ کی خاطر ہر قسم کا دکھ اٹھانا سہل سمجھا۔ یہاں تک کہ عزیز وطن چھوڑ دیا۔ اپنے املاک واسباب اور احباب سے الگ ہو گئے اور بالآخر آپ کی خاطر جان تک دینے سے تأمل اور افسوس نہیں کیا۔ یہی صدق اور وفا تھی جس نے ان کو آخر کا ر بامرا د کیا۔ اِسی طرح مَیں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری جماعت کوبھی اس کی قدر اور مرتبے کے موافق ایک جوش بخشا ہے اور وہ وفا داری اور صدق کا نمونہ دکھاتے ہیں۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ نمبر223-224۔ ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (خلافت علیٰ منہاج النبوۃ) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”خلیفہ کے معنی جانشین کے ہیں جو تجدیدِ دین کرے ۔ نبیوں کے زمانے کے بعد جو تاریکی پھیل جاتی ہے اس کو دور کرنے کے واسطے جو ان کی جگہ آتے ہیں انہیں خلیفہ کہتے ہیں“
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 384)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) (تقریر نمبر4)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں:
’’ کاش کہ مخالفین آپؑ کی کتب پڑھیں۔ آپؑ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدات و نشانات کو دیکھیں جو صفحات پر نہیں جیساکہ میں نے کہا کئی کتابوں پر مشتمل ہیں۔ زمانے کی ضرورت کو بھی دیکھیں بلکہ زمانے کی ضرورت کے مطابق خود یہ اعتراض کرنے والے علماء بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ زمانہ کسی مصلح اور مہدی کو چاہتا ہےلیکن پھر بھی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہے اس کا خود بھی انکار کر رہے ہیں اور عامۃ المسلمین کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔ آسمانی نشانیاں پوری ہوئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں، لیکن پھر بھی یہ اپنی بدقسمتی کو ہی آواز دے رہے ہیں۔ اس طرف نہیں دیکھتے۔
آج مسلمان اگر اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ جو مسیح ومہدی آنے والا تھا وہ آ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی عاشق اور غلامِ صادق بھی یہی ہے اور اس کی بیعت میں آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بموجب ضروری ہے اور کامل وفا کے ساتھ اس کی بیعت میں شامل ہو جائیں تو مسلمان ان کو ماننے کے بعد دنیا میں اپنی برتری منوا سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بن سکتے ہیں ورنہ یہی ان کا حال رہنا ہے جو ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو عقل اور سمجھ دے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 24؍مارچ2023ء )

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (قرآنِ کریم) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’میرا بڑا حصہ عمر کا مختلف قوموں کی کتابوں کے دیکھنے میں گزرا ہے مگر مَیں سچ مچ کہتا ہوں کہ میں نے کسی دوسرے مذہب کی تعلیم کو خواہ اس کا عقائد کا حصہ اور خواہ اخلاقی حصہ اور خواہ تدبیر منزلی اور سیاست مدنی کا حصہ اور خواہ اعمال صالحہ کی تقسیم کا حصہ ہو۔ قرآن شریف کے بیان کے ہم پہلو نہیں پایا۔‘‘
(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد23 صفحہ62 طبع اول)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا تھا۔ یعنی انسان کامل کو ۔ وہ ملائک میں نہیں تھا ۔ نجوم میں نہیں تھا ۔ قمر میں نہیں تھا ۔ آفتاب میں بھی نہیں تھا ۔ وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا ۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا ۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا ۔ صرف انسان میں تھا ۔ یعنی انسان کامل میں ۔ جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سیّد ومولیٰ سید الانبیاء سیّد الاحیاء محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 160)

مزید پڑھیں