خلافت ایک خزانہ ہے۔ اِس سے فائدہ اُٹھائیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’ پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو یہی نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہوجائیں۔اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ ہماری ساری ترقیات کا دارومدار خلافت سے وابستگی میں پنہاں ہے ۔“
(الفضل انٹر نیشنل 23تا 30مئی 2003ءصفحہ اول)

مزید پڑھیں

تصویرکھنچوانے کے متعلق ارشادات (حضرت مسیح موعودؑ و خلفائے کرام) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ صوفیاء کا طریقہ تھا کہ دل سے دل کو پڑھاتے تھے وہ تمام سبق اسی طرح پڑھتے تھے۔ وہ بات زبان سے حاصل نہیں ہو سکتی تھی جو ایک قلب سے دوسرے قلب کو بجلی کی رَو کی طرح حاصل ہوتی ہے۔ الفاظ کا اثر کانوں کے ذریعہ ہوتا ہے مگر الفاظ بعض کیفیات کے متحمّل نہیں ہو سکتے۔ اصل سبق تو وہی تھے جو قلوب کے ذریعہ توجہ سے ہوتے تھے مگر آجکل کے جھوٹے صوفیوں نے جن کا نام توجہ کہا ہے یہ نہیں۔ وہ بھی خواہش اور کامل تزکیہ سے حاصل ہوتی ہے جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ظلّ اور بُروز کہا ہے ۔ ایک شخص خواہ کیسا ہی فصیح البیان ہو الفاظ کے ذریعہ ایک تصویر کو نہیں دکھا سکتا، لیکن اگر فوٹو سامنے رکھ دیا جائے تو فوراً تصویر کی تمام چیزیں نظر آجائیں گی۔ یہ سبق نہایت کار آمد اور اہم ہے لیکن اس کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ پس بعض تفصیلات الفاظ کے ذریعہ ادا نہیں ہو سکتیں۔ بلکہ بروز کے طور پر آتی ہیں۔ مثلاً کوئی شخص کہتا چلا جائے کہ ناک ایسی ہے کان ایسے ہیں آنکھ ایسی ہے مگر کوئی چیز ہو بہو سمجھ میں نہیں آسکتی ۔ ہاں فوٹو کے ذریعہ سب کچھ سمجھ میں آجاتا ہے۔ ‘‘
(خطبات محمود جلد6صفحہ 35-34)

مزید پڑھیں

’’ ستائیس کو خوشیاں منائیں گے ‘‘ (الہام حضرت مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لیے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک مَیں نہ جاؤں ۔ ‘‘
(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد20صفحہ305)

مزید پڑھیں

قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں تقویٰ کی حقیقی روح

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کثرت سے کیا کرتے تھے کہ :
”اے اللہ! مَیں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور غنا کا سوال کرتا ہوں۔‘‘
(ترمذی کتاب الدعوات)

مزید پڑھیں

”ہم ایک بِھیڑ ہیں، جانوروں کا انبوہ ہیں “ ( مخالفینِ احمدیت کا اعتراف)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دشمنان احمدیت کو صد سالہ خلافت جوبلی کے تاریخی خطاب میں مخاطب ہو کر فرمایا تھا ۔
” اے دشمنان احمدیت! مَیں تمہیں دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر تم خلافت کے قیام میں نیک نیت ہو تو آؤ! اور مسیح محمدی کی غلامی قبول کرتے ہوئے اس کی خلافت کے جاری و دائمی نظام کا حصہ بن جاؤ ورنہ تم کوششیں کرتے کرتے مرجاؤ گے اور خلافت قائم نہ کرسکو گے ۔ تمہاری نسلیں بھی اگر اسی ڈگر پر چلتی رہیں تو وہ بھی کسی خلافت کو قائم نہیں کرسکیں گی ۔ قیامت تک تمہاری نسل در نسل یہ کوشش جاری رکھے تب تک کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ “
( خطاب 27 مئی 2008ء)

مزید پڑھیں

ہم یومِ خلافت کیوں مناتے ہیں؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو کہ انسان کو چاہئے کہ… اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ:12) پر عمل کرے۔ خداتعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی تحدیث کرنی چاہئے۔اس سے خدا تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے اور اُس کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے ایک جوش پیدا ہوتا ہے۔ تحدیث کے یہی معنی نہیں ہیں کہ انسان صرف زبان سے ذکر کرتارہے بلکہ جسم پر بھی اس کا اثر ہونا چاہئے۔ ‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ زیر سورۃ الضحیٰ آیت12 )

مزید پڑھیں

اسلامی اصطلاح ’’ فِیْٓ اَمَانِ اللّٰہِ‘‘کا استعمال

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف کی اصطلاح کے روسے خدا تعالیٰ رحیم اس حالت میں کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دعا اور تضرّع اور اعمالِ صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضییعِ اعمال سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔“
(تفسیر سورۃ الفاتحہ از حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ 83 – 85)

مزید پڑھیں

دعائیہ کلمہ ’’مَاشَاءَ اللّٰہ‘‘ کا استعمال باعثِ برکت ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ جس بات کو وہ چاہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جو کچھ وہ دیوے کوئی اس کو ردّ نہیں کر سکتا وہ اپنے دین کا حافظ ہے اور تمام ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کریں ۔‘‘
( روحانی خزائن جلد8نور الحق الحصۃ الاولیٰ صفحہ 24)

مزید پڑھیں

مقاماتِ حج ،شعائرُاللہ اور اسلامی اصطلاحات میں شامل

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ حج سے صرف اتنا ہی مطلب نہیں کہ ایک شخص گھر سے نکلے اور سمندر چیر کر چلا جاوے اور رسمی طور پر کچھ لفظ منہ سے بول کر ایک رسم ادا کرکے چلا آوے۔ اصل بات یہ ہے کہ حج ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہے جو کمال سلوک کا آخری مرحلہ ہے۔ سمجھنا چاہیے کہ انسان کا اپنے نفس سے انقطاع کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں کھویا جاوے اور تعشُّق باللہ اور محبتِ الٰہی ایسی پیدا ہوجاوے کہ اس کے مقابلہ میں نہ اُسے کسی سفر کی تکلیف ہو اور نہ جان ومال کی پرواہ ہو، نہ عزیزواقارب سے جدائی کا فکر ہو، جیسے عاشق اور محبّ اپنے محبوب پر جان قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے اسی طرح یہ بھی کرنے سے دریغ نہ کرے۔ اس کا نمونہ حج میں رکھا ہے۔ جیسے عاشق اپنے محبوب کے گرد طواف کرتا ہے اسی طرح حج میں بھی طواف رکھاہے۔‘‘
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 102۔ 103، ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

حج بیتُ اللہ اور عیدُ الاضحیٰ بطور شعائرُاللہ اور اسلامی اصطلاح

حضرت ابو ہریرہ ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حجاج کے حق میں بیان کی:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْحَآجِّ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهٗ الْحَآجُّ
)مستدرک حاکم جلد1صفحہ441(
اے اللہ! حاجیوں کو بھی بخش دے اور ان کو بھی جن کے لئے حاجیوں نے بخشش مانگی ہے۔

مزید پڑھیں