ایمان کے دو حصّے، ایک صبر اور دوسرا شکر ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر 22)

حضرت اسامہ بن زیدؓ نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس سے کوئی نیکی کی گئی اور اس نے اس کے کرنے والے سے کہا جَزَاکَ اللّٰہُ۔ جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین جزا دے تو اس نے تعریف کا حق ادا کر دیا۔
(جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ باب ماجاءفی الثناء بالمعروف حدیث2035)

مزید پڑھیں

بدگمانی، آکاس بیل کی طرح تمام نیکیوں کو بھسم کر دیتی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
’’ اکثر لوگوں میں بدظنّی ںکا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بھائی سے نیک ں ظنّینہیں رکھتے اور ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بُرے بُرے خیالات کر ں نے
لگتے ہی اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہی کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔ اس لئے ں ل ضروری ہے ں کہ
ّ
او
ں
ّ
حت
ی ںالوسع ںاپنے بھائیوں پر بدظنّی ںنہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظنّ ںرکھا جاوے کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔ اور اُنس پیدا ہوتا ہے اور آپس میں قوّت ںپیدا ہوتی ہے او ں ر
اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کینہ، بغض حسد وغیرہ سے بچا رہتا ہے‘ں‘ ں
)ملفوظات جلد 4 صفحہ 214 ۔ 215 ا ں یڈیشن 1988 ء( ں

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (از روئے قرآن کریم ) (تقریر نمبر4)

حضرت خلیفۃُ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے سورۃ الانبیاء آیت 80 کے تحت فٹ نوٹ میں تحریر فرمایا ہے کہ
” ( طیّور کا لفظ استعارہ ہے یعنی ) وہ انسان جن کو روحانی طور پر اُڑنے کی طاقت دی گئی اور وہ تیز رفتار سوار جو پرندوں کی طرح تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے تھے۔ حضرت سلیمانؑ کی فوج کے سب سے تیز رسالہ کو بھی پرندوں کا لشکر قرار دیا گیا ہے۔ “

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (تقریر نمبر3)

حضرت خلیفۃُ المسیح الثالث رحمہ اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
”لیکن ایک شخص جسے مثلاً اللہ تعالیٰ نے ترقی کرنے کی سوا کائیاں عطا کی ہوں مگر وہ اپنے نکمے پن کی وجہ سے ان میں سے پچاس کو ضائع کر دے تو وہ اس سیب کی طرح ہے جس کا آدھا حصہ گلا سڑا ہواہوتا ہے یا اس کی حالت اس آم کی سی ہے جس کی ایک طرف کیڑا لگ جاتا ہے اور دوسری طرف سے قابلِ استعمال بھی ہوتا ہے یا ایک ایسی سیڑھی کی طرح ہے جو درمیان میں سے ٹوٹ گئی ہو یا اس کی مثال ایسے پرندے کی ہے جس کے اڑن پروں ( پرندوں کے جو پر ہوتے ہیں ان کے بعض حصے پرندے کو اڑنے میں مدد دیتے ہیں اور بعض اس کے Balance ( توازن ) کو قائم رکھنے میں مدد دیتےہیں ) میں سے دو چار پَر گر گئے ہوں اور وہ اتنی پرواز کے قابل نہ رہا ہو جتنی پرواز کی طاقت اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کر رکھی ہے۔ ہم نے بعض دفعہ شکار کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ اگر کسی مرغابی کے پر کا اگلا حصہ معمولی سا بھی زخمی ہو جائے تو وہ اپنی ڈار کے ساتھ اُڑ نہیں سکتی ۔ غرض جو چیز اپنی ڈار کے ساتھ اڑ نہیں سکتی اس کے متعلق آپ سمجھ سکتے ہیں کہ پھر وہ منافقوں کی ڈار کے ساتھ مل جاتی ہے۔ منافق کے اندر بھی پہلے تھوڑی سی کمزوری پیدا ہوتی ہے پھر گلے شکوے پیدا ہوتے ہیں جس کی ذمہ داری دراصل خود اس پر عائد ہوتی ہے پھر وہ ایسی تکلیف محسوس کرتا ہے جو درحقیقت کسی اور کی پیدا کردہ نہیں ہوتی ۔“
(خطبات ناصر جلد 2 صفحہ 752(

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (تقریر نمبر2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
” مؤمن کو چاہئے کہ بڑا بلند پرواز ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو کیونکہ ساری بلند پروازگیوں کی انتہاء اللہ کی رضا ہے۔ بلند پروازگی کے بالمقابل مؤمن کا ایک نزول بھی ہوتا ہے اور یہ نزول قرآن شریف میں شفقت علی خلق اللہ کہلاتا ہے ۔ اس نزول میں بھی ایک بلند پروازگی ہوتی ہے اور مؤمن بڑا ہی مستقل مزاج ہوتا ہے۔“
(ارشادات نور جلد 1 صفحہ 143(

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (تقریر نمبر1)

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سورۃ النمل آیت17 کے تحت فٹ نوٹ میں تحریر فرماتے ہیں۔
” ہم دوسری جگہ لکھ چکے ہیں کہ طَیۡرٌکے معنیٰ آسمانی پرواز کرنے والے لوگوں ( یعنی برگزیدہ لوگوں ) کے ہوتے ہیں ۔ وہی معنیٰ اِس جگہ پرندوں کے ہیں۔“
(فٹ نوٹ ۔ تفسیر صغیر سورۃ النمل آیت : 17 صفحہ 619)

مزید پڑھیں

حق مہر کی اہمیت (خلفاء کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ جہاں تک خلع اور طلاق کا تعلق ہے اگر کوئی خاوند صرف مہر کی ادائیگی سے بچنے کے لئے عورت کو تنگ کرتا ہے کہ وہ خلع لے لے اور سمجھتا ہے کہ اِس طرح اُس کو مہر نہیں دینا پڑے گا تو وہ بڑا احمق ہے اسے جماعت چھوڑ دینی چاہیے۔ مَیں تمہیں شریعت اسلامیہ سے استہزاء نہیں کرنے دوں گا جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہیں کرنے دیا تھا ۔‘‘
( خطبات ناصر جلد 7صفحہ421 )

مزید پڑھیں

تین سلام

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ اپنے گھروں کو اس انعام سے فائدہ اٹھانے والا بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری تربیت کے لئے ہمارے علمی اور روحانی اضافے کے لئے ہمیں دیا ہے تاکہ ہماری نسلیں احمدیت پر قائم رہنے والی ہوں۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے آپ کو ایم ٹی اے سے جوڑیں۔ اب خطبات کے علاوہ اور بھی بہت سے لائیو پروگرام آرہے ہیں جوجہاں دینی اور روحانی ترقی کا باعث ہیں وہاں علمی ترقی کا بھی باعث ہیں۔ جماعت اس پر لاکھوں ڈالر ہر سال خرچ کرتی ہے اس لئے کہ جماعت کے افراد کی تربیت ہو۔ اگر افراد جماعت اس سے بھر پور فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو اپنے آپ کو محروم کریں گے…ایم ٹی اے کی ایک اور برکت بھی ہے کہ یہ جماعت کو خلافت کی برکات سے جوڑنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ پس اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 2013 ء)

مزید پڑھیں