قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال (2 کے ہندسہ کا لطیف اور دلچسپ ذکر) (تقریر نمبر 2)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
” نزولِ قرآن کے زمانہ میں تو عربوں کے نزدیک نَر اور مادہ کی صورت میں صرف کھجوروں کے جوڑے ہوا کرتے تھے اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ہر قسم کے پھلوں کے پَودوں کا جوڑا جوڑا بنایا ہے…آج کی سائنس نے اِس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے یہاں تک کہ مادہ کے اور ایٹمز کے بھی اور ذرّات کے بھی جوڑے جوڑے ہیں۔ غرضیکہ جوڑوں کا مضمون ایک لامتناہی مضمون ہے اور توحید کے مضمون کو سمجھنے کے لئے اس مضمون کو سمجھنا ضروری ہے۔ صرف کائنات کا خالق ہی ہے جس کو جوڑے کی ضرورت نہیں ورنہ سب مخلوق جوڑے کی محتاج ہے۔“
(تعارف سورۃ یٰس ترجمۃ القرآن صفحہ 771)
