قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال (2 کے ہندسہ کا لطیف اور دلچسپ ذکر) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
” نزولِ قرآن کے زمانہ میں تو عربوں کے نزدیک نَر اور مادہ کی صورت میں صرف کھجوروں کے جوڑے ہوا کرتے تھے اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ہر قسم کے پھلوں کے پَودوں کا جوڑا جوڑا بنایا ہے…آج کی سائنس نے اِس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے یہاں تک کہ مادہ کے اور ایٹمز کے بھی اور ذرّات کے بھی جوڑے جوڑے ہیں۔ غرضیکہ جوڑوں کا مضمون ایک لامتناہی مضمون ہے اور توحید کے مضمون کو سمجھنے کے لئے اس مضمون کو سمجھنا ضروری ہے۔ صرف کائنات کا خالق ہی ہے جس کو جوڑے کی ضرورت نہیں ورنہ سب مخلوق جوڑے کی محتاج ہے۔“
(تعارف سورۃ یٰس ترجمۃ القرآن صفحہ 771)

مزید پڑھیں

قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال (اَحَدٌ اور وَاحِدٌ کا دلچسپ ذکر) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” اَحَدٌ “ اور ”وَاحِدٌ “ جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ ان میں فرق یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے لئے اَحَدٌکا لفظ استعمال ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی وحدانیت کو بیان کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس کا اگر تصوّر کریں تو دوسری کسی ذات کا خیال بھی دل میں نہیں آتا۔
اور جب اللہ تعالیٰ کے لئے وَاحِدٌ کا لفظ استعمال کیا جائے تو وہاں صفات کی وحدانیت مراد ہوتی ہے کہ وہ صفات میں واحد ہے یعنی اپنی صفات میں کامل ہے اور اس کے سوا کئی اور وجود نہیں جو صفات کے لحاظ سے کامل ہو۔ “
( تفسیر کبیر جلد 10صفحہ 525)

مزید پڑھیں

صفتِ ربُوبیّت، رحمانیّت اور رحیمیّت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ربوبیت کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ تمام عالَموں کا پیدا کرنے والا اور ان کا سنبھالنے والا اور تمام کائنات کے قوّام کا اصل موجب وہی ہے۔ یعنی دنیا میں جتنے اجسام اور ارواح اور فلک اور ارض اور حیوان اور جماد اور نبات ہیں یہ سب خدا تعالیٰ کی ربُوبیّت سے پرورش پاتے ہیں… اور یہ ربُوبیّت بغیر کسی استحقاق کے محض اپنے ذاتی فضل سے ہر ایک وجود کو درجہ بدرجہ کمال تک پہنچاتی ہے۔“
(سرمہ چشمِ آریہ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 179-180)

مزید پڑھیں

اصلاح نفس اَور حضرت مسیح موعودؑ کی روح پرور نصائح

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ وہی لوگ ہیں جو اپنی زندگی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے اللہ تعالیٰ ہی کی راہ میں وقف کر دیتے ہیں اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں قربان کرنا اپنے مال کو اس کی راہ میں صرف کرنا اس کا فضل اور اپنی سعادت سمجھتے ہیں مگر جو لوگ دنیا کی املاک وجائیداد کو اپنا مقصود بالذات بنالیتے ہیں وہ ایک خوابیدہ نظر سے دین کو دیکھتے ہیں مگر حقیقی مؤمن اور صادق مسلمان کا یہ کام نہیں ہے۔ سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو مادام الحیات وقف کر دے تاکہ وہ حیات طیبہ کا وارث ہو۔ چنانچہ خود اللہ تعالیٰ اس للٰہی واقف کی طرف ایماء کر کے فرماتا ہے بَلٰی مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَ مُحۡسِنٌ فَلَہٗۤ اَجۡرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ۪ وَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ اس جگہ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ کے معنی یہی ہیں کہ ایک نیستی اور تذلل کا لباس پہن کر آستانہ الوہیت پر گرے اور اپنی جان، مال، آبروغرض جو کچھ اس کے پاس ہے خدا ہی کے لئے وقف کرے اور دنیا اور اس کی ساری چیزیں دین کی خادم بنا دے۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ364)

مزید پڑھیں

’’ نفس کا اِمام ‘‘ (حضرت خلیفۃُ المسیح الرابعؒ ؒ )

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’مخالفتِ نفس بھى اىک عبادت ہے۔ انسان سویا ہواہوتا ہے۔ جى چاہتا ہے کہ اَور سولے مگر وہ مخالفتِ نفس کرکے مسجد جاتا ہے تو اس مخالفت کا بھى اىک ثواب ہے‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ416 )

مزید پڑھیں

گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اصل یہ ہے کہ صالحین اور فانین فی اللہ کی محبت ایک عمدہ شے ہے لیکن حفظ مراتب ضروری ہے۔
گر حفظ مراتب نہ گنی زندیقی
پس خدا کو خدا کی جگہ، رسول کو رسول کی جگہ سمجھو اور خدا کے کلام کو دستور العمل ٹھہرا لو۔ “
(ملفوظات جلد2 صفحہ 305)

مزید پڑھیں

حفظ ِمراتب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچے دل سے پیروی کرنا اور آپ سے محبت رکھنا انجام کار انسان کو خدا کا پیارا بنا دیتا ہے ۔ اس طرح پر کہ خود اس کے دل میں محبت الہٰی کی ایک سوزش پیدا کر دیتا ہے۔ تب ایسا شخص ہر ایک چیز سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف جھک جاتا ہےاور اس کا اُنس و شوق صرف خدا تعالیٰ سے باقی رہ جاتا ہے۔ تب محبت الہٰی کی ایک خاص تجلّی اس پر پڑتی ہے اور اس کو ایک پورا رنگ عشق اور محبت کا دیکر قوی جذبہ کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ تب جذباتِ نفسانیہ پر وہ غالب آ جاتا ہے اور اس کی تائید اور نصرت میں ہر ایک پہلو سے خدا تعالیٰ کے خارق عادت افعال نشانوں کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ 67-68)

مزید پڑھیں

تربیتِ اولاد اور مالی قربانی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لئے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لیے سعی اور دعا کرو ۔ جس قدر کوشش تم ان کے لئے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اُسی قدر کوشش اس امر میں کرو “
(ملفوظات جلد صفحہ109)

مزید پڑھیں

انسانی جسم بطور ایک خِلعتِ فَاخرہ

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”انسان کے تمام اعمال کا منبع اُس کا دل ہے۔ اگر انسان کے دل میں نیک اور پاکیزہ جذبات ہوں گے تو اس کے سارے اعمال لازماً نیکی کے رستہ پر چلیں گے لیکن اگر دل کے جذبات ناپاک اور گندے ہوں گے تو اعمال بھی لامحالہ گندے رستہ پر پڑ جائیں گے کیونکہ دل کے جذبات بیج کا رنگ رکھتے ہیں اور عمل وہ درخت ہے جو اُس کے بیج سے پیدا ہوتا ہے۔ “
( چالیس جواہر پارے صفحہ 115)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ نبوت (حضور علیہ السلام کی تحریرات سے) )تقریرنمبر 10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” مَیں رسول اور نبی نہیں ہوں باعتبار نئی شریعت اور نئے دعویٰ اور نئے نام کے اور مَیں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیّت کاملہ کے وہ آئینہ ہوں جس میں محمدیؐ شکل اور محمدی نبوت کا کامل اِنعکاس ہے۔ “
(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 381 حاشیہ)

مزید پڑھیں