بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ پڑھنے کی برکات )تقریر نمبر 1)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر قابل قدر اور سنجیدہ کام اگر خدا تعالیٰ کی حمد وثنا کے بغیر شروع کیا جائے تووہ بے برکت اور ناقص رہتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ہر قابل قدر گفتگو (اور تقریر وغیرہ) اگر خدا تعالیٰ کی حمد وثنا کے بغیر شروع کی جائے تو وہ برکت سے خالی اور بے اثر ہوتی.ہے۔
(حدیقۃ الصالحین حدیث 20 صفحہ43)

مزید پڑھیں

تَعَوُّذ یعنی اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھنے کا حکم

ایک بچے نے حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ کوئی نیک کام کرنے سے پہلے جب شیطان ہمیں بہکاتا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔
” تَعَوُّذ اور استغفار پڑھیں، ثابت قدم رہیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔“
(الفضل انٹرنیشنل 23 اکتوبر 2020ء)

مزید پڑھیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ کو ترویج دینا (ارشادات مسیح موعودؑ اور خلفاء کی روشنی میں) ( تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کو رواج دیں۔ اس کی یہاں تک تاکید ہے کہ اگر خالی مکان میں بھی کبھی جانا ہو تو اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَ عَلٰی عِبَادِہِ الصَّالِحِیْنَ کہیں۔‘‘
(ارشادات نورجلد دوم صفحہ 491)

مزید پڑھیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ کو ترویج دینا ( تقریر نمبر 1)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سوار پیدل چلنے والے کو اور پیدل چلنے والا بیٹھنے والے کو اور تھوڑے زیادہ آدمیوں کو سلام کریں (یعنی سلام میں پہل کریں۔)
(بخاری، کتاب الاستئذان باب سلام الراکب علی الماشی بحوالہ حدیقۃ الصالحین حدیث497 صفحہ484)

مزید پڑھیں

انٹرنس اور ایگزٹ Entrance اَور  Exit

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19صفحہ12)

مزید پڑھیں

فتنوں سے خلاصی کی صورت کتابُ اللہ ہے  (حدیث نبویؐ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ قرآن شریف پر تدبُّر کرو اس میں سب کچھ ہے۔ نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہے اور آئندہ زمانے کی خبریں ہیں وغیرہ۔ بخوبی سمجھ لو کہ یہ وہ مذہب پیش کرتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے برکات اور ثمرات تازہ بتازہ ملتے ہیں۔ انجیل میں مذہب کو کامل طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ اس کی تعلیم اس زمانے کے حسب حال ہو تو ہو، لیکن وہ ہمیشہ اور ہر حالت کے موافق ہرگز نہیں۔ یہ فخر قرآن مجید ہی کو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہر مرض کا علاج بتایا ہے اور تمام قویٰ کی تربیت فرمائی ہے اور جو بدی ظاہر کی ہے اس کے دور کرنے کا طریق بھی بتایا ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور دعا کرتے رہو اور اپنے چال چلن کو اس کی تعلیم کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو۔ ‘‘
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 102)

مزید پڑھیں

ماں کا نعم البدل کوئی نہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ سب سے زیادہ خدمت کی مثال اگر دنیا میں موجود ہے تو وہ ماں کی بچے کے لئے خدمت ہی ہے۔ اب یہاں رہنے والے، مغرب کی سوچ رکھنے والے، بلکہ ہمارے ملکوں میں بھی، برصغیر میں بھی، بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ماں باپ کی خدمت نہیں کرسکتے، ایک بوجھ سمجھتے ہیں اور یہ لکھتے ہیں کہ جماعت ایسے بوڑھوں کے مراکز کھولے جہاں یہ بوڑھے داخل کروا دئے جائیں کیونکہ ہم تو کام کرتے ہیں، بیوی بھی کام کرتی ہے، بچے اسکول چلے جاتے ہیں اور جب گھر آتے ہیں تو بوڑھے والدین کی وجہ سے ڈسٹرب (Disturb)ہوتے ہیں، اس لئے سنبھالنا مشکل ہے۔ کچھ خوف خدا کرنا چاہئے۔ قرآن توکہتاہے کہ ان کی عزت کرو، ان کا احترام کرو اور اس عمر میں اُن پررحم کے پرجھکا دو۔ جس طرح بچپن میں انہوں نے ہرمصیبت جھیل کر تمہیں اپنے پروں میں لپیٹے رکھا۔ تمہیں اگر کسی نے کوئی تکلیف پہنچانے کی کوشش کی تو مائیں شیرنی کی طرح جھپٹ پڑتی تھیں۔ اب ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے توکہتے ہو کہ ان کو جماعت سنبھالے۔ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے سنبھالتی ہے لیکن ایسے بوڑھوں کو جن کی اولاد نہ ہویاجن کے کوئی اور عزیز رشتے دار نہ ہوں۔ لیکن جن کے اپنے بچے سنبھالنے والے موجود ہوں تو بچوں کا فرض ہے کہ والدین کو سنبھالیں۔ تو ایسی سوچ رکھنے والوں کو اپنی طبیعتوں کو، اپنی سوچوں کو تبدیل کرنا چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 16؍جنوری2004ء)

مزید پڑھیں

ایک مؤمن کی روحانی سروسز

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ اپنے ایمانوں کو وزن کرو۔ عمل ایمان کا زیور ہے۔ اگر انسان کی عملی حالت درست نہیں ہے تو ایمان بھی نہیں ہے۔ مومن حسین ہوتا ہے۔ جس طرح ایک خوبصورت انسان کو معمولی اور ہلکا سا زیور بھی پہنا دیا جائے تو وہ اُسے زیادہ خوبصورت بنا دیتا ہے ۔ اگر وہ بد عمل ہے تو پھر کچھ بھی نہیں۔ انسان کے اندر جب حقیقی ایمان پیدا ہو جاتا ہے تو اُس کو اعمال میں ایک خاص لذّت آتی ہے اور اُس کی معرفت کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ اس طرح نماز پڑھتا ہے جس طرح نماز پڑھنے کا حق ہوتا ہے۔ گناہوں سے اُسے بیزاری پیدا ہو جاتی ہے۔ ناپاک مجلس سے نفرت کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اور رسول کی عظمت اور جلال کے اظہار کے لئے اپنے دل میں ایک خاص جوش اور تڑپ پاتاہے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 249ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں