تربیتِ اولاد اور مالی قربانی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لئے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لیے سعی اور دعا کرو ۔ جس قدر کوشش تم ان کے لئے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اُسی قدر کوشش اس امر میں کرو “
(ملفوظات جلد صفحہ109)

مزید پڑھیں

بچے ہماری تقریریں کم اور زندگی زیادہ یاد رکھتے ہیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔“
(ملفوظات، جلد 8 صفحہ 110)

مزید پڑھیں

اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) (قرآن کریم کی روشنی میں ) )تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’خدا نے یہ چاہا ہے کہ کسی دوسرے کی بندگی نہ کرو اور والدین سے احسان کرو۔ حقیقت میں کیسی ربوبیت ہے کہ انسان بچہ ہوتا ہے اور کسی قسم کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس حالت میں ماں کیا کیا خدمات کرتی ہے اور والد اس حالت میں ماں کی مہمّات کا کسطرح متکفّل ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ناتواں مخلوق کی خبر گیری کے لئے دو محل پیدا کر دئیے ہیں اور اپنی محبت کے انوار سے ایک پَرتو محبت کا اُن میں ڈال دیا، مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ ماں باپ کی محبت عارضی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت حقیقی ہےاور جبتک قلوب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا القاء نہ ہو تو کوئی فردِ بشرخواہ وہ دوست ہو یا کوئی برابر کے درجہ کا ہو یا کوئی حاکم ہو، کسی سے محبت نہیں کر سکتا اور یہ خدا کی کمال ربوبیّت کا راز ہے کہ ماں باپ بچوں سے ایسی محبت کرتے ہیں کہ اُن کے تکفّل میں ہر قسم کے دُکھ شرح صدر سے اُٹھاتے ہیں یہاں تک کہ اُن کی زندگی کے لئے مرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 315۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

مزید پڑھیں

اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) (قرآن کریم کی روشنی میں ) )تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ اولاد چیز کیا ہے؟ بچپن سے ماں اُس پر جان فدا کرتی ہے مگر بڑے ہو کر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے لڑکے اپنی ماں کی نافرمانی کرتے ہیں اور اُس سے گستاخی سے پیش آتے ہیں ۔ پھر اگر فرمانبردار بھی ہوں تو دکھ اور تکلیف کے وقت وہ اس کو ہٹا نہیں سکتے ۔ ذرا سا پیٹ میں درد ہو تو تمام عاجز آجاتے ہیں۔ نہ بیٹا کام آسکتا ہے نہ باپ نہ ماں نہ کوئی اور عزیز ۔ اگر کام آتا ہے تو صرف خدا۔‘‘
( تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد8صفحہ5)

مزید پڑھیں

اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ ) تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ وہ دین کی خادم ہو۔ اسی طرح بیوی کرے تاکہ اس سے کثرت سے اولاد پیدا ہو اور وہ اولاد دین کی سچی خدمت گزار ہواور نیز جذباتِ نفس سے محفوظ رہے۔ اس کے سوا جس قدر خیالات ہیں وہ خراب ہیں ۔ رحم اور تقویٰ مدّنظر ہو تو بعض باتیں جائز ہوجاتی ہیں ۔ اس صورت میں اگر مال بھی چھوڑتا ہے اور جائداد بھی اولاد کے واسطے چھوڑتا ہے تو ثواب ملتا ہے۔ لیکن اگر صرف جانشین بنانے کا خیال ہے اور اس نیّت سے سب ہمّ وغم رکھتا ہے تو پھر گناہ.ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 600-599)

مزید پڑھیں

ماں باپ کبھی نہیں مرتے ؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ نیک اولاد، اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی اولاد جہاں اپنی عاقبت سنوارنے والی ہو گی، وہاں نیک اولاد کے عمل اور اُن کی دعائیں جو وہ والدین کے لئے کر رہے ہیں، والدین کے درجات اگلے جہان میں بھی بلند کرنے کا باعث بن رہی ہوں گی۔‘‘
(خطبہ جمعہ3 ؍مئی2013ء )

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (تربیتِ اولاد) (تقریر نمبر10)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اِس دنیا کی اصلاح کے لیے بکثرت احمدیوں کی ضرورت ہے جو مصلح موعود کی صفات سے آراستہ ہوں جو اُن تمام ہتھیاروں سے لیس ہوں جو مصلح موعود کو عطا کیے گئے تھے پس جب مَیں کہتا ہوں کہ آپ مصلح موعود بنیں اور آپ کے بڑے بھی مصلح موعود بنیں تو ہر گز یہ نہیں کہتا کہ بلند مراتب کی تمنا کریں بلکہ مَیں یہ کہتا ہوں کہ ان صفات کی اپنے ربّ سے بھیک مانگیں جو صفات آج کے زمانہ کے انسان کے احیاء نو کے لیے ضروری ہیں ۔ ‘‘
(خطاب حضور رحمہ اللہ 23 فروری 1986ء بحوالہ ماہنامہ خالد فروری 1991ء)

مزید پڑھیں

بچے، جماعت کا قیمتی اثاثہ ہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ ایسے بچے جن کو اس طرح بچپن میں مالی قربانی کی عادت پڑ جائے وہ آئندہ نسلوں کی قربانیوں کی ضمانت بن جایا کرتے ہیں ۔ اللہ کرے کہ یہ روح ہمارے بچوں میں بڑھتی چلی جائے …..بچوں کو اس کی اہمیت کا احساس دلائیں، قربانی کی روح ان میں پیدا کریں۔ جو بچے اس مادی دور میں اس طرح قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں گے، اس طرح قربانی کرتے ہوئے پروان چڑھیں گے، وہ نہ صرف جماعت کا بہترین وجود بنیں گے بلکہ اپنے روشن مستقبل کی بھی ضمانت بن جائیں گے۔ لہو ولعب سے بچتے ہوئے، فضولیات سے بچتے ہوئے لغویات سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں گے۔‘‘
(خطبات مسرور جلد 6صفحہ5)

مزید پڑھیں

ماں کا نعم البدل کوئی نہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ سب سے زیادہ خدمت کی مثال اگر دنیا میں موجود ہے تو وہ ماں کی بچے کے لئے خدمت ہی ہے۔ اب یہاں رہنے والے، مغرب کی سوچ رکھنے والے، بلکہ ہمارے ملکوں میں بھی، برصغیر میں بھی، بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ماں باپ کی خدمت نہیں کرسکتے، ایک بوجھ سمجھتے ہیں اور یہ لکھتے ہیں کہ جماعت ایسے بوڑھوں کے مراکز کھولے جہاں یہ بوڑھے داخل کروا دئے جائیں کیونکہ ہم تو کام کرتے ہیں، بیوی بھی کام کرتی ہے، بچے اسکول چلے جاتے ہیں اور جب گھر آتے ہیں تو بوڑھے والدین کی وجہ سے ڈسٹرب (Disturb)ہوتے ہیں، اس لئے سنبھالنا مشکل ہے۔ کچھ خوف خدا کرنا چاہئے۔ قرآن توکہتاہے کہ ان کی عزت کرو، ان کا احترام کرو اور اس عمر میں اُن پررحم کے پرجھکا دو۔ جس طرح بچپن میں انہوں نے ہرمصیبت جھیل کر تمہیں اپنے پروں میں لپیٹے رکھا۔ تمہیں اگر کسی نے کوئی تکلیف پہنچانے کی کوشش کی تو مائیں شیرنی کی طرح جھپٹ پڑتی تھیں۔ اب ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے توکہتے ہو کہ ان کو جماعت سنبھالے۔ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے سنبھالتی ہے لیکن ایسے بوڑھوں کو جن کی اولاد نہ ہویاجن کے کوئی اور عزیز رشتے دار نہ ہوں۔ لیکن جن کے اپنے بچے سنبھالنے والے موجود ہوں تو بچوں کا فرض ہے کہ والدین کو سنبھالیں۔ تو ایسی سوچ رکھنے والوں کو اپنی طبیعتوں کو، اپنی سوچوں کو تبدیل کرنا چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 16؍جنوری2004ء)

مزید پڑھیں

یومِ اُمَّہات(Mother’s day)

ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ! لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپؐ نے فرمایا تیری والدہ ! پھر اُس شخص نے اپنے سوال کو دہرایا ۔ آپؐ نے پھر یہی جواب دیا کہ تمہاری والدہ ! اُس کے تیسری مرتبہ دریافت کرنے پر بھی والدہ کا ہی نام حضورؐ نے فرمایا۔ پھر اُس نے پوچھا پھر کون ؟ فرمایا ماں کے بعد تیرا باپ تیرے حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہے پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ دار۔

مزید پڑھیں