”متاعِ آسمانی“ (حرص و شوقِ مالِ فانی) (تقریر نمبر9)

حضر ت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’حسد انسان میں ایک بہت برا خلق ہے جو چاہتاہے کہ ایک شخص سے ایک نعمت زائل ہوکر اسکومل جائے ۔ لیکن اصل کیفیت حسد کی صرف اس قدرہے کہ انسان اپنے کسی کمال کے حصول میں یہ روا نہیں رکھتا کہ اس کمال میں اس کا کوئی شریک بھی ہو ۔ پس درحقیقت یہ صفت خدا تعالیٰ کی ہے جو اپنے تئیں ہمیشہ وحدہ لاشریک دیکھنا چاہتاہے۔ ‘‘
(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19صفحہ 390)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر3)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں:
’’ جس کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور ذات کا علم ہو جائے وہی عالِم بن جاتا ہے۔ پس ایک حقیقی مسلمان بننے کے لئے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اُس کی صفات کا علم ضروری ہے اور یہ بغیر خشیت کے نہیں ہو سکتا اور اس کے لئے کوئی تخصیص نہیں کہ یہ خاص گروہ حاصل کرے اور باقی نہ کریں۔ اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ہر مؤمن کے لئے اُس کے حصول کی کوشش ضروری ہے، تبھی ایمان میں ترقی ہوتی ہے، تبھی اللہ تعالیٰ کے تعلق میں ترقی ہوتی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 3اگست2012ء )

مزید پڑھیں

ایک خوبصورت، انوکھا اخلاص اور قربانی کا جذبہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”دوسری قسم اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کا یہ ہے کہ اُس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی اور بار برداری اور سچّی غم خواری میں اپنی زندگی وقف کردی جائے دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے دُکھ اُٹھا ویں اور دوسروں کی راحت کے لئے اپنے پر رنج گوارا کرلیں۔“
( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5صفحہ 60)

مزید پڑھیں

نظامِ خلافت اور زکٰوۃ

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔
’’ دیکھ لو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زکوٰۃ کی وصولی کا باقاعدہ انتظام تھا۔ پھر جب آپؐ کی و فات ہوگئی اور حضرت ابو بکرؓ خلیفہ ہوگئےتو اہلِ عرب کے کثیر حصہ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ حکم صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص تھا بعد کے خلفاء کے لئے نہیں مگر حضرت ابو بکرؓ نے ان کے اس مطالبہ کو تسلیم نہ کیا بلکہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ اونٹ کے گھٹنے کو باندھنے والی رسی بھی زکوٰۃ میں دینے سے انکار کریں گے تو مَیں ان سے جنگ جاری رکھوں گا اور اُس وقت تک بس نہیں کروں گا جب تک اُن سے اُسی رنگ میں زکوٰۃ وصول نہ کرلوں جس رنگ میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ادا کیا کرتے تھے چنانچہ آپ اس مہم میں کامیاب ہوئےاور زکوٰۃ کا نظام پھر جاری ہوگیا۔ جو بعد کے خلفاء کےزمانوں میں بھی جاری رہا۔مگرجب سے خلافت جاتی رہی مسلمانوں میں زکوٰۃ کی وصولی کا بھی کوئی انتظام نہ رہا اور یہی اللہ تعالیٰ اِس آیت (استخلاف)میں فرمایا تھا کہ اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو مسلمان زکوٰۃ کے حکم پر عمل نہیں کر سکتے۔‘‘
(تفسیر کبیر سورۃ نور آیت347-348)

مزید پڑھیں

خلفاء کی مالی تحریکات

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
’’ فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک محبت و عقیدت کے اس چشمہ سے پھوٹی ہے جو احباب کے دل میں اپنے پیارے آقا المصلح الموعودؓ کے لیے ہمیشہ موجزن رہی اور موجزن رہے گی ۔‘‘
( الفضل یکم جون 1966ء )

مزید پڑھیں

زکوٰۃ کی فرضیت اور اِس کا نصاب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”زکوٰۃ کا نام اسی لئے زکوٰۃ ہے کہ انسان اس کی بجا آوری سے یعنی اپنے مال کو جو اس کو بہت پیارا ہے للہ دینے سے بخل کی پلیدی سے پاک ہو جاتا ہے۔ اورجب بخل کی پلیدی جس سے انسان طبعًا بہت تعلق رکھتا ہے انسان کے اندر سے نکل جاتی ہے تو وہ کسی حد تک پاک بن کر خداسے جو اپنی ذات میں پاک ہے ایک مناسبت پیدا کرلیتاہے۔“
( براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21صفحہ 204-203)

مزید پڑھیں

صدقہ و خیرات کی اہمیت و برکات(از روئے احادیث)

ہمارے آقاحضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
”انسان کے لیے ہر ایک جوڑ پر صدقہ دینا لازم ہے۔ اسی طرح ہر روز جس میں سورج طلوع ہوتا ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان صلح کرانا بھی صدقہ ہے۔ کسی کو سواری پر سوارکرانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھنے میں مدد دینا بھی صدقہ ہے۔ طیب بات( پاک صاف کلمہ) کہنا بھی صدقہ ہے ۔ ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے ۔ اسی طرح تکلیف دہ چیز کو راستہ سے ہٹا دینابھی صدقہ ہے ۔“
(صحیح البخاری کِتابُ الۡجَہاد وَالسّیۡر بَابُ مَنۡ اَخَذَ بِالرِّکَابِ وَنَحۡوِ)

مزید پڑھیں

صدقہ و خیرات کی حقیقت اور برکات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’دعا، صدقہ اور خیرات سے عذاب کا ٹلنا ایسی ثابت شدہ صداقت ہے جس پر ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کا اتفاق ہے اور کروڑ ہا صلحاء اور اتقیااور اولیاء اللہ کے ذاتی تجربے اس امر پر گواہ ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد1 صفحہ159-158 ایڈیشن1984ء)

مزید پڑھیں

خلافت خامسہ میں مالی قربانیوں کے چند ایمان افروزواقعات

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
”آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہی ہیں جو دین کی خاطر مالی قربانی کرنے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ یہ شبنم کی طرح تھوڑی تھوڑی رقمیں بھی دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بے انتہا پھل لگاتا ہے…..کبھی یہ بات کسی کمزور احمدی کے دل میں بھی نہیں آنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نیک نیتی سے کی گئی قربانی کو نوازتا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے خزانے لامحدود ہیں۔ اس کو ہمارے چند پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ قربانیاں جو اللہ تعالیٰ مانگتا ہے یہ تو وہ ہمیں مزید فضلوں کا وارث بنانے کے لیے موقع میسر فرماتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 5جنوری2024ء )

مزید پڑھیں

صحابہ مسیح موعودؑ کی مالی قربانیوں کے ایمان افروز واقعات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے …بہتیرے ان میں سے ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لیے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔‘‘
(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14صفحہ306)

مزید پڑھیں