صفتِ ربُوبیّت، رحمانیّت اور رحیمیّت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ربوبیت کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ تمام عالَموں کا پیدا کرنے والا اور ان کا سنبھالنے والا اور تمام کائنات کے قوّام کا اصل موجب وہی ہے۔ یعنی دنیا میں جتنے اجسام اور ارواح اور فلک اور ارض اور حیوان اور جماد اور نبات ہیں یہ سب خدا تعالیٰ کی ربُوبیّت سے پرورش پاتے ہیں… اور یہ ربُوبیّت بغیر کسی استحقاق کے محض اپنے ذاتی فضل سے ہر ایک وجود کو درجہ بدرجہ کمال تک پہنچاتی ہے۔“
(سرمہ چشمِ آریہ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 179-180)

مزید پڑھیں

اصلاح نفس اَور حضرت مسیح موعودؑ کی روح پرور نصائح

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ وہی لوگ ہیں جو اپنی زندگی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے اللہ تعالیٰ ہی کی راہ میں وقف کر دیتے ہیں اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں قربان کرنا اپنے مال کو اس کی راہ میں صرف کرنا اس کا فضل اور اپنی سعادت سمجھتے ہیں مگر جو لوگ دنیا کی املاک وجائیداد کو اپنا مقصود بالذات بنالیتے ہیں وہ ایک خوابیدہ نظر سے دین کو دیکھتے ہیں مگر حقیقی مؤمن اور صادق مسلمان کا یہ کام نہیں ہے۔ سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو مادام الحیات وقف کر دے تاکہ وہ حیات طیبہ کا وارث ہو۔ چنانچہ خود اللہ تعالیٰ اس للٰہی واقف کی طرف ایماء کر کے فرماتا ہے بَلٰی مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَ مُحۡسِنٌ فَلَہٗۤ اَجۡرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ۪ وَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ اس جگہ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ کے معنی یہی ہیں کہ ایک نیستی اور تذلل کا لباس پہن کر آستانہ الوہیت پر گرے اور اپنی جان، مال، آبروغرض جو کچھ اس کے پاس ہے خدا ہی کے لئے وقف کرے اور دنیا اور اس کی ساری چیزیں دین کی خادم بنا دے۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ364)

مزید پڑھیں

’’ نفس کا اِمام ‘‘ (حضرت خلیفۃُ المسیح الرابعؒ ؒ )

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’مخالفتِ نفس بھى اىک عبادت ہے۔ انسان سویا ہواہوتا ہے۔ جى چاہتا ہے کہ اَور سولے مگر وہ مخالفتِ نفس کرکے مسجد جاتا ہے تو اس مخالفت کا بھى اىک ثواب ہے‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ416 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ نبوت (حضور علیہ السلام کی تحریرات سے) )تقریرنمبر 10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” مَیں رسول اور نبی نہیں ہوں باعتبار نئی شریعت اور نئے دعویٰ اور نئے نام کے اور مَیں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیّت کاملہ کے وہ آئینہ ہوں جس میں محمدیؐ شکل اور محمدی نبوت کا کامل اِنعکاس ہے۔ “
(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 381 حاشیہ)

مزید پڑھیں

خوابیں، رؤیا اور وحی و الہام احادیث کی روشنی میں (تقریر نمبر9)

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا یا (فرمایا) گویا کہ اس نے مجھے بیداری میں دیکھا۔ شیطان میرا تمثّل اختیار نہیں کرسکتا۔
( مسلم کتاب الرؤیا باب قول النبی من رانی فی المنام فقد رانی ۔ 4193 از حدیقۃ الصالحین حدیث976)

مزید پڑھیں

مُحَدَّث وہ ہے جن کو کثرت سے الہام اور کشوف ہوتے ہیں (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف نے جیسا کہ جسمانی تمدّن کے لئے یہ تاکید فرمائی ہے کہ ایک بادشاہ کے زیر حکم ہو کر چلیں۔ یہی تاکید روحانی تمدّن کے لئے بھی ہے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ یہ دعا سکھلاتا ہے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ۔ پس سوچنا چاہئے کہ یوں تو کوئی مؤمن بلکہ کوئی انسان بلکہ کوئی حیوان بھی خداتعالیٰ کی نعمت سے خالی نہیں۔ مگر نہیں کہہ سکتے کہ ان کی پیروی کے لئے خداتعالیٰ نے یہ حکم فرمایا ہے۔ لہٰذا اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ جن لوگوں پر اکمل اور اتمّ طور پر نعمتِ روحانی کی بارش ہوئی ہے، ان کی راہوں کی ہمیں توفیق بخش کہ تا ہم ان کی پیروی کریں۔ ‘‘
(ضرورۃ الامام، روحانی خزائن جلد 13صفحہ494)

مزید پڑھیں

وحی کی تعریف اور اقسام (تقریر نمبر 7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’الہام کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ جو کچھ دل میں ڈالا جاوے نیک ہو یا بد وہ الہام ہے اور اس میں یہ بھی ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الفاظ ہوں مگر اِس جگہ ہماری مراد الہام سے وحی الٰہی ہے اور وحی اس کو کہتے ہیں کہ خدا کا کلام مع الفاظ کسی پر نازل ہو۔ ‘‘
(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 74 حاشیہ )

مزید پڑھیں

الہام خدا کا فعل ہےاور بندہ کی الہام میں فضیلت اعمالِ صالحہ میں ہے (تقریر نمبر 6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’الہام کیا چیز ہے؟ وہ پاک اور قادر خدا کا ایک برگزیدہ بندہ کے ساتھ یا اس کے ساتھ جس کو برگزیدہ کرنا چاہتا ہے ایک زندہ اور با قدرت کلام کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ.ہے۔‘‘
(اسلامی اصول فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10صفحہ439-438)

مزید پڑھیں

مَا الْمُبشِّرات (تقریر نمبر 5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ان کو اسی زندگی میں بشارتیں ملیں گی یعنی وہ خدا سے نور الہام کا پائیں گے اور بشارتیں سنیں گے جن میں ان کی بہتری اور مدح اور ثنا ہوگی اور خدا ان کی سچائیوں کو روشن کرے گا ۔ خدا نے جو جو وعدہ کیا ہے وہ سب پورا ہوگا اور کسی نوع کی تبدیل واقع نہیں ہوگی ۔ یہی سعادت عظمٰی ہے کہ جو ان لوگوں کو ملتی ہے کہ جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔‘‘
(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 264۔ 265 حاشیہ نمبر11)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ اور احبابِ جماعت کے کشفی واقعات (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” مجھے اللہ جلّ شانُہٗ نے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ وہ بعض امراء اور ملوک کو بھی ہمارے گروہ میں داخل کرے گا اور مجھے اس نے فرمایا کہ ’’میں تجھے برکت پر برکت دوں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“
)بركات الدعاء ، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 3)

مزید پڑھیں