مقاماتِ حج ،شعائرُاللہ اور اسلامی اصطلاحات میں شامل

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ حج سے صرف اتنا ہی مطلب نہیں کہ ایک شخص گھر سے نکلے اور سمندر چیر کر چلا جاوے اور رسمی طور پر کچھ لفظ منہ سے بول کر ایک رسم ادا کرکے چلا آوے۔ اصل بات یہ ہے کہ حج ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہے جو کمال سلوک کا آخری مرحلہ ہے۔ سمجھنا چاہیے کہ انسان کا اپنے نفس سے انقطاع کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں کھویا جاوے اور تعشُّق باللہ اور محبتِ الٰہی ایسی پیدا ہوجاوے کہ اس کے مقابلہ میں نہ اُسے کسی سفر کی تکلیف ہو اور نہ جان ومال کی پرواہ ہو، نہ عزیزواقارب سے جدائی کا فکر ہو، جیسے عاشق اور محبّ اپنے محبوب پر جان قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے اسی طرح یہ بھی کرنے سے دریغ نہ کرے۔ اس کا نمونہ حج میں رکھا ہے۔ جیسے عاشق اپنے محبوب کے گرد طواف کرتا ہے اسی طرح حج میں بھی طواف رکھاہے۔‘‘
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 102۔ 103، ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

حج بیتُ اللہ اور عیدُ الاضحیٰ بطور شعائرُاللہ اور اسلامی اصطلاح

حضرت ابو ہریرہ ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حجاج کے حق میں بیان کی:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْحَآجِّ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهٗ الْحَآجُّ
)مستدرک حاکم جلد1صفحہ441(
اے اللہ! حاجیوں کو بھی بخش دے اور ان کو بھی جن کے لئے حاجیوں نے بخشش مانگی ہے۔

مزید پڑھیں
brass-colored and blue dome building during daytime

مسجد کا مقام اَور اِس کی تعمیر کا ثواب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے باوجود بیماری اور خرابئ صحت مسجد آ کر با جماعتِ ادا کرنے کے حوالے سے اپنی کیفیت یوں بیان فرمائی:
” میرے سر کی حالت آج بھی اچھی نہیں چکر آ رہا ہے جب جماعت کا وقت آتا ہے تو اس وقت خیال گزرتا ہے کہ جب جماعت ہو گی اور مَیں شامل نہ ہوں گا اور افسوس ہوتا ہے اس لئے افتاں وخیزاں چلا آتا ہوں۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ212)

مزید پڑھیں

صلی اللّٰہ علیہ وسلم پڑھنے کے فوائد اور برکات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’درود شریف جو حصولِ استقامت کا ایک زبردست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو مگر نہ رسم اور عادت کے طورپر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور احسان کو مدنظر رکھ کر اور آپؐ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لئے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ قبولیت دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا‘‘۔
(

مزید پڑھیں

”مساجد تو دراصل بیتُ المساکین ہوتی ہیں“ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دل کے پاس تلاش کرو۔ اسی لیے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔ اسی طرح چاہیئے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے پاس جو آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے۔ بلکہ سوال یہ ہوگا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔ اسی طرح پیغمبر خدا نے فرمایا ہے! اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہ خدا تعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا۔ اگر تم کوئی برا کام کروگی تو خدا تعالیٰ تم سے اس واسطے درگزر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔ پس چاہیئے کہ تم ہر وقت اپنا کام دیکھ کر کیا کرو۔‘‘
( ملفوظات جلد سوم صفحہ370)

مزید پڑھیں

اَنْتَ اَقْوٰی اَمِ اللّٰہ ؟

حضرت مسیح موعود موعود علیہ لسلام ا فرماتے ہیں :
’’دیکھو! ہم بھی رخصتوں پر عمل کرتے ہیں۔ نمازوں کو جمع کرتے ہوئے کوئی دو ماہ سے زیادہ ہوگئے ہیں بسبب بیماری کے اور تفسیر سورۃ فاتحہ کے لکھنے میں بہت مصروفیت کے سبب ایسا ہو رہا ہے اور اِن نمازوں کے جمع کرنے میں تُجْمَعُ لَہُ الصَّلٰوۃُ کی حدیث بھی پوری ہو رہی ہے کہ مسیح موعودؑ کی خاطر نمازیں جمع کی جائیں گی۔ اِس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود نماز کے وقت پیش امام نہ ہو گا بلکہ کوئی اور ہوگا اور وہ پیش امام مسیح کی خاطر نمازیں جمع کرائے گا۔ سو اب ایسا ہی ہوتا ہے۔ جس دن ہم بیماری کی وجہ سے بالکل نہیں آ سکتے اُس دن نمازیں جمع نہیں ہوتیں اور اس حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار کے طریق سے یہ فرمایا ہے کہ اُس کی خاطر ایسا ہوگا… خداتعالیٰ نے ایسے ہی اسباب پیدا کر دیئے کہ اتنے عرصہ سے نمازیں جمع ہو رہی ہیں، ورنہ ایک دو دن کے لیے یہ بات ہوتی تو کوئی نشان نہ ہوتا۔ ہم حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ لفظ اور حرف حرف کی تعظیم کرتے ہیں ‘‘۔
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 446 ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

ہم عیدکیسے منائیں؟

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” آج عید کا دن ہے اور رمضان شریف کا مہینہ گزر گیاہے ۔ یہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ایام تھے جبکہ اس نے اس ماہ مبارک میں قرآن شریف کا نزول فرمایا اور عامہ.اہل.اسلام کے لئے اس ماہ میں ہدایت مقدر فرمائی۔ راتوں کو اُٹھنا اور قرآن شریف کی تلاوت اور کثرت سے خیرات وصدق اس مہینہ کی برکات میں سے ہے۔ آج کے دن ہر ایک کو لازم ہے کہ سارے کنبہ کی طرف سے محتاج لوگوں کی خبر گیری کرے۔ دوبُک گیہوں کے یا چار جَوکے ہر ایک نفس کی طرف سے صدقہ نماز سے پیشتر ضرور ادا کیا جاوے اور جن کو خدا نے موقع دیا ہے وہ زیادہ دیویں۔“
(خطبات نور صفحہ 179)

مزید پڑھیں

عید اور عید سے متعلق فقہی مسائل

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’عید کا دن صرف اچھے کپڑے پہن کر اچھے کھانے کھا کر گزارنے کا نام نہیں ہے بلکہ عید کے لیے عید گاہ میں آتے جاتے اور سارا دن بھی ذکر الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں صرف کرنا چاہیے۔ نمازوں کا بھی باقاعدہ خیال رکھنا چاہیے۔ نمازوں کی حاضری کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔‘‘
(خطبہ عید الفطر فرمودہ14نومبر2004ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل  (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’معتکف کے لیے بڑی تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے کہ وہ اپنی عبادت میں مصروف ہوتا ہے پردہ کے لیے ایک چادر ہی ٹانگی ہوتی ہے نا۔ پردہ کے پیچھے سے ایک ہاتھ اندر داخل ہوتا ہے جس میں مٹھائی اور ساتھ پرچی ہوتی ہے کہ میرے لیے دعا کرو یا نمازی سجدے میں پڑا ہوا ہے اوپر سے پردہ خالی ہوتا ہے تو اوپر سے کاغذ آکر اس کے اوپر گر جاتا ہے (ساتھ نام ہوتا ہے)کہ میرے لیے دعا کرو۔ یا ایک پُراسرار آواز پردے کے پیچھے سے آتی ہے آہستہ سے کہ مَیں فلاں ہوں میرے لیے دعا کرو۔ یہ سب غلط طریقے ہیں۔‘‘
(خطبات مسرور جلد2 صفحہ 781۔ 782)

مزید پڑھیں