قرآن عظیم میں اعداد کا استعمال (سات کے ہندسے کا دلچسپ ذکر) (تقریر نمبر 6)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ جہنم کے سات دروازوں کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
” یہ جو سات دروازے بتائے ہیں ان سے مراد ضروری نہیں کہ سات ہی دروازے ہوں کیونکہ سات اور ستّر کا ہندسہ عربوں میں تکمیل یا کثرت کے اظہار کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس محاورہ کی رُو سے دوزخ کے سات دروازوں سے یہ مراد ہے کہ اس کے کثرت سے دروازے ہوں گے۔“
(تفسیر کبیر جلد 4 صفحہ81)

مزید پڑھیں

قرآن عظیم میں اعداد کا شمار (چھ کے ہندسے کا ایمان افروز ذکر ) (تقریر نمبر 5)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
” خدا تعالیٰ نے جو کچھ زمین میں ہے سب پیدا کرکے اور آسمان کو بھی سات طبقے بنا کر غرض اس عالَم کی پیدائش سے بکلّی فراغت پاکر پھر چاہا کہ آدم کو پیدا کرے۔ پس اُس نے اُس کو روزِ ششم یعنی جمعہ کے آخری حصّہ میں پیدا کیا کیونکہ جو چیزیں از روئے نصِّ قرآنی چھٹے دن پیدا ہوئی تھیں۔ آدم اُن سب کے بعد میں پیدا کیا گیا اور اس پر دلیل یہ ہے کہ سورۃ حٰمّ السجدہ جزو چوبیس میں اس بات کی تصریح ہے کہ خدا نے جمعرات اور جمعہ کے دن سات آسمان بنائے اور ہر ایک آسمان کے ساکن کو جو اس آسمان میں رہتا تھا اس آسمان کے متعلق جو امر تھا وہ اس کو سمجھا دیا اور ورلے آسمان کو ستاروں کی قندیلیوں سے سجایا اور نیز اُن ستاروں کو اس لئے پیدا کیا کہ بہت سے امورحفاظت دنیا کے ان پر موقوف تھے۔ یہ اندازے اُس خدا کے باندھے ہوئے ہیں جو زبردست اور دانا ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ از روحانی خزائن جلد17 صفحہ 277۔278 حاشیہ )

مزید پڑھیں

قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال (4 اور 5 ہندسوں کی وضاحت) (تقریر نمبر 4)

پَروں سے مراد اللہ کی صفات ہیں ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے لکھا ہے کہ :
”اب اِس رسول (حضرت محمدؐ) پر ایسے فرشتے نازل ہوں گے جو خداتعالیٰ کی کئی کئی صفات کے حامل ہوں گے۔ دو دو صفات کے، تین تین کے اور چار چار کے۔ مگر اِن پر ہی بس نہیں ۔ خداتعالیٰ چاہے گا تو قرآنی وحی لانے والے فرشتوں کے پَروں یعنی صفات الٰہیہ کو جس کے وہ ظاہر کرنے والے ہو گے، بڑھا دے گا۔“
( فٹ نوٹ زیر آیت 2 الفاطر)

مزید پڑھیں

قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال (3 کےہندسہ کا قرآن کریم میں ذکر) (تقریر نمبر 3)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے تین ظلمتوں کے متعلق لکھا ہے کہ :
” انسانی زندگی کا آغاز نفسِ واحدہ سے ہوا تھا ۔ پھر جب انسان ماں کے رِحم میں بطور جنین اپنی ترقی کی منازل طے کرنے لگا تو وہ جنین تین اندھیروں میں چھپا ہوا تھا ۔ پہلا اندھیرا ماں کے پیٹ کا اندھیرا ہے جس نے رِحم کو ڈھانکا ہوا ہے۔ دوسرا اندھیرا خود رِحم کا اندھیرا ہے۔ جس میں جنین پرورش پاتا ہے اور تیسرا اُس پلیسنٹا (Placenta) کااندھیرا ہے جو رِحمِ مادر کے اندر جنین کو سمیٹے ہوئے ہوتا ہے ۔ “
( تعارف سورۃ الزمر از ترجمۃ القرآن صفحہ 873)

مزید پڑھیں

قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال (2 کے ہندسہ کا لطیف اور دلچسپ ذکر) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
” نزولِ قرآن کے زمانہ میں تو عربوں کے نزدیک نَر اور مادہ کی صورت میں صرف کھجوروں کے جوڑے ہوا کرتے تھے اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ہر قسم کے پھلوں کے پَودوں کا جوڑا جوڑا بنایا ہے…آج کی سائنس نے اِس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے یہاں تک کہ مادہ کے اور ایٹمز کے بھی اور ذرّات کے بھی جوڑے جوڑے ہیں۔ غرضیکہ جوڑوں کا مضمون ایک لامتناہی مضمون ہے اور توحید کے مضمون کو سمجھنے کے لئے اس مضمون کو سمجھنا ضروری ہے۔ صرف کائنات کا خالق ہی ہے جس کو جوڑے کی ضرورت نہیں ورنہ سب مخلوق جوڑے کی محتاج ہے۔“
(تعارف سورۃ یٰس ترجمۃ القرآن صفحہ 771)

مزید پڑھیں

قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال (اَحَدٌ اور وَاحِدٌ کا دلچسپ ذکر) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” اَحَدٌ “ اور ”وَاحِدٌ “ جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ ان میں فرق یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے لئے اَحَدٌکا لفظ استعمال ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی وحدانیت کو بیان کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس کا اگر تصوّر کریں تو دوسری کسی ذات کا خیال بھی دل میں نہیں آتا۔
اور جب اللہ تعالیٰ کے لئے وَاحِدٌ کا لفظ استعمال کیا جائے تو وہاں صفات کی وحدانیت مراد ہوتی ہے کہ وہ صفات میں واحد ہے یعنی اپنی صفات میں کامل ہے اور اس کے سوا کئی اور وجود نہیں جو صفات کے لحاظ سے کامل ہو۔ “
( تفسیر کبیر جلد 10صفحہ 525)

مزید پڑھیں

صفتِ ربُوبیّت، رحمانیّت اور رحیمیّت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ربوبیت کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ تمام عالَموں کا پیدا کرنے والا اور ان کا سنبھالنے والا اور تمام کائنات کے قوّام کا اصل موجب وہی ہے۔ یعنی دنیا میں جتنے اجسام اور ارواح اور فلک اور ارض اور حیوان اور جماد اور نبات ہیں یہ سب خدا تعالیٰ کی ربُوبیّت سے پرورش پاتے ہیں… اور یہ ربُوبیّت بغیر کسی استحقاق کے محض اپنے ذاتی فضل سے ہر ایک وجود کو درجہ بدرجہ کمال تک پہنچاتی ہے۔“
(سرمہ چشمِ آریہ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 179-180)

مزید پڑھیں

اصلاح نفس اَور حضرت مسیح موعودؑ کی روح پرور نصائح

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ وہی لوگ ہیں جو اپنی زندگی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے اللہ تعالیٰ ہی کی راہ میں وقف کر دیتے ہیں اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں قربان کرنا اپنے مال کو اس کی راہ میں صرف کرنا اس کا فضل اور اپنی سعادت سمجھتے ہیں مگر جو لوگ دنیا کی املاک وجائیداد کو اپنا مقصود بالذات بنالیتے ہیں وہ ایک خوابیدہ نظر سے دین کو دیکھتے ہیں مگر حقیقی مؤمن اور صادق مسلمان کا یہ کام نہیں ہے۔ سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو مادام الحیات وقف کر دے تاکہ وہ حیات طیبہ کا وارث ہو۔ چنانچہ خود اللہ تعالیٰ اس للٰہی واقف کی طرف ایماء کر کے فرماتا ہے بَلٰی مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَ مُحۡسِنٌ فَلَہٗۤ اَجۡرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ۪ وَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ اس جگہ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ کے معنی یہی ہیں کہ ایک نیستی اور تذلل کا لباس پہن کر آستانہ الوہیت پر گرے اور اپنی جان، مال، آبروغرض جو کچھ اس کے پاس ہے خدا ہی کے لئے وقف کرے اور دنیا اور اس کی ساری چیزیں دین کی خادم بنا دے۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ364)

مزید پڑھیں

’’ نفس کا اِمام ‘‘ (حضرت خلیفۃُ المسیح الرابعؒ ؒ )

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’مخالفتِ نفس بھى اىک عبادت ہے۔ انسان سویا ہواہوتا ہے۔ جى چاہتا ہے کہ اَور سولے مگر وہ مخالفتِ نفس کرکے مسجد جاتا ہے تو اس مخالفت کا بھى اىک ثواب ہے‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ416 )

مزید پڑھیں

گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اصل یہ ہے کہ صالحین اور فانین فی اللہ کی محبت ایک عمدہ شے ہے لیکن حفظ مراتب ضروری ہے۔
گر حفظ مراتب نہ گنی زندیقی
پس خدا کو خدا کی جگہ، رسول کو رسول کی جگہ سمجھو اور خدا کے کلام کو دستور العمل ٹھہرا لو۔ “
(ملفوظات جلد2 صفحہ 305)

مزید پڑھیں