”متاعِ آسمانی“ (حرص و شوقِ مالِ فانی) (تقریر نمبر9)

حضر ت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’حسد انسان میں ایک بہت برا خلق ہے جو چاہتاہے کہ ایک شخص سے ایک نعمت زائل ہوکر اسکومل جائے ۔ لیکن اصل کیفیت حسد کی صرف اس قدرہے کہ انسان اپنے کسی کمال کے حصول میں یہ روا نہیں رکھتا کہ اس کمال میں اس کا کوئی شریک بھی ہو ۔ پس درحقیقت یہ صفت خدا تعالیٰ کی ہے جو اپنے تئیں ہمیشہ وحدہ لاشریک دیکھنا چاہتاہے۔ ‘‘
(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19صفحہ 390)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (اطاعت و فرمانبرداری) (تقریر نمبر8)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”اطاعت صرف اپنے ذوق کے مطابق احکام پرعمل کرنے کا نام نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے ہر حکم پر عمل کرنے کا نام ہے خواہ وہ کسی کی عادت یا مزاج کے خلاف ہی کیوں نہ.ہو۔“
(تفسیر کبیر جلد 2صفحہ15)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (انعامات الٰہی  و شکر خداوندی) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یہ اللہ تعالیٰ کا کمال فضل ہے کہ اس نے کامل اور مکمل عقائد صحیحہ کی راہ ہم کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بدوں مشقت اور محنت کے دکھائی ہے۔وہ راہ جو آپ لوگوں کو اس زمانے میں دکھائی گئی ہے بہت سے عالم ابھی تک اس سے محروم ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کے اس فضل اور نعمت کا شکر کرو اور وہ شکر یہی ہے کہ سچے دل سے ان اعمال صالحہ کو بجا لاؤ جو عقائد صحیحہ کے بعد دوسرے حصہ میں آتے ہیں اور اپنی عملی حالت سے مدد لے کر دعا مانگوکہ وہ ان عقائد صحیحہ پر ثابت قدم رکھے اور اعمال صالحہ کی توفیق بخشے‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ95-94)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (صحابہ رضوان اللہ علیہم) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’حقیقت میں کوئی قوم اور جماعت تیار نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس میں اپنے امام کی اطاعت اور اتباع کے لئے اس قسم کا جوش اور اخلاص اور وفا کا مادہ نہ ہو۔حضرت مسیحؑ کو جو مشکلات اور مصائب اٹھانے پڑے، ان کے عوارض اور اسباب میں سے جماعت کی کمزوری اور بیدلی بھی تھی ……اِس کے برخلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے وہ صدق و وفا کا نمونہ دکھایا جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ انہوں نے آپؐ کی خاطر ہر قسم کا دکھ اٹھانا سہل سمجھا۔ یہاں تک کہ عزیز وطن چھوڑ دیا۔ اپنے املاک واسباب اور احباب سے الگ ہو گئے اور بالآخر آپ کی خاطر جان تک دینے سے تأمل اور افسوس نہیں کیا۔ یہی صدق اور وفا تھی جس نے ان کو آخر کا ر بامرا د کیا۔ اِسی طرح مَیں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری جماعت کوبھی اس کی قدر اور مرتبے کے موافق ایک جوش بخشا ہے اور وہ وفا داری اور صدق کا نمونہ دکھاتے ہیں۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ نمبر223-224۔ ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (خلافت علیٰ منہاج النبوۃ) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”خلیفہ کے معنی جانشین کے ہیں جو تجدیدِ دین کرے ۔ نبیوں کے زمانے کے بعد جو تاریکی پھیل جاتی ہے اس کو دور کرنے کے واسطے جو ان کی جگہ آتے ہیں انہیں خلیفہ کہتے ہیں“
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 384)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) (تقریر نمبر4)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں:
’’ کاش کہ مخالفین آپؑ کی کتب پڑھیں۔ آپؑ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدات و نشانات کو دیکھیں جو صفحات پر نہیں جیساکہ میں نے کہا کئی کتابوں پر مشتمل ہیں۔ زمانے کی ضرورت کو بھی دیکھیں بلکہ زمانے کی ضرورت کے مطابق خود یہ اعتراض کرنے والے علماء بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ زمانہ کسی مصلح اور مہدی کو چاہتا ہےلیکن پھر بھی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہے اس کا خود بھی انکار کر رہے ہیں اور عامۃ المسلمین کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔ آسمانی نشانیاں پوری ہوئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں، لیکن پھر بھی یہ اپنی بدقسمتی کو ہی آواز دے رہے ہیں۔ اس طرف نہیں دیکھتے۔
آج مسلمان اگر اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ جو مسیح ومہدی آنے والا تھا وہ آ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی عاشق اور غلامِ صادق بھی یہی ہے اور اس کی بیعت میں آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بموجب ضروری ہے اور کامل وفا کے ساتھ اس کی بیعت میں شامل ہو جائیں تو مسلمان ان کو ماننے کے بعد دنیا میں اپنی برتری منوا سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بن سکتے ہیں ورنہ یہی ان کا حال رہنا ہے جو ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو عقل اور سمجھ دے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 24؍مارچ2023ء )

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (قرآنِ کریم) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’میرا بڑا حصہ عمر کا مختلف قوموں کی کتابوں کے دیکھنے میں گزرا ہے مگر مَیں سچ مچ کہتا ہوں کہ میں نے کسی دوسرے مذہب کی تعلیم کو خواہ اس کا عقائد کا حصہ اور خواہ اخلاقی حصہ اور خواہ تدبیر منزلی اور سیاست مدنی کا حصہ اور خواہ اعمال صالحہ کی تقسیم کا حصہ ہو۔ قرآن شریف کے بیان کے ہم پہلو نہیں پایا۔‘‘
(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد23 صفحہ62 طبع اول)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا تھا۔ یعنی انسان کامل کو ۔ وہ ملائک میں نہیں تھا ۔ نجوم میں نہیں تھا ۔ قمر میں نہیں تھا ۔ آفتاب میں بھی نہیں تھا ۔ وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا ۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا ۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا ۔ صرف انسان میں تھا ۔ یعنی انسان کامل میں ۔ جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سیّد ومولیٰ سید الانبیاء سیّد الاحیاء محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 160)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (اللہ تعالیٰ) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اُس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اُس میں پائی ۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑوکہ وہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ مَیں کیا کروں اور کس طرح اِس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں ۔ کس دَف سے مَیں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔‘‘
(کشتی نوح،روحانی خزائن جلد19 صفحہ 22-21)

مزید پڑھیں