قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں تقویٰ کی حقیقی روح

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کثرت سے کیا کرتے تھے کہ :
”اے اللہ! مَیں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور غنا کا سوال کرتا ہوں۔‘‘
(ترمذی کتاب الدعوات)

مزید پڑھیں

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ پڑھنے کی برکات (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
’’حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جب تم میں کوئی شخص کھانا کھانے لگے تو پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لے یعنی بِسْمِ اللّٰہِ پڑھے اور اگر شروع میں بھول جائے تو یاد آنے پر بِسْمِ اللّٰہ ِ فِیْٓ اَوَّ لِہٖ وَ اٰخِرِہٖ پڑھے۔ (جامع ترمذی، ابواب الاطعمہ باب ما جاء فی التسمیۃ علی الطعام حدیث نمبر 858) تو بِسْمِ اللّٰہِ کی عادت بھی بچپن ہی سے ڈالی جائے تو پڑتی ہے۔ ورنہ بڑے ہوکر بسا اوقات لوگ بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنا بھول جاتے ہیں اور اگر کھاتے وقت یاد آجائے تو پھر یہ ضرور پڑھنا بِسْمِ اللّٰہ ِفِیْٓ اَوَّلِہٖ وَاٰخِرِہٖ۔ اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ مَیں کھانا کھاتا ہوں۔ اس سے پہلے بھی جب کھانا شروع کیا تھا تیرے ہی نام سے کھانا کھایا تھا اور کھانا ختم ہونے پر بھی تیرا ہی با برکت نام لیتا ہوں۔
صحیح مسلم کتاب الاشربہ میں وَھَب بن کَیْسَان بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن ابو سلمہؓ ..کو یہ کہتے ہوئے سنا ۔ مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھا۔ میرا ہاتھ پلیٹ میں اِدھر اُدھر جاتا تھا۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچے اللہ کا نام لو (بِسْمِ اللّٰہِ پڑھو) اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ (ہر طرف ہاتھ نہ دوڑاتے پھرو)۔“
(خطبہ جمعہ 19مئی 2000ء از خطبات طاہر جلد19 صفحہ316)

مزید پڑھیں

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ پڑھنے کی برکات )تقریر نمبر 1)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر قابل قدر اور سنجیدہ کام اگر خدا تعالیٰ کی حمد وثنا کے بغیر شروع کیا جائے تووہ بے برکت اور ناقص رہتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ہر قابل قدر گفتگو (اور تقریر وغیرہ) اگر خدا تعالیٰ کی حمد وثنا کے بغیر شروع کی جائے تو وہ برکت سے خالی اور بے اثر ہوتی.ہے۔
(حدیقۃ الصالحین حدیث 20 صفحہ43)

مزید پڑھیں

تَعَوُّذ یعنی اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھنے کا حکم

ایک بچے نے حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ کوئی نیک کام کرنے سے پہلے جب شیطان ہمیں بہکاتا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔
” تَعَوُّذ اور استغفار پڑھیں، ثابت قدم رہیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔“
(الفضل انٹرنیشنل 23 اکتوبر 2020ء)

مزید پڑھیں

قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں تقویٰ کی حقیقی روح

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
” قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیزگاری کے لیے بڑی تاکید ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لیے قوّت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لیے حرکت دیتی ہے۔‘‘
(ایام الصلح روحانی خزائن جلد 14صفحہ342)

مزید پڑھیں

اِرْکَبْ مَعَنَا (القرآن)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلی درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں ۔ یعنی وہی نبیوں کا سردار ۔ رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفےٰ واحمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی تھی ۔‘‘
( سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12صفحہ 82)

مزید پڑھیں
brown and black hardbound book

قرآن کریم حَکَم ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ایک اَور غلطی اکثر مسلمانوں کے درمیان ہے کہ وہ حدیث کو قرآن شریف پر مقدم کرتے ہیں حالانکہ یہ غلط بات ہے۔ قرآن شریف ایک یقینی مرتبہ رکھتا ہے اور حدیث کا مرتبہ ظنّی ہے۔حدیث قاضی نہیں بلکہ قرآن اس پر قاضی ہے۔ ہاں حدیث قرآن شریف کی تشریح ہے ۔اس کو اپنے مرتبہ پر رکھنا چاہئے۔ حدیث کو اس حدتک ماننا ضروری ہے کہ قرآن شریف کے مخالف نہ پڑے اور اس کے مطابق ہو لیکن اگر اس کے مخالف پڑے تو وہ حدیث نہیں بلکہ مردود قول ہے۔ لیکن قرآنِ.شریف کے سمجھنے کے واسطے حدیث ضروری ہے۔ قرآن شریف میں جو احکام الٰہی نازل ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عملی رنگ میں کر کے اور کراکے دکھا دیا اور ایک نمونہ قائم کر دیا۔ اگر یہ نمونہ نہ ہوتا تو اسلام سمجھ میں نہ آ سکتا لیکن اصل قرآن ہے۔“
(ملفوظات جلد 8 صفحہ 363-364، ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

چھ ارکانِ ایمان

”حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جس کے کپڑے بہت سفید تھے اور بالوں کا رنگ بہت سیاہ تھا اس پر سفر کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی تھی اور نہ ہم میں سے کوئی اُسے پہچانتا تھا ۔ وہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے کے ساتھ اپنا گھٹنا ملا کر (مؤدب) بیٹھ گیا اور عرض کیا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایمان کسے کہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ، یوم آخرت کو مانے اور خیر اور شر کی تقدیر اور اس کے صحیح صحیح اندازے پر یقین رکھے۔ “
( حدیقۃُ الصالحین حدیث نمبر166)

مزید پڑھیں

وجودِ باری تعالیٰ پر دس دلائل (از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ) (قسط نمبر 2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”سلطنتوں میں ہزاروں مدبّر ان کی درستی کے لئے رات دن لگے رہتے ہیں لیکن پھر بھی دیکھتے ہیں کہ ان سے ایسی ایسی غلطیاں سرزد ہو تی ہیں کہ جن سے سلطنتوں کو خطرناک نقصان پہنچ جاتا ہے بلکہ بعض اوقات بالکل تباہ ہوجاتی ہیں لیکن اگر اس دنیا کا کاروبار صرف اتفاق پر ہے تو تعجب ہے کہ ہزاروں دانا دماغ تو غلطی کرتے ہیں لیکن یہ اتفاق تو غلطی نہیں کرتا۔ لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے جو بڑے وسیع عالم کا مالک اور عزیز ہے اور اگر یہ نہ ہوتا تو یہ انتظام نظر نہ آتا۔ اب جس طرف نظر دوڑا کر دیکھو۔ تمہاری نظر قرآن شریف کے ارشاد کے مطابق خائب و خاسر واپس آئے گی اور ہر ایک چیز میں ایک انتظام معلوم ہوگا۔ نیک جزاء اور بدکار سزا پا رہے ہیں۔ ہر ایک چیز اپنا مفوّضہ کام کررہی ہے اور ایک دم کے لئے سُست نہیں ہوئی۔ “

مزید پڑھیں

وجودِ باری تعالیٰ پر دس دلائل (از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ) (قسط نمبر 1)

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ہزاروں راستبازوں کی شہادت جو اپنے عینی مشاہدہ پر خدا تعالیٰ کے وجود کی گواہی دیتے ہیں کسی صورت میں بھی ردّ کے قابل نہیں ہو سکتی۔ تعجب ہے کہ جو اس کوچہ میں پڑے ہیں وہ تو سب باتفاق کہہ رہے ہیں کہ خدا ہے لیکن جو روحانیت کے کوچہ سے بالکل بے بہرہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ان کی بات نہ مانوکہ خدا ہے حالانکہ اصول شہادت کے لحاظ سے اگر دوبرابر کے راستباز آدمی بھی ایک معاملہ کے متعلق گواہی دیں تو جو کہتا ہے کہ مَیں نے فلاں چیز کود یکھا اس کی گواہی کو اس گواہی پرجو کہتا ہے مَیں نے اس چیز کونہیں دیکھا ترجیح دی جائے گی کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ایک کی نظر اس چیز پر نہ پڑی ہو لیکن یہ ناممکن ہے کہ ایک نے نہ دیکھا ہو اور سمجھ لے کہ میں نے دیکھا ہے۔ پس خدا کے دیکھنے والوں کی گواہی اس کے منکروں پر بہرحال حجت ہوگی۔“

مزید پڑھیں