”متاعِ آسمانی“ (قرآنِ کریم) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’میرا بڑا حصہ عمر کا مختلف قوموں کی کتابوں کے دیکھنے میں گزرا ہے مگر مَیں سچ مچ کہتا ہوں کہ میں نے کسی دوسرے مذہب کی تعلیم کو خواہ اس کا عقائد کا حصہ اور خواہ اخلاقی حصہ اور خواہ تدبیر منزلی اور سیاست مدنی کا حصہ اور خواہ اعمال صالحہ کی تقسیم کا حصہ ہو۔ قرآن شریف کے بیان کے ہم پہلو نہیں پایا۔‘‘
(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد23 صفحہ62 طبع اول)

مزید پڑھیں

ایک مؤمن، نکیل والے اونٹ کی طرح ہے

حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں۔
’’ دیکھو! اونٹ کتنا بڑا حیوان ہے مگر ایک بچہ بھی نکیل ڈال کر کہیں کا کہیں لئے پھرتا ہے مگر گڑھے میں داخل کرنے کے لئے اُسے کھینچیں تو وہ نہیں جاتا۔ صرف اِس لئے اُسے صحیح علم گڑھے کا حاصل ہے وہ یہ کہ اس میں ہلاکت ہے۔‘‘
(حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 448)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ جو شخص کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا اور پھر ہمیشہ کے لئے استغفار اپنی عادت نہیں پکڑتا وہ کیڑا ہے، نہ انسان اور اندھا ہے، نہ سوجاکھا اور ناپاک ہے، نہ طیّب۔‘‘
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ413)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر4)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں:
’’ پس لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ صرف ایک معبود ہونے کا خیال ہی دل میں پیدا نہیں کرتا بلکہ اس بات کو بھی دل میں راسخ کرتا ہے اور کرنا چاہیے کہ ہمارا خدا وہ واحد خدا ہے جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا اور ہر مخلوق کا خالق ہے اور اس کے اذن سے ہی یہ تمام نظامِ کائنات چل رہا ہے اور تمام حاجات کے لیے ہم نے اس کے حضور ہی جھکنا ہے۔ پس جب یہ ایمان کی حالت ہو جائے تو وہ کامل ایمان ہوتا ہے جس میں شرک کی ملونی ہو ہی نہیں سکتی اور یہی وہ ایمان ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خالص ہو کرلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ پر ایمان لانے والوں پر جہنم کی آگ حرام ہے۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 14؍اپریل2023ء )

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ ( تقریر نمبر 2)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ سبحان اللہ کہا اور تینتیس دفعہ الحمدللہ کہا اور تینتیس دفعہ اللہ اکبر کہا تو یہ مل کر ننانوے ہوئے۔ سو کا عدد پورا کرنے کے لئے کہا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحۡدَہُ لَا شَرِیۡکَ لَہُ ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ بادشاہت اُسی کی ہے۔ تمام تعریف اُسی کے لئے ہے اوروہ ہر ایک چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔ اس کی تمام خطائیں معاف کردی جائیں گی اگرچہ وہ سمندر کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
( حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر:16)

مزید پڑھیں

ایمان  اور اُس کی ستّر شاخیں (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ یقیناً سمجھو کہ ہر ایک پاکبازی اور نیکی کی اصلی جڑ خدا پر ایمان لانا ہے جس قدر انسان کا ایمان باللہ کمزور ہوتا ہے اسی قدر اعمالِ صالحہ میں کمزوری اور سستی پائی جاتی ہے لیکن جب ایمان قوی ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کی تمام صفات کاملہ کے ساتھ یقین کر لیا جائے اسی قدر عجیب رنگ کی تبدیلی انسان کے اعمال میں پیدا ہو جاتی ہے۔ خدا پر ایمان رکھنے والا گناہ پر قادر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ ایمان اس کی نفسانی قوتوں اور گناہ کے اعضاء کو کاٹ دیتا ہے۔ دیکھو! اگر کسی کی آنکھیں نکال دی جاویں تو وہ آنکھوں سے بد نظری کیونکر کر سکتا ہے اور آنکھوں کا گناہ کیسے کرے گا اور اگر ایسا ہی ہاتھ کاٹ دیئے جاویں یا شہوانی قویٰ کاٹ دیئے جاویں۔ پھر وہ گناہ جو اُن اعضاء سے متعلق ہیں کیسے کر سکتا ہے؟ ٹھیک اسی طرح پرجب ایک انسان نفس مطمئنہ کی حالت میں ہوتا ہے تو نفس مطمئنہ اسے اندھا کر دیتا ہے اور اس کی آنکھوں میں گناہ کی قوت نہیں رہتی ۔ وہ دیکھتا ہے پھر نہیں دیکھتا۔ کیونکہ آنکھوں کے گناہ کی نظر سلب ہو جاتی ہے۔ وہ کان رکھتا ہے مگر بہرہ ہوتا ہے اور وہ باتیں جو گناہ کی ہیں نہیں سن سکتا۔ اسی طرح پر اس کی تمام نفسانی اور شہوانی قوتیں اور اندرونی اعضاء کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ اس کی ان ساری طاقتوں پر جن سے گناہ صادر ہو سکتا تھا ایک موت واقع ہو جاتی ہے اور وہ بالکل ایک میت کی طرح ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ ہی کی مرضی کے تابع ہوتا ہے۔ وہ اس کے سوا ایک قدم نہیں اُٹھا سکتا۔ یہ وہ حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کامل اطمینان اسے دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جو انسان کا اصل مقصود ہونا چاہیے اور ہماری جماعت کو اسی کی ضرورت ہے اور اطمینان کامل کے حاصل کرنے کے واسطے ایمانِ کامل کی ضرورت ہے۔ پس ہماری جماعت کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان حاصل کریں ۔‘‘
( ملفوظات جلد6صفحہ 244-245 ،ایڈیشن1984ء )

مزید پڑھیں

مسلمان اور مؤمن (قرآن اور احادیث کے آئینہ میں )

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے مسلمان کے جان ومال اور عزتیں محفوظ رہیں۔‘‘
(بخاري کتاب الايمان)

مزید پڑھیں

قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں تقویٰ کی حقیقی روح

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کثرت سے کیا کرتے تھے کہ :
”اے اللہ! مَیں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور غنا کا سوال کرتا ہوں۔‘‘
(ترمذی کتاب الدعوات)

مزید پڑھیں

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ پڑھنے کی برکات (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
’’حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جب تم میں کوئی شخص کھانا کھانے لگے تو پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لے یعنی بِسْمِ اللّٰہِ پڑھے اور اگر شروع میں بھول جائے تو یاد آنے پر بِسْمِ اللّٰہ ِ فِیْٓ اَوَّ لِہٖ وَ اٰخِرِہٖ پڑھے۔ (جامع ترمذی، ابواب الاطعمہ باب ما جاء فی التسمیۃ علی الطعام حدیث نمبر 858) تو بِسْمِ اللّٰہِ کی عادت بھی بچپن ہی سے ڈالی جائے تو پڑتی ہے۔ ورنہ بڑے ہوکر بسا اوقات لوگ بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنا بھول جاتے ہیں اور اگر کھاتے وقت یاد آجائے تو پھر یہ ضرور پڑھنا بِسْمِ اللّٰہ ِفِیْٓ اَوَّلِہٖ وَاٰخِرِہٖ۔ اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ مَیں کھانا کھاتا ہوں۔ اس سے پہلے بھی جب کھانا شروع کیا تھا تیرے ہی نام سے کھانا کھایا تھا اور کھانا ختم ہونے پر بھی تیرا ہی با برکت نام لیتا ہوں۔
صحیح مسلم کتاب الاشربہ میں وَھَب بن کَیْسَان بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن ابو سلمہؓ ..کو یہ کہتے ہوئے سنا ۔ مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھا۔ میرا ہاتھ پلیٹ میں اِدھر اُدھر جاتا تھا۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچے اللہ کا نام لو (بِسْمِ اللّٰہِ پڑھو) اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ (ہر طرف ہاتھ نہ دوڑاتے پھرو)۔“
(خطبہ جمعہ 19مئی 2000ء از خطبات طاہر جلد19 صفحہ316)

مزید پڑھیں