رؤیا کی حالت ترقی کرتی کشف کا رنگ اختیار کر لیتی ہے (تقریر نمبر 3)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
(جنگِ مَوتہ کے موقع پر) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضوان اللہ علیہم کی (مدینہ میں) خبر آنے سے پہلے ہی اُن کے شہید ہو جانے کے متعلق لوگوں کو بتا دیا تھا۔ چنانچہ آپؐ نے فرمایا: اب زید نے جھنڈا سنبھالا ہوا ہے لیکن وہ شہید ہوگئے۔ پھر جعفر نے جھنڈا سنبھال لیا ہے اور وہ بھی شہید ہوگئے۔ پھر ابنِ رواحہ نے جھنڈا سنبھالا ہے اور وہ بھی جامِ شہادت نوش کرگئے۔ یہ فرماتے ہوئے آپؐ کی چشمانِ مبارک اَشک بار تھیں۔ (پھر آپؐ نے فرمایا) یہاں تک کہ اب اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (یعنی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) نے جھنڈا سنبھال لیاہے، حتیٰ کہ اُس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے کافروں پر فتح عطا فرمائی ہے۔
(صحیح بخاری، کتاب المغازي ، باب غزوۃ مؤتہ من أرض الشام)

مزید پڑھیں

خواب اَوررؤیائے صالحہ، نبوّت کے چھیالیس حصّوں میں سے ایک ہے (تقریر نمبر2)

حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری سفر لاہور سے قبل خواب میں دیکھا کہ
” وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نور الدین صاحب ایک کتاب لئے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو! اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور مَیں ابوبکر ہوں‘‘
(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ35)

مزید پڑھیں

خواب اَوررؤیائے صالحہ، نبوّت کے چھیالیس حصّوں میں سے ایک ہے (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اللہ تعالیٰ نے وحی والہام کا مادّہ ہر شخص میں رکھ دیا ہے۔ کیونکہ اگر یہ مادّہ نہ رکھا ہوتا تو پھر حجت پوری نہ ہو سکتی۔ اس لیے جو نبی آتا ہے اس کی نبوت اور وحی والہام کے سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی فطرت میں ایک ودیعت رکھی ہوئی ہے اور وہ ودیعت خواب ہے۔ اگر کسی کو کوئی خواب سچی کبھی نہ آئی ہو تو وہ کیونکر مان سکتا ہے کہ الہام اور وحی بھی کوئی چیز ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا (البقرہ: 287)۔ اس لیے یہ مادّہ اس نے سب میں رکھ دیا ہے۔‘‘
( تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد 4 سورۃ الشوریٰ صفحہ 146)

مزید پڑھیں

چالیس اقوال رسولؐ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنۡبِ کَمَنۡ لَّا ذَنۡبَ لَہُ (سنن ابن ماجہ)
ترجمہ : گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جس نے گناہ کیا ہی نہیں۔
Translation: The one who repents from a sin is like one who has not committed the sin.

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کے وجود کی علّتِ غائی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ یہود کی اخلاقی حالت بھی بہت خراب ہو گئی تھی اور خدا کی محبت ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ اب میرے زمانہ میں بھی یہی حالت ہے۔ سو مَیں بھیجا گیا ہوں تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو سو یہی افعال میرے وجود کی علّتِ غائی ہیں۔ مجھے بتلایا گیا ہے کہ پھر آسمان زمین سے نزدیک ہو گا۔ بعد اِس کے کہ بہت دُور ہوگیا تھا۔ سو مَیں اِنہی باتوں کا مجدّد ہوں اور یہی کام ہیں جن کے لئے مَیں بھیجا گیا ہوں اور مِنجملہ اِن اَمور کے جو میرے مامور ہونے کی علّتِ غائی ہیں مسلمانوں کے ایمان کو قوِی کرنا ہے اوراِن کو خدا اور اُس کی کتاب اور اُس کے رسول کی نسبت ایک تازہ یقین بخشا اوریہ طریق ایمان کی تقویت کا دو طَور سے میرے ہاتھ سے ظہور میں آیا ہے۔اوّل قرآن شریف کی تعلیم کی خوبیاں بیان کرنی اور اُس کے اعجازی حقائق اورمعارف اور انوار اور برکات کو ظاہر کرنے سے جن سے قرآن شریف کا مِنجانب اللہ ہونا ثابت ہوتا ہے چنانچہ میری کتابوں کو دیکھنے والےاس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ کتابیں قرآن شریف کے عجائب اسرار اورنکات سے پُر ہیں اور ہمیشہ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جس قدر مسلمانوں کا علم قرآن شریف کی نسبت ترقی کرے گا اُسی قدر اُن کا ایمان بھی ترقی پذیر ہو گا۔ ‘‘
(کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 293۔ 296۔ حاشیہ)

مزید پڑھیں

حقیقی مؤمن کی خصوصیات (حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر3)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔‘‘ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد 13صفحہ 293۔ حاشیہ)
ایک احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اُسے ان الفاظ کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے ہیں، ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے۔ ان پر غور کرنا چاہئے۔ ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جب ایک احمدی یہ کر رہا ہو گا تو تبھی وہ اُسے بیعت کا حق ادا کرنے والا بناتا ہے۔ ورنہ تو صرف ایک دعویٰ ہے کہ ہم احمدی ہیں۔ وہ سچائی اور ایمان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لانا چاہتے ہیں یا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے، جس سے دلوں میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، جیسا کہ آپ کے اس فقرے سے ظاہر ہے کہ ’’ سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے‘‘ یعنی یہ سچائی اور ایمان اور تقویٰ کا زمانہ کسی وقت میں تھا جو اَب مفقود ہو گیا ہے اور اس کو پھر لانا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کام.ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 22؍ اپریل 2011ء)

مزید پڑھیں

حقیقی مؤمن کی خصوصیات (حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ایک مؤمن کے لئے سال اور دن اس صورت میں مبارک ہوتے ہیں جب وہ اس کی توبہ کی قبولیت کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی روحانی ترقی کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی مغفرت کا باعث بن رہے ہو… نئے سال کے پہلے دن کو ہی اس طرح دعاؤں کے ساتھ سجاؤکہ سارا سال ہی قبولیت دعا کے نظارے نظر آتے چلے جائیں…حقیقی مؤمن وہی ہے جو تقوی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اعمال بجا لانے کی کوشش کرے۔ اس دعا کے ساتھ اپنے ہردن اورہرسال میں داخل ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ تقویٰ پر قائم رکھے اور دین و دنیا کی حسنات سے نوازتا رہے ۔‘‘
(خطبہ جمعہ 1؍جنوری 2010ء)

مزید پڑھیں

حقیقی مؤمن کی خصوصیات (حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر1)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
اگر ہماری مسجدیں بنیں تو ایسی نمازیں ادا کرنے کے لیے مسجدیں بنیں۔ ہم مسجدیں بنانے کی طرف توجہ دیں تو اس معراج کو حاصل کرنے کے لیے۔ یہ ہماری معراج ہونی چاہیے۔ یہی وہ ذریعہ ہے جو خدا تعالیٰ تک لے جاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے۔ پس مایوس نہیں ہونا چاہیے کہ یہ مقام کس طرح ملے۔ مسلسل کوشش سے یہ مقام اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔“
(خطبہ جمعہ 25؍ اکتوبر 2019ء)

مزید پڑھیں

کفّارات اور درجات کیا ہیں؟ (تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس زندگی کے کُل انفاس اگر دنیاوی کاموں میں گزر گئے تو آخرت کے لئے کیا ذخیرہ کیا؟ تہجد میں خاص کر اُٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔ درمیانی نمازوں میں بہ.باعث ملازمت کے ابتلا آ جاتا ہے۔ رازق اللہ تعالیٰ ہے۔ نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہئے۔ ظہروعصر کی کبھی کبھی جمع ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے اس لئے یہ گنجائش رکھ دی۔ مگر یہ گنجائش تین نمازوں کے جمع کرنے میں نہیں ہو سکتی۔ جبکہ ملازمت میں اور دوسرے کئی امور میں لوگ سزا پاتے ہیں (اور موردِ عتابِ حُکّام ہوتے ہیں) تو اگر اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیف اٹھاویں تو کیا خوب ہے‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 6۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

مزید پڑھیں

اسلام میں کفّارہ، فدیہ، دیت، ہدی، قضا اور توبہ کی شرعی حقیقت (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” سو اس طور کی طبیعتیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں کہ جن کا وجود روزمرّہ کے مشاہدات سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کے نفس کا شورش اور اشتعال جو فطرتی ہے کم نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جو خدا نے لگا دیااس کو کون دور کرے ہاں خدا نے ان کا ایک علاج بھی رکھا ہے۔ وہ کیا ہے؟ توبہ واستغفاراور ندامت، یعنی جبکہ بُرا فعل جو ان کے نفس کا تقاضا ہے ان سے صادر ہو یا حسب خاصہ فطرتی کوئی بُرا خیال دل میں آوے تو اگر وہ توبہ واستغفار سے اس کا تدارک چاہیں تو خدا اس گناہ کو معاف کر دیتا ہے۔ جب وہ بار بار ٹھوکر کھانے سے بار بار نادم اور تائب ہوں تو وہ ندامت اور توبہ اس آلودگی کو دھو ڈالتی ہے۔ یہی حقیقی کفّارہ ہے جو اس فطرتی گناہ کا علاج ہے۔“
( براہینِ احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 186۔187، حاشیہ)

مزید پڑھیں