ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر16)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’علم وحکمت ایسا خزانہ ہے جو تمام دولتوں سے اشرف ہے۔ دنیا کی تمام دولتوں کو فنا ہے لیکن علم وحکمت کو فنا نہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 161)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’علم وحکمت ایسا خزانہ ہے جو تمام دولتوں سے اشرف ہے۔ دنیا کی تمام دولتوں کو فنا ہے لیکن علم وحکمت کو فنا نہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 161)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’تمہارے لیے ممکن نہیں ہے کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔ صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔ پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرےاور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو مَیں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔ پس جو شخص خدا کے لئے بعض حصّہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا۔ ‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد3صفحہ497)
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ مَیں دیکھتا ہوں کہ بہت سے ہیں جن میں اپنے بھا ئیوں کے لئے کچھ بھی ہمدردی نہیں۔ اگر ایک بھائی بھوکا مرتا ہو تو دوسرا توجہ نہیں کرتا اور اس کی خبر گیر ی کے لئےتیار نہیں ہوتا۔ یا اگر وہ کسی اورقسم کی مشکلات میں ہے تو اتنانہیں کرتے کہ اس کے لئے اپنے مال کا کوئی حصّہ خرچ کریں۔ حدیث شریف میں ہمسایہ کی خبر گیری اور اس کے ساتھ ہمدردی کا حکم آیا ہے بلکہ یہاں تک بھی ہے کہ اگر تم گوشت پکا ؤ تو شوربہ زیادہ کرلو تا کہ اسے بھی دے سکو۔ اب کیا ہوتا ہے، اپنا ہی پیٹ پالتے ہیں لیکن اس کی کچھ پرواہ نہیں۔ یہ مت سمجھو کہ ہمسایہ سے اتنا ہی مطلب ہے جو گھرکے پاس رہتا ہو۔ بلکہ جو تمہارے بھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں خواہ وہ سو کوس کے فاصلے پر بھی ہوں۔‘‘
(ملفو ظات جلد 4صفحہ 215)
حضرت مرزا بشیر احمدؓ صاحب بیان کرتے ہیں کہ
”حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ دستور تھا کہ آپؐ اپنے تمام خطوط میں بسم اللّٰہ اور السلام علیکم لکھتے تھے اور خط کے نیچے دستخط کر کے تاریخ بھی ڈالتے تھے۔ مَیں نے کوئی خط آپؑ کا بغیر بسم اللّٰہ اور سلام اور تاریخ کے نہیں دیکھا اور آپ کو سلام لکھنے کی اتنی عادت تھی کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ آپؑ ایک دفعہ کسی ہندو مخالف کو خط لکھنے لگے تو خود بخود السلام علیکم لکھا گیا۔ جسے آپؑ نے کا ٹ دیا۔ لیکن پھر لکھنے لگے تو پھر سلام لکھا گیا چنانچہ آپؑ نے دوسری دفعہ اُسے پھر کاٹا لیکن جب آپ تیسری دفعہ لکھنے لگے تو پھر ہاتھ اسی طرح چل گیا۔ آخر آپؑ نے ایک اور کاغذ لے کر ٹھہر ٹھہر کر خط لکھا۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد اول صفحہ 270، روایت نمبر 299)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’تمہارا اصل شکر تقویٰ اور طہارت ہی ہے۔ اگر تم نے حقیقی سپاس گزاری یعنی طہارت اور تقویٰ کی راہیں اختیار کر لیں تو مَیں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو، کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 49۔ ایڈیشن2003ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا۔ تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو۔ کیونکہ شریر ہے وہ انسان جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں ہے۔ وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔‘‘
(کشتیٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد19صفحہ12)
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’آجکل پردہ پر حملے کئے جاتے ہیں، لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زنداں نہیں، بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے ۔ جب پَردہ ہو گا ٹھوکر سے بچیں گے۔‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 22-21، ایڈیشن 2003ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’تم خدا کی پرستش کرو اور اس کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھہراؤ اور اپنے ماں باپ سے احسان کرو اور ان سے بھی احسان کرو جو تمہارے قرابتی ہیں (اس فقرے میں اولاد اور بھائی اور قریب اور دور کے تمام رشتہ دار آگئے) اور پھر فرمایا کہ یتیموں کے ساتھ بھی احسان کرو اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور جو ایسے ہمسایہ ہوں، جو قرابت والے بھی ہوں اور ایسے ہمسائے ہوں جو محض اجنبی ہوں اور ایسے رفیق بھی جو کسی کام میں شریک ہوں یا کسی سفر میں شریک ہوں یا نماز میں شریک ہوں یا علم دین حاصل کرنے میں شریک ہوں اور وہ لوگ جو مسافر ہیں اور وہ تمام جاندار جو تمہارے قبضہ میں ہیں سب کے ساتھ احسان کرو۔ خدا ایسے شخص کو دوست نہیں رکھتا جو تکبّر کرنے والا اور شیخی مارنے والا ہو، جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا۔ ‘‘
(چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 209-208)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ دیکھو! دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک تو وہ جو اسلام قبول کرکے دنیا کے کاروبار اور تجارتوں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ شیطان ان کے سر پر سوار ہوجاتا ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے، صحابہ تجارتیں بھی کرتے تھے مگر دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا تو اسلام کے متعلق سچا علم جو یقین سے ان کے دلوں کو لبریز کردے انہوں نے حاصل کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگمگائے۔‘‘
(ملفوظات جلد3صفحہ 194-193ایڈیشن 1984ء )
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’صدقہ۔ صِدْق سے لیا گیا ہے۔ جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں صدقہ دیتا ہے تو معلوم ہوا کہ خدا سے صِدق رکھتا ہے ۔ دعا کے ساتھ قلب پر سوزو گداز اور رقت پیدا ہوتی ہے۔ دعا میں ایک قربانی ہے۔ صدق اور دعااگر یہ دو باتیں میسر آ جائیں تو اکسیر ہے‘‘
(ملفوظات جلد 7صفحہ 87-88 حاشیہ۔ ایڈیشن 1985ء)