اسلام میں کفّارہ، فدیہ، دیت، ہدی، قضا اور توبہ کی شرعی حقیقت (تقریر نمبر2)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” سو اس طور کی طبیعتیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں کہ جن کا وجود روزمرّہ کے مشاہدات سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کے نفس کا شورش اور اشتعال جو فطرتی ہے کم نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جو خدا نے لگا دیااس کو کون دور کرے ہاں خدا نے ان کا ایک علاج بھی رکھا ہے۔ وہ کیا ہے؟ توبہ واستغفاراور ندامت، یعنی جبکہ بُرا فعل جو ان کے نفس کا تقاضا ہے ان سے صادر ہو یا حسب خاصہ فطرتی کوئی بُرا خیال دل میں آوے تو اگر وہ توبہ واستغفار سے اس کا تدارک چاہیں تو خدا اس گناہ کو معاف کر دیتا ہے۔ جب وہ بار بار ٹھوکر کھانے سے بار بار نادم اور تائب ہوں تو وہ ندامت اور توبہ اس آلودگی کو دھو ڈالتی ہے۔ یہی حقیقی کفّارہ ہے جو اس فطرتی گناہ کا علاج ہے۔“
( براہینِ احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 186۔187، حاشیہ)
