” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (از روئے قرآن کریم ) (تقریر نمبر4)

حضرت خلیفۃُ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے سورۃ الانبیاء آیت 80 کے تحت فٹ نوٹ میں تحریر فرمایا ہے کہ
” ( طیّور کا لفظ استعارہ ہے یعنی ) وہ انسان جن کو روحانی طور پر اُڑنے کی طاقت دی گئی اور وہ تیز رفتار سوار جو پرندوں کی طرح تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے تھے۔ حضرت سلیمانؑ کی فوج کے سب سے تیز رسالہ کو بھی پرندوں کا لشکر قرار دیا گیا ہے۔ “

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (تقریر نمبر3)

حضرت خلیفۃُ المسیح الثالث رحمہ اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
”لیکن ایک شخص جسے مثلاً اللہ تعالیٰ نے ترقی کرنے کی سوا کائیاں عطا کی ہوں مگر وہ اپنے نکمے پن کی وجہ سے ان میں سے پچاس کو ضائع کر دے تو وہ اس سیب کی طرح ہے جس کا آدھا حصہ گلا سڑا ہواہوتا ہے یا اس کی حالت اس آم کی سی ہے جس کی ایک طرف کیڑا لگ جاتا ہے اور دوسری طرف سے قابلِ استعمال بھی ہوتا ہے یا ایک ایسی سیڑھی کی طرح ہے جو درمیان میں سے ٹوٹ گئی ہو یا اس کی مثال ایسے پرندے کی ہے جس کے اڑن پروں ( پرندوں کے جو پر ہوتے ہیں ان کے بعض حصے پرندے کو اڑنے میں مدد دیتے ہیں اور بعض اس کے Balance ( توازن ) کو قائم رکھنے میں مدد دیتےہیں ) میں سے دو چار پَر گر گئے ہوں اور وہ اتنی پرواز کے قابل نہ رہا ہو جتنی پرواز کی طاقت اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کر رکھی ہے۔ ہم نے بعض دفعہ شکار کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ اگر کسی مرغابی کے پر کا اگلا حصہ معمولی سا بھی زخمی ہو جائے تو وہ اپنی ڈار کے ساتھ اُڑ نہیں سکتی ۔ غرض جو چیز اپنی ڈار کے ساتھ اڑ نہیں سکتی اس کے متعلق آپ سمجھ سکتے ہیں کہ پھر وہ منافقوں کی ڈار کے ساتھ مل جاتی ہے۔ منافق کے اندر بھی پہلے تھوڑی سی کمزوری پیدا ہوتی ہے پھر گلے شکوے پیدا ہوتے ہیں جس کی ذمہ داری دراصل خود اس پر عائد ہوتی ہے پھر وہ ایسی تکلیف محسوس کرتا ہے جو درحقیقت کسی اور کی پیدا کردہ نہیں ہوتی ۔“
(خطبات ناصر جلد 2 صفحہ 752(

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (تقریر نمبر2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
” مؤمن کو چاہئے کہ بڑا بلند پرواز ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو کیونکہ ساری بلند پروازگیوں کی انتہاء اللہ کی رضا ہے۔ بلند پروازگی کے بالمقابل مؤمن کا ایک نزول بھی ہوتا ہے اور یہ نزول قرآن شریف میں شفقت علی خلق اللہ کہلاتا ہے ۔ اس نزول میں بھی ایک بلند پروازگی ہوتی ہے اور مؤمن بڑا ہی مستقل مزاج ہوتا ہے۔“
(ارشادات نور جلد 1 صفحہ 143(

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (تقریر نمبر1)

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سورۃ النمل آیت17 کے تحت فٹ نوٹ میں تحریر فرماتے ہیں۔
” ہم دوسری جگہ لکھ چکے ہیں کہ طَیۡرٌکے معنیٰ آسمانی پرواز کرنے والے لوگوں ( یعنی برگزیدہ لوگوں ) کے ہوتے ہیں ۔ وہی معنیٰ اِس جگہ پرندوں کے ہیں۔“
(فٹ نوٹ ۔ تفسیر صغیر سورۃ النمل آیت : 17 صفحہ 619)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر21)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں وہ دنیا کو ترک کرتے ہیں اس سے یہ مراد ہے کہ دنیاکو اپنا مقصود اور غایت نہیں ٹھہراتے اور دنیا ان کی خادم اور غلام ہو جاتی ہے۔ جو لوگ برخلاف اس کے دنیا کو اپنا اصل مقصود ٹھہراتے ہیں خواہ وہ دنیا کو کسی قدر بھی حاصل کر لیں آخر کار ذلیل ہوتے ہیں۔ ‘‘
(ذکر حبیب صفحہ 134)

مزید پڑھیں