حضرت خلیفۃُ المسیح الثالث رحمہ اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
”لیکن ایک شخص جسے مثلاً اللہ تعالیٰ نے ترقی کرنے کی سوا کائیاں عطا کی ہوں مگر وہ اپنے نکمے پن کی وجہ سے ان میں سے پچاس کو ضائع کر دے تو وہ اس سیب کی طرح ہے جس کا آدھا حصہ گلا سڑا ہواہوتا ہے یا اس کی حالت اس آم کی سی ہے جس کی ایک طرف کیڑا لگ جاتا ہے اور دوسری طرف سے قابلِ استعمال بھی ہوتا ہے یا ایک ایسی سیڑھی کی طرح ہے جو درمیان میں سے ٹوٹ گئی ہو یا اس کی مثال ایسے پرندے کی ہے جس کے اڑن پروں ( پرندوں کے جو پر ہوتے ہیں ان کے بعض حصے پرندے کو اڑنے میں مدد دیتے ہیں اور بعض اس کے Balance ( توازن ) کو قائم رکھنے میں مدد دیتےہیں ) میں سے دو چار پَر گر گئے ہوں اور وہ اتنی پرواز کے قابل نہ رہا ہو جتنی پرواز کی طاقت اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کر رکھی ہے۔ ہم نے بعض دفعہ شکار کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ اگر کسی مرغابی کے پر کا اگلا حصہ معمولی سا بھی زخمی ہو جائے تو وہ اپنی ڈار کے ساتھ اُڑ نہیں سکتی ۔ غرض جو چیز اپنی ڈار کے ساتھ اڑ نہیں سکتی اس کے متعلق آپ سمجھ سکتے ہیں کہ پھر وہ منافقوں کی ڈار کے ساتھ مل جاتی ہے۔ منافق کے اندر بھی پہلے تھوڑی سی کمزوری پیدا ہوتی ہے پھر گلے شکوے پیدا ہوتے ہیں جس کی ذمہ داری دراصل خود اس پر عائد ہوتی ہے پھر وہ ایسی تکلیف محسوس کرتا ہے جو درحقیقت کسی اور کی پیدا کردہ نہیں ہوتی ۔“
(خطبات ناصر جلد 2 صفحہ 752(
مزید پڑھیں