’’ تصویر سےبھی ایک تعلق پیدا ہوتاہے ‘‘ (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہم نے اپنی تصویر محض اس لحاظ سے اُتروائی تھی کہ یورپ کو تبلیغ کرتے وقت ساتھ تصویریں بھیج دیں، کیونکہ ان لوگوں کا عام مزاج اس قسم کا ہوگیا ہے کہ وہ جس چیز کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اس کی تصویر دیتے ہیں جس سے وہ قیافہ کی مدد سے بہت سے صحیح نتائج نکال لیتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ18-19)

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (روحانی ہجرت) (تقریر نمبر 5)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ کے ساتھ فرمایا کہ
’’ جس شخص نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی خاطر ہجرت کی اس کی خوشنودی کے لئے اپنے وطن اور خواہشات کو ترک کر دیا تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسولؐ کے لئے ہو گی۔ ‘‘
(بخاری کتاب الایمان باب النیّۃ فی الایمان)

مزید پڑھیں

شِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ (خلفاء کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 4)

حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
”یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ۙ وہُدًی ورَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ
ترجمہ ۔ اے لوگو! تمہارے پاس آئی نصیحت تمہارے ربّ کی طرف سے اور وہ قرآن شفاء ہے ان بیماریوں کے لئے جو سینے میں (شبہات پیدا کرتی) ہیں اور ہدایت اور رحمت ہے مؤمنوں کے لئے۔
هُدًی۔ بیمار کے لئے پہلے ازالۂ مرض کی ضرورت ہوتی ہے پھر قوّت‎ کی ۔ قرآن مجید روحانی امراض کو دور کر کے ترقیات کے لئے قوت دیتا ہے۔ “
(حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ 116 ایڈیشن 2024ء)

مزید پڑھیں

شِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُور (تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ایسی شے ہے جو قلوب کو اطمینان عطا کرتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد:49) پس جہاں تک ممکن ہو ذکر الٰہی کرتا رہے اس سے اطمینان حاصل ہوگا۔ ہاں اس کے واسطے صبر اور محنت درکار ہے۔ اگر گھبرا جاتا اور تھک جاتا ہے تو پھر یہ اطمینان نصیب نہیں ہوسکتا۔ دیکھو! ایک کسان کس طرح پر محنت کرتا ہے اور پھر کسی صبر اور حوصلہ کے ساتھ باہر اپنا غلہ بکھیر آتا ہے۔ بظاہر دیکھنے والے یہی کہتے ہیں کہ اُس نے دانے ضائع کر دیئے لیکن ایک وقت آجاتا ہے کہ وہ ان بکھیرے ہوئے دانوں سے ایک خرمن جمع کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ پر حسن ظن رکھتا ہے اور صبر کرتا ہے ۔ اسی طرح پر مومن جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک تعلق پیدا کر کے استقامت اور صبر کا نمونہ دکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس پر مہربانی کرتا ہے اور اسے وہ ذوق شوق اور معرفت عطا کرتا ہے جس کا وہ طالب ہوتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 7صفحہ93-92)

مزید پڑھیں

”فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ“ (حضرت مسیح موعود ؑ اور خلفائے جماعت کے فرمودات کی روشنی میں) (تقریر نمبر2)

سورۃ النحل آیت 70کی تفسیر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”( شہید ) یہ لفظ شہد سے بھی نکلا ہے۔ عبادتِ شاقّہ جو لوگ برداشت کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں ہر ایک تلخی اور کدورت کو جھیلتے ہیں اور جھیلنے کے لئے طیار ہو جاتے ہیں۔ وہ شہد کی طرح ایک شیرینی اور حلاوت پاتے ہیں اور جیسے شہد فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ کا مصداق ہے یہ لوگ بھی ایک تریاق ہوتے ہیں۔ ان کی صحبت میں آنے والے بہت سے امراض سے نجات پا جاتے ہیں ۔“
(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 5 صفحہ 65)

مزید پڑھیں

”فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ“ (تقریر نمبر1)

شہد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’دوسری تمام شرینیوں کو تو اطباء نے عفونت پیدا کرنے والی لکھا ہے مگر یہ ان میں سے نہیں ہے۔ آم وغیرہ اور دیگر پھل اس میں رکھ کر تجربے کئے گئے ہیں کہ وہ بالکل خراب نہیں ہوتے سالہا سال ویسے ہی پڑے رہتے ہیں۔‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد5 صفحہ66(

مزید پڑھیں

ایمان کے دو حصّے، ایک صبر اور دوسرا شکر ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر 22)

حضرت اسامہ بن زیدؓ نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس سے کوئی نیکی کی گئی اور اس نے اس کے کرنے والے سے کہا جَزَاکَ اللّٰہُ۔ جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین جزا دے تو اس نے تعریف کا حق ادا کر دیا۔
(جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ باب ماجاءفی الثناء بالمعروف حدیث2035)

مزید پڑھیں

ایمان، احادیث کی روشنی میں

حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان دل کی معرفت اور زبان کے اقرار اور اسلام کے ارکان پر عمل کا نام.ہے۔
(حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 167)

مزید پڑھیں

مؤمِن کا دل

سورۃ البقرۃ آیت 267 کی تفسیر میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
” اس آیت میں تمام درختوں میں سے نخیل واعناب کا ذکر بالخصوص اس لیے کیا ہے کہ یہ بہت اعلیٰ قسم کے درخت ہیں۔ رسول کریمؐ نے مؤمن کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دی ہے اِس لئے کہ اِس میں چند خاصیّتیں ہیں۔ اوّل تو یہ کہ اِس کے پتّے ہوا سے نہیں جھڑتے۔ مؤمن کو بھی ایسا ہی ہونا چاہئے کہ وہ قِسم قِسم کی مصیبتوں میں گھبرا نہ اُٹھے۔ “
(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 425)

مزید پڑھیں