حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پہلا فوٹو اُتروانے کی وجہ (تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعودؑ فوٹو گرافی یعنی عکسی تصویر بنانے کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’ہم نے اپنی تصویر محض اِس لئے اتروائی تھی کہ یورپ کو تبلیغ کرتے وقت ساتھ تصویر بھیج دیں کیونکہ اُن لوگوں کاعام مذاق اس قسم کا ہوگیا ہے کہ وہ جس چیز کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اُس کی تصویر دیتے ہیں جس سے وہ قیافہ کی مددسے بہت سے صحیح نتائج نکال لیتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد7 صفحہ24-25 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

تصویرکھنچوانے کے متعلق ارشادات (حضرت مسیح موعودؑ و خلفائے کرام) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ صوفیاء کا طریقہ تھا کہ دل سے دل کو پڑھاتے تھے وہ تمام سبق اسی طرح پڑھتے تھے۔ وہ بات زبان سے حاصل نہیں ہو سکتی تھی جو ایک قلب سے دوسرے قلب کو بجلی کی رَو کی طرح حاصل ہوتی ہے۔ الفاظ کا اثر کانوں کے ذریعہ ہوتا ہے مگر الفاظ بعض کیفیات کے متحمّل نہیں ہو سکتے۔ اصل سبق تو وہی تھے جو قلوب کے ذریعہ توجہ سے ہوتے تھے مگر آجکل کے جھوٹے صوفیوں نے جن کا نام توجہ کہا ہے یہ نہیں۔ وہ بھی خواہش اور کامل تزکیہ سے حاصل ہوتی ہے جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ظلّ اور بُروز کہا ہے ۔ ایک شخص خواہ کیسا ہی فصیح البیان ہو الفاظ کے ذریعہ ایک تصویر کو نہیں دکھا سکتا، لیکن اگر فوٹو سامنے رکھ دیا جائے تو فوراً تصویر کی تمام چیزیں نظر آجائیں گی۔ یہ سبق نہایت کار آمد اور اہم ہے لیکن اس کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ پس بعض تفصیلات الفاظ کے ذریعہ ادا نہیں ہو سکتیں۔ بلکہ بروز کے طور پر آتی ہیں۔ مثلاً کوئی شخص کہتا چلا جائے کہ ناک ایسی ہے کان ایسے ہیں آنکھ ایسی ہے مگر کوئی چیز ہو بہو سمجھ میں نہیں آسکتی ۔ ہاں فوٹو کے ذریعہ سب کچھ سمجھ میں آجاتا ہے۔ ‘‘
(خطبات محمود جلد6صفحہ 35-34)

مزید پڑھیں

’’ ستائیس کو خوشیاں منائیں گے ‘‘ (الہام حضرت مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لیے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک مَیں نہ جاؤں ۔ ‘‘
(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد20صفحہ305)

مزید پڑھیں

”ہم ایک بِھیڑ ہیں، جانوروں کا انبوہ ہیں “ ( مخالفینِ احمدیت کا اعتراف)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دشمنان احمدیت کو صد سالہ خلافت جوبلی کے تاریخی خطاب میں مخاطب ہو کر فرمایا تھا ۔
” اے دشمنان احمدیت! مَیں تمہیں دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر تم خلافت کے قیام میں نیک نیت ہو تو آؤ! اور مسیح محمدی کی غلامی قبول کرتے ہوئے اس کی خلافت کے جاری و دائمی نظام کا حصہ بن جاؤ ورنہ تم کوششیں کرتے کرتے مرجاؤ گے اور خلافت قائم نہ کرسکو گے ۔ تمہاری نسلیں بھی اگر اسی ڈگر پر چلتی رہیں تو وہ بھی کسی خلافت کو قائم نہیں کرسکیں گی ۔ قیامت تک تمہاری نسل در نسل یہ کوشش جاری رکھے تب تک کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ “
( خطاب 27 مئی 2008ء)

مزید پڑھیں

05تقاریربابت دیکھو! کیا کہتی ہے تصویر تمہاری

کنجی(پیش لفظ ) ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ   نے مورخہ 10 ؍اپریل 2026 ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شرک سے نفرت اور توحید کے قیام کے لیے آپؑ کی کوششوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ اس ضمن میں حضور علیہ السلام نے […]

مزید پڑھیں

ہم یومِ خلافت کیوں مناتے ہیں؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو کہ انسان کو چاہئے کہ… اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ:12) پر عمل کرے۔ خداتعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی تحدیث کرنی چاہئے۔اس سے خدا تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے اور اُس کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے ایک جوش پیدا ہوتا ہے۔ تحدیث کے یہی معنی نہیں ہیں کہ انسان صرف زبان سے ذکر کرتارہے بلکہ جسم پر بھی اس کا اثر ہونا چاہئے۔ ‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ زیر سورۃ الضحیٰ آیت12 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’دعا کی قبولیت کا بھی یہی راز ہے ۔ انسان جب تک اپنی خواہشات ،ارادوں اور علموں کو ترک کر کے خدا میں فنا نہ ہو جاوے اور خدا کی قدرت کاملہ اور قادر مطلق ہونے اور سننے اور قبول کرنے والا ہونے پر یقینِ کامل اور پورا وثوق نہ رکھتا ہو تب تک دعا بھی ایک بے حقیقت چیز ہے۔ فلسفیوں کو کیوں قبولیتِ دعا پر ایمان نہیں ہوتا ۔ اِس کی یہی وجہ ہے کہ اُن کو خدا کی توسیع قدرت اور باریک در باریک سامانوں کے پیدا کر دینے والا ہونے پر ایمان نہیں ہوتا……اور وہ خدا کی قدرت کو محدود جانتے ہیں اور اپنے تجارب اور علوم پر بھی بھروسہ کر بیٹھتے ہیں۔ اُن کو اپنے تجارب کے مقابلہ میں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ خدا بھی ہے اور وہ بھی کچھ کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بعض سخت مہلک امراض میں وہ لوگ یقینی اور قطعی حکم لگا دیتے ہیں کہ یہ شخص بچ نہیں سکتا یا اتنے عرصے میں مرجاوے گا۔ یا اس طرز سے مرے گا۔ مگر بیسیوں مثالیں ایسی خود ہماری چشم دید ہیں اور بعض کو ہم جانتے ہیں جن میں باوجود ان کے یقینی اور قطعی حکم لگا دینے کے خدا تعالیٰ نے اُن بیماروں کے واسطے ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ وہ آخرکار بچ گئے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض وہ بیمار جن کے حق میں یہ لوگ موت کا قطعی اور اٹل فتویٰ دے چکے تھے زندہ سلامت ہو گئے اور کسی دوسرے موقعہ پر ان کو مل کر شرمندہ کیا اور ان کے علم و دعویٰ کو بھی شرمندہ کیا ہے۔
حدیث میں آیا ہے مَا مَنْ دَآءٍ اِلَّا وَلَہٗ دَوَآءٌ ۔ ایک مشہور ڈاکٹر کا ہمیں قول یاد ہے وہ کہتا ہے کہ کوئی مرض بھی نا قابل علاج نہیں ہے بلکہ یہ ہماری سمجھ اور عقل و علم کا نقص ہے کہ ہمارے علم کی رسائی وہاں تک نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مرض کے واسطے بعض ایسے ایسے اسباب پیدا کئے ہوں جن سے وہ شخص جس کو ہم ناقابل علاج یقین خیال کرتے ہیں قابل علاج اور صحت یاب ہو کر تندرست ہو جاوے۔ پس قطعی حکم ہر گز نہ لگانا چاہیے بلکہ اگر رائے ظاہر بھی کرنی ہو تو یوں کہہ دو کہ ہمیں ایسا شک پڑتا ہے مگر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسے سامان پیدا کر دے کہ جن سے یہ روک اُٹھ جاوے اور بیماراچھا ہو جاوے ۔ دُعا ایک ایسا ہتھیار خدا تعالیٰ نے بنایا ہے کہ اَنہونے کام بھی جن کو انسان نا ممکن خیال کرتا ہے ہو جاتے ہیں کیونکہ خدا کے لیے کوئی بات بھی اَنہونی نہیں ۔ ‘‘
( ملفوظات جلد10صفحہ197-195)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”پاکیزگی سے یہ مراد ہے کہ انسان کو جو اُس کے جذباتِ نفسانیہ خدا تعالیٰ سے روح گرداں کر کے اپنی خواہشات میں محو کرنا چاہتے ہیں ان کا مغلوب نہ ہو اور کوشش کرے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق اس کی رفتار ہو۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی قول فعل خدا تعالیٰ کی رضامندی کے بغیر سرزد ہی نہ ہو۔ خدا تعالیٰ قدوس اور پاک ہے وہ اپنی صفات کے مطابق ہی انسان کو بھی چلانا چاہتا ہے ۔وہ رحیم ہے انسان سے بھی رحم چاہتا ہے ۔ وہ کریم ہے انسان سے بھی کرم جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی صفات خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں ظاہر ہیں۔ جسمانی طور سے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا مدت ہائے دراز سے چلی آتی ہے۔ ان کو اناج، پانی، لباس، روشنی وغیرہ تمام حوائجِ ضروریہ اور لوازم انسانیہ ہمیشہ سے بہم پہنچاتا چلا آیا ہے اور ہمیشہ ہی اس کے رحم اور کرم کی صفات اور اسمائے حسنہ کے تقاضے ساتھ ساتھ مخلوق کی دستگیری کرتے چلے آئے ہیں۔ پس غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کو اپنی صفات کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے۔“
( ملفوظات جلد10 صفحہ 437۔438 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”حدیث ہے طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةً عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمة ۔مَيں پہلے مردوں کا ذکر کرتا ہوں کہ قبل اس کے جو اسلام کی حقیقت معلوم ہو اور اس کی خوبیاں معلوم ہوں پہلے ان علوم کی طرف مشغول ہو جانا سخت خطرناک ہے۔ چھوٹے بچوں کو جب دین سے بالکل آگاہ نہ کیا جائے اور صرف مدرسہ کی تعلیم دی جائے تو وہی باتیں ان کے بدن میں شیرِ مادر کی طرح رَچ جائیں گی۔ پھر سوا اس کے اور کیا ہے کہ وہ اسلام سے پھر جائیں۔ عیسائی تو بہت کم ہوں کیونکہ تثلیث و کفارہ اور ایک انسان کو خدا ماننے کا عقیدہ ہی کچھ ایسا لغو ہے کہ اسے کوئی عقیل و فہیم قبول نہیں کر سکتا ۔ البتہ دہریّہ ہو جانے کا بہت خطرہ ہے۔ پس ضرور ہے کہ پہلے روز ساتھ ساتھ روحانی فلسفہ پڑھایاجاوے۔ جب آجکل کی تعلیم نے مردوں پر مذہب کے لحاظ سے اچھا اثر نہیں کیا تو پھر عورتوں پر کیا توقع ہے؟ ہم تعلیمِ نسواں کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ہم نے تو ایک سکول بھی کھول رکھا ہے ۔ مگر یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ پہلے دین کا قلعہ محفوظ کیا جائے تا بیرونی باطل تاثرات سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سواء السّبیل ، تو بہ، تقویٰ و طہارت کی توفیق دے۔“
( ملفوظات جلد10 صفحہ 379)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ صدق و صفا، تقویٰ طہارت ، یہ اسلام کے برکات تھے جو کہ مسلمانوں میں لازماًپائے جاتے ہیں مگر اب تو ان صفات سے لوگ بھی محروم ہوگئے ہیں۔ نماز بھی پڑھتے ہیں تو بہت ہی کم۔ مسجدیں ویران پڑی ہیں ، نمازی کوئی نظر نہیں آتا۔ ایک وقت تھا کہ نمازیوں کو مسجدیں نہ ملتی تھیں۔ جتنے پڑھتے ہیں اُن میں بھی اکثر دکھلاوے کی نماز پڑھتے ہیں کیونکہ حقیقی نماز کے آثار کے برکات اور ثمرات سے محروم ہیں۔ عیسائی تو حضرت مسیح کو پھانسی دے کر بے فکر ہو بیٹھے تھے اکثر مسلمان حضرت امام حسینؓ کی شہادت میں نجات پاچکے ہیں۔‘‘
( ملفوظات جلد10صفحہ256)

مزید پڑھیں