حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ رحیم کریم ہے۔ اُس پر بدظنی نہیں کرنی چاہیے۔ جو اُس کی سنت کو نگاہ میں رکھے گا اور اُس کے لئے دُکھ اور تکالیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجاوے گا وہ ضرور کامیاب ہو گا۔ اگر اُس کے بتائے ہوئے راستہ پر نہیں چلے گا اور بخل سے کام لے گا تو رہ جاوے گا۔ دیکھو! فوجوں میں جو لوگ بھرتی ہوتے ہیں اور دنیا کی خاطر لڑنے مرنے اور جان دینے کے لئے نوکر ہوتے ہیں، وہ کوئی ہزاروں روپیہ تو تنخواہ نہیں پاتے۔ یہی دس بارہ روپیہ کی خاطر جان دینا قبول کر لیتے ہیں مگر کتنے افسوس کی بات ہےکہ خدا تعالے کی خاطر اور اُس دائمی بہشت اور دائمی خوشنودی کے لئے کوئی فکر نہیں کرتے ۔‘‘
( ملفوظات جلد 9صفحہ447)

مزید پڑھیں

75تقاریربابت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی احبابِ جماعت کو پَندو نصائح

 روحانی ولاز میں داخلہ Spiritual Villa’s Entry (پیش لفظ)) آج مَیں اپنے پروردگار کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اُس نے مجھ حقیر، ناچیز اَور نابکار کو مامورِ زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تقاریر، دروس، مختلف محافل میں اور سیر کے دوران کی گئی مبارک گفتگو جو ملفوظات کے نام […]

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
” ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ نرمی اور رفق سے معاملہ کرو۔ اپنی ساری مصیبتیں اور بلائیں خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔ یقیناً سمجھو اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ ہر شخص کی شرارت پر صبر کرتا ہے اورخدا پر اُسے چھوڑتا ہے تو خدا اُسے ضائع نہیں کرے گا۔ اگرچہ دنیا میں ایسے آدمی موجود ہیں جو ہنسی کریں گے اور ان باتوں کو سن کر ٹھٹھا کریں گے مگر تم اس کی پروا نہ کرو۔ خدا تعالیٰ خود اس کے لیے موجود ہے۔ وہ خدا پُرانا نہیں ہو گیا جیسے انسان بُڈھا ہو کر پیرِ فرتوت ہو جاتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ وہی ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام کے وقت تھا اور وہی خدا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھا۔ اس کی وہی طاقتیں اب بھی ہیں جو پہلے تھیں ۔ لیکن جو کچھ مَیں کہتا ہوں تم اس پر عمل نہ کرو تو میری جماعت میں نہ رہے۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 165۔166 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”ہم نے تو اپنی اولاد وغیرہ کا پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ یہ سب خدا تعالیٰ کا مال ہے اور ہمارا اس میں کچھ تعلق نہیں اور ہم بھی خدا تعالیٰ کا مال ہیں جنہوں نے پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوتا ہے ان کو غم نہیں ہوا کرتا۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 409)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’دہلی کی جامع مسجد کو دیکھ کر فرمایا کہ مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں بلکہ اُن نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ورنہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد چھوٹی سی تھی کھجور کی چھڑیوں سے اس کی چھت بنائی گئی تھی اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا ۔ مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیاداروں نے ایک مسجد بنوائی تھی وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے گرادی گئی۔ اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا یعنی ضرر رساں۔ اس مسجد کی زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی تھی۔ مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائیں۔‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ170)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ہماری جماعت کو ایسا ہونا چاہیے کہ نِری لفاظی پر نہ رہے بلکہ بیعت کے سچے منشا کو پورا کرنے والی ہو۔ اندرونی تبدیلی کرنی چاہئے ۔ صرف مسائل سے تم خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے ۔ اگر اندرونی تبدیلی نہیں تو تم میں اور تمہارے غیر میں کچھ فرق نہیں۔ اگر تم میں مکر، فریب ،کسل اور سستی پائی جائے تو تم دوسروں سے پہلے ہلاک کئے جاؤ گے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ اپنے بوجھ کو اُٹھائے اور اپنے وعدے کو پورا کرے۔ عمر کا اعتبار نہیں۔ دیکھو! مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہو گئے۔ ہر جمعہ میں ہم کوئی نہ کوئی جنازہ پڑھتے ہیں، جو کچھ کرنا ہے اب کر لو جب موت کا وقت آتا ہے تو پھر تاخیر نہیں ہوتی۔ جو شخص قبل از وقت نیکی کرتا ہے امید ہے کہ وہ پاک ہو جائے۔ اپنے نفس کی تبدیلی کے واسطے سعی کرو۔ نماز میں دعائیں مانگو۔ صدقات خیرات سے اور دوسرے ہر طرح کے حیلہ سے وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا ( العنکبوت:70) میں شامل ہو جاؤ۔ جس طرح بیمار طبیب کے پاس جاتا ، دوائی کھاتا مسہل لیتا ، خون نکلواتا ، ٹکور کرواتا اور شفا حاصل کرنے کے واسطے ہر طرح کی تدبیر کرتا ہے۔ اِسی طرح اپنی روحانی بیماریوں کو دُور کرنے کے واسطے ہر طرح کی کوشش کرو۔ صرف زبان سے نہیں بلکہ مجاہدہ کے جس قدر طریق خدا تعالیٰ نے فرمائے ہیں وہ سب بجا لاؤ۔ صدقہ خیرات کرو جنگلوں میں جا کر دعائیں کرو۔ سفرکی ضرورت ہو تو وہ بھی کرو ۔ بعض آدمی پیسے لے کر بچوں کو دیتے پھرتے ہیں کہ شاید اِسی طرح کشوف باطن ہو جائے ۔ جب باطن پر قفل ہو جائے تو پھر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ حیلے کرنے والے کو پسند کرتا ہے ۔ جب انسان تمام حیلوں کو بجا لاتا ہے تو کوئی نہ کوئی نشانہ بھی ہو جاتا ہے ۔ ‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ189-188)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف میں آیا ہے وَالصُّلۡحُ خَیۡرٌ ( النساء: 129) اس لئے اگر آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا ہو بھی جائے تو صلح کر لینی چاہیے کیونکہ اس میں خیر اور برکت ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ غیر مذاہب کے ساتھ بھی یہ بات رکھی جائے بلکہ اُن کے ساتھ سخت مذہبی عداوت رکھنا چا ہئے ۔ جب تک مذہب کی غیرت نہ ہو انسان کا مذہب ٹھیک نہیں ہوتا۔ اب یہ جو ہندو عیسائی ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتے ہیں تو کیا ہم اُن کے ساتھ صلح رکھ سکتے ہیں بلکہ ان کی محفلوں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ دوستی کرنا اور ان کے گھروں میں جانا تو معصیت میں داخل ہے۔ ہاں! آپس میں جو ایک فرقہ میں ہوں تو لڑائی جھگڑا کی زیادہ تر بنیاد بدظنی ہوتی ہے۔
حدیث میں ہے کہ دوزخ میں دو تہائی آدمی بدظنّی کی وجہ سے داخل ہوں گے۔ خدا تعالٰی قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قیامت کے دن میں لوگوں سے پوچھوں گا کہ اگر تم مجھ پر بد ظنّی نہ کرتے تو یہ کیوں ہوتا ۔ حقیقت میں اگر لوگ خدا تعالیٰ پر بدظنّی نہ کرتے۔ تو اس کے احکام پر کیوں نہ چلتے۔ انہوں نے خدا تعالیٰ پر بدظنّی کی اور کفر اختیار کیا اور بعض تو خدا تعالیٰ کے وجود تک کے منکر ہو گئے۔ تمام فسادوں اور لڑائیوں کی وجہ یہی بدظنّی ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ446)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ( الرعد:29) اس کے عام معنی تو یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے قلوب اطمینان پاتے ہیں۔ لیکن اس کی حقیقت اور فلاسفی یہ ہے کہ جب انسان سچے اخلاص اور پوری وفاداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور ہر وقت اپنے آپ کو اس کے سامنے یقین کرتا ہے ۔ اِس سے اُس کے دل پر ایک خوف عظمتِ.الٰہی کا پیدا ہوتا ہے وہ خوف اس کو مکروہات اور منہیات سے بچاتا ہے اور انسان تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرتا ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالٰی کے ملائکہ اُس پر نازل ہوتے ہیں اور وہ اُس کو بشارتیں دیتے ہیں اور الہام کا دروازہ اُس پر کھولا جاتا ہے۔ اُس وقت وہ اللہ تعالٰی کو گویا دیکھ لیتا ہے اور اس کی وراءُ الوراء طاقتوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔ پھر اُس کے دل پر کوئی ہمّ و غم نہیں آسکتا اور طبیعت ہمیشہ ایک نشاط اور خوشی میں رہتی ہے۔ اسی لئے دوسرے مقام پر آیا ہے لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ
( الاحقاف:14) اگر کوئی ہمّ و غم واقع بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے الہام سے اس کے لئے خارجی اسباب اُن کے دُور کرنے کے پیدا کر دیتا ہے۔ یا خارق عادت صبر اُن کو عطا کرتا ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ2-1)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ سب دوستوں کے واسطے ضروری ہے کہ ہماری کتب کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھ لیا کریں کیونکہ علم ایک طاقت ہے اور طاقت سے شجاعت پیدا ہوتی ہے ۔ جس کو علم نہیں ہوتا مخالف کے سوال کے آگے حیران ہوتا ہے ۔ ‘‘
(ملفوظات جلد8صفحہ8)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور قرآن شریف خاتم الکتب ۔ اب کوئی اور کلمہ یا کوئی اور نماز نہیں ہو سکتی ۔ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا کر کے دکھایا اور جو کچھ قرآن شریف میں ہے اُ س کو چھوڑ کر نجات نہیں مِل سکتی ۔ جو اُس کو چھوڑے گا وہ جہنم میں جاوے گا ۔ یہ یمارا مذہب اور عقیدہ ہے ۔ ‘‘
( ملفوظات جلد8صفحہ 252)

مزید پڑھیں