حضرت مسیحِ موعودؑ کی حضرت محمد مصطفیٰؐ سے محبت کے عملی اظہار

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”نوع انسان کے لیے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن، اور تمام آدم زادوں کے لیے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔ سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبیؐ کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو۔“
(کشتی نوح، صفحہ 13)

مزید پڑھیں

حسِّ مزاح، انسان کی چھٹی حسّ اور زندگی کے ہر مقام سے گزرنے کا ہنر

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
مَا رَآنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي (صحیح بخاری)
یعنی مَیں جب سے اسلام لایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جب بھی دیکھا آپؐ کے رُخِ انور پر ایک دل نشین مسکراہٹ سج گئی۔

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کے وجود کی علّتِ غائی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ یہود کی اخلاقی حالت بھی بہت خراب ہو گئی تھی اور خدا کی محبت ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ اب میرے زمانہ میں بھی یہی حالت ہے۔ سو مَیں بھیجا گیا ہوں تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو سو یہی افعال میرے وجود کی علّتِ غائی ہیں۔ مجھے بتلایا گیا ہے کہ پھر آسمان زمین سے نزدیک ہو گا۔ بعد اِس کے کہ بہت دُور ہوگیا تھا۔ سو مَیں اِنہی باتوں کا مجدّد ہوں اور یہی کام ہیں جن کے لئے مَیں بھیجا گیا ہوں اور مِنجملہ اِن اَمور کے جو میرے مامور ہونے کی علّتِ غائی ہیں مسلمانوں کے ایمان کو قوِی کرنا ہے اوراِن کو خدا اور اُس کی کتاب اور اُس کے رسول کی نسبت ایک تازہ یقین بخشا اوریہ طریق ایمان کی تقویت کا دو طَور سے میرے ہاتھ سے ظہور میں آیا ہے۔اوّل قرآن شریف کی تعلیم کی خوبیاں بیان کرنی اور اُس کے اعجازی حقائق اورمعارف اور انوار اور برکات کو ظاہر کرنے سے جن سے قرآن شریف کا مِنجانب اللہ ہونا ثابت ہوتا ہے چنانچہ میری کتابوں کو دیکھنے والےاس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ کتابیں قرآن شریف کے عجائب اسرار اورنکات سے پُر ہیں اور ہمیشہ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جس قدر مسلمانوں کا علم قرآن شریف کی نسبت ترقی کرے گا اُسی قدر اُن کا ایمان بھی ترقی پذیر ہو گا۔ ‘‘
(کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 293۔ 296۔ حاشیہ)

مزید پڑھیں

غلُوّ سے اجتناب

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ
(سنن النسائی)
کہ دین میں غلوّ سے بچو! کیونکہ تم سے پہلی امّتوں کو دین میں غلوّ اور حد سے تجاوز کرنے ہی نے ہلاک کیا۔

مزید پڑھیں

لوگوں کی عزّت وناموس (اسلام کی آفاقی تعلیم اور احمدی مسلمان کی ذمّہ داری)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”غرض نوع انسان پر شفقت اور اس سے ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے یہ ایک زبردست ذریعہ ہے۔ مگر مَیں دیکھتا ہوں کہ اس پہلو میں بڑی کمزوری ظاہر کی جاتی ہے۔ دوسروں کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ ان پر ٹھٹھے کیے جاتے ہیں ان کی خبرگیری کرنا اور کسی مصیبت اور مشکل میں مدد دینا تو بڑی بات ہے۔ جو لوگ غرباء کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش نہیں آتے بلکہ ان کو حقیر سمجھتے ہیں مجھے ڈر ہے کہ وہ خود اس مصیبت میں مبتلا نہ ہو جاویں۔ اللہ تعالیٰ نے جن پر فضل کیا ہے اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ احسان اور سلوک کریں اور اس خداداد فضل پر تکبر نہ کریں اور وحشیوں کی طرح غرباء کو کچل نہ.ڈالیں۔“

مزید پڑھیں

مالِ غنیمت کا اسلامی فلسفہ (قرآن، سنّتِ رسول اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم کی روشنی میں)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
’’(ایک) خصوصیت آپؐ کی یہ ہے کہ بخلاف سابقہ شریعتوں کے جن میں غنیمت کے مال کو جلا دینے کا حکم تھا۔ آپؐ کے واسطے جنگوں میں ہاتھ آنے والا مالِ غنیمت حلال کیا گیا ہے جس میں یہ حکمت ہے کہ ایک تو قوموں کے اموال یونہی ضائع نہ ہوں اور دوسرے ظالِم لوگوں کو یہ سبق دیا جائے کہ اگر تُم دوسروں پر دست درازی کرو گے تو تمہارے اموال تُم سے چھین کر مظلوموں کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں گے اور تیسرے یہ کہ اسلامی غزوات میں کمزور مسلمانوں کے لئے مضبوطی کا سامان پیدا کیاجائے۔ “
( چالیس جواہر پارے صفحہ 24)

مزید پڑھیں

”خمیر سے خمیرلگتا ہے“ (مسیح موعودؑ )

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”انسان کو انوار اور برکات سے حصّہ نہیں مِل سکتا۔ جب تک وہ اِسی طرح عمل نہ کرے جس طرح خدا فرماتا ہے کہ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ۔ بات یہی ہے کہ خمیر سے خمیر لگتا ہے اور یہی قاعدہ ابتداء سے چلا آتا ہے۔ پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ کے ساتھ برکات اور انوار تھے جن میں سے صحابہ نے بھی حصّہ لیا پھر اِسی طرح خمیر کی لاگ کی طرح آہستہ آہستہ ایک لاکھ تک ان کی نوبت آئی۔ “
( البدر جلد 4 مورخہ 21 نومبر 1902ء صفحہ 31)

مزید پڑھیں

’’ تصویر سےبھی ایک تعلق پیدا ہوتاہے ‘‘ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
” مالی کے ریجن سِکَاسَو کے مبلغ لکھتے ہیں مروان کولی بالی صاحب احمدیہ مشن ہاؤس آئے اور کہا کہ وہ بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ریڈیو احمدیہ شوق سے سنتے تھے اور جماعت کی اکثر باتوں سے مطمئن تھے لیکن بیعت کرنے کو دل نہیں مانتا تھا۔ کہنے لگے: کل جب میری ریڈیو سنتے سنتے آنکھ لگ گئی تو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان میں چاند نہایت روشن ہے اور چاند میں دو اشخاص کی تصویریں نظر آ رہی ہیں۔ ایک تصویر بڑی اور ایک چھوٹی ہے اور قریب کھڑے بچے شور مچا رہے ہیں کہ یہ امام مہدی علیہ السلام اور ان کے خلیفہ کی تصویر ہے۔ وہ آ گئے ہیں۔ مروان صاحب کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے خواب میں ہی قریب کھڑے بزرگ سے دریافت کیاکہ کیا آپ کو بھی تصویر نظر آ رہی ہے، جس پر بزرگ نے تو نفی میں جواب دیا لیکن کہتے ہیں میرا دل مطمئن ہو گیا کہ احمدیت ہی سچی جماعت ہے جو امام مہدی کے ظہور کا اعلان کر رہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلفاء کی تصویریں دیکھیں توحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی تصویر کو پہچان لیا۔ ساتھ میری تصویر بھی تھی اور کہا یہی تو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔“
(خطبہ جمعہ 11؍اگست2023ء )

مزید پڑھیں

’’ تصویر سےبھی ایک تعلق پیدا ہوتاہے ‘‘ (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہم نے اپنی تصویر محض اس لحاظ سے اُتروائی تھی کہ یورپ کو تبلیغ کرتے وقت ساتھ تصویریں بھیج دیں، کیونکہ ان لوگوں کا عام مزاج اس قسم کا ہوگیا ہے کہ وہ جس چیز کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اس کی تصویر دیتے ہیں جس سے وہ قیافہ کی مدد سے بہت سے صحیح نتائج نکال لیتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ18-19)

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (روحانی ہجرت) (تقریر نمبر 5)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ کے ساتھ فرمایا کہ
’’ جس شخص نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی خاطر ہجرت کی اس کی خوشنودی کے لئے اپنے وطن اور خواہشات کو ترک کر دیا تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسولؐ کے لئے ہو گی۔ ‘‘
(بخاری کتاب الایمان باب النیّۃ فی الایمان)

مزید پڑھیں