حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ مخفی ہے مگر وہ اپنی قدرتوں سے پہچانا جاتا ہے ۔دُعا کے ذریعہ سے اُس کی ہستی کا پتہ لگتا ہے ۔ کوئی بادشاہ یا شہنشاہ کہلائے ہر شخص پر ضرور ایسے مشکلات پڑتے ہیں جن میں انسان بالکل عاجز رہ جاتا ہے اور نہیں جانتا کہ اب کیا کرنا چاہیے ۔ اُس وقت دعا کے ذریعہ سے مشکلات حل ہو سکتے ہیں ۔‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ 35)

مزید پڑھیں

”مساجد تو دراصل بیتُ المساکین ہوتی ہیں“ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دل کے پاس تلاش کرو۔ اسی لیے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔ اسی طرح چاہیئے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے پاس جو آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے۔ بلکہ سوال یہ ہوگا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔ اسی طرح پیغمبر خدا نے فرمایا ہے! اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہ خدا تعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا۔ اگر تم کوئی برا کام کروگی تو خدا تعالیٰ تم سے اس واسطے درگزر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔ پس چاہیئے کہ تم ہر وقت اپنا کام دیکھ کر کیا کرو۔‘‘
( ملفوظات جلد سوم صفحہ370)

مزید پڑھیں

ہم یومِ مسیح موعودؑ کیوں مناتے ہیں؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’مسلمانوں کو چاہئے کہ جو انوار و برکات اس وقت آسمان سے اُتر رہے ہیں وہ ان کی قدر کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ وقت پر ان کی دستگیری ہوئی اور خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اس مصیبت کے وقت ان کی نصرت فرمائی۔ لیکن اگر وہ خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر نہ کریں گے تو خدا تعالیٰ ان کی کچھ پروا نہ کرے گا۔ وہ اپنا کام کرکے رہے گا مگر ان پر افسوس ہوگا۔
مَیں بڑے زور سے اور پورے یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ دوسرے مذاہب کو مٹا دے اور اسلام کو غلبہ اور قوت دے۔ اب کوئی ہاتھ اور طاقت نہیں جو خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کا مقابلہ کرے۔ وہ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ (البروج: 17) ہے ۔ مسلمانو! یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمہیں یہ خبر (دے) دی ہے اور مَیں نے اپنا پیغام پہنچا دیا ہے۔ اب اس کو سننا نہ سننا تمہارے اختیار میں ہے۔ یہ سچی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور مَیں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو موعود آنے والا تھا وہ مَیں ہی ہوں اور یہ بھی پکّی بات ہے کہ اسلام کی زندگی عیسیٰ کے مرنے میں ہے۔‘‘
(لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد20 صفحہ290)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریرنمبر 4)

حضرت اقدس مسیح موعودؑنے لیلۃالقدر کے تین معنی بیان فرمائے ہیں۔ آپؑ فرماتےہیں:قرآن شریف میں جو لیلۃُ القدر کا ذکر آیا ہے کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یہاں لیلۃُ القدر کے تین معنی ہیں۔اوّل تو یہ کہ رمضان میں ایک رات لیلۃالقدر کی ہوتی ہے۔دوم یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی ایک لیلۃالقدر تھا یعنی سخت جہالت اور بے ایمانی کی تاریکی کے وہ زمانہ میں آیا جبکہ ملائکہ کا نزول ہوا۔کیونکہ نبی دنیا میں اکیلا نہیں آتا۔ بلکہ وہ بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ لاکھوں کروڑوں ملائکہ کا لشکر ہوتا ہے۔ جو ملائک اپنے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں اور لوگوں کے دلوں کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں ۔سوم۔ لیلۃُ القدر انسان کے لئے اس کا وقت اصفیٰ ہے۔ تمام وقت یکساں نہیں ہوتے۔ بعض وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہؓ .کو کہتے ہیں کہ اَرِحْنَا یَا عائشہ یعنی اے عائشہؓ! مجھ کو راحت و خوشی پہنچا اور بعض وقت آپ بالکل دعا میں مصروف ہوتے۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 336)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریرنمبر 3)

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں :
’’فدیہ دے دینے سے روزہ اپنی ذات میں ساقط نہیں ہو جا تا بلکہ یہ محض اِس بات کا فدیہ ہے کہ ان مبارک ایام میں وہ کسی جائز شرعی عذر کی بناء پر باقی مسلمانوں کے ساتھ مل کر یہ عبادت ادا نہیں کر سکے ۔ آگے یہ عذر دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک عارضی اور ایک مستقل ۔ نديد بشرط استطاعت ان دونوں حالتوں میں دینا چاہئے ۔ غرضیکہ خواہ کوئی فدیہ بھی دے دے بہر حال سال دو سال یا تین سال کے بعد جب بھی اُس کی صحت اجازت دے اُسے پھر روزے رکھتے ہوں گے ۔ سوائے اس صورت کے کہ پہلے مرض عارضی تھا اور صحت ہونے کے بعد ارادہ ہی کرتا رہا کہ آج رکھتا ہوں کل رکھتا ہوں کہ اس دوران میں اس کی صحت پھر مستقل طور پر خراب ہو جائے ۔ باقی جو بھی کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہوا گر وہ مریض یا مسافر ہے تو اُس کے لئے ضروری ہے کہ رمضان میں ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دے اور دوسرے ایام میں روزے رکھے ۔ یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مذہب تھا اورآپ ہمیشہ فدیہ بھی دیتے تھے اور بعد میں روزے بھی رکھتے تھے اور اسی کی دوسروں کو تاکید فرمایا کرتے تھے۔“
( تفسیرکبیر جلد 2 صفحہ 389)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریرنمبر 2)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے ۔ اس وقت غروب آفتاب کا وقت بہت قریب تھا مگر آپ نے فوراً روزہ توڑ دیا۔ آپ ہمیشہ شریعت میں سہل راستہ کو اختیار فرمایا کرتے تھے۔
(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 637)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریرنمبر 1)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حافظ نور محمد صاحب ظ نور محمد صاحب فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا کہ
” ایک دفعہ ماہ رمضان میں سحری کے وقت کسی شخص نے اصل وقت سے پہلے اذان دے دی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں تشریف لے آئے اور فرمایا کہ میں نے دودھ کا گلاس منہ کے قریب کیا ہی تھا کہ اذان کی آواز آئی ۔ اس لئے وہ گلاس میں نے وہیں رکھ دیا ۔ کسی شخص نے عرض کی ۔ کہ حضور ا بھی تو کھانے پینے کا وقت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہمارا دل نہیں چاہتا کہ بعد اذان کچھ کھایا جائے ۔“
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ روایت اگر درست ہے تو حضور نے اس وقت اپنی ذات کے لئے یہ احتیاط برتی ہوگی ۔ ورنہ حضور کا طریق یہی تھا کہ وقت کا شمار اذان سے نہیں بلکہ سحری کے نمودار ہونے سے فرماتے تھے ۔ اور اُس میں بھی اِس پہلو کو غلبہ دیتے تھے کہ فجر واضح طور پر ظاہر ہو جاوے۔ جیسا کہ قرآنی آیت کا منشاء ہے مگر بزرگوں کا قول ہے کہ فتویٰ اور ہے اور تقوی اور ۔
(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 520)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت مسیح موعودعلیہ السلام  کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اوراس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتاہے۔ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اسی قدر تزکیہ نفس ہوتاہے اورکشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔ ‘‘
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 102 ایڈیشن2003ء)

مزید پڑھیں

ہم یوم مصلح موعودکیوں مناتے ہیں؟ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’یہ ایک عظیم پیشگوئی ہےجو کسی شخص کی ذات سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ پیشگوئی اسلام کی نشأۃ ثانیہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس پیشگوئی کی اصل تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 18؍فروری 2011ء)

مزید پڑھیں