حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’ شادی بیاہ کی رسم جو ہے یہ بھی ایک دین ہی ہے جبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب تم شادی کرنے کی سوچو تو ہر چیز پر فوقیت اُس لڑکی کو دو، اُس رشتے کو دو، جس میں دین زیادہ ہو۔ اس لئے یہ کہنا کہ شادی بیاہ صرف خوشی کا اظہار ہے، خوشی ہے اور اپنا ذاتی ہمارا فعل ہے۔ یہ غلط ہے۔ یہ ٹھیک ہے جیسا کہ پہلے بھی مَیں کہہ آیاہوں اسلام نے یہ نہیں کہا کہ تارکُ الدنیا ہو جاؤ اور بالکل ایک طرف لگ جاؤ۔ لیکن اسلام یہ بھی نہیں کہتا کہ دنیا میں اتنے کھوئے جاؤ کہ دین کا ہوش ہی نہ رہے۔ اگر شادی بیاہ صرف شور وغُل اور رونق اور گانا بجانا ہوتا توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ شروع ہو کر اور پھر تقویٰ اختیار کرنے کی طرف اتنی توجہ نہ دلاتے۔ بلکہ شادی کی ہر نصیحت اور ہر ہدایت کی بنیاد ہی تقویٰ پر ہے۔ پس اسلام نے اعتدال کے اندر رہتے ہوئے جن جائز باتوں کی اجازت دی ہے اُن کے اندر ہی رہنا چاہئے اور اس اجازت سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے۔ حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے کہ دین میں بگاڑ پیدا ہو جائے۔ اس لئے ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک مؤمن کے لئے ایک ایسے انسان کے لئے جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے شادی نیکی پھیلانے، نیکیوں پر عمل کرنے اور نیک نسل چلانے کے لئے کرنی چاہئے اور یہی بات شادی کرنے والے جوڑے کے والدین، عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھی یاد رکھنی چاہئے۔ ان کے ذہنوں میں بھی یہ بات ہونی چاہئے کہ یہ شادی ان مقاصد کے لئے ہے نہ کہ صرف نفسانی اغراض اور لہو ولعب کے لئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 25؍نومبر2005ء )
مزید پڑھیں