50تقاریربرائےنَونِہالانِ جماعت(جلداوّل)

برگِ سبز است تحفۂ درویش ہر چھوٹی اور نئی چیز جہاں پیاری ہوتی ہے اور پیاری لگتی ہے وہاں وہ ننھی مُنّی اشیاء دوسروں کی نسبت پیار بھی زیادہ لیتی ہیں اور اِن کی دیکھ بھال، نشوونما، پروان چڑھنے اور پالنے پوسنے کی طرف توجہ بھی بہت دی جاتی ہے۔ جیسے نرسری سےلایا ہوا ننھا […]

مزید پڑھیں

50تقاریربابت اخلاقیات(جلدسوم)

اخلاقیات-ایک کھلی کتاب خُلق جس کی جمع اَخلاق ہے جس کے معنی عمدہ و پسندیدہ عادات، اچھے خصائل اور اسلامی خوبیوں کے ہیں۔ وہ علم اور طریق جن کے ذریعے تعلیم و تربیت و اصلاحِ نفس و معاشرہ کے دستور اپنائے جاتے ہیں اُسے علم.الاَخلاق یا اخلاقیات کہا جاتا ہے۔ یہ علم یا اخلاقیات  کے […]

مزید پڑھیں

50تقاریربابت اخلاقیات(جلددوم)

اِبۡتِغَآءِ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ کی راہیں اخلاقیات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن کریم میں بہت زور دیا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری عمر صحابہؓ. کو اخلاقیات کی پیاری تعلیم دینے میں گزار دی۔  تربیت و اصلاح کے مختلف نرالے اور […]

مزید پڑھیں

مشاہدات کی مالا کے 1000 موتی

اک سے ہزار ہوویں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ تحریر فرمایا ہے: ” یہ بات ہر ایک جانتا ہے کہ تالیفات کی نسبت یہ عام محاورہ ہے کہ ان کو نتائجِ  طبع کہتے ہیں یعنی  طبع.زادبچے“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ350-351)  لغات میں لکھا ہے کہ نتائجِ طبع سے مراد طبیعت […]

مزید پڑھیں

50تقاریر بابت سیرت و شمائل حضرت محمد ﷺ (حصہ سوم)

صدر دروازہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی حیات پر یقین رکھنا اورآپؐ کو زندہ نبی کہنا اور اُنہیں زندہ نبی  ثابت کرنا ہرمسلمان بالخصوص ہر احمدی مسلمان کا فرض ہے۔ اس کے لئے جہادباللسّان،  جہاد بالقلم ، جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے […]

مزید پڑھیں

20تقاریربعنوان صحبتِ صالحین

تحریر اوّل کوئی تحریر لکھنا خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو آسان امر نہیں ہے۔ اس کے لیے اللہ کی مدد درکار ہوتی ہے ۔ اُس کے بغیر انسان کچھ نہیں لکھ سکتا ۔اگر خدا پر توکّل نہ ہو اور انسان اپنی تحریر کو اپنی طاقت کا سرچشمہ قراردے تو پھر تکبر کے ذرات […]

مزید پڑھیں

10تقاریربعنوان صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا

شاخِ مُثمَرم مبارک وہ جو اب ایمان لایاصحابہ سے ملا جب مجھ کو پایاوہی مَے ان کو ساقی نے پلا دیفسبحان الّذی اخزی الاعادی مجھے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے محوّلہ بالا قطعہ  اشعار میں سے دوسرے مصرع ؏             ”صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا“ پر دس تقاریر پر مشتمل ادارہ […]

مزید پڑھیں

30تقاریربابت رمضان المبارک 2025ء (جلداول)

طلوع ِہلال رمضان کے معانی تپش اور گرمائش کے ہیں ۔ایک روزے دار کو یہ گرمائش مادی اور روحانی دونوں طریق پر حاصل ہورہی ہوتی ہے۔ مادی اس لحاظ سے کہ بھوکا رہنے سے روزے دار کے اندر گرمی پیدا ہوتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ گرمی کے روزوں میں روزے دار کو اپنے […]

مزید پڑھیں

30دروس بابت رمضان المبارک2025ء(حصہ دوم)

حرفِ اول ہر مسلمان کو رمضان سے بہت پیار رہتا ہے۔  جوں جوں یہ رمضان قریب  آتا ہے اِس پیار میں اضافہ ہوتاجاتا ہے اور وہ اِس سے لطف اندوز ہونے کے لئے اُن تمام ذرائع اور طریقوں کو اپناتا ہے جو قرآن.واحادیث، فقہ اور آج کے دور میں فقہُ المسیح ، فقہ احمدیہ اور […]

مزید پڑھیں

’’مشاہدات‘‘ کی وجہ تسمیہ

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا بھر میں انسانوں کو پیدا کر کے اُن کو الگ الگ صلاحیتوں ، استعدادوں اور قویٰ سے نوازا ہے ۔ اگر ایک ہی قسم کی صلاحیت کئی انسانوں کو عطا فرمائی ہے تو اُس کے استعمال کے رنگ ہر انسان […]

مزید پڑھیں
a close up of a bag with a tag on it

رَبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ

رَبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ(بنی اسرائیل : 81)آج 2024ء کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کواللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی دی گئی توفیق کے ساتھ خاکسار کو ذاتی طور پر اپنی ویب سائٹ لانچ کرنے کی توفیق مل رہی ہے ۔ الحمدللہ ربّ العالمینآپ اس ویب سائٹ پر خاکسار کی جملہ کتب ، پمفلٹس […]

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” بہترین دعا وہ ہوتی ہے جو جامع ہو تمام خیروں کی اور مانع ہو تمام مضرّات کی۔ اس لئے اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ کی دُعا میں آدمؑ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کُل منعم علیہم لوگوں کے انعامات کے حصول کی دعا ہے اور غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ میں ہر قسم کی مضرّتوں سے بچنے کی دُعا ہے ۔ چونکہ مغضوب سے مراد یہود اور ضالین سے مراد نصاریٰ بالاتفاق ہیں تو اس دعا کی تعلیم کا منشا صاف ہے کہ یہود نے جیسے بے جا عداوت کی تھی ۔ مسیح موعود کے زمانہ میں مولوی لوگ بھی ویسا ہی کریں گے اور حدیثیں اس کی تائید کرتی ہیں یہاں تک کہ وہ یہودیوں کے قدم بہ قدم چلیں گے۔ “
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 429-430)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ۔ ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔ مختصر الفاظ میں فرما دیا ہے۔ وَلَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں ۔ بعض لوگوں کاحال سُنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔ گالیاں دیتے ہیں۔حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سے برتتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کردیتے ہیں۔ چاہئے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو سچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔ انسان کے اخلاقِ فاضلہ اور خداتعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں ۔ اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خداتعالیٰ سے صلح ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےخَیۡرُکُمۡ خَیۡرُکۡمۡ لِاَھۡلِہٖ ۔ تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے اچھا ہے۔“
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 417-418)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہمارا صرف ایک ہی رسول ہے اور صرف ایک ہی قرآن شریف اس رسول پر نازل ہوا ہے جس کی تابعداری سے ہم خدا کو پاسکتے ہیں ۔ آج کل فقراء کے نکالے ہوئے طریقے اور گدی نشینوں اور سجادہ نشینوں کی سیفیاں اور دعائیں اور درود اور وظائف یہ سب انسان کو مستقیم راہ سے بھٹکانے کا آلہ ہیں۔ سو تم اُن سے پرہیز کرو ۔ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کی مَہر کو توڑنا چاہا گویا اپنی الگ ایک شریعت بنالی ہے۔ تم یاد رکھو کہ قرآن شریف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی پَیروی اور نماز روزہ وغیرہ جو مسنون طریقے ہیں ان کے سوا خدا کے فضل اور برکات کے دروازے کھولنے کی اور کوئی کُنجی ہے ہی نہیں ۔ بُھولا ہوا ہے جو اِن راہوں کو چھوڑ کر کوئی نئی راہ نکالتا ہے۔ ناکام مرے گا وہ جو اللہ اور اس کے رسول کے فرمودہ کا تابعدار نہیں۔ بلکہ اَور اَور راہوں سے اُسے تلاش کرتا ہے ۔
دیکھو! گناہ کبیرہ بھی ہیں اُن کو تو ہر ایک جانتا ہے اور اپنی طاقت کے موافق نیک انسان اُن سےبچنے کی کوشش بھی کرتا ہے مگر تم تمام گناہوں سے کیا کبائر اور کیا صغائر سب سےبچو ۔ کیونکہ گناہ ایک زہر ہے جس کے استعمال سے زندہ رہنا محال ہے ۔ گناہ ایک آگ ہے جو رُوحانی قویٰ کو جلاکر خاک سیاہ کردیتی ہے۔ پس تم ہر قسم کے کیا صغیرہ کیا کبیرہ سب اندرونی بیرونی گناہوں سے بچو۔ آنکھ کے گناہوں سے ، ہاتھ کے گناہوں سے، کان ناک اور زبان اور شرمگاہ کے گناہوں سے بچو۔ غرض ہر عضو کے گناہ کے زہر سے بچتے رہو اور پرہیز کرتے رہو۔“
(ملفوظات جلد 5صفحہ 125-126)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” تم لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اسی پر بھروسہ نہ کر لینا۔ صرف اتنی ہی بات کافی نہیں۔ زبانی اقرار سے کچھ نہیں بنتا جب تک عملی طور سے اس اقرار کی تصدیق نہ کر کے دکھائی جاوے۔ یوں زبانی تو بہت سے خوش آمدی لوگ بھی اقرار کر لیا کرتے ہیں مگر صادق وہی ہے جو عملی رنگ سے اس اقرار کا ثبوت دیتا ہے ۔ خدا تعا لیٰ کی نظر انسان کے دل پر پڑتی ہے۔ پس اب سے اقرار سچا کر لو اور دل کو اس اقرار میں زبان کے ساتھ شریک کر لو کہ جب تک قبر میں جاویں ہر قسم کے گناہ سے شرک وغیرہ سے بچیں گے۔
غرض حق اور حق العباد میں کوئی کمی یا سستی نہیں کریں گے ۔اس طرح سے خدا تعا لیٰ تم کو ہر طرح کے عذابوں سے بچاوے گا اور تمہاری نصرت ہر میدان میں کرے گا۔ ظلم کو ترک کرو۔ خیانت، حق تلفی اپنا شیوہ نہ بناؤ اور سب سے بڑا گناہ جو غفلت ہے اس سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔‘‘
( ملفوظات جلد5 صفحہ240-239)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ دیکھو! قرآن شریف سورۂ مزمّل میں صاف تاکید ہے کہ انسان کو کچھ حصہ رات آرام بھی کرنا چاہیے ۔ اس سے دن بھر کی کوفت اور تکان دور ہو کر قویٰ کو اپنا حرج شدہ مادہ بہم پہنچانے کا وقفہ مِل جاتا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل یعنی سنّت بھی اسی کے مطابق ثابت ہے ۔ چنانچہ فرماتے ہیں اُصَلِّیْ وَ اَنُوْمُ
اصل میں انسان کی مثال ایک گھوڑے کی سی ہے ۔ اگر ہم ایک گھوڑے سے ایک دن اس کی طاقت سے زیادہ کام لیں اور اُسے آرام کرنے کا وقفہ ہی نہ دیں تو بہت قریب ایساوقت ہو گا کہ ہم اس کے وجود کو ہی ضائع کر کے تھوڑے فائدہ سے بھی محروم ہو جائیں گے ۔ نفس کو گھوڑے سے مناسبت بھی ہے ۔‘‘
( ملفوظات جلد5 صفحہ129)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ کہتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں جلا دینے کی کوشش کی گئی اس وقت اُن کے پاس فرشتے آئے اور کہا کہ تمہیں کوئی حاجت ہے تو ابراہیم علیہ السلام نے ان کو یہی جواب دیا ۔ بلٰی وَلٰکِنْ اِلَیْکُمْ فَلَا۔ یعنی ہاں حاجت تو ہے لیکن تمہاری طرف نہیں۔ ایسے مقام پر دعا بھی منع ہوتی ہے اور انبیاء علیہم السلام اس مقام کو خوب سمجھتےہیں۔
گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی
غرض اصل غرض انسان کی محبت ذاتی ہونی چاہیے۔ اس سے جو کچھ اطاعت اور عبادت ہوگی وہ اعلیٰ درجہ کے نتائج اپنے ساتھ رکھے گی۔ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے مبارک بندے ہوتے ہیں وہ جس گھر میں ہوں وہ گھر مبارک اور جس شہر میں ہوں وہ شہر مبارک۔ اس کی برکت سے بہت سی بلائیں دور ہو جاتی ہیں اس کی ہر حرکت و سکون، اُس کے در و دیوار پر خدا کی برکت اور رحمت نازل ہوتی ہے ۔ مَیں اسی راہ کو سکھانا چاہتا ہوں اسی غرض کے لیے خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے ۔‘‘
( ملفوظات جلد5 صفحہ 108)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہماری جماعت تو ایمان لاتی ہے۔ مگر اصل میں مدارِ ایمان نشانوں پر ہوتا ہے۔ اگرچہ انسان محسوس نہ کرے مگر اس کے اندر بعض کمزوریاں ضرور ہوتی ہیں اور جب تک وہ کمزوریاں دور نہ ہوں اعلیٰ مراتب ایمانی نہیں مل سکتے اور یہ کمزوریاں نشانات ہی کے ذریعہ دور ہوتی ہیں اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنے نشانوں سے ان کمزوریوں کو دور کرے اور جماعت اپنے ایمان میں ترقی کرے اب وہ وقت آگیا ہے کہ إِنَّ اللّٰهَ عَلَى نَصْرِهِم لَقَدِيرٌ (الحج:40) کا نمونہ دکھائے ۔ اللہ تعالیٰ کی نظر سے صادق اور کاذب، خائن اور مظلوم پوشیدہ نہیں ہیں۔ اب ضروری ہے کہ سب گروہ متفق ہو کر میرے استیصال کے درپے ہوں جیسے جنگ احزاب میں ہوئے تھے۔ جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب خدا تعالیٰ نے چاہا ہے۔ مَیں نے جو خواب میں دیکھا کہ دریائے نیل کے کنارہ پر ہوں اور بعض چلّائے کہ ہم پکڑے گئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا وقت بھی آوے جب جماعت کو کوئی ياس ہو مگر مَیں یقین رکھتا ہوں کہ خدا زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کر دے گا۔ اس وقت یہ پورے زور لگائیں گے تاکہ قتل کے مقدمہ کی حسرتیں نہ رہ جائیں کہ کیوں چُھوٹ گیا۔ یہ لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مَیں پیش کرتا ہوں مگر وہ دیکھ لیں گے کہ اِ کرَاماً عَجَبًا کیسے ہوتا ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد 5 صفحہ 40)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’تم کو خدا تعالیٰ نے خبردار کیا ہے کہ اپنی حالت بدل دو اور سمجھو کہ ایک دن موت آنی ہے۔ خدا کا دستور ہے کہ وہ گناہ گار کو بلا سزا دیے نہیں چھوڑتا۔ توبہ کرنے سے گناہ بخشے جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ بہت ہی رحم کرنے والا ہے مگر سزا بھی بہت دینے والا ہے۔ تمہاری فطرت میں کوئی نیکی ہوگی ورنہ عام طور پر اللہ تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے کہ اس طرح سے خبر دیوے اس لیے اپنی زندگی کو بدلو اور عادتوں کو ٹھیک کرو۔ ‘‘
( ملفوظات جلد 5 صفحہ 40)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” بس یہی بڑی بات ہے کہ خاتمہ بالخیر ہو۔ کسی نے نُوح علیہ السلام سے دریافت کیا تھا کہ آپ تو قریب ایک ہزار سال کے دُنیا میں رہ کے آئے ہیں۔ بتلایئے کیا کچھ دیکھا۔ نوح ؑ نے جواب دیا کہ یہ حال معلوم ہوا ہے جیسے ایک دروازے سے آئے اور دوسرے سے چلے گئے۔ تو عُمر کا کیا ہے لمبی ہوئی تو کیا، تھوڑی ہوئی تو کیا۔ خاتمہ بالخیر چاہئے۔“
(ملفوظات جلد 4 صفحہ170)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان کسی بات کو خالی الذہن ہو کر نہیں سوچتا اور تمام پہلوؤں پر توجہ نہیں کرتا اور غور سے نہیں سُنتا ۔ اس وقت تک پُرانے خیالات نہیں چھوڑ سکتا ۔ اس لئے جب آدمی کسی نئی بات کو سُنے تو اُسے یہ نہیں چاہئے کہ سُنتے ہی اُ س کی مخالفت کے لئے تیار ہوجاوے بلکہ اس کا فرض ہے کہ اُس کے سارے پہلوؤں پر پورا فکر کرے اور انصاف اور دیانت اور سب سے بڑھ کرخداتعالیٰ کے خوف کو مد نظر رکھ کر تنہائی میں اس پر سوچے۔“
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 1-2)

مزید پڑھیں