50 تقاریر بابت وجود باری تعالی

اَلْاَوَّلُ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی کم از کم 175 صفات کا تذکرہ ہے۔ حدیث میں 104 صفات کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اِن کے علاوہ اپنی جن صفات پر اطلاع دی وہ 27 ہیں۔ ( الفضل انٹرنیشنل 23؍دسمبر 2025ء)  ان کُل 306 صفات میں سے ایک صفت ”اَلْاَوَّلُ “ بھی ہے یعنی پہلا۔ اِسی صفت کو آج مَیں نے ”مشاہدات“ کے  32ویںمجموعہ کے پیش لفظ کے عنوان کے طور پر چُنا ہے۔ ہمیں اللہ.تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم اور احادیث میں وجودِ الہٰی اور توحیدِ باری تعالیٰ کے ثبوت […]

مزید پڑھیں

25 تقاریر بابت عہد بیعت ، شرائط بیعت اور ہم

ان تقاریرکو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات و خطابات میں بیان فرمودہ 10 شرائطِ بیعت پر مشتمل مواد سے بطور خلاصہ تیار کیاگیا ہے جو ماہ نومبر اور ماہ دسمبر 2025ءمیں آن ائیر ہوئیں۔ جِن میں بیعت، اطاعت پر مشتمل مزید تقاریر شامل کر کے 25 تقاریرپر ایک مجموعہ ”مشاہدات“ کے کرمفرماؤں کی خدمت میں پیش ہے۔ جس میں آپ کو لفظ بیعت کے معنی، اُس کے تقاضے، اِس حوالے سے ہماری ذمہ داریاں، 10شرائطِ بیعت اور اِس میں درج اخلاقیات، اطاعت،وفاداری اور حضرت مسیح موعود علیہ لسلام کی آمد ، بعثت اور آپؑ کے ارشادات پر سیر حاصل بحث ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے لیے بہت مبارک کرے اور ہمیں اِن مبارک و مقدّس تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

مزید پڑھیں

50 تقاریر بابت اخلاقیات (جلد چہارم)

پیرہن آپ قا رئین نے یہ محسوس کیا ہوگا کہ مَیں اپنی کتب کے پیش لفظ کو کوئی نہ کوئی عنوان دے کرتحریر کرتا ہوں۔ اِس وقت میرے ہاتھوں میں ”مشاہدات“ کی 31ویں کاوش ہے جو اخلاقیات پر 50 تقاریر پر مشتمل ہے۔ اس کے پیش لفظ کو مَیں ”پیرہن“ کا عنوان دے رہا ہوں جس کے معنی پوشاک اور لباس کے ہیں ۔ جس طرح انسان اپنے لباس سے پہچانا جاتا ہے۔ اس کی شخصیت اُجاگر ہوتی ہے اسی طرح کسی کتاب کے پیش لفظ […]

مزید پڑھیں

50تقاریربرائےنَونِہالانِ جماعت(جلداوّل)

برگِ سبز است تحفۂ درویش ہر چھوٹی اور نئی چیز جہاں پیاری ہوتی ہے اور پیاری لگتی ہے وہاں وہ ننھی مُنّی اشیاء دوسروں کی نسبت پیار بھی زیادہ لیتی ہیں اور اِن کی دیکھ بھال، نشوونما، پروان چڑھنے اور پالنے پوسنے کی طرف توجہ بھی بہت دی جاتی ہے۔ جیسے نرسری سےلایا ہوا ننھا […]

مزید پڑھیں

50تقاریربابت اخلاقیات(جلدسوم)

اخلاقیات-ایک کھلی کتاب خُلق جس کی جمع اَخلاق ہے جس کے معنی عمدہ و پسندیدہ عادات، اچھے خصائل اور اسلامی خوبیوں کے ہیں۔ وہ علم اور طریق جن کے ذریعے تعلیم و تربیت و اصلاحِ نفس و معاشرہ کے دستور اپنائے جاتے ہیں اُسے علم.الاَخلاق یا اخلاقیات کہا جاتا ہے۔ یہ علم یا اخلاقیات  کے […]

مزید پڑھیں

50تقاریربابت اخلاقیات(جلددوم)

اِبۡتِغَآءِ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ کی راہیں اخلاقیات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن کریم میں بہت زور دیا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری عمر صحابہؓ. کو اخلاقیات کی پیاری تعلیم دینے میں گزار دی۔  تربیت و اصلاح کے مختلف نرالے اور […]

مزید پڑھیں

مشاہدات کی مالا کے 1000 موتی

اک سے ہزار ہوویں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ تحریر فرمایا ہے: ” یہ بات ہر ایک جانتا ہے کہ تالیفات کی نسبت یہ عام محاورہ ہے کہ ان کو نتائجِ  طبع کہتے ہیں یعنی  طبع.زادبچے“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ350-351)  لغات میں لکھا ہے کہ نتائجِ طبع سے مراد طبیعت […]

مزید پڑھیں

30تقاریربابت رمضان المبارک 2025ء (جلداول)

طلوع ِہلال رمضان کے معانی تپش اور گرمائش کے ہیں ۔ایک روزے دار کو یہ گرمائش مادی اور روحانی دونوں طریق پر حاصل ہورہی ہوتی ہے۔ مادی اس لحاظ سے کہ بھوکا رہنے سے روزے دار کے اندر گرمی پیدا ہوتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ گرمی کے روزوں میں روزے دار کو اپنے […]

مزید پڑھیں

30دروس بابت رمضان المبارک2025ء(حصہ دوم)

حرفِ اول ہر مسلمان کو رمضان سے بہت پیار رہتا ہے۔  جوں جوں یہ رمضان قریب  آتا ہے اِس پیار میں اضافہ ہوتاجاتا ہے اور وہ اِس سے لطف اندوز ہونے کے لئے اُن تمام ذرائع اور طریقوں کو اپناتا ہے جو قرآن.واحادیث، فقہ اور آج کے دور میں فقہُ المسیح ، فقہ احمدیہ اور […]

مزید پڑھیں

’’مشاہدات‘‘ کی وجہ تسمیہ

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا بھر میں انسانوں کو پیدا کر کے اُن کو الگ الگ صلاحیتوں ، استعدادوں اور قویٰ سے نوازا ہے ۔ اگر ایک ہی قسم کی صلاحیت کئی انسانوں کو عطا فرمائی ہے تو اُس کے استعمال کے رنگ ہر انسان […]

مزید پڑھیں
a close up of a bag with a tag on it

رَبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ

رَبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ(بنی اسرائیل : 81)آج 2024ء کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کواللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی دی گئی توفیق کے ساتھ خاکسار کو ذاتی طور پر اپنی ویب سائٹ لانچ کرنے کی توفیق مل رہی ہے ۔ الحمدللہ ربّ العالمینآپ اس ویب سائٹ پر خاکسار کی جملہ کتب ، پمفلٹس […]

مزید پڑھیں

ایمان اور اُس کی حفاظت ؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات حب دنیا کا غلبہ بھی سلب ایمان کا باعث ہوجایا کرتا ہے لہٰذا دنیوی امور میں بہت انہماک اوردنیوی امور کو اتنی اہمیت دے دینا کہ گویا دین ایمان اورآخرت کی پروا ہی نہ رہے یہ بھی خطرناک زہریلا مرض ہے۔یہ تووہ زمانہ ہے جس کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاؤ،درختوں کے تنوں سے لگ جاؤ اور جس طرح سے بن پڑے زمانہ کے فتن سے اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کی کوشش کرو۔‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 526،ایڈیشن1988ء)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”دُعا کی مثال ایک چشمۂ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے۔ وہ جب چاہے اس چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کرسکتا ہے۔ جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دُعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ اس دعا کا ٹھیک محل نماز ہے جس میں وہ راحت اور سرور مومن کو ملتا ہے کہ جس کے مقابل ایک عیاش کا کامل درجہ کا سرور جو اُسے کسی بدمعاشی میں میسّر آسکتا ہے ، ہیچ ہے ۔ بڑی بات جو دعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قرب الٰہی ہے۔ دُعا کے ذریعہ ہی انسان خداتعالیٰ کے نزدیک ہوجاتا اور اُسے اپنی طرف کھینچتا ہے ۔ جب مومن کی دُعا میں پورا اخلاص اور انقطاع پیدا ہوجاتا ہے ۔تو خداتعالیٰ کو بھی اس پر رحم آجاتا ہے اور خداتعالیٰ اس کا متولِّی ہوجاتا ہے ۔ اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو الٰہی تولّی کے بغیر انسانی زندگی قطعًا تلخ ہوجاتی ہے۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 59)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر9)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مَیں پھر کہتا ہوں کہ مسلمان اور خصوصاً ہماری جماعت کو ہرگز ہرگز دعا کی بے قدری نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ دعا تو ہے جس پر مسلمانوں کو ناز کرنا چاہیے اور دوسرے مذاہب کے آگے تودعا کے لئے گندے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور وہ توجہ نہیں کر سکتے ۔ مَیں نے ابھی بیان کیا ہے کہ ایک عیسائی جو خونِ مسیح پر ایمان لا کر سارے گناہوں کو معاف شدہ سمجھتا ہے ۔ اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ دعا کرتا رہے اور ایک ہندو جو یقین کرتا ہے کہ توبہ قبول ہی نہیں ہوتی اور تناسخ کے چکّر سے رہائی ہی نہیں ہے وہ کیوں دعا کے واسطے ٹکڑیں مارتا رہے گا وہ تو یقیناً سمجھتا ہے کہ کُتّے، بلّے، بندر ، سؤر بننے سے چارہ ہی نہیں ہے ۔ اس لئے یاد رکھو کہ یہ اسلام کا فخر ہے اور ناز ہے کہ اس میں دعا کی تعلیم ہے اس میں کبھی سُستی نہ کرو اور نہ اس سے تھکو۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 267-268 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مَیں پھر جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ تم لوگ ان کی مخالفتوں سے غرض نہ رکھو۔ تقویٰ طہارت میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوگا اور ان لوگوں سے وہ خود سمجھ لیوے گا وہ فرماتا ہے۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ (النحل: 129) اور خوب یاد رکھو کہ اگر تقویٰ اختیار نہ کرو گے اور اس نیکی سے جسے خدا چاہتا ہے کثیر حصّہ نہ لو گے تو اللہ تعالیٰ سب سے اوّل تم ہی کو ہلاک کرے گا کیونکہ تم نے ایک سچائی کو مانا ہے اور پھر عملی طور سے اس کے منکر ہوتے ہو۔ اس بات پر ہرگز بھروسہ نہ کرو اور مغرور مت ہو کہ بیعت کر لی ہے۔ جب تک پوری تقویٰ اختیار نہ کرو گے۔ ہرگز نہ بچو گے ۔ خداتعالیٰ کا کسی سے رشتہ نہیں نہ اس کو کسی کی رعایت منظور ہے ۔ جو ہمارے مخالف ہیں وہ بھی اسی کی پیدائش ہیں اور تم بھی اسی کی مخلوق ہو۔ صرف اعتقادی بات ہرگز کام نہ آوے گی جب تک تمہارا قول اور فعل ایک نہ ہو۔“
(ملفوظات جلد 7صفحہ 144-145 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو کہ سارے فضل ایمان کے ساتھ ہیں ۔ایمان کو مضبوط کرو۔ قطع حقوق، معصیت ہے اور انسان کی زندگی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے ۔ایسا پرہیز اور بُعد جو ظاہر ہوا ہے وہ عقل اور انصاف کی رُو سے صحیح نہیں ہے۔ ایسے امور سے اپنے آپ کو بچاؤ جو تجربہ میں مضرّ ثابت ہوئے ہیں۔
یہ جماعت جس کو خدا تعالیٰ نمونہ بنانا چاہتا ہے اگر اس کا بھی یہی حال ہوا کہ ان میں اخوّت اور ہمدردی نہ ہو تو بڑی خرابی ہوگی ۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 353)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اب بڑی تبدیلی کا وقت ہے اور خدا تعالیٰ سے سچی صلح کے دن ہیں۔ بعض لوگ اپنی غلط فہمی اور شرارت سے اس سلسلہ کو بدنام کرنے کے لئے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں سے بھی بعض آدمی طاعون سے ہلاک ہوئے ہیں۔ مَیں نے بارہا اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ یہ سلسلہ منہاج نبوت پر واقع ہوا ہے۔ آنحضرت صلی.اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کفار پر جو عذاب آیا تھا وہ تلوار کا عذاب تھا۔ حالانکہ وہ اُن کے لئے مخصوص تھا۔ لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ صحابہؓ میں سے بعض شہید نہیں ہو گئے ؟ اسی طرح پر یہ سچ ہے کہ اس سلسلہ میں سے بھی بعض لوگ طاعون سے شہید ہوئے ہیں مگر یہ بھی تو دیکھو کہ طاعون کے ذریعہ سے ہمارا نقصان ہوا ہے یا دوسروں کا ؟ ہماری جماعت کی تو ترقی ہوتی گئی ہے اور ہو رہی ہے اور مَیں پھر کہتا ہوں کہ جو لوگ نافع الناس ہیں اور ایمان ، صدق و وفا میں کامل ہیں وہ یقیناً بچا لئے جائیں گے۔ پس تم اپنے اندر یہ خوبیاں پیدا کرو۔ اپنے رشتہ داروں اور بیوی بچوں کو بھی سمجھاؤ اور یہی تلقین کرو اور دوستوں کے ساتھ یہی شرط دوستی رکھو کہ وہ بدی سےبچیں۔
پھر مَیں یہ بھی کہتا ہوں کہ سختی نہ کرو اور نرمی سے پیش آؤ۔ جنگ کرنا اس سلسلہ کے خلاف ہے۔ نرمی سے کام لو اور اس سلسلہ کی سچائی کو اپنی پاک باطنی اور نیک چلنی سے ثابت کرو۔ یہ میری نصیحت ہے اس کو یاد رکھو ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں استقامت بخشے۔ آمین۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 239- 240)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’نفس اور اخلاق کی پاکیزگی حاصل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ صحبتِ صادقین بھی ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ یعنی تم خدا تعالیٰ کے صادق اور راست باز لوگوں کی صحبت اختیار کرو تاکہ ان کے صدق کے انوار سے تم کو بھی حصہ ملے جو مذاہب کے تفرقہ پسند کرتے ہیں اور الگ الگ رہنے کی تعلیم دیتے ہیں وہ یقیناً وحدتِ جمہوری کی برکات سے محروم رہتے ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تجویز کیا کہ ایک نبی ہو جو کہ جماعت بنا دے اور اخلاق کے ذریعے آپس میں تعارف اور وحدت پیدا کرے۔“
(ملفوظات جلد7 صفحہ 130 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’وہ دن کون سا دن ہے جو جمعہ اور عیدین سے بھی بہتر اور مبارک دن ہے؟ مَیں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ دن انسان کی توبہ کا دن ہے جو ان سب سے بہتر ہے اور ہر عید سے بڑھ کر ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس دن وہ بداعمال نامہ جو انسان کو جہنم کے قریب کرتا جاتا ہے اور اندر ہی اندر غضبِ الٰہی کے نیچے اُسے لا رہا تھا دھو دیا جاتا ہے اور اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ حقیقت میں اس سے بڑھ کر انسان کے لیے اور کون سا خوشی اور عید کا دن ہوگا جو اُسے ابدی جہنّم اور ابدی غضبِ الٰہی سے نجات دے دے۔ توبہ کرنے والا گنہگار جو پہلے خدا تعالیٰ سے دُور اور اُس کے غضب کا نشانہ بنا ہوا تھا ۔ اب اس کے فضل سے اس کے قریب ہوتا اور جہنّم اور عذاب سے دُور کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ (البقرہ: 223) ۔ بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور ان لوگوں سے جو پاکیزگی کے خواہاں ہیں پیار کرتا ہے اِس آیت سے نہ صرف یہی پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی توبہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے۔ ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہونا ضروری ہے ورنہ نِری توبہ اور لفظ کے تکرار سے تو کچھ فائدہ نہیں ہے۔ پس جو دن ایسا مبارک دن ہو کہ انسان اپنی بد کرتوتوں سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچّا عہد صلح باندھ لے اور اس کے احکام کے لیے اپنا سر تسلیم خم کر دے تو کیا شک ہے کہ وہ اس عذاب سے جو پوشیدہ طور پر اس کے بدعملوں کی پاداش میں تیار ہو رہا تھا ۔ بچایا جاوے گا اور اس طرح پر وہ وہ چیز پا لیتا ہے جس کی گویا اسے توقع اور امید ہی نہ رہی تھی۔“
(ملفوظات جلد7 صفحہ 148-149 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہم تو یہ دعا کرتے ہیں کہ خداتعالیٰ جماعت کو محفوظ رکھے اور دنیا پر یہ ظاہر ہو جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برحق رسول تھے اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر لوگوں کو ایمان پیدا ہو جائے ۔ خواہ کیسے ہی زلزلے پڑیں پر خدا کا چہرہ لوگوں کو ایک دفعہ نظر آ جائے اور اس ہستی پر ایمان قائم ہو جائے۔“
(ملفوظات جلد7 صفحہ 340)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہماری جماعت بھی اگر بیچ کا بیج ہی رہے گی تو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ جوردّی رہتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو بڑھاتا نہیں ۔ پس تقویٰ ، عبادت اور ایمانی حالت میں ترقی کرو۔ اگر کوئی شخص مجھے دجّال اور کافر وغیرہ ناموں سے پکارتا ہے تو تم اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کرو ۔ کیونکہ جب خدا میرے ساتھ ہے تو مجھے ان کے ایسے بدکلمات اور گالیوں کا کیا ڈر ہے؟ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کافر کہا تھا۔ ایک زمانہ ایسا آگیا کہ پکار اُٹھا کہ مَیں اس خدا پر ایمان لایا جس پر موسیٰ اور اس کے متّبِع ایمان لائے ہیں۔ ایسے لوگ یا د رکھو کہ مخنّث اور نامرد ہوتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے ایک بچہ بعض اوقات اپنی ماں اور باپ کو بھی ناسمجھی کی وجہ سے گالی دے دیتا ہے۔ مگر اس کے اس فعل کو کوئی بُرا نہیں سمجھتا۔“
(ملفوظات جلد7 صفحہ 233-234)

مزید پڑھیں