حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’وہ دن کون سا دن ہے جو جمعہ اور عیدین سے بھی بہتر اور مبارک دن ہے؟ مَیں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ دن انسان کی توبہ کا دن ہے جو ان سب سے بہتر ہے اور ہر عید سے بڑھ کر ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس دن وہ بداعمال نامہ جو انسان کو جہنم کے قریب کرتا جاتا ہے اور اندر ہی اندر غضبِ الٰہی کے نیچے اُسے لا رہا تھا دھو دیا جاتا ہے اور اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ حقیقت میں اس سے بڑھ کر انسان کے لیے اور کون سا خوشی اور عید کا دن ہوگا جو اُسے ابدی جہنّم اور ابدی غضبِ الٰہی سے نجات دے دے۔ توبہ کرنے والا گنہگار جو پہلے خدا تعالیٰ سے دُور اور اُس کے غضب کا نشانہ بنا ہوا تھا ۔ اب اس کے فضل سے اس کے قریب ہوتا اور جہنّم اور عذاب سے دُور کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ (البقرہ: 223) ۔ بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور ان لوگوں سے جو پاکیزگی کے خواہاں ہیں پیار کرتا ہے اِس آیت سے نہ صرف یہی پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی توبہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے۔ ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہونا ضروری ہے ورنہ نِری توبہ اور لفظ کے تکرار سے تو کچھ فائدہ نہیں ہے۔ پس جو دن ایسا مبارک دن ہو کہ انسان اپنی بد کرتوتوں سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچّا عہد صلح باندھ لے اور اس کے احکام کے لیے اپنا سر تسلیم خم کر دے تو کیا شک ہے کہ وہ اس عذاب سے جو پوشیدہ طور پر اس کے بدعملوں کی پاداش میں تیار ہو رہا تھا ۔ بچایا جاوے گا اور اس طرح پر وہ وہ چیز پا لیتا ہے جس کی گویا اسے توقع اور امید ہی نہ رہی تھی۔“
(ملفوظات جلد7 صفحہ 148-149 )
مزید پڑھیں