75تقاریربابت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی احبابِ جماعت کو پَندو نصائح

 روحانی ولاز میں داخلہ Spiritual Villa’s Entry (پیش لفظ)) آج مَیں اپنے پروردگار کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اُس نے مجھ حقیر، ناچیز اَور نابکار کو مامورِ زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تقاریر، دروس، مختلف محافل میں اور سیر کے دوران کی گئی مبارک گفتگو جو ملفوظات کے نام […]

مزید پڑھیں

30 تقاریر بابت رمضان المبارک(ارشادات،افاضات،فتاویٰ،فقہی مسائل)

پیش لفظ ”رمضان خدا“ اور ”ماہِ رمضان“ ماہِ رمضان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کا انتساب براہ راست اللہ تعالیٰ سے کیا گیا ہے کیونکہ بعض احادیث کے مطابق ”رمضان“خود اللہ جلشانہُ کا اسم مبارک بھی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے صفاتیناموں میں ایک نام ” رَمَضان“ بھی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ  عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لَا تَقُوْلُوْا رَمَضَانَ فَاِنَّ رَمَضَانَ اِسْمٌمِنْ اَسْمَاءِ اللّٰہِ وَلٰکِنْ قُوْلُوْا شَھْرُ رَمَضَانَ )   السنن الکبریٰ بیہقی جلد 4 صفحہ 339 کتاب الصیام، حدیث نمبر 7904( ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے […]

مزید پڑھیں

50 تقاریر بابت وجود باری تعالی

اَلْاَوَّلُ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی کم از کم 175 صفات کا تذکرہ ہے۔ حدیث میں 104 صفات کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اِن کے علاوہ اپنی جن صفات پر اطلاع دی وہ 27 ہیں۔ ( الفضل انٹرنیشنل 23؍دسمبر 2025ء)  ان کُل 306 صفات میں سے ایک صفت ”اَلْاَوَّلُ “ بھی ہے یعنی پہلا۔ اِسی صفت کو آج مَیں نے ”مشاہدات“ کے  32ویںمجموعہ کے پیش لفظ کے عنوان کے طور پر چُنا ہے۔ ہمیں اللہ.تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم اور احادیث میں وجودِ الہٰی اور توحیدِ باری تعالیٰ کے ثبوت […]

مزید پڑھیں

25 تقاریر بابت عہد بیعت ، شرائط بیعت اور ہم

ان تقاریرکو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات و خطابات میں بیان فرمودہ 10 شرائطِ بیعت پر مشتمل مواد سے بطور خلاصہ تیار کیاگیا ہے جو ماہ نومبر اور ماہ دسمبر 2025ءمیں آن ائیر ہوئیں۔ جِن میں بیعت، اطاعت پر مشتمل مزید تقاریر شامل کر کے 25 تقاریرپر ایک مجموعہ ”مشاہدات“ کے کرمفرماؤں کی خدمت میں پیش ہے۔ جس میں آپ کو لفظ بیعت کے معنی، اُس کے تقاضے، اِس حوالے سے ہماری ذمہ داریاں، 10شرائطِ بیعت اور اِس میں درج اخلاقیات، اطاعت،وفاداری اور حضرت مسیح موعود علیہ لسلام کی آمد ، بعثت اور آپؑ کے ارشادات پر سیر حاصل بحث ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے لیے بہت مبارک کرے اور ہمیں اِن مبارک و مقدّس تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

مزید پڑھیں

50 تقاریر بابت اخلاقیات (جلد چہارم)

پیرہن آپ قا رئین نے یہ محسوس کیا ہوگا کہ مَیں اپنی کتب کے پیش لفظ کو کوئی نہ کوئی عنوان دے کرتحریر کرتا ہوں۔ اِس وقت میرے ہاتھوں میں ”مشاہدات“ کی 31ویں کاوش ہے جو اخلاقیات پر 50 تقاریر پر مشتمل ہے۔ اس کے پیش لفظ کو مَیں ”پیرہن“ کا عنوان دے رہا ہوں جس کے معنی پوشاک اور لباس کے ہیں ۔ جس طرح انسان اپنے لباس سے پہچانا جاتا ہے۔ اس کی شخصیت اُجاگر ہوتی ہے اسی طرح کسی کتاب کے پیش لفظ […]

مزید پڑھیں

50تقاریربرائےنَونِہالانِ جماعت(جلداوّل)

برگِ سبز است تحفۂ درویش ہر چھوٹی اور نئی چیز جہاں پیاری ہوتی ہے اور پیاری لگتی ہے وہاں وہ ننھی مُنّی اشیاء دوسروں کی نسبت پیار بھی زیادہ لیتی ہیں اور اِن کی دیکھ بھال، نشوونما، پروان چڑھنے اور پالنے پوسنے کی طرف توجہ بھی بہت دی جاتی ہے۔ جیسے نرسری سےلایا ہوا ننھا […]

مزید پڑھیں

50تقاریربابت اخلاقیات(جلدسوم)

اخلاقیات-ایک کھلی کتاب خُلق جس کی جمع اَخلاق ہے جس کے معنی عمدہ و پسندیدہ عادات، اچھے خصائل اور اسلامی خوبیوں کے ہیں۔ وہ علم اور طریق جن کے ذریعے تعلیم و تربیت و اصلاحِ نفس و معاشرہ کے دستور اپنائے جاتے ہیں اُسے علم.الاَخلاق یا اخلاقیات کہا جاتا ہے۔ یہ علم یا اخلاقیات  کے […]

مزید پڑھیں

50تقاریربابت اخلاقیات(جلددوم)

اِبۡتِغَآءِ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ کی راہیں اخلاقیات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن کریم میں بہت زور دیا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری عمر صحابہؓ. کو اخلاقیات کی پیاری تعلیم دینے میں گزار دی۔  تربیت و اصلاح کے مختلف نرالے اور […]

مزید پڑھیں

مشاہدات کی مالا کے 1000 موتی

اک سے ہزار ہوویں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ تحریر فرمایا ہے: ” یہ بات ہر ایک جانتا ہے کہ تالیفات کی نسبت یہ عام محاورہ ہے کہ ان کو نتائجِ  طبع کہتے ہیں یعنی  طبع.زادبچے“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ350-351)  لغات میں لکھا ہے کہ نتائجِ طبع سے مراد طبیعت […]

مزید پڑھیں

30تقاریربابت رمضان المبارک 2025ء (جلداول)

طلوع ِہلال رمضان کے معانی تپش اور گرمائش کے ہیں ۔ایک روزے دار کو یہ گرمائش مادی اور روحانی دونوں طریق پر حاصل ہورہی ہوتی ہے۔ مادی اس لحاظ سے کہ بھوکا رہنے سے روزے دار کے اندر گرمی پیدا ہوتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ گرمی کے روزوں میں روزے دار کو اپنے […]

مزید پڑھیں

30دروس بابت رمضان المبارک2025ء(حصہ دوم)

حرفِ اول ہر مسلمان کو رمضان سے بہت پیار رہتا ہے۔  جوں جوں یہ رمضان قریب  آتا ہے اِس پیار میں اضافہ ہوتاجاتا ہے اور وہ اِس سے لطف اندوز ہونے کے لئے اُن تمام ذرائع اور طریقوں کو اپناتا ہے جو قرآن.واحادیث، فقہ اور آج کے دور میں فقہُ المسیح ، فقہ احمدیہ اور […]

مزید پڑھیں

52 علامات 52 تقاریر بابت پییشگوئی مصلح موعودؓ

یوم مصلح موعود کے موقع پر 52 تقاریر
جو حضرت مصلح موعودؓ کی سیرت، سوانح و کارناموں کے علاوہ پیشگوئی مصلح موعود کی مختلف علامات پر مشتمل ہیں ، خاکسار نے حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ایک ارشاد کو مدنظر رکھ کر لکھیں۔ حضور ایدہ اللہ فرماتے ہیں:

”یہ (پیشگوئی مصلح موعود کی) علامتیں ہیں جن میں سے ہر ایک علامت جو ہے ایک علیحدہ تقریر کا موضوع بن سکتا ہے“

(خطبہ جمعہ 18؍فروری 2018ء)

مزید پڑھیں

’’مشاہدات‘‘ کی وجہ تسمیہ

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا بھر میں انسانوں کو پیدا کر کے اُن کو الگ الگ صلاحیتوں ، استعدادوں اور قویٰ سے نوازا ہے ۔ اگر ایک ہی قسم کی صلاحیت کئی انسانوں کو عطا فرمائی ہے تو اُس کے استعمال کے رنگ ہر انسان […]

مزید پڑھیں
a close up of a bag with a tag on it

رَبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ

رَبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ(بنی اسرائیل : 81)آج 2024ء کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کواللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی دی گئی توفیق کے ساتھ خاکسار کو ذاتی طور پر اپنی ویب سائٹ لانچ کرنے کی توفیق مل رہی ہے ۔ الحمدللہ ربّ العالمینآپ اس ویب سائٹ پر خاکسار کی جملہ کتب ، پمفلٹس […]

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو کہ بُت پرستی ، انسان پرستی ، مخلوق پرستی کی سزا آخرت میں ہے۔ مگر شریفوں بد معاشوں ، ظلم و تعدّی ، غفلت اور اہلِ حق کو ستانے اور دُکھ دینے کی سزا اِسی دنیامیں دی جاتی ہے۔ نوح کے وقت جو عذاب آیا اگر خدا تعالیٰ کے رسول کو نہ ستاتے تو وہ عذاب نہ آتا۔ یہ شوخی پر اِس لئے عذاب آتا ہے کہ ” ایک چور دوسرا چتر“ دنیا دارُالمکافات نہیں۔ اس میں دست بدست سزا صرف اُسے ملتی ہے جو بد معاشی کرے جو شرافت کے ساتھ گناہ میں گرفتار ہو تو اُس کی سزا آخرت میں ہے اور اب جو دنیا میں عذاب آیا تو اسی لئے کہ دلیری ، شوخی ، شرارت حد سے بڑھ گئی ایسی کہ گویا خدا ہے ہی نہیں۔ طاعون نےاِس قدر سخت بربادی کی مگر ابھی اُن کے دلوں نے کچھ محسوس نہیں کیا۔ پوچھو! تو ہنسی ٹھٹےمیں گزار دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں معمولی بیماری ہے گویا خدا کی قضاء و قدر سے مُنکر ہیں ۔ بیشک یہ بیماری ہے۔ مگر انہی بیماریوں سے عذاب آیا کرتا ہے۔ یہودیوں پر جب یہ وبا پڑی تو خدا تعالیٰ نے اسے عذاب فرمایا۔ یا د رکھو کہ جب خدا چاہتا ہے انہی بیماریوں کو شدت وکثرت میں بڑھا کر ہلاک کر دیتا ہے۔ ان لوگوں کی بے یقینی کی یہ علامت ہے کہ عذاب کوعذاب نہیں سمجھتے۔ خدا تعالیٰ رحیم ہے سزا دینے میں دھیما ہے مگر یہ لوگ یاد رکھیں کہ جب تک وہ وقت نہ آئے گا کہ پکار اٹھیں اب ہم سمجھے یہ عذاب ہٹنے کا نہیں۔ اس کا علاج وُہی ہےجو ہم بارہا دفعہ بتا چکے ہیں یعنی تضرّع و انابت الیٰ الله ۔‘‘
( ملفوظات جلد10صفحہ123)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ تم قال اللہ اور قال الرسول پر عمل کرو اور ایسی باتیں زبان پر نہ لاؤ جن کا تمہیں علم نہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ( بنی اسرائیل:37) تم نیکی کی طرف پورے زور سے مشغول ہو جاؤاور اعمالِ صالحہ بجا لاؤ۔ اگر تمہاری حالت اِس لائق ہو گئی اور تم نے پورے طور پر اپنا تزکیہ نفس کر لیا تو پھر خدا تعالیٰ کے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ اکثر لوگ آجکل ہلاک ہو رہے ہیں اُن کی یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی حالت کا مطالعہ نہیں کرتے اور اُس تعلق کو نہیں دیکھتے جو وہ خداتعالیٰ سے رکھتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ کسی زور سے خدا تعالیٰ کی طرف جا رہے ہیں اور کیسے کیسے مصائب آنے پر ثابت قدم نکلے ہیں اور ابتلاؤں میں پُورے اُترےہیں۔‘‘
( ملفوظات جلد10صفحہ14)

مزید پڑھیں

”بڑے شہروں میں غفلت کے سامان بہت مہیا ہوجاتے ہیں“ (حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّلؓ)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے دو امان نازل ہوئے تھے ایک تو ان میں سے اٹھ گیا یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود مگر دوسری امان قیامت تک باقی ہے اور وہ استغفار ہے۔ مَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ(سورۃ الانفال :34)۔ پس استغفار کرتے رہا کرو کہ پچھلی بُرائیوں کے بدنتائج سے بچے رہو اور آئندہ بدیوں کے ارتکاب سے۔“
(ارشادات نور جلد اوّل صفحہ 69)

مزید پڑھیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اَور تقویٰ کا اعلیٰ مقام

عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک دفعہ سورج گرہن ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کسوف پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ بڑے لمبے رکوع اور سجدے کئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر روتے جاتے تھے کہ ہچکی بندھ گئی اس حال میں رو رو کر یہ دعا کر رہے تھے:
"میرے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا کہ جب تک مَیں ان لوگوں میں ہوں تو انہیں عذاب نہ دے گا۔ کیا تو نے وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے تو ان پر عذاب نازل نہ کرے گا ۔ پس ہم استغفار کرتے ہیں۔ (تو ہمیں معاف فرما)۔
(الدر المنثور للسیوطي جز 9 صفحہ 59دار الفکر بیروت)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”نئے سرے سے قرآن شریف کو پڑھو اور اس کے معانی پر خوب غور کرو۔ نماز کو دل لگا کر پڑھو اور احکامِ شریعت پر عمل کرو۔ انسان کا کام یہی ہے۔ آگے پھر خدا کے کام شروع ہو جاتے ہیں۔ جو شخص عاجزی سے خدا تعالیٰ کی رضا کو طلب کرتا ہے خدا تعالیٰ اس پر راضی ہوتا ہے۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 323)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔ وہ شخص جو اُس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے مَیں اُس کے لئے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں ۔ پس چاہئے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔‘‘
( ملفوظات جلد9صفحہ360)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”یہ بھی یاد رکھو کہ معصیت اور فسق کو نہ واعظ دُور کر سکتے ہیں اور نہ کوئی اَور حیلہ ۔اس کے لیے ایک ہی راہ ہے اور وہ دعا ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہی ہمیں فرمایا ہے اس زمانہ میں نیکی کی طرف خیال آنا اور بدی کو چھوڑنا چھوٹی سی بات نہیں ہے یہ انقلاب چاہتی ہے اور یہ انقلاب خدا تعالی کے ہاتھ میں ہے اور یہ دعاؤں سے ہوگا۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ راتوں کو رو رو کر دعائیں کریں اس کا وعدہ ہے۔ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ( المومن: 61) ۔ عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دعا سے مراد دنیا کی دعا ہے وہ دنیا کے کیڑے ہیں اس لیے اس سے پَرے نہیں جا سکتے۔ اصل دعا دین ہی کی دعا ہے لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم گنہگار ہیں یہ دعا کیا ہوگی اور ہماری تبدیلی کیسے ہو سکے گی یہ غلطی ہے۔ بعض اوقات انسانی خطاؤں کے ساتھ ہی ان پر غالب آ سکتا ہے اس لیے کہ اصل فطرت میں پاکیزگی ہے ۔ دیکھو! پانی کیسا ہی گرم ہو لیکن جب وہ آگ پر ڈالا جاتا ہے تو وہ بہرحال آگ کو بجھا دیتا ہے اس لیے کہ فطرتاً برودت اس میں ہے۔ ٹھیک اسی طرح پر انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے۔ وہ پاکیزگی کہیں نہیں گئی ۔ اسی طرح تمہاری طبیعتوں میں خواہ کیسے ہی جذبات ہوں رو کر دعا کرو گے تو اللہ تعالی دُور کر دے گا ۔“
(ملفوظات جلد9 صفحہ 167۔168 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے مگر افسوس ہے کہ لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدا تعالی کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے۔ اس کی غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا اور تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہو بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق سے اپنے مطلب کو پہنچ جاتاہے۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 3)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ رحیم کریم ہے۔ اُس پر بدظنی نہیں کرنی چاہیے۔ جو اُس کی سنت کو نگاہ میں رکھے گا اور اُس کے لئے دُکھ اور تکالیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجاوے گا وہ ضرور کامیاب ہو گا۔ اگر اُس کے بتائے ہوئے راستہ پر نہیں چلے گا اور بخل سے کام لے گا تو رہ جاوے گا۔ دیکھو! فوجوں میں جو لوگ بھرتی ہوتے ہیں اور دنیا کی خاطر لڑنے مرنے اور جان دینے کے لئے نوکر ہوتے ہیں، وہ کوئی ہزاروں روپیہ تو تنخواہ نہیں پاتے۔ یہی دس بارہ روپیہ کی خاطر جان دینا قبول کر لیتے ہیں مگر کتنے افسوس کی بات ہےکہ خدا تعالے کی خاطر اور اُس دائمی بہشت اور دائمی خوشنودی کے لئے کوئی فکر نہیں کرتے ۔‘‘
( ملفوظات جلد 9صفحہ447)

مزید پڑھیں