75تقاریربابت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی احبابِ جماعت کو پَندو نصائح

 روحانی ولاز میں داخلہ Spiritual Villa’s Entry (پیش لفظ)) آج مَیں اپنے پروردگار کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اُس نے مجھ حقیر، ناچیز اَور نابکار کو مامورِ زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تقاریر، دروس، مختلف محافل میں اور سیر کے دوران کی گئی مبارک گفتگو جو ملفوظات کے نام […]

مزید پڑھیں

30 تقاریر بابت رمضان المبارک(ارشادات،افاضات،فتاویٰ،فقہی مسائل)

پیش لفظ ”رمضان خدا“ اور ”ماہِ رمضان“ ماہِ رمضان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کا انتساب براہ راست اللہ تعالیٰ سے کیا گیا ہے کیونکہ بعض احادیث کے مطابق ”رمضان“خود اللہ جلشانہُ کا اسم مبارک بھی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے صفاتیناموں میں ایک نام ” رَمَضان“ بھی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ  عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لَا تَقُوْلُوْا رَمَضَانَ فَاِنَّ رَمَضَانَ اِسْمٌمِنْ اَسْمَاءِ اللّٰہِ وَلٰکِنْ قُوْلُوْا شَھْرُ رَمَضَانَ )   السنن الکبریٰ بیہقی جلد 4 صفحہ 339 کتاب الصیام، حدیث نمبر 7904( ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے […]

مزید پڑھیں

50 تقاریر بابت وجود باری تعالی

اَلْاَوَّلُ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی کم از کم 175 صفات کا تذکرہ ہے۔ حدیث میں 104 صفات کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اِن کے علاوہ اپنی جن صفات پر اطلاع دی وہ 27 ہیں۔ ( الفضل انٹرنیشنل 23؍دسمبر 2025ء)  ان کُل 306 صفات میں سے ایک صفت ”اَلْاَوَّلُ “ بھی ہے یعنی پہلا۔ اِسی صفت کو آج مَیں نے ”مشاہدات“ کے  32ویںمجموعہ کے پیش لفظ کے عنوان کے طور پر چُنا ہے۔ ہمیں اللہ.تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم اور احادیث میں وجودِ الہٰی اور توحیدِ باری تعالیٰ کے ثبوت […]

مزید پڑھیں

25 تقاریر بابت عہد بیعت ، شرائط بیعت اور ہم

ان تقاریرکو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات و خطابات میں بیان فرمودہ 10 شرائطِ بیعت پر مشتمل مواد سے بطور خلاصہ تیار کیاگیا ہے جو ماہ نومبر اور ماہ دسمبر 2025ءمیں آن ائیر ہوئیں۔ جِن میں بیعت، اطاعت پر مشتمل مزید تقاریر شامل کر کے 25 تقاریرپر ایک مجموعہ ”مشاہدات“ کے کرمفرماؤں کی خدمت میں پیش ہے۔ جس میں آپ کو لفظ بیعت کے معنی، اُس کے تقاضے، اِس حوالے سے ہماری ذمہ داریاں، 10شرائطِ بیعت اور اِس میں درج اخلاقیات، اطاعت،وفاداری اور حضرت مسیح موعود علیہ لسلام کی آمد ، بعثت اور آپؑ کے ارشادات پر سیر حاصل بحث ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے لیے بہت مبارک کرے اور ہمیں اِن مبارک و مقدّس تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

مزید پڑھیں

50 تقاریر بابت اخلاقیات (جلد چہارم)

پیرہن آپ قا رئین نے یہ محسوس کیا ہوگا کہ مَیں اپنی کتب کے پیش لفظ کو کوئی نہ کوئی عنوان دے کرتحریر کرتا ہوں۔ اِس وقت میرے ہاتھوں میں ”مشاہدات“ کی 31ویں کاوش ہے جو اخلاقیات پر 50 تقاریر پر مشتمل ہے۔ اس کے پیش لفظ کو مَیں ”پیرہن“ کا عنوان دے رہا ہوں جس کے معنی پوشاک اور لباس کے ہیں ۔ جس طرح انسان اپنے لباس سے پہچانا جاتا ہے۔ اس کی شخصیت اُجاگر ہوتی ہے اسی طرح کسی کتاب کے پیش لفظ […]

مزید پڑھیں

50تقاریربرائےنَونِہالانِ جماعت(جلداوّل)

برگِ سبز است تحفۂ درویش ہر چھوٹی اور نئی چیز جہاں پیاری ہوتی ہے اور پیاری لگتی ہے وہاں وہ ننھی مُنّی اشیاء دوسروں کی نسبت پیار بھی زیادہ لیتی ہیں اور اِن کی دیکھ بھال، نشوونما، پروان چڑھنے اور پالنے پوسنے کی طرف توجہ بھی بہت دی جاتی ہے۔ جیسے نرسری سےلایا ہوا ننھا […]

مزید پڑھیں

50تقاریربابت اخلاقیات(جلدسوم)

اخلاقیات-ایک کھلی کتاب خُلق جس کی جمع اَخلاق ہے جس کے معنی عمدہ و پسندیدہ عادات، اچھے خصائل اور اسلامی خوبیوں کے ہیں۔ وہ علم اور طریق جن کے ذریعے تعلیم و تربیت و اصلاحِ نفس و معاشرہ کے دستور اپنائے جاتے ہیں اُسے علم.الاَخلاق یا اخلاقیات کہا جاتا ہے۔ یہ علم یا اخلاقیات  کے […]

مزید پڑھیں

50تقاریربابت اخلاقیات(جلددوم)

اِبۡتِغَآءِ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ کی راہیں اخلاقیات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن کریم میں بہت زور دیا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری عمر صحابہؓ. کو اخلاقیات کی پیاری تعلیم دینے میں گزار دی۔  تربیت و اصلاح کے مختلف نرالے اور […]

مزید پڑھیں

مشاہدات کی مالا کے 1000 موتی

اک سے ہزار ہوویں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ تحریر فرمایا ہے: ” یہ بات ہر ایک جانتا ہے کہ تالیفات کی نسبت یہ عام محاورہ ہے کہ ان کو نتائجِ  طبع کہتے ہیں یعنی  طبع.زادبچے“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ350-351)  لغات میں لکھا ہے کہ نتائجِ طبع سے مراد طبیعت […]

مزید پڑھیں

30تقاریربابت رمضان المبارک 2025ء (جلداول)

طلوع ِہلال رمضان کے معانی تپش اور گرمائش کے ہیں ۔ایک روزے دار کو یہ گرمائش مادی اور روحانی دونوں طریق پر حاصل ہورہی ہوتی ہے۔ مادی اس لحاظ سے کہ بھوکا رہنے سے روزے دار کے اندر گرمی پیدا ہوتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ گرمی کے روزوں میں روزے دار کو اپنے […]

مزید پڑھیں

30دروس بابت رمضان المبارک2025ء(حصہ دوم)

حرفِ اول ہر مسلمان کو رمضان سے بہت پیار رہتا ہے۔  جوں جوں یہ رمضان قریب  آتا ہے اِس پیار میں اضافہ ہوتاجاتا ہے اور وہ اِس سے لطف اندوز ہونے کے لئے اُن تمام ذرائع اور طریقوں کو اپناتا ہے جو قرآن.واحادیث، فقہ اور آج کے دور میں فقہُ المسیح ، فقہ احمدیہ اور […]

مزید پڑھیں

52 علامات 52 تقاریر بابت پییشگوئی مصلح موعودؓ

یوم مصلح موعود کے موقع پر 52 تقاریر
جو حضرت مصلح موعودؓ کی سیرت، سوانح و کارناموں کے علاوہ پیشگوئی مصلح موعود کی مختلف علامات پر مشتمل ہیں ، خاکسار نے حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ایک ارشاد کو مدنظر رکھ کر لکھیں۔ حضور ایدہ اللہ فرماتے ہیں:

”یہ (پیشگوئی مصلح موعود کی) علامتیں ہیں جن میں سے ہر ایک علامت جو ہے ایک علیحدہ تقریر کا موضوع بن سکتا ہے“

(خطبہ جمعہ 18؍فروری 2018ء)

مزید پڑھیں

’’مشاہدات‘‘ کی وجہ تسمیہ

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا بھر میں انسانوں کو پیدا کر کے اُن کو الگ الگ صلاحیتوں ، استعدادوں اور قویٰ سے نوازا ہے ۔ اگر ایک ہی قسم کی صلاحیت کئی انسانوں کو عطا فرمائی ہے تو اُس کے استعمال کے رنگ ہر انسان […]

مزید پڑھیں
a close up of a bag with a tag on it

رَبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ

رَبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ(بنی اسرائیل : 81)آج 2024ء کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کواللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی دی گئی توفیق کے ساتھ خاکسار کو ذاتی طور پر اپنی ویب سائٹ لانچ کرنے کی توفیق مل رہی ہے ۔ الحمدللہ ربّ العالمینآپ اس ویب سائٹ پر خاکسار کی جملہ کتب ، پمفلٹس […]

مزید پڑھیں

انٹرنس اور ایگزٹ Entrance اَور  Exit

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19صفحہ12)

مزید پڑھیں

فتنوں سے خلاصی کی صورت کتابُ اللہ ہے  (حدیث نبویؐ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ قرآن شریف پر تدبُّر کرو اس میں سب کچھ ہے۔ نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہے اور آئندہ زمانے کی خبریں ہیں وغیرہ۔ بخوبی سمجھ لو کہ یہ وہ مذہب پیش کرتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے برکات اور ثمرات تازہ بتازہ ملتے ہیں۔ انجیل میں مذہب کو کامل طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ اس کی تعلیم اس زمانے کے حسب حال ہو تو ہو، لیکن وہ ہمیشہ اور ہر حالت کے موافق ہرگز نہیں۔ یہ فخر قرآن مجید ہی کو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہر مرض کا علاج بتایا ہے اور تمام قویٰ کی تربیت فرمائی ہے اور جو بدی ظاہر کی ہے اس کے دور کرنے کا طریق بھی بتایا ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور دعا کرتے رہو اور اپنے چال چلن کو اس کی تعلیم کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو۔ ‘‘
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 102)

مزید پڑھیں

ماں کا نعم البدل کوئی نہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ سب سے زیادہ خدمت کی مثال اگر دنیا میں موجود ہے تو وہ ماں کی بچے کے لئے خدمت ہی ہے۔ اب یہاں رہنے والے، مغرب کی سوچ رکھنے والے، بلکہ ہمارے ملکوں میں بھی، برصغیر میں بھی، بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ماں باپ کی خدمت نہیں کرسکتے، ایک بوجھ سمجھتے ہیں اور یہ لکھتے ہیں کہ جماعت ایسے بوڑھوں کے مراکز کھولے جہاں یہ بوڑھے داخل کروا دئے جائیں کیونکہ ہم تو کام کرتے ہیں، بیوی بھی کام کرتی ہے، بچے اسکول چلے جاتے ہیں اور جب گھر آتے ہیں تو بوڑھے والدین کی وجہ سے ڈسٹرب (Disturb)ہوتے ہیں، اس لئے سنبھالنا مشکل ہے۔ کچھ خوف خدا کرنا چاہئے۔ قرآن توکہتاہے کہ ان کی عزت کرو، ان کا احترام کرو اور اس عمر میں اُن پررحم کے پرجھکا دو۔ جس طرح بچپن میں انہوں نے ہرمصیبت جھیل کر تمہیں اپنے پروں میں لپیٹے رکھا۔ تمہیں اگر کسی نے کوئی تکلیف پہنچانے کی کوشش کی تو مائیں شیرنی کی طرح جھپٹ پڑتی تھیں۔ اب ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے توکہتے ہو کہ ان کو جماعت سنبھالے۔ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے سنبھالتی ہے لیکن ایسے بوڑھوں کو جن کی اولاد نہ ہویاجن کے کوئی اور عزیز رشتے دار نہ ہوں۔ لیکن جن کے اپنے بچے سنبھالنے والے موجود ہوں تو بچوں کا فرض ہے کہ والدین کو سنبھالیں۔ تو ایسی سوچ رکھنے والوں کو اپنی طبیعتوں کو، اپنی سوچوں کو تبدیل کرنا چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 16؍جنوری2004ء)

مزید پڑھیں

ایک مؤمن کی روحانی سروسز

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ اپنے ایمانوں کو وزن کرو۔ عمل ایمان کا زیور ہے۔ اگر انسان کی عملی حالت درست نہیں ہے تو ایمان بھی نہیں ہے۔ مومن حسین ہوتا ہے۔ جس طرح ایک خوبصورت انسان کو معمولی اور ہلکا سا زیور بھی پہنا دیا جائے تو وہ اُسے زیادہ خوبصورت بنا دیتا ہے ۔ اگر وہ بد عمل ہے تو پھر کچھ بھی نہیں۔ انسان کے اندر جب حقیقی ایمان پیدا ہو جاتا ہے تو اُس کو اعمال میں ایک خاص لذّت آتی ہے اور اُس کی معرفت کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ اس طرح نماز پڑھتا ہے جس طرح نماز پڑھنے کا حق ہوتا ہے۔ گناہوں سے اُسے بیزاری پیدا ہو جاتی ہے۔ ناپاک مجلس سے نفرت کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اور رسول کی عظمت اور جلال کے اظہار کے لئے اپنے دل میں ایک خاص جوش اور تڑپ پاتاہے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 249ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

تین سلام

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ اپنے گھروں کو اس انعام سے فائدہ اٹھانے والا بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری تربیت کے لئے ہمارے علمی اور روحانی اضافے کے لئے ہمیں دیا ہے تاکہ ہماری نسلیں احمدیت پر قائم رہنے والی ہوں۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے آپ کو ایم ٹی اے سے جوڑیں۔ اب خطبات کے علاوہ اور بھی بہت سے لائیو پروگرام آرہے ہیں جوجہاں دینی اور روحانی ترقی کا باعث ہیں وہاں علمی ترقی کا بھی باعث ہیں۔ جماعت اس پر لاکھوں ڈالر ہر سال خرچ کرتی ہے اس لئے کہ جماعت کے افراد کی تربیت ہو۔ اگر افراد جماعت اس سے بھر پور فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو اپنے آپ کو محروم کریں گے…ایم ٹی اے کی ایک اور برکت بھی ہے کہ یہ جماعت کو خلافت کی برکات سے جوڑنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ پس اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 2013 ء)

مزید پڑھیں

مضبوط ہونے کے لیے نرم ہونا ضروری ہے

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ اپنے تو درکنار، مَیں تو یہ کہتا ہوں کہ غیروں اور ہندوؤں کے ساتھ بھی ایسے اخلاق کا نمونہ دکھاؤ اور ان سے ہمدردی کرو اور لاابالی مزاج ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ پھر ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مَیں سیر کو جارہا تھا تو ایک پٹواری میرے ساتھ تھا وہ ذرا آگے تھا اور مَیں پیچھے۔ راستے میں ایک بُڑھیا 75-70سال کی ملی پہلے ان پٹواری صاحب کو اس نے خط پڑھنے کو کہا مگر اس نے اسے جھڑکیاں دے کر ہٹا دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرے دل پر چوٹ سی لگی۔ پھر اس بُڑھیا نے وہ خط مجھے دیا تو فرماتے ہیں کہ مَیں اس کو لے کرٹھہر گیا اور اس کو پڑھ کر اچھی طرح سمجھا دیا۔ اس پر پٹواری کو بڑی شرمندگی ہوئی کیونکہ ٹھہرنا تو پڑا اور ثواب سے بھی محروم رہا‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 83-82)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’دعا کی قبولیت کا بھی یہی راز ہے ۔ انسان جب تک اپنی خواہشات ،ارادوں اور علموں کو ترک کر کے خدا میں فنا نہ ہو جاوے اور خدا کی قدرت کاملہ اور قادر مطلق ہونے اور سننے اور قبول کرنے والا ہونے پر یقینِ کامل اور پورا وثوق نہ رکھتا ہو تب تک دعا بھی ایک بے حقیقت چیز ہے۔ فلسفیوں کو کیوں قبولیتِ دعا پر ایمان نہیں ہوتا ۔ اِس کی یہی وجہ ہے کہ اُن کو خدا کی توسیع قدرت اور باریک در باریک سامانوں کے پیدا کر دینے والا ہونے پر ایمان نہیں ہوتا……اور وہ خدا کی قدرت کو محدود جانتے ہیں اور اپنے تجارب اور علوم پر بھی بھروسہ کر بیٹھتے ہیں۔ اُن کو اپنے تجارب کے مقابلہ میں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ خدا بھی ہے اور وہ بھی کچھ کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بعض سخت مہلک امراض میں وہ لوگ یقینی اور قطعی حکم لگا دیتے ہیں کہ یہ شخص بچ نہیں سکتا یا اتنے عرصے میں مرجاوے گا۔ یا اس طرز سے مرے گا۔ مگر بیسیوں مثالیں ایسی خود ہماری چشم دید ہیں اور بعض کو ہم جانتے ہیں جن میں باوجود ان کے یقینی اور قطعی حکم لگا دینے کے خدا تعالیٰ نے اُن بیماروں کے واسطے ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ وہ آخرکار بچ گئے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض وہ بیمار جن کے حق میں یہ لوگ موت کا قطعی اور اٹل فتویٰ دے چکے تھے زندہ سلامت ہو گئے اور کسی دوسرے موقعہ پر ان کو مل کر شرمندہ کیا اور ان کے علم و دعویٰ کو بھی شرمندہ کیا ہے۔
حدیث میں آیا ہے مَا مَنْ دَآءٍ اِلَّا وَلَہٗ دَوَآءٌ ۔ ایک مشہور ڈاکٹر کا ہمیں قول یاد ہے وہ کہتا ہے کہ کوئی مرض بھی نا قابل علاج نہیں ہے بلکہ یہ ہماری سمجھ اور عقل و علم کا نقص ہے کہ ہمارے علم کی رسائی وہاں تک نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مرض کے واسطے بعض ایسے ایسے اسباب پیدا کئے ہوں جن سے وہ شخص جس کو ہم ناقابل علاج یقین خیال کرتے ہیں قابل علاج اور صحت یاب ہو کر تندرست ہو جاوے۔ پس قطعی حکم ہر گز نہ لگانا چاہیے بلکہ اگر رائے ظاہر بھی کرنی ہو تو یوں کہہ دو کہ ہمیں ایسا شک پڑتا ہے مگر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسے سامان پیدا کر دے کہ جن سے یہ روک اُٹھ جاوے اور بیماراچھا ہو جاوے ۔ دُعا ایک ایسا ہتھیار خدا تعالیٰ نے بنایا ہے کہ اَنہونے کام بھی جن کو انسان نا ممکن خیال کرتا ہے ہو جاتے ہیں کیونکہ خدا کے لیے کوئی بات بھی اَنہونی نہیں ۔ ‘‘
( ملفوظات جلد10صفحہ197-195)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”پاکیزگی سے یہ مراد ہے کہ انسان کو جو اُس کے جذباتِ نفسانیہ خدا تعالیٰ سے روح گرداں کر کے اپنی خواہشات میں محو کرنا چاہتے ہیں ان کا مغلوب نہ ہو اور کوشش کرے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق اس کی رفتار ہو۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی قول فعل خدا تعالیٰ کی رضامندی کے بغیر سرزد ہی نہ ہو۔ خدا تعالیٰ قدوس اور پاک ہے وہ اپنی صفات کے مطابق ہی انسان کو بھی چلانا چاہتا ہے ۔وہ رحیم ہے انسان سے بھی رحم چاہتا ہے ۔ وہ کریم ہے انسان سے بھی کرم جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی صفات خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں ظاہر ہیں۔ جسمانی طور سے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا مدت ہائے دراز سے چلی آتی ہے۔ ان کو اناج، پانی، لباس، روشنی وغیرہ تمام حوائجِ ضروریہ اور لوازم انسانیہ ہمیشہ سے بہم پہنچاتا چلا آیا ہے اور ہمیشہ ہی اس کے رحم اور کرم کی صفات اور اسمائے حسنہ کے تقاضے ساتھ ساتھ مخلوق کی دستگیری کرتے چلے آئے ہیں۔ پس غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کو اپنی صفات کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے۔“
( ملفوظات جلد10 صفحہ 437۔438 )

مزید پڑھیں