50 تقاریر بابت وجود باری تعالی
اَلْاَوَّلُ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی کم از کم 175 صفات کا تذکرہ ہے۔ حدیث میں 104 صفات کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اِن کے علاوہ اپنی جن صفات پر اطلاع دی وہ 27 ہیں۔ ( الفضل انٹرنیشنل 23؍دسمبر 2025ء) ان کُل 306 صفات میں سے ایک صفت ”اَلْاَوَّلُ “ بھی ہے یعنی پہلا۔ اِسی صفت کو آج مَیں نے ”مشاہدات“ کے 32ویںمجموعہ کے پیش لفظ کے عنوان کے طور پر چُنا ہے۔ ہمیں اللہ.تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم اور احادیث میں وجودِ الہٰی اور توحیدِ باری تعالیٰ کے ثبوت […]
مزید پڑھیں25 تقاریر بابت عہد بیعت ، شرائط بیعت اور ہم
ان تقاریرکو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات و خطابات میں بیان فرمودہ 10 شرائطِ بیعت پر مشتمل مواد سے بطور خلاصہ تیار کیاگیا ہے جو ماہ نومبر اور ماہ دسمبر 2025ءمیں آن ائیر ہوئیں۔ جِن میں بیعت، اطاعت پر مشتمل مزید تقاریر شامل کر کے 25 تقاریرپر ایک مجموعہ ”مشاہدات“ کے کرمفرماؤں کی خدمت میں پیش ہے۔ جس میں آپ کو لفظ بیعت کے معنی، اُس کے تقاضے، اِس حوالے سے ہماری ذمہ داریاں، 10شرائطِ بیعت اور اِس میں درج اخلاقیات، اطاعت،وفاداری اور حضرت مسیح موعود علیہ لسلام کی آمد ، بعثت اور آپؑ کے ارشادات پر سیر حاصل بحث ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے لیے بہت مبارک کرے اور ہمیں اِن مبارک و مقدّس تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین
مزید پڑھیں50 تقاریر بابت اخلاقیات (جلد چہارم)
پیرہن آپ قا رئین نے یہ محسوس کیا ہوگا کہ مَیں اپنی کتب کے پیش لفظ کو کوئی نہ کوئی عنوان دے کرتحریر کرتا ہوں۔ اِس وقت میرے ہاتھوں میں ”مشاہدات“ کی 31ویں کاوش ہے جو اخلاقیات پر 50 تقاریر پر مشتمل ہے۔ اس کے پیش لفظ کو مَیں ”پیرہن“ کا عنوان دے رہا ہوں جس کے معنی پوشاک اور لباس کے ہیں ۔ جس طرح انسان اپنے لباس سے پہچانا جاتا ہے۔ اس کی شخصیت اُجاگر ہوتی ہے اسی طرح کسی کتاب کے پیش لفظ […]
مزید پڑھیں50تقاریربرائےنَونِہالانِ جماعت(جلداوّل)
برگِ سبز است تحفۂ درویش ہر چھوٹی اور نئی چیز جہاں پیاری ہوتی ہے اور پیاری لگتی ہے وہاں وہ ننھی مُنّی اشیاء دوسروں کی نسبت پیار بھی زیادہ لیتی ہیں اور اِن کی دیکھ بھال، نشوونما، پروان چڑھنے اور پالنے پوسنے کی طرف توجہ بھی بہت دی جاتی ہے۔ جیسے نرسری سےلایا ہوا ننھا […]
مزید پڑھیں50تقاریربابت اخلاقیات(جلدسوم)
اخلاقیات-ایک کھلی کتاب خُلق جس کی جمع اَخلاق ہے جس کے معنی عمدہ و پسندیدہ عادات، اچھے خصائل اور اسلامی خوبیوں کے ہیں۔ وہ علم اور طریق جن کے ذریعے تعلیم و تربیت و اصلاحِ نفس و معاشرہ کے دستور اپنائے جاتے ہیں اُسے علم.الاَخلاق یا اخلاقیات کہا جاتا ہے۔ یہ علم یا اخلاقیات کے […]
مزید پڑھیں50تقاریربابت اخلاقیات(جلددوم)
اِبۡتِغَآءِ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ کی راہیں اخلاقیات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن کریم میں بہت زور دیا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری عمر صحابہؓ. کو اخلاقیات کی پیاری تعلیم دینے میں گزار دی۔ تربیت و اصلاح کے مختلف نرالے اور […]
مزید پڑھیںمشاہدات کی مالا کے 1000 موتی
اک سے ہزار ہوویں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ تحریر فرمایا ہے: ” یہ بات ہر ایک جانتا ہے کہ تالیفات کی نسبت یہ عام محاورہ ہے کہ ان کو نتائجِ طبع کہتے ہیں یعنی طبع.زادبچے“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ350-351) لغات میں لکھا ہے کہ نتائجِ طبع سے مراد طبیعت […]
مزید پڑھیں30تقاریربابت رمضان المبارک 2025ء (جلداول)
طلوع ِہلال رمضان کے معانی تپش اور گرمائش کے ہیں ۔ایک روزے دار کو یہ گرمائش مادی اور روحانی دونوں طریق پر حاصل ہورہی ہوتی ہے۔ مادی اس لحاظ سے کہ بھوکا رہنے سے روزے دار کے اندر گرمی پیدا ہوتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ گرمی کے روزوں میں روزے دار کو اپنے […]
مزید پڑھیں30دروس بابت رمضان المبارک2025ء(حصہ دوم)
حرفِ اول ہر مسلمان کو رمضان سے بہت پیار رہتا ہے۔ جوں جوں یہ رمضان قریب آتا ہے اِس پیار میں اضافہ ہوتاجاتا ہے اور وہ اِس سے لطف اندوز ہونے کے لئے اُن تمام ذرائع اور طریقوں کو اپناتا ہے جو قرآن.واحادیث، فقہ اور آج کے دور میں فقہُ المسیح ، فقہ احمدیہ اور […]
مزید پڑھیں52 علامات 52 تقاریر بابت پییشگوئی مصلح موعودؓ
یوم مصلح موعود کے موقع پر 52 تقاریر
جو حضرت مصلح موعودؓ کی سیرت، سوانح و کارناموں کے علاوہ پیشگوئی مصلح موعود کی مختلف علامات پر مشتمل ہیں ، خاکسار نے حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ایک ارشاد کو مدنظر رکھ کر لکھیں۔ حضور ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
”یہ (پیشگوئی مصلح موعود کی) علامتیں ہیں جن میں سے ہر ایک علامت جو ہے ایک علیحدہ تقریر کا موضوع بن سکتا ہے“
(خطبہ جمعہ 18؍فروری 2018ء)
مزید پڑھیں’’مشاہدات‘‘ کی وجہ تسمیہ
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا بھر میں انسانوں کو پیدا کر کے اُن کو الگ الگ صلاحیتوں ، استعدادوں اور قویٰ سے نوازا ہے ۔ اگر ایک ہی قسم کی صلاحیت کئی انسانوں کو عطا فرمائی ہے تو اُس کے استعمال کے رنگ ہر انسان […]
مزید پڑھیںرَبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ
رَبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ(بنی اسرائیل : 81)آج 2024ء کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کواللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی دی گئی توفیق کے ساتھ خاکسار کو ذاتی طور پر اپنی ویب سائٹ لانچ کرنے کی توفیق مل رہی ہے ۔ الحمدللہ ربّ العالمینآپ اس ویب سائٹ پر خاکسار کی جملہ کتب ، پمفلٹس […]
مزید پڑھیںماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات کی روشنی میں)
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو وہ کسی اور وقت رمضان کے روزوں کی گنتی کو پورا کرے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرا ارادہ ہے کہ اس طرح مَیں اپنے بندوں کے لئے سہولت کے سامان پیدا کروں۔ مومن وہی ہوتا ہے جو اپنے ارادہ اور خواہش کو چھوڑ دیتا ہے اور خدا کے ارادہ کو قبول کرتا ہے۔ پس مومن کی علامت ہے کہ وہ سفر میں اور بیماری میں اپنی شدید خواہش کے باوجود اپنی اس تڑپ کے باوجود کہ کاش میں بیمار نہ ہوتا یا سفر میں نہ ہوتا روزہ نہیں رکھتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نیکی اس بات میں نہیں کہ میں بھوکا رہوں بلکہ نیکی یہ ہے کہ میں اپنے ارادہ کو خداتعالیٰ کے ارادہ کے لئے چھوڑ دوں ۔‘‘
( خطبہ جمعہ 24؍نومبر1967ء)
ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 4)
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’آخری دنوں کے متعلق بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ اس عشرہ میں مسلمان کو اس رات کی تلاش کرنی چاہیےتقدیر کی جس رات میں دعائیں قبول ہوں اور اسلام کے حق میں دنیا کی تقدیریں بدل دی جائے۔“
(خطبات ناصر جلد اول صفحہ 1006)
ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں نے تمہارے لئے ہدایت کے سامان بھی مہیا فرمائے ہیں اور پھر تم ماہ رمضان میں قبولیت دعا کے نمونے بھی دیکھتے ہو لیکن اگر تم مستقل طور پر میری اطاعت کو اختیار نہیں کرو گے تو میرے فضل بھی تم پر مستقل طور پر نازل نہیں ہوں گے اور نہ ہی تمہارا انجام بخیر ہو گا۔ انجام بخیر اسی کا ہوتا ہے جو اپنی زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جؤا اپنی گردن پررکھے۔‘‘
(خطبات ناصر جلد اول صفحہ61)
ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’ ماہ رمضان کا دوہرا تعلق قرآن کریم سے ہے۔ اِس لئے کہ قرآن کریم میں اس کے احکام ہیں ۔ ماہِ رمضان کی عبادات صَوم کی جو عبادات ہیں اس کے احکام جو ہیں وہ قرآن کریم میں نازل ہوئے اور دوسرے یہ کہ قرآن کریم ماہ رمضان میں نازل ہوا۔حدیث میں آتا ہے کہ ہر رمضان میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےجتنا قرآن نازل ہوتا تھا اس کا دور کیا کرتے تھے۔ تو ماہِ رمضان کا ایک گہرا تعلق اور دوہرا تعلق قرآن عظیم سے ہے۔‘‘
( خطبات ناصر جلد 8صفحہ 300)
ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ۔اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ہم نے تم پر روزے فرض کئے تو یہ حکم بھی دیا کہ سارے رمضان کے روزے رکھو تا کہ تم اس کی گنتی کو پورا کرو۔ اگر صرف یہ حکم ہوتا کہ روزے رکھو تو کوئی بیس دن کے روزے رکھتا۔ کوئی دس دن کے، کوئی رمضان کے مہینے میں رکھتا کوئی دوسرے مہینوں میں۔ پس ہم نے رمضان میں روزے رکھنے کا اس لئے حکم دیا تاکہ اُمّتِ مسلمہ ساری کی ساری اس سارے مہینے میں روزے رکھے اور ان اجتماعی برکات سے فائدہ اٹھائے جو اجتماعی عبادات سے تعلق رکھتی ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ24دسمبر1965ء)
ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)
شوال کے روزے کب رکھنے چاہئیں، اس بابت جماعت کو تاکیداً مخاطب کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
’’جن لوگوں کو علم نہ ہو وہ سن لیں اور جوغفلت میں ہو وہ بیدار ہوجائیں کہ سوائے ان کے جو بیمار اورکمزور ہونے کی وجہ سے معذور ہیں چھ روزے رکھیں، اگر مسلسل نہ رکھ سکیں تو وقفہ ڈال کر بھی رکھ سکتے ہیں ‘‘
(خطبات محمود جلد 1 صفحہ71)
ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
”ان ایام میں ہم پر بعض ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں یعنی پَو پھٹنے سے لے کر تمام وہ عاقل بالغ جو بیمار نہ ہوں، بچے کمزور اور بوڑھے نہ ہوں یا پھر حائضہ ، حاملہ یا دودھ پلانے والی عورتیں جو گو بیمار نہ ہوں لیکن روزہ کو برداشت نہ کر سکتی ہوں عام طور پر اکثر عورتوں کو حمل یا دودھ پلانے کی حالت میں غیر معمولی تکلیف کا امکان ہوتا ہے یا پھر مسافر کے سوا باقی سب کے لئے غروب آفتاب تک روزہ رکھنا فرض ہے۔‘‘
(فرموداتِ مصلح موعود۔ دربارہ فقہی مسائل صفحہ160-161)
ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
’’لیلۃ القدر آتی تو ہر سال ہےمگر ہر شخص کو وہ رات میسر تو نہیں آ جاتی۔جو لوگ سچے تقویٰ اور سچی نیکی سے خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں انہیں خاص توجہ اور خاص خشوع و خضوع کی حالت میں وہ میسر آتی ہے۔ یعنی گو اس کی عام برکات تو عام مسلمانوں کو ہر سال ہی مل جاتی ہیں لیکن اس کا کامل ظہور جبکہ انسان کو یہ معلوم بھی ہو جاتا ہے کہ آج لیلۃ القدر ہے، خاص خاص آدمیوں کو اور کبھی کبھی ہی نصیب ہوتا ہے ۔ یہ تجربہ درمیانہ درجہ کے مومنوں کو اپنی عمر میں کبھی ایک دفعہ یا دو دفعہ نصیب ہوتا ہے۔ پس اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں لیلۃ القدر مل جائے اسے سمجھنا چاہیے کہ اس کی ساری عمر کامیاب ہوگئی اور عمر کا اندازہ تراسی سال لگا کر بتایا ہے کہ ایسے شخص کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ رات اس کی باقی عمر سے افضل ہے اور اسی رات کی خاطر اس کی زندگی گزری ہے اور یہ رات اس کی زندگی کا نچوڑ ہے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد 13صفحہ 491)
ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
’’اسی طرح افطاری میں تنوع اور سحری میں تکلفات بھی نہیں ہونے چاہئیں اور یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ سارا دن بھوکے رہے ہیں اب پُرخوری کرلیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام ؓ افطاری کے لئے کوئی تکلفات نہ کرتے تھے ۔ کوئی کھجور سے، کوئی نمک سے ، بعض پانی سے اور بعض روٹی سے افطار کر لیتے تھے۔ ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اس طریق کو پھر جاری کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے نمونہ کو زندہ کریں۔ ‘‘
(تفسیر کبیر ۔ سورۃ البقرہ زیر آیت 186 )
ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
’’رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص برکات اور خاص رحمتیں لے کر آتا ہے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کے انعام اور احسان کے دروازے ہر وقت ہی کھلے رہتے ہیں اور انسان جب چاہے ان سے حصہ لے سکتا ہے صرف مانگنے کی دیر ہوتی ہے ورنہ اس کی طرف سے دینے میں دیر نہیں لگتی کیونکہ خداتعالیٰ اپنے بندہ کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ ہاں بندہ خداتعالیٰ کو چھوڑ کر بعض دفعہ دوسروں کے دروازہ پر چلا جاتا ہے… سو اس رحیم و کریم ہستی سے تعلق پیدا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ہر گھڑی رمضان کی گھڑی ہوسکتی ہے اور ہر لمحہ قبولیت دعا کا لمحہ بن سکتا ہے۔ اگر دیر ہوتی ہے تو بندہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی اس کے احسانات میں سے ہی ہے کہ اُس نے رمضان کا ایک مہینہ مقرر کر دیا تاکہ وہ لوگ جو خود نہیں اٹھ سکتے ان کو ایک نظام کے ماتحت اٹھنے کی عادت ہو جائے اور ان کی غفلتیں اُن کی ہلاکت کا موجب نہ ہوں۔‘‘
)تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 382-383)
