حضرت المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’غَزْوَهِ یا سَرِیہ سے بعض لوگ غلطی سے جنگ مراد لے لیتے ہیں لیکن یہ خیال لاعلمی کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔غزوہ سے مراد محض ایسی مہم ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس شریک ہوئے۔ خواہ لڑائی ہو، چور ڈاکو کا تعاقب ہو یا دیکھ بھال کے لئے کوئی پارٹی باہر جائے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح سریّہ سے مراد بھی مہمات ہی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ سریّہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شامل نہیں ہوئے۔اس کے علاوہ تبلیغی سفر بھی غزوہ اور سریّہ میں شمار ہوتے ہیں اور کسی صحابی کی انفرادی مہم بھی سریّہ ہی کہلاتی ہے۔ چنانچہ اُس دَور میں کل پچاس غزوات وسرایا ہوئے جن میں سے جنگ کہلانے کے مستحق صرف تین ہیں: جنگِ اُحد، جنگِ بدر اور جنگِ احزاب‘‘
(مذہب کے نام پر خون صفحہ47)
مزید پڑھیں