حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
” خدا تعالیٰ نے جو کچھ زمین میں ہے سب پیدا کرکے اور آسمان کو بھی سات طبقے بنا کر غرض اس عالَم کی پیدائش سے بکلّی فراغت پاکر پھر چاہا کہ آدم کو پیدا کرے۔ پس اُس نے اُس کو روزِ ششم یعنی جمعہ کے آخری حصّہ میں پیدا کیا کیونکہ جو چیزیں از روئے نصِّ قرآنی چھٹے دن پیدا ہوئی تھیں۔ آدم اُن سب کے بعد میں پیدا کیا گیا اور اس پر دلیل یہ ہے کہ سورۃ حٰمّ السجدہ جزو چوبیس میں اس بات کی تصریح ہے کہ خدا نے جمعرات اور جمعہ کے دن سات آسمان بنائے اور ہر ایک آسمان کے ساکن کو جو اس آسمان میں رہتا تھا اس آسمان کے متعلق جو امر تھا وہ اس کو سمجھا دیا اور ورلے آسمان کو ستاروں کی قندیلیوں سے سجایا اور نیز اُن ستاروں کو اس لئے پیدا کیا کہ بہت سے امورحفاظت دنیا کے ان پر موقوف تھے۔ یہ اندازے اُس خدا کے باندھے ہوئے ہیں جو زبردست اور دانا ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ از روحانی خزائن جلد17 صفحہ 277۔278 حاشیہ )
مزید پڑھیں