حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ہماری جماعت کو ایسا ہونا چاہیے کہ نِری لفاظی پر نہ رہے بلکہ بیعت کے سچے منشا کو پورا کرنے والی ہو۔ اندرونی تبدیلی کرنی چاہئے ۔ صرف مسائل سے تم خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے ۔ اگر اندرونی تبدیلی نہیں تو تم میں اور تمہارے غیر میں کچھ فرق نہیں۔ اگر تم میں مکر، فریب ،کسل اور سستی پائی جائے تو تم دوسروں سے پہلے ہلاک کئے جاؤ گے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ اپنے بوجھ کو اُٹھائے اور اپنے وعدے کو پورا کرے۔ عمر کا اعتبار نہیں۔ دیکھو! مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہو گئے۔ ہر جمعہ میں ہم کوئی نہ کوئی جنازہ پڑھتے ہیں، جو کچھ کرنا ہے اب کر لو جب موت کا وقت آتا ہے تو پھر تاخیر نہیں ہوتی۔ جو شخص قبل از وقت نیکی کرتا ہے امید ہے کہ وہ پاک ہو جائے۔ اپنے نفس کی تبدیلی کے واسطے سعی کرو۔ نماز میں دعائیں مانگو۔ صدقات خیرات سے اور دوسرے ہر طرح کے حیلہ سے وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا ( العنکبوت:70) میں شامل ہو جاؤ۔ جس طرح بیمار طبیب کے پاس جاتا ، دوائی کھاتا مسہل لیتا ، خون نکلواتا ، ٹکور کرواتا اور شفا حاصل کرنے کے واسطے ہر طرح کی تدبیر کرتا ہے۔ اِسی طرح اپنی روحانی بیماریوں کو دُور کرنے کے واسطے ہر طرح کی کوشش کرو۔ صرف زبان سے نہیں بلکہ مجاہدہ کے جس قدر طریق خدا تعالیٰ نے فرمائے ہیں وہ سب بجا لاؤ۔ صدقہ خیرات کرو جنگلوں میں جا کر دعائیں کرو۔ سفرکی ضرورت ہو تو وہ بھی کرو ۔ بعض آدمی پیسے لے کر بچوں کو دیتے پھرتے ہیں کہ شاید اِسی طرح کشوف باطن ہو جائے ۔ جب باطن پر قفل ہو جائے تو پھر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ حیلے کرنے والے کو پسند کرتا ہے ۔ جب انسان تمام حیلوں کو بجا لاتا ہے تو کوئی نہ کوئی نشانہ بھی ہو جاتا ہے ۔ ‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ189-188)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف میں آیا ہے وَالصُّلۡحُ خَیۡرٌ ( النساء: 129) اس لئے اگر آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا ہو بھی جائے تو صلح کر لینی چاہیے کیونکہ اس میں خیر اور برکت ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ غیر مذاہب کے ساتھ بھی یہ بات رکھی جائے بلکہ اُن کے ساتھ سخت مذہبی عداوت رکھنا چا ہئے ۔ جب تک مذہب کی غیرت نہ ہو انسان کا مذہب ٹھیک نہیں ہوتا۔ اب یہ جو ہندو عیسائی ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتے ہیں تو کیا ہم اُن کے ساتھ صلح رکھ سکتے ہیں بلکہ ان کی محفلوں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ دوستی کرنا اور ان کے گھروں میں جانا تو معصیت میں داخل ہے۔ ہاں! آپس میں جو ایک فرقہ میں ہوں تو لڑائی جھگڑا کی زیادہ تر بنیاد بدظنی ہوتی ہے۔
حدیث میں ہے کہ دوزخ میں دو تہائی آدمی بدظنّی کی وجہ سے داخل ہوں گے۔ خدا تعالٰی قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قیامت کے دن میں لوگوں سے پوچھوں گا کہ اگر تم مجھ پر بد ظنّی نہ کرتے تو یہ کیوں ہوتا ۔ حقیقت میں اگر لوگ خدا تعالیٰ پر بدظنّی نہ کرتے۔ تو اس کے احکام پر کیوں نہ چلتے۔ انہوں نے خدا تعالیٰ پر بدظنّی کی اور کفر اختیار کیا اور بعض تو خدا تعالیٰ کے وجود تک کے منکر ہو گئے۔ تمام فسادوں اور لڑائیوں کی وجہ یہی بدظنّی ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ446)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ( الرعد:29) اس کے عام معنی تو یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے قلوب اطمینان پاتے ہیں۔ لیکن اس کی حقیقت اور فلاسفی یہ ہے کہ جب انسان سچے اخلاص اور پوری وفاداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور ہر وقت اپنے آپ کو اس کے سامنے یقین کرتا ہے ۔ اِس سے اُس کے دل پر ایک خوف عظمتِ.الٰہی کا پیدا ہوتا ہے وہ خوف اس کو مکروہات اور منہیات سے بچاتا ہے اور انسان تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرتا ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالٰی کے ملائکہ اُس پر نازل ہوتے ہیں اور وہ اُس کو بشارتیں دیتے ہیں اور الہام کا دروازہ اُس پر کھولا جاتا ہے۔ اُس وقت وہ اللہ تعالٰی کو گویا دیکھ لیتا ہے اور اس کی وراءُ الوراء طاقتوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔ پھر اُس کے دل پر کوئی ہمّ و غم نہیں آسکتا اور طبیعت ہمیشہ ایک نشاط اور خوشی میں رہتی ہے۔ اسی لئے دوسرے مقام پر آیا ہے لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ
( الاحقاف:14) اگر کوئی ہمّ و غم واقع بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے الہام سے اس کے لئے خارجی اسباب اُن کے دُور کرنے کے پیدا کر دیتا ہے۔ یا خارق عادت صبر اُن کو عطا کرتا ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ2-1)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ سب دوستوں کے واسطے ضروری ہے کہ ہماری کتب کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھ لیا کریں کیونکہ علم ایک طاقت ہے اور طاقت سے شجاعت پیدا ہوتی ہے ۔ جس کو علم نہیں ہوتا مخالف کے سوال کے آگے حیران ہوتا ہے ۔ ‘‘
(ملفوظات جلد8صفحہ8)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور قرآن شریف خاتم الکتب ۔ اب کوئی اور کلمہ یا کوئی اور نماز نہیں ہو سکتی ۔ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا کر کے دکھایا اور جو کچھ قرآن شریف میں ہے اُ س کو چھوڑ کر نجات نہیں مِل سکتی ۔ جو اُس کو چھوڑے گا وہ جہنم میں جاوے گا ۔ یہ یمارا مذہب اور عقیدہ ہے ۔ ‘‘
( ملفوظات جلد8صفحہ 252)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ مخفی ہے مگر وہ اپنی قدرتوں سے پہچانا جاتا ہے ۔دُعا کے ذریعہ سے اُس کی ہستی کا پتہ لگتا ہے ۔ کوئی بادشاہ یا شہنشاہ کہلائے ہر شخص پر ضرور ایسے مشکلات پڑتے ہیں جن میں انسان بالکل عاجز رہ جاتا ہے اور نہیں جانتا کہ اب کیا کرنا چاہیے ۔ اُس وقت دعا کے ذریعہ سے مشکلات حل ہو سکتے ہیں ۔‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ 35)

مزید پڑھیں

اِرْکَبْ مَعَنَا (القرآن)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلی درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں ۔ یعنی وہی نبیوں کا سردار ۔ رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفےٰ واحمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی تھی ۔‘‘
( سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12صفحہ 82)

مزید پڑھیں

”مساجد تو دراصل بیتُ المساکین ہوتی ہیں“ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دل کے پاس تلاش کرو۔ اسی لیے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔ اسی طرح چاہیئے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے پاس جو آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے۔ بلکہ سوال یہ ہوگا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔ اسی طرح پیغمبر خدا نے فرمایا ہے! اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہ خدا تعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا۔ اگر تم کوئی برا کام کروگی تو خدا تعالیٰ تم سے اس واسطے درگزر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔ پس چاہیئے کہ تم ہر وقت اپنا کام دیکھ کر کیا کرو۔‘‘
( ملفوظات جلد سوم صفحہ370)

مزید پڑھیں

نجات حقیقی کا اصل سرچشمہ، خدائے عزّوجل سے ذاتی محبت

حضرت مسیح موعود موعود علیہ لسلام ا فرماتے ہیں :
’’ تُم اس خدا کے پہچاننے کے لئے بہت کوشش کرو جس کا پانا عین نجات اور جس کا ملنا عین رستگاری ہے۔ وہ خدا اسی پر ظاہر ہوتا ہے جو دل کی سچائی اور محبت سے اس کو ڈھونڈتا ہے۔ وہ اسی پر تجلی فرماتا ہے جو اسی کا ہو جاتا ہے۔ وہ دل جو پاک ہیں وہ اس کا تخت گاہ ہیں اور وہ زبانیں جو جھوٹ اور گالی اور یاوہ گوئی سے منزّہ ہیں۔ وہ اس کی وحی کی جگہ ہیں اور ہر ایک جو اس کی رضا میں فنا ہوتا ہے اس کی اعجازی قدرت کا مظہرہو جاتا ہے۔‘‘
(کشف الغطاء، روحانی خزائن جلد14صفحہ188)

مزید پڑھیں

اَنْتَ اَقْوٰی اَمِ اللّٰہ ؟

حضرت مسیح موعود موعود علیہ لسلام ا فرماتے ہیں :
’’دیکھو! ہم بھی رخصتوں پر عمل کرتے ہیں۔ نمازوں کو جمع کرتے ہوئے کوئی دو ماہ سے زیادہ ہوگئے ہیں بسبب بیماری کے اور تفسیر سورۃ فاتحہ کے لکھنے میں بہت مصروفیت کے سبب ایسا ہو رہا ہے اور اِن نمازوں کے جمع کرنے میں تُجْمَعُ لَہُ الصَّلٰوۃُ کی حدیث بھی پوری ہو رہی ہے کہ مسیح موعودؑ کی خاطر نمازیں جمع کی جائیں گی۔ اِس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود نماز کے وقت پیش امام نہ ہو گا بلکہ کوئی اور ہوگا اور وہ پیش امام مسیح کی خاطر نمازیں جمع کرائے گا۔ سو اب ایسا ہی ہوتا ہے۔ جس دن ہم بیماری کی وجہ سے بالکل نہیں آ سکتے اُس دن نمازیں جمع نہیں ہوتیں اور اس حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار کے طریق سے یہ فرمایا ہے کہ اُس کی خاطر ایسا ہوگا… خداتعالیٰ نے ایسے ہی اسباب پیدا کر دیئے کہ اتنے عرصہ سے نمازیں جمع ہو رہی ہیں، ورنہ ایک دو دن کے لیے یہ بات ہوتی تو کوئی نشان نہ ہوتا۔ ہم حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ لفظ اور حرف حرف کی تعظیم کرتے ہیں ‘‘۔
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 446 ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں