حقیقی مؤمن کی خصوصیات (حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر3)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔‘‘ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد 13صفحہ 293۔ حاشیہ)
ایک احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اُسے ان الفاظ کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے ہیں، ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے۔ ان پر غور کرنا چاہئے۔ ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جب ایک احمدی یہ کر رہا ہو گا تو تبھی وہ اُسے بیعت کا حق ادا کرنے والا بناتا ہے۔ ورنہ تو صرف ایک دعویٰ ہے کہ ہم احمدی ہیں۔ وہ سچائی اور ایمان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لانا چاہتے ہیں یا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے، جس سے دلوں میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، جیسا کہ آپ کے اس فقرے سے ظاہر ہے کہ ’’ سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے‘‘ یعنی یہ سچائی اور ایمان اور تقویٰ کا زمانہ کسی وقت میں تھا جو اَب مفقود ہو گیا ہے اور اس کو پھر لانا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کام.ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 22؍ اپریل 2011ء)

مزید پڑھیں

حقیقی مؤمن کی خصوصیات (حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ایک مؤمن کے لئے سال اور دن اس صورت میں مبارک ہوتے ہیں جب وہ اس کی توبہ کی قبولیت کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی روحانی ترقی کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی مغفرت کا باعث بن رہے ہو… نئے سال کے پہلے دن کو ہی اس طرح دعاؤں کے ساتھ سجاؤکہ سارا سال ہی قبولیت دعا کے نظارے نظر آتے چلے جائیں…حقیقی مؤمن وہی ہے جو تقوی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اعمال بجا لانے کی کوشش کرے۔ اس دعا کے ساتھ اپنے ہردن اورہرسال میں داخل ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ تقویٰ پر قائم رکھے اور دین و دنیا کی حسنات سے نوازتا رہے ۔‘‘
(خطبہ جمعہ 1؍جنوری 2010ء)

مزید پڑھیں

حقیقی مؤمن کی خصوصیات (حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر1)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
اگر ہماری مسجدیں بنیں تو ایسی نمازیں ادا کرنے کے لیے مسجدیں بنیں۔ ہم مسجدیں بنانے کی طرف توجہ دیں تو اس معراج کو حاصل کرنے کے لیے۔ یہ ہماری معراج ہونی چاہیے۔ یہی وہ ذریعہ ہے جو خدا تعالیٰ تک لے جاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے۔ پس مایوس نہیں ہونا چاہیے کہ یہ مقام کس طرح ملے۔ مسلسل کوشش سے یہ مقام اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔“
(خطبہ جمعہ 25؍ اکتوبر 2019ء)

مزید پڑھیں

ایمان کے دو حصّے، ایک صبر اور دوسرا شکر ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر 22)

حضرت اسامہ بن زیدؓ نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس سے کوئی نیکی کی گئی اور اس نے اس کے کرنے والے سے کہا جَزَاکَ اللّٰہُ۔ جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین جزا دے تو اس نے تعریف کا حق ادا کر دیا۔
(جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ باب ماجاءفی الثناء بالمعروف حدیث2035)

مزید پڑھیں

ایمان، احادیث کی روشنی میں

حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان دل کی معرفت اور زبان کے اقرار اور اسلام کے ارکان پر عمل کا نام.ہے۔
(حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 167)

مزید پڑھیں

مؤمِن کا دل

سورۃ البقرۃ آیت 267 کی تفسیر میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
” اس آیت میں تمام درختوں میں سے نخیل واعناب کا ذکر بالخصوص اس لیے کیا ہے کہ یہ بہت اعلیٰ قسم کے درخت ہیں۔ رسول کریمؐ نے مؤمن کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دی ہے اِس لئے کہ اِس میں چند خاصیّتیں ہیں۔ اوّل تو یہ کہ اِس کے پتّے ہوا سے نہیں جھڑتے۔ مؤمن کو بھی ایسا ہی ہونا چاہئے کہ وہ قِسم قِسم کی مصیبتوں میں گھبرا نہ اُٹھے۔ “
(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 425)

مزید پڑھیں

مؤمنین کا بُلند مقام و مرتبہ اَور فرائض و ذمّہ داریاں(حضرت مسیح موعود ؑ کے ارشادات کے تناظر میں)(تقریرنمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
’’ ںمؤمن ںکی ںجو ںتقسیم ںقرآ ں ن ںشریف میں ںکی ںگئی ںہے۔ اس ںکے تین ںہی ںدرجے اللہ ںتعالیٰ ںنے ںرکھے ں ں ہی۔ ظالم۔ ں ں ص دد
قت
ُ
م
– ںسابق ںبالخیرات ں۔ یہ ںان کے ںمدار ں ج ں ہی۔ ںورنہ ں ںاسلا ں مں
کے ںاندر ںیہ ںداخل ں ں ہی۔ ںظالم ںوہں ںہوتا ں ں ہے ںکہ ںابھی ںاس ںمیں ںبہتں ںغلطیاں ںاور ںکمزوریاں ں ں ہی ںاور ں ص دد وہں
قت
ُ
م
ںہوتا ںہے ںکہ ںنفس ںاور ںشیطان ںسے ںاس ںکی ںجنگ ںہوتی ںہے۔ ںمگر ں ں کبھی ںیہ
غالب ںآجاتا ںہے ںاور ں ں کبھی ںمغلوب ںہوتا ںہے۔ ںکچھ ںغلطیا ں ںبھی ںہوتی ں ں ہی ںاور ںصلاحیت ںبھی ںاور ںسابق ںبالخیرات ںوہں ںہوتا ںہے ں۔ ںجو ںان ںدونو ں ںدرجوں ںسے ںنکل ںکر ںمستقل ںطور ں ں پرں
نیکیاں کرنے میںں سبقت لے جاوے اور بالکل صلاحیت ہیں ہو۔ں نفس اورں شیطان کو مغلوب کر چکاں ہو۔ قرآ ں نشریفں ان سب کو مسلمان ہی کہتا ں ہے۔‘ں‘ ں
)ملفوظات جلد 4 صفحہ 125 (ں ں

مزید پڑھیں

مؤمنین کا بُلند مقام و مرتبہ اَور فرائض و ذمّہ داریاں(حضرت مسیح موعود ؑ کے ارشادات کے تناظر میں)(تقریرنمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ”جو شخص سچے جوش اور پورے صدق اور اخلاص سے اللہ تعالیٰ ںکی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ یہ یقینی اور سچی بات ہے کہ جو خدا کے ہوتے ہی خدا ان کا ہوتا
ہے اور ہر ایک میدان میں ان کی نصرت اور مدد کرتا ہے بلکہ ان پر اپنے اس قدر انعام و اکرام نازل کرتا ہے کہ لوگ ان کے کپڑوں سے بھی برکتیں حاصل کرتے ہی ں ۔
اللہ تعالی نے یہ جو دعا سکھائی ہے تو یہ اس واسطے ہے کہ تا تم لوگوں کی آنکھ کھلے کہ جو کام تم کرتے ہو دیکھ لو کہ اس کانتیجہ کیا ہوا ہے۔ اگر انسان ایک عمل کرتا ہے اور ا ں س
کا نتیجہ کچھ نہیں تو اس کو اپنے اعمال کی پڑتال کرنی چاہئ کہ وہ کیسا عمل ہے جس کانتیجہ کچھ نہیں۔ ں “
)ملفوظات جلد 10 ایڈیشن 1984 ۔ صفحہ 44 ں ( ں

مزید پڑھیں

مؤمنین کا بُلند مقام و مرتبہ اَور فرائض و ذمّہ داریاں(حضرت مسیح موعود ؑ کے ارشادات کے تناظر میں)(تقریرنمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ” ںخدا تعالیٰ ںفرماتا ہے کہ کا فروہ ں ہی ںجو حیات ںدنیا ںپر راضی ہو گئے اور اطمینان ںپاگئے ں ہی۔ خدا تعالیٰ ںکی طرف حرکت کی ںضرورت کو وہ بالکل محسوس ہی نہیں کرتے قِیْمُ
ُ
لاَّ ن
َّ
ف
ا
ً
ن
ْ
قِیَّامَّۃِ وَّز
ْ
ہُمْ يَّوْمَّ ال
َّ
ل )الکہف: ں 106 ( میں ںگناہ کا ذکر نہیں ںہے۔ اس کا باعث صرف ں ں یہ ںہے کہ ان لوگوں نے دنیا ںکی خواہشوں ںکو مقدّم رکھا ہوا تھا۔ ںایک ںںاَور جگہ اللہ تعا ں لیٰں
فرماتا ہے کہ وہ لوگ دنیا ںکا حظّ ںپاچکے۔ وہاں بھی ںگناہ کا ذکر نہیں ںبلکہ دنیا ںکی ںلذّات ںجن کو خدا تعالیٰ نے جائز ں کیاہے اُن میں ںمنہمک ہو جانے کا ذکر ہے۔ اس قسم کے لوگوں کا
مرتبہ ں عناللہ کچھ نہ ہوگا اور نہ ان کو ں عزّت کا مقام دیا جائے گا۔ شیریں زندگی اصل میں ایک شیطان ہے جو کہ انسان کو دھو کادیتی ہے۔ مؤمن تو خود مصیبت خریدتاں ہےں ۔
ورنہ اگر وہ مداہنہ برتے تو ہر طرح آرام سے رہ سکتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس طرح کرتے تو اس قدر جنگیں کیوں ہوتیں لیکن آپ نے دںین کو مقدّمں رکھا
اس لئے سب دشمن ہو گئے۔ ں “ ں
)ملفوظات جلد 7 ایڈیشن 1984 ۔ ں صفحہ 108 (

مزید پڑھیں

مؤمنین کا بُلند مقام و مرتبہ اَور فرائض و ذمّہ داریاں(حضرت مسیح موعود ؑ کے ارشادات کے تناظر میں)(تقریرنمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
’’ از کو چہرہ دیکھ کر شناخت کرلیتے ہی۔ ایمان لانے والے تین قسم کے آدمی ہوتے ہی۔ ایک تو
وہ لوگ بہت تعریف کے قابل ہی جو کسی راس وہ جو چہرہ دیکھ کر ایمان
ب ہ حاصل ہو جاتا ہے
لاتے ہی دوسرے وہ جو نشان دیکھ کر ایمان لاتے ہی۔ تیسرا ایک ارذل گروہ کہ جب ہر طرح سے گل اور کوئی وجہ ایمان بالغیب کی باقی نہیں رہتی ں تو
اُس وقت ایمان لاتے ہیجیسے فرعون کہ جب غرق ہونے لگا تو اُس وقت إقرار کیا ۔ ‘‘ ں ں
)ملفوظات جلد 6 صفحہ 217 ۔ 218 ں ( ں

مزید پڑھیں