ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر21)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں وہ دنیا کو ترک کرتے ہیں اس سے یہ مراد ہے کہ دنیاکو اپنا مقصود اور غایت نہیں ٹھہراتے اور دنیا ان کی خادم اور غلام ہو جاتی ہے۔ جو لوگ برخلاف اس کے دنیا کو اپنا اصل مقصود ٹھہراتے ہیں خواہ وہ دنیا کو کسی قدر بھی حاصل کر لیں آخر کار ذلیل ہوتے ہیں۔ ‘‘
(ذکر حبیب صفحہ 134)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر20)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ اپنے ایمان کا وزن کرو ۔ عمل ایمان کا زیور ہے ۔ اگر عملی حالت درست نہیں ہے تو حقیقت میں ایمان بھی نہیں ہے۔ مؤمن حسین ہوتا ہے۔ جیسے ایک خوبصورت کو معمولی اور ہلکا سا کڑا بھی پہنا دیا جاوے تو اسے زیادہ خوبصورت بنا دیتا ہے اسی طرح پر ایماندار کو عمل اَور بھی خوبصورت دکھاتا ہے اور اگر بد عمل ہے تو کچھ بھی نہیں ۔ حقیقی ایمان جب انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے تو اعمال میں ایک لذّت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی معرفت کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ نماز پڑھتا ہے جو نماز پڑھنے کا حق ہے ۔ گناہوں سے اسے بیزاری پیدا ہوتی ہے۔ نا پاک مجلسوں سے نفرت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی عظمت اور جلال کے ظاہر کرنے کے واسطے اپنے دل میں ایک جوش اور تڑپ دیکھتا ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 339آن لائن ایڈیشن 2022 ء)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر19)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ یہ بات مسلمانوں کو بھی سمجھنی چاہئے کہ اسلام کی فتح تو ضرور ہوگی لیکن زورِبازو سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے فضل اور اس کے احکامات پر عمل کرنے سے ہوگی،جیساکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ اگر تم گمراہی کو چھوڑ کرایمان لائے ہو تو گویا تم نے ایک مضبوط کڑے کو پکڑ لیاہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں لیکن صرف منہ سے کہہ دیناکہ ہم ایمان لے آئے کافی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کو مضبوط کڑے کی طرح پکڑو گے تو کامیاب ہوگے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق اس زمانہ میں مسیح موعود ہی وہ مضبوط کڑا ہے جو احکام ا لٰہی کی صحیح تشریح کرتاہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو جس طرح پیش کرتاہے وہ صحیح تعلیم ہے تو اگر اس پر عمل کروگے تو تم کامیاب ہو جاؤ گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 20؍جون2003ء)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر18)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ة والسلام فرماتے ہیں:
’’ مَیں نصیحت کرتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپس میں اختلاف نہ ہو۔ مَیں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔ اوّل خدا کی توحید اختیار کرو۔ دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔ وہ نمونہ دکھاؤ کہ غیروں کے لیے کرامت ہو۔ یہی دلیل تھی جو صحابہؓ میں پیدا ہوئی تھی كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ (اٰل عمران:104) یاد رکھو! تالیف ایک اعجاز ہے۔ یاد رکھو! جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ وہ مصیبت اور بلا میں ہے۔ اس کا انجام اچھا نہیں۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 457 ایڈیشن 2022ء)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر17)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ قرآن شریف نے جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مدّنظر رکھ کر حسب حال تعلیم دیتا ہے کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے۔ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ وَیَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَزۡکٰی لَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ (النور: 31) کہ تُوایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔ یہ وہ عمل ہے جس سے ان کے نفوس کا تزکیہ ہو گا ۔ فروج سے مراد صرف شرمگاہ ہی نہیں بلکہ ہر ایک سوراخ جس میں کان وغیرہ بھی شامل ہیں اور ان میں اس امر کی مخالفت کی گئی ہے کہ غیر محرم عورت کا راگ وغیرہ سنا جاوے۔ پھر یاد رکھو کہ ہزار در ہزار تجارب سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے آخر کار انسان کو ان سے رکنا ہی پڑتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 135)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر16)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’علم وحکمت ایسا خزانہ ہے جو تمام دولتوں سے اشرف ہے۔ دنیا کی تمام دولتوں کو فنا ہے لیکن علم وحکمت کو فنا نہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 161)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر15)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’تمہارے لیے ممکن نہیں ہے کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔ صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔ پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرےاور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو مَیں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔ پس جو شخص خدا کے لئے بعض حصّہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا۔ ‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد3صفحہ497)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر14)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ مَیں دیکھتا ہوں کہ بہت سے ہیں جن میں اپنے بھا ئیوں کے لئے کچھ بھی ہمدردی نہیں۔ اگر ایک بھائی بھوکا مرتا ہو تو دوسرا توجہ نہیں کرتا اور اس کی خبر گیر ی کے لئےتیار نہیں ہوتا۔ یا اگر وہ کسی اورقسم کی مشکلات میں ہے تو اتنانہیں کرتے کہ اس کے لئے اپنے مال کا کوئی حصّہ خرچ کریں۔ حدیث شریف میں ہمسایہ کی خبر گیری اور اس کے ساتھ ہمدردی کا حکم آیا ہے بلکہ یہاں تک بھی ہے کہ اگر تم گوشت پکا ؤ تو شوربہ زیادہ کرلو تا کہ اسے بھی دے سکو۔ اب کیا ہوتا ہے، اپنا ہی پیٹ پالتے ہیں لیکن اس کی کچھ پرواہ نہیں۔ یہ مت سمجھو کہ ہمسایہ سے اتنا ہی مطلب ہے جو گھرکے پاس رہتا ہو۔ بلکہ جو تمہارے بھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں خواہ وہ سو کوس کے فاصلے پر بھی ہوں۔‘‘
(ملفو ظات جلد 4صفحہ 215)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر13)

حضرت مرزا بشیر احمدؓ صاحب بیان کرتے ہیں کہ
”حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ دستور تھا کہ آپؐ اپنے تمام خطوط میں بسم اللّٰہ اور السلام علیکم لکھتے تھے اور خط کے نیچے دستخط کر کے تاریخ بھی ڈالتے تھے۔ مَیں نے کوئی خط آپؑ کا بغیر بسم اللّٰہ اور سلام اور تاریخ کے نہیں دیکھا اور آپ کو سلام لکھنے کی اتنی عادت تھی کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ آپؑ ایک دفعہ کسی ہندو مخالف کو خط لکھنے لگے تو خود بخود السلام علیکم لکھا گیا۔ جسے آپؑ نے کا ٹ دیا۔ لیکن پھر لکھنے لگے تو پھر سلام لکھا گیا چنانچہ آپؑ نے دوسری دفعہ اُسے پھر کاٹا لیکن جب آپ تیسری دفعہ لکھنے لگے تو پھر ہاتھ اسی طرح چل گیا۔ آخر آپؑ نے ایک اور کاغذ لے کر ٹھہر ٹھہر کر خط لکھا۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد اول صفحہ 270، روایت نمبر 299)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر12)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’تمہارا اصل شکر تقویٰ اور طہارت ہی ہے۔ اگر تم نے حقیقی سپاس گزاری یعنی طہارت اور تقویٰ کی راہیں اختیار کر لیں تو مَیں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو، کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 49۔ ایڈیشن2003ء)

مزید پڑھیں