”متاعِ آسمانی“ (صحابہ رضوان اللہ علیہم) (تقریر نمبر6)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’حقیقت میں کوئی قوم اور جماعت تیار نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس میں اپنے امام کی اطاعت اور اتباع کے لئے اس قسم کا جوش اور اخلاص اور وفا کا مادہ نہ ہو۔حضرت مسیحؑ کو جو مشکلات اور مصائب اٹھانے پڑے، ان کے عوارض اور اسباب میں سے جماعت کی کمزوری اور بیدلی بھی تھی ……اِس کے برخلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے وہ صدق و وفا کا نمونہ دکھایا جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ انہوں نے آپؐ کی خاطر ہر قسم کا دکھ اٹھانا سہل سمجھا۔ یہاں تک کہ عزیز وطن چھوڑ دیا۔ اپنے املاک واسباب اور احباب سے الگ ہو گئے اور بالآخر آپ کی خاطر جان تک دینے سے تأمل اور افسوس نہیں کیا۔ یہی صدق اور وفا تھی جس نے ان کو آخر کا ر بامرا د کیا۔ اِسی طرح مَیں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری جماعت کوبھی اس کی قدر اور مرتبے کے موافق ایک جوش بخشا ہے اور وہ وفا داری اور صدق کا نمونہ دکھاتے ہیں۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ نمبر223-224۔ ایڈیشن 2003ء)
