خلافت ایک خزانہ ہے۔ اِس سے فائدہ اُٹھائیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’ پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو یہی نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہوجائیں۔اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ ہماری ساری ترقیات کا دارومدار خلافت سے وابستگی میں پنہاں ہے ۔“
(الفضل انٹر نیشنل 23تا 30مئی 2003ءصفحہ اول)

مزید پڑھیں

’’ ستائیس کو خوشیاں منائیں گے ‘‘ (الہام حضرت مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لیے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک مَیں نہ جاؤں ۔ ‘‘
(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد20صفحہ305)

مزید پڑھیں

”ہم ایک بِھیڑ ہیں، جانوروں کا انبوہ ہیں “ ( مخالفینِ احمدیت کا اعتراف)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دشمنان احمدیت کو صد سالہ خلافت جوبلی کے تاریخی خطاب میں مخاطب ہو کر فرمایا تھا ۔
” اے دشمنان احمدیت! مَیں تمہیں دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر تم خلافت کے قیام میں نیک نیت ہو تو آؤ! اور مسیح محمدی کی غلامی قبول کرتے ہوئے اس کی خلافت کے جاری و دائمی نظام کا حصہ بن جاؤ ورنہ تم کوششیں کرتے کرتے مرجاؤ گے اور خلافت قائم نہ کرسکو گے ۔ تمہاری نسلیں بھی اگر اسی ڈگر پر چلتی رہیں تو وہ بھی کسی خلافت کو قائم نہیں کرسکیں گی ۔ قیامت تک تمہاری نسل در نسل یہ کوشش جاری رکھے تب تک کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ “
( خطاب 27 مئی 2008ء)

مزید پڑھیں

ہم یومِ خلافت کیوں مناتے ہیں؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو کہ انسان کو چاہئے کہ… اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ:12) پر عمل کرے۔ خداتعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی تحدیث کرنی چاہئے۔اس سے خدا تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے اور اُس کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے ایک جوش پیدا ہوتا ہے۔ تحدیث کے یہی معنی نہیں ہیں کہ انسان صرف زبان سے ذکر کرتارہے بلکہ جسم پر بھی اس کا اثر ہونا چاہئے۔ ‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ زیر سورۃ الضحیٰ آیت12 )

مزید پڑھیں

اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ (اطاعت اُولِی الۡاَمۡرِ)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ اگر حکومت اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے واضح حکم کے خلاف کوئی حکم دے تو پھر بہرحال اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کا حکم مقدّم ہے۔ لیکن اگر مذہبی معاملات میں دخل اندازی نہیں ہے تو پھر حُکّام، چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم اُن کی اطاعت ضروری ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ5دسمبر2014ء )

مزید پڑھیں

ماں کا نعم البدل کوئی نہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ سب سے زیادہ خدمت کی مثال اگر دنیا میں موجود ہے تو وہ ماں کی بچے کے لئے خدمت ہی ہے۔ اب یہاں رہنے والے، مغرب کی سوچ رکھنے والے، بلکہ ہمارے ملکوں میں بھی، برصغیر میں بھی، بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ماں باپ کی خدمت نہیں کرسکتے، ایک بوجھ سمجھتے ہیں اور یہ لکھتے ہیں کہ جماعت ایسے بوڑھوں کے مراکز کھولے جہاں یہ بوڑھے داخل کروا دئے جائیں کیونکہ ہم تو کام کرتے ہیں، بیوی بھی کام کرتی ہے، بچے اسکول چلے جاتے ہیں اور جب گھر آتے ہیں تو بوڑھے والدین کی وجہ سے ڈسٹرب (Disturb)ہوتے ہیں، اس لئے سنبھالنا مشکل ہے۔ کچھ خوف خدا کرنا چاہئے۔ قرآن توکہتاہے کہ ان کی عزت کرو، ان کا احترام کرو اور اس عمر میں اُن پررحم کے پرجھکا دو۔ جس طرح بچپن میں انہوں نے ہرمصیبت جھیل کر تمہیں اپنے پروں میں لپیٹے رکھا۔ تمہیں اگر کسی نے کوئی تکلیف پہنچانے کی کوشش کی تو مائیں شیرنی کی طرح جھپٹ پڑتی تھیں۔ اب ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے توکہتے ہو کہ ان کو جماعت سنبھالے۔ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے سنبھالتی ہے لیکن ایسے بوڑھوں کو جن کی اولاد نہ ہویاجن کے کوئی اور عزیز رشتے دار نہ ہوں۔ لیکن جن کے اپنے بچے سنبھالنے والے موجود ہوں تو بچوں کا فرض ہے کہ والدین کو سنبھالیں۔ تو ایسی سوچ رکھنے والوں کو اپنی طبیعتوں کو، اپنی سوچوں کو تبدیل کرنا چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 16؍جنوری2004ء)

مزید پڑھیں

تین سلام

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ اپنے گھروں کو اس انعام سے فائدہ اٹھانے والا بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری تربیت کے لئے ہمارے علمی اور روحانی اضافے کے لئے ہمیں دیا ہے تاکہ ہماری نسلیں احمدیت پر قائم رہنے والی ہوں۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے آپ کو ایم ٹی اے سے جوڑیں۔ اب خطبات کے علاوہ اور بھی بہت سے لائیو پروگرام آرہے ہیں جوجہاں دینی اور روحانی ترقی کا باعث ہیں وہاں علمی ترقی کا بھی باعث ہیں۔ جماعت اس پر لاکھوں ڈالر ہر سال خرچ کرتی ہے اس لئے کہ جماعت کے افراد کی تربیت ہو۔ اگر افراد جماعت اس سے بھر پور فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو اپنے آپ کو محروم کریں گے…ایم ٹی اے کی ایک اور برکت بھی ہے کہ یہ جماعت کو خلافت کی برکات سے جوڑنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ پس اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 2013 ء)

مزید پڑھیں

مضبوط ہونے کے لیے نرم ہونا ضروری ہے

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ اپنے تو درکنار، مَیں تو یہ کہتا ہوں کہ غیروں اور ہندوؤں کے ساتھ بھی ایسے اخلاق کا نمونہ دکھاؤ اور ان سے ہمدردی کرو اور لاابالی مزاج ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ پھر ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مَیں سیر کو جارہا تھا تو ایک پٹواری میرے ساتھ تھا وہ ذرا آگے تھا اور مَیں پیچھے۔ راستے میں ایک بُڑھیا 75-70سال کی ملی پہلے ان پٹواری صاحب کو اس نے خط پڑھنے کو کہا مگر اس نے اسے جھڑکیاں دے کر ہٹا دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرے دل پر چوٹ سی لگی۔ پھر اس بُڑھیا نے وہ خط مجھے دیا تو فرماتے ہیں کہ مَیں اس کو لے کرٹھہر گیا اور اس کو پڑھ کر اچھی طرح سمجھا دیا۔ اس پر پٹواری کو بڑی شرمندگی ہوئی کیونکہ ٹھہرنا تو پڑا اور ثواب سے بھی محروم رہا‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 83-82)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’دعا کی قبولیت کا بھی یہی راز ہے ۔ انسان جب تک اپنی خواہشات ،ارادوں اور علموں کو ترک کر کے خدا میں فنا نہ ہو جاوے اور خدا کی قدرت کاملہ اور قادر مطلق ہونے اور سننے اور قبول کرنے والا ہونے پر یقینِ کامل اور پورا وثوق نہ رکھتا ہو تب تک دعا بھی ایک بے حقیقت چیز ہے۔ فلسفیوں کو کیوں قبولیتِ دعا پر ایمان نہیں ہوتا ۔ اِس کی یہی وجہ ہے کہ اُن کو خدا کی توسیع قدرت اور باریک در باریک سامانوں کے پیدا کر دینے والا ہونے پر ایمان نہیں ہوتا……اور وہ خدا کی قدرت کو محدود جانتے ہیں اور اپنے تجارب اور علوم پر بھی بھروسہ کر بیٹھتے ہیں۔ اُن کو اپنے تجارب کے مقابلہ میں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ خدا بھی ہے اور وہ بھی کچھ کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بعض سخت مہلک امراض میں وہ لوگ یقینی اور قطعی حکم لگا دیتے ہیں کہ یہ شخص بچ نہیں سکتا یا اتنے عرصے میں مرجاوے گا۔ یا اس طرز سے مرے گا۔ مگر بیسیوں مثالیں ایسی خود ہماری چشم دید ہیں اور بعض کو ہم جانتے ہیں جن میں باوجود ان کے یقینی اور قطعی حکم لگا دینے کے خدا تعالیٰ نے اُن بیماروں کے واسطے ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ وہ آخرکار بچ گئے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض وہ بیمار جن کے حق میں یہ لوگ موت کا قطعی اور اٹل فتویٰ دے چکے تھے زندہ سلامت ہو گئے اور کسی دوسرے موقعہ پر ان کو مل کر شرمندہ کیا اور ان کے علم و دعویٰ کو بھی شرمندہ کیا ہے۔
حدیث میں آیا ہے مَا مَنْ دَآءٍ اِلَّا وَلَہٗ دَوَآءٌ ۔ ایک مشہور ڈاکٹر کا ہمیں قول یاد ہے وہ کہتا ہے کہ کوئی مرض بھی نا قابل علاج نہیں ہے بلکہ یہ ہماری سمجھ اور عقل و علم کا نقص ہے کہ ہمارے علم کی رسائی وہاں تک نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مرض کے واسطے بعض ایسے ایسے اسباب پیدا کئے ہوں جن سے وہ شخص جس کو ہم ناقابل علاج یقین خیال کرتے ہیں قابل علاج اور صحت یاب ہو کر تندرست ہو جاوے۔ پس قطعی حکم ہر گز نہ لگانا چاہیے بلکہ اگر رائے ظاہر بھی کرنی ہو تو یوں کہہ دو کہ ہمیں ایسا شک پڑتا ہے مگر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسے سامان پیدا کر دے کہ جن سے یہ روک اُٹھ جاوے اور بیماراچھا ہو جاوے ۔ دُعا ایک ایسا ہتھیار خدا تعالیٰ نے بنایا ہے کہ اَنہونے کام بھی جن کو انسان نا ممکن خیال کرتا ہے ہو جاتے ہیں کیونکہ خدا کے لیے کوئی بات بھی اَنہونی نہیں ۔ ‘‘
( ملفوظات جلد10صفحہ197-195)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”پاکیزگی سے یہ مراد ہے کہ انسان کو جو اُس کے جذباتِ نفسانیہ خدا تعالیٰ سے روح گرداں کر کے اپنی خواہشات میں محو کرنا چاہتے ہیں ان کا مغلوب نہ ہو اور کوشش کرے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق اس کی رفتار ہو۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی قول فعل خدا تعالیٰ کی رضامندی کے بغیر سرزد ہی نہ ہو۔ خدا تعالیٰ قدوس اور پاک ہے وہ اپنی صفات کے مطابق ہی انسان کو بھی چلانا چاہتا ہے ۔وہ رحیم ہے انسان سے بھی رحم چاہتا ہے ۔ وہ کریم ہے انسان سے بھی کرم جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی صفات خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں ظاہر ہیں۔ جسمانی طور سے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا مدت ہائے دراز سے چلی آتی ہے۔ ان کو اناج، پانی، لباس، روشنی وغیرہ تمام حوائجِ ضروریہ اور لوازم انسانیہ ہمیشہ سے بہم پہنچاتا چلا آیا ہے اور ہمیشہ ہی اس کے رحم اور کرم کی صفات اور اسمائے حسنہ کے تقاضے ساتھ ساتھ مخلوق کی دستگیری کرتے چلے آئے ہیں۔ پس غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کو اپنی صفات کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے۔“
( ملفوظات جلد10 صفحہ 437۔438 )

مزید پڑھیں