اپنے اندر بیماریوں کو ڈیلیٹ کرنے کا شعار بنائیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوسری شرطِ بیعت میں فرمایا ہے کہ
’’ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔ ‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ159 اشتہار ’’تکمیل تبلیغ‘‘، اشتہار نمبر51)

مزید پڑھیں

خلافت ایک خزانہ ہے۔ اِس سے فائدہ اُٹھائیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’ پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو یہی نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہوجائیں۔اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ ہماری ساری ترقیات کا دارومدار خلافت سے وابستگی میں پنہاں ہے ۔“
(الفضل انٹر نیشنل 23تا 30مئی 2003ءصفحہ اول)

مزید پڑھیں

’’ ستائیس کو خوشیاں منائیں گے ‘‘ (الہام حضرت مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لیے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک مَیں نہ جاؤں ۔ ‘‘
(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد20صفحہ305)

مزید پڑھیں

”ہم ایک بِھیڑ ہیں، جانوروں کا انبوہ ہیں “ ( مخالفینِ احمدیت کا اعتراف)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دشمنان احمدیت کو صد سالہ خلافت جوبلی کے تاریخی خطاب میں مخاطب ہو کر فرمایا تھا ۔
” اے دشمنان احمدیت! مَیں تمہیں دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر تم خلافت کے قیام میں نیک نیت ہو تو آؤ! اور مسیح محمدی کی غلامی قبول کرتے ہوئے اس کی خلافت کے جاری و دائمی نظام کا حصہ بن جاؤ ورنہ تم کوششیں کرتے کرتے مرجاؤ گے اور خلافت قائم نہ کرسکو گے ۔ تمہاری نسلیں بھی اگر اسی ڈگر پر چلتی رہیں تو وہ بھی کسی خلافت کو قائم نہیں کرسکیں گی ۔ قیامت تک تمہاری نسل در نسل یہ کوشش جاری رکھے تب تک کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ “
( خطاب 27 مئی 2008ء)

مزید پڑھیں

ہم یومِ خلافت کیوں مناتے ہیں؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو کہ انسان کو چاہئے کہ… اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ:12) پر عمل کرے۔ خداتعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی تحدیث کرنی چاہئے۔اس سے خدا تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے اور اُس کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے ایک جوش پیدا ہوتا ہے۔ تحدیث کے یہی معنی نہیں ہیں کہ انسان صرف زبان سے ذکر کرتارہے بلکہ جسم پر بھی اس کا اثر ہونا چاہئے۔ ‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ زیر سورۃ الضحیٰ آیت12 )

مزید پڑھیں

اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ (اطاعت اُولِی الۡاَمۡرِ)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ اگر حکومت اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے واضح حکم کے خلاف کوئی حکم دے تو پھر بہرحال اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کا حکم مقدّم ہے۔ لیکن اگر مذہبی معاملات میں دخل اندازی نہیں ہے تو پھر حُکّام، چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم اُن کی اطاعت ضروری ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ5دسمبر2014ء )

مزید پڑھیں

ماں کا نعم البدل کوئی نہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ سب سے زیادہ خدمت کی مثال اگر دنیا میں موجود ہے تو وہ ماں کی بچے کے لئے خدمت ہی ہے۔ اب یہاں رہنے والے، مغرب کی سوچ رکھنے والے، بلکہ ہمارے ملکوں میں بھی، برصغیر میں بھی، بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ماں باپ کی خدمت نہیں کرسکتے، ایک بوجھ سمجھتے ہیں اور یہ لکھتے ہیں کہ جماعت ایسے بوڑھوں کے مراکز کھولے جہاں یہ بوڑھے داخل کروا دئے جائیں کیونکہ ہم تو کام کرتے ہیں، بیوی بھی کام کرتی ہے، بچے اسکول چلے جاتے ہیں اور جب گھر آتے ہیں تو بوڑھے والدین کی وجہ سے ڈسٹرب (Disturb)ہوتے ہیں، اس لئے سنبھالنا مشکل ہے۔ کچھ خوف خدا کرنا چاہئے۔ قرآن توکہتاہے کہ ان کی عزت کرو، ان کا احترام کرو اور اس عمر میں اُن پررحم کے پرجھکا دو۔ جس طرح بچپن میں انہوں نے ہرمصیبت جھیل کر تمہیں اپنے پروں میں لپیٹے رکھا۔ تمہیں اگر کسی نے کوئی تکلیف پہنچانے کی کوشش کی تو مائیں شیرنی کی طرح جھپٹ پڑتی تھیں۔ اب ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے توکہتے ہو کہ ان کو جماعت سنبھالے۔ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے سنبھالتی ہے لیکن ایسے بوڑھوں کو جن کی اولاد نہ ہویاجن کے کوئی اور عزیز رشتے دار نہ ہوں۔ لیکن جن کے اپنے بچے سنبھالنے والے موجود ہوں تو بچوں کا فرض ہے کہ والدین کو سنبھالیں۔ تو ایسی سوچ رکھنے والوں کو اپنی طبیعتوں کو، اپنی سوچوں کو تبدیل کرنا چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 16؍جنوری2004ء)

مزید پڑھیں

تین سلام

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ اپنے گھروں کو اس انعام سے فائدہ اٹھانے والا بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری تربیت کے لئے ہمارے علمی اور روحانی اضافے کے لئے ہمیں دیا ہے تاکہ ہماری نسلیں احمدیت پر قائم رہنے والی ہوں۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے آپ کو ایم ٹی اے سے جوڑیں۔ اب خطبات کے علاوہ اور بھی بہت سے لائیو پروگرام آرہے ہیں جوجہاں دینی اور روحانی ترقی کا باعث ہیں وہاں علمی ترقی کا بھی باعث ہیں۔ جماعت اس پر لاکھوں ڈالر ہر سال خرچ کرتی ہے اس لئے کہ جماعت کے افراد کی تربیت ہو۔ اگر افراد جماعت اس سے بھر پور فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو اپنے آپ کو محروم کریں گے…ایم ٹی اے کی ایک اور برکت بھی ہے کہ یہ جماعت کو خلافت کی برکات سے جوڑنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ پس اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 2013 ء)

مزید پڑھیں