”متاعِ آسمانی“ (انعامات الٰہی  و شکر خداوندی) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یہ اللہ تعالیٰ کا کمال فضل ہے کہ اس نے کامل اور مکمل عقائد صحیحہ کی راہ ہم کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بدوں مشقت اور محنت کے دکھائی ہے۔وہ راہ جو آپ لوگوں کو اس زمانے میں دکھائی گئی ہے بہت سے عالم ابھی تک اس سے محروم ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کے اس فضل اور نعمت کا شکر کرو اور وہ شکر یہی ہے کہ سچے دل سے ان اعمال صالحہ کو بجا لاؤ جو عقائد صحیحہ کے بعد دوسرے حصہ میں آتے ہیں اور اپنی عملی حالت سے مدد لے کر دعا مانگوکہ وہ ان عقائد صحیحہ پر ثابت قدم رکھے اور اعمال صالحہ کی توفیق بخشے‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ95-94)

مزید پڑھیں

”10تقاریربابت”متاعِ آسمانی

”متاعِ آسمانی“ کے اسٹیج پر پہلا قدم اللہ تعالیٰ کے فضل سے” مشاہدات “کے پلیٹ فارم سے مختلف عناوین کے تحت 1200 سے زائد تقاریر تیار ہو کر نہ صرف ویب سائٹ www.mushahedat.com پر اپلوڈ ہوچکی ہیں بلکہ 25 تعلیمی و تربیتی مواضیع پر تقاریر کی 38 کتب بھی منظرِ عام پر آچکی ہیں اور […]

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (اللہ تعالیٰ) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اُس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اُس میں پائی ۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑوکہ وہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ مَیں کیا کروں اور کس طرح اِس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں ۔ کس دَف سے مَیں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔‘‘
(کشتی نوح،روحانی خزائن جلد19 صفحہ 22-21)

مزید پڑھیں

’’اچھے بھلے کو دیکھ کے دیوانہ کر دیا ‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین باتیں جس میں ہوں وہ ایمان کا مزہ پا لیتا ہے۔ اِن میں سے دو باتیں دیوانگی کے متعلق ہیں۔ اوّل اللہ اور اُس کے رسول تمام دوسری چیزوں سے بڑھ کر اُسے پیارے ہوں اور دوم یہ کہ جس انسان سے بھی محبت کرے صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے محبت کرے۔
(بخاری کتاب الایمان)

مزید پڑھیں

’’انسان کا سینہ بیتُ اللہ اور دل حجرِاسود ہے‘‘ (مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس گھر کو بتوں سے صاف کرو۔ فرمایا …… (البقرہ: 126) یعنی میرے گھر کو فرشتوں کے لئے پاک کرو۔انسان کا دل خدا کا گھر ہے یہ خدا کا گھر اس وقت کہلائے گا اور اس وقت فرشتوں کا طواف گاہ بنے گا جب یہ اوہام باطلہ وعقائد فاسدہ سے بالکل پاک وصاف ہو۔ جب تک انسان کا دل صاف نہ ہو اس کی عملی حالت درست نہیں ہو سکتی‘‘
(ملفوظات جلد10 صفحہ74-75 حاشیہ)

مزید پڑھیں

تصویر اَور فوٹو میں فرق اور اِن کا مشرکانہ استعمال (تقریر نمبر5)

ایک شخص نے حضرت مصلح موعودؓ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فوٹو کا ذکر کیا اور عرض کیا لوگ کہتے ہیں یہ بُت پرستی ہے؟ اس کے جواب میں آپؓ نے فرمایا کہ
’’کیا بُت پرستی؟ کیا کسی کی شکل دیکھنا بُت پرستی ہے ۔ رہا یہ امر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ایسا نہیں ہوا اس وقت تو کیمرہ ایجاد بھی نہیں ہوا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع کیا ہے وہ فوٹو نہیں بلکہ تصویر ہے۔ مصوّر انسانی جذبات کا اظہار تصویر میں دکھاتا ہے مگر فوٹو گرافر صرف شکل دکھاتا ہے۔ اس میں باطنی جذبات کا اظہار نہیں ہوتا۔ انبیاء کی تصویر اسی لیے ناجائز ہے کہ انبیاء کا کیریکٹر اپنے اندر گوناگوں خصوصیات رکھتا ہے اور ممکن ہی نہیں کوئی مصوّر ان کا نقشہ تصویر میں دکھا سکے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر نہیں بلکہ فوٹو ہے اور یہ محض شکل ہے۔ مصوّر کی غرض یہ ہوتی ہے کہ تصویر کے چہرے پر ایسے اثرات ڈالے جس سے اس انسان کے اخلاق پر روشنی پڑے اور انبیاء کے باطنی کمالات کا اظہار کوئی مصوّر نہیں کر سکتا۔ بالکل ممکن ہے ایک مصوّر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر کھینچے مگر آپ کے چہرے پر وحشت کا اثر ڈالے وہ تصویر تو ہو گی مگر لوگوں کے دلوں میں اس سے نفرت پیدا ہوگی۔ حدیث میں جو تصویر کا ذکر آ تا ہے اس سے مصوّر کی بنائی ہوئی تصویر ہی مراد ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فوٹو آپ کی صورت کا عکس ہے اورعکس کو تو وہابیوں نے بھی جائز تسلیم کیا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے شیشہ میں انسان اپنی شکل دیکھے اور اگر عکس نا جائز ہے تو پھر شیشہ دیکھنا بھی جائز نہیں ہونا چا ہئے۔ اسی طرح پانی میں بھی عکس آ جا تا ہے مگر اسے کوئی نا جائز نہیں کہتا۔ ان میں اور فوٹو میں فرق صرف یہ ہے کہ فوٹو تو انسان کی شکل محفوظ رکھتا ہے مگر شیشہ یا پانی کا عکس محفوظ نہیں رہتا۔‘‘
(الفضل 14 اپریل 1931 صفحہ6،5 ۔ ماخوذاز فرمودات مصلح موعودؓ دربارہ فقہی مسائل)

مزید پڑھیں

اسلامی اصطلاح ’’ فِیْٓ اَمَانِ اللّٰہِ‘‘کا استعمال

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف کی اصطلاح کے روسے خدا تعالیٰ رحیم اس حالت میں کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دعا اور تضرّع اور اعمالِ صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضییعِ اعمال سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔“
(تفسیر سورۃ الفاتحہ از حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ 83 – 85)

مزید پڑھیں

دعائیہ کلمہ ’’مَاشَاءَ اللّٰہ‘‘ کا استعمال باعثِ برکت ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ جس بات کو وہ چاہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جو کچھ وہ دیوے کوئی اس کو ردّ نہیں کر سکتا وہ اپنے دین کا حافظ ہے اور تمام ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کریں ۔‘‘
( روحانی خزائن جلد8نور الحق الحصۃ الاولیٰ صفحہ 24)

مزید پڑھیں

مقاماتِ حج ،شعائرُاللہ اور اسلامی اصطلاحات میں شامل

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ حج سے صرف اتنا ہی مطلب نہیں کہ ایک شخص گھر سے نکلے اور سمندر چیر کر چلا جاوے اور رسمی طور پر کچھ لفظ منہ سے بول کر ایک رسم ادا کرکے چلا آوے۔ اصل بات یہ ہے کہ حج ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہے جو کمال سلوک کا آخری مرحلہ ہے۔ سمجھنا چاہیے کہ انسان کا اپنے نفس سے انقطاع کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں کھویا جاوے اور تعشُّق باللہ اور محبتِ الٰہی ایسی پیدا ہوجاوے کہ اس کے مقابلہ میں نہ اُسے کسی سفر کی تکلیف ہو اور نہ جان ومال کی پرواہ ہو، نہ عزیزواقارب سے جدائی کا فکر ہو، جیسے عاشق اور محبّ اپنے محبوب پر جان قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے اسی طرح یہ بھی کرنے سے دریغ نہ کرے۔ اس کا نمونہ حج میں رکھا ہے۔ جیسے عاشق اپنے محبوب کے گرد طواف کرتا ہے اسی طرح حج میں بھی طواف رکھاہے۔‘‘
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 102۔ 103، ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

حج بیتُ اللہ اور عیدُ الاضحیٰ بطور شعائرُاللہ اور اسلامی اصطلاح

حضرت ابو ہریرہ ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حجاج کے حق میں بیان کی:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْحَآجِّ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهٗ الْحَآجُّ
)مستدرک حاکم جلد1صفحہ441(
اے اللہ! حاجیوں کو بھی بخش دے اور ان کو بھی جن کے لئے حاجیوں نے بخشش مانگی ہے۔

مزید پڑھیں