قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال (4 اور 5 ہندسوں کی وضاحت) (تقریر نمبر 4)

پَروں سے مراد اللہ کی صفات ہیں ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے لکھا ہے کہ :
”اب اِس رسول (حضرت محمدؐ) پر ایسے فرشتے نازل ہوں گے جو خداتعالیٰ کی کئی کئی صفات کے حامل ہوں گے۔ دو دو صفات کے، تین تین کے اور چار چار کے۔ مگر اِن پر ہی بس نہیں ۔ خداتعالیٰ چاہے گا تو قرآنی وحی لانے والے فرشتوں کے پَروں یعنی صفات الٰہیہ کو جس کے وہ ظاہر کرنے والے ہو گے، بڑھا دے گا۔“
( فٹ نوٹ زیر آیت 2 الفاطر)

مزید پڑھیں

قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال (3 کےہندسہ کا قرآن کریم میں ذکر) (تقریر نمبر 3)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے تین ظلمتوں کے متعلق لکھا ہے کہ :
” انسانی زندگی کا آغاز نفسِ واحدہ سے ہوا تھا ۔ پھر جب انسان ماں کے رِحم میں بطور جنین اپنی ترقی کی منازل طے کرنے لگا تو وہ جنین تین اندھیروں میں چھپا ہوا تھا ۔ پہلا اندھیرا ماں کے پیٹ کا اندھیرا ہے جس نے رِحم کو ڈھانکا ہوا ہے۔ دوسرا اندھیرا خود رِحم کا اندھیرا ہے۔ جس میں جنین پرورش پاتا ہے اور تیسرا اُس پلیسنٹا (Placenta) کااندھیرا ہے جو رِحمِ مادر کے اندر جنین کو سمیٹے ہوئے ہوتا ہے ۔ “
( تعارف سورۃ الزمر از ترجمۃ القرآن صفحہ 873)

مزید پڑھیں

قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال (2 کے ہندسہ کا لطیف اور دلچسپ ذکر) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
” نزولِ قرآن کے زمانہ میں تو عربوں کے نزدیک نَر اور مادہ کی صورت میں صرف کھجوروں کے جوڑے ہوا کرتے تھے اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ہر قسم کے پھلوں کے پَودوں کا جوڑا جوڑا بنایا ہے…آج کی سائنس نے اِس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے یہاں تک کہ مادہ کے اور ایٹمز کے بھی اور ذرّات کے بھی جوڑے جوڑے ہیں۔ غرضیکہ جوڑوں کا مضمون ایک لامتناہی مضمون ہے اور توحید کے مضمون کو سمجھنے کے لئے اس مضمون کو سمجھنا ضروری ہے۔ صرف کائنات کا خالق ہی ہے جس کو جوڑے کی ضرورت نہیں ورنہ سب مخلوق جوڑے کی محتاج ہے۔“
(تعارف سورۃ یٰس ترجمۃ القرآن صفحہ 771)

مزید پڑھیں

قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال (اَحَدٌ اور وَاحِدٌ کا دلچسپ ذکر) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” اَحَدٌ “ اور ”وَاحِدٌ “ جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ ان میں فرق یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے لئے اَحَدٌکا لفظ استعمال ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی وحدانیت کو بیان کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس کا اگر تصوّر کریں تو دوسری کسی ذات کا خیال بھی دل میں نہیں آتا۔
اور جب اللہ تعالیٰ کے لئے وَاحِدٌ کا لفظ استعمال کیا جائے تو وہاں صفات کی وحدانیت مراد ہوتی ہے کہ وہ صفات میں واحد ہے یعنی اپنی صفات میں کامل ہے اور اس کے سوا کئی اور وجود نہیں جو صفات کے لحاظ سے کامل ہو۔ “
( تفسیر کبیر جلد 10صفحہ 525)

مزید پڑھیں

صفتِ ربُوبیّت، رحمانیّت اور رحیمیّت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ربوبیت کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ تمام عالَموں کا پیدا کرنے والا اور ان کا سنبھالنے والا اور تمام کائنات کے قوّام کا اصل موجب وہی ہے۔ یعنی دنیا میں جتنے اجسام اور ارواح اور فلک اور ارض اور حیوان اور جماد اور نبات ہیں یہ سب خدا تعالیٰ کی ربُوبیّت سے پرورش پاتے ہیں… اور یہ ربُوبیّت بغیر کسی استحقاق کے محض اپنے ذاتی فضل سے ہر ایک وجود کو درجہ بدرجہ کمال تک پہنچاتی ہے۔“
(سرمہ چشمِ آریہ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 179-180)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ نبوت (حضور علیہ السلام کی تحریرات سے) )تقریرنمبر 10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” مَیں رسول اور نبی نہیں ہوں باعتبار نئی شریعت اور نئے دعویٰ اور نئے نام کے اور مَیں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیّت کاملہ کے وہ آئینہ ہوں جس میں محمدیؐ شکل اور محمدی نبوت کا کامل اِنعکاس ہے۔ “
(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 381 حاشیہ)

مزید پڑھیں

خوابیں، رؤیا اور وحی و الہام احادیث کی روشنی میں (تقریر نمبر9)

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا یا (فرمایا) گویا کہ اس نے مجھے بیداری میں دیکھا۔ شیطان میرا تمثّل اختیار نہیں کرسکتا۔
( مسلم کتاب الرؤیا باب قول النبی من رانی فی المنام فقد رانی ۔ 4193 از حدیقۃ الصالحین حدیث976)

مزید پڑھیں

مُحَدَّث وہ ہے جن کو کثرت سے الہام اور کشوف ہوتے ہیں (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف نے جیسا کہ جسمانی تمدّن کے لئے یہ تاکید فرمائی ہے کہ ایک بادشاہ کے زیر حکم ہو کر چلیں۔ یہی تاکید روحانی تمدّن کے لئے بھی ہے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ یہ دعا سکھلاتا ہے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ۔ پس سوچنا چاہئے کہ یوں تو کوئی مؤمن بلکہ کوئی انسان بلکہ کوئی حیوان بھی خداتعالیٰ کی نعمت سے خالی نہیں۔ مگر نہیں کہہ سکتے کہ ان کی پیروی کے لئے خداتعالیٰ نے یہ حکم فرمایا ہے۔ لہٰذا اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ جن لوگوں پر اکمل اور اتمّ طور پر نعمتِ روحانی کی بارش ہوئی ہے، ان کی راہوں کی ہمیں توفیق بخش کہ تا ہم ان کی پیروی کریں۔ ‘‘
(ضرورۃ الامام، روحانی خزائن جلد 13صفحہ494)

مزید پڑھیں

وحی کی تعریف اور اقسام (تقریر نمبر 7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’الہام کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ جو کچھ دل میں ڈالا جاوے نیک ہو یا بد وہ الہام ہے اور اس میں یہ بھی ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الفاظ ہوں مگر اِس جگہ ہماری مراد الہام سے وحی الٰہی ہے اور وحی اس کو کہتے ہیں کہ خدا کا کلام مع الفاظ کسی پر نازل ہو۔ ‘‘
(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 74 حاشیہ )

مزید پڑھیں

الہام خدا کا فعل ہےاور بندہ کی الہام میں فضیلت اعمالِ صالحہ میں ہے (تقریر نمبر 6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’الہام کیا چیز ہے؟ وہ پاک اور قادر خدا کا ایک برگزیدہ بندہ کے ساتھ یا اس کے ساتھ جس کو برگزیدہ کرنا چاہتا ہے ایک زندہ اور با قدرت کلام کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ.ہے۔‘‘
(اسلامی اصول فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10صفحہ439-438)

مزید پڑھیں