الہام خدا کا فعل ہےاور بندہ کی الہام میں فضیلت اعمالِ صالحہ میں ہے (تقریر نمبر 6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’الہام کیا چیز ہے؟ وہ پاک اور قادر خدا کا ایک برگزیدہ بندہ کے ساتھ یا اس کے ساتھ جس کو برگزیدہ کرنا چاہتا ہے ایک زندہ اور با قدرت کلام کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ.ہے۔‘‘
(اسلامی اصول فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10صفحہ439-438)

مزید پڑھیں

مَا الْمُبشِّرات (تقریر نمبر 5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ان کو اسی زندگی میں بشارتیں ملیں گی یعنی وہ خدا سے نور الہام کا پائیں گے اور بشارتیں سنیں گے جن میں ان کی بہتری اور مدح اور ثنا ہوگی اور خدا ان کی سچائیوں کو روشن کرے گا ۔ خدا نے جو جو وعدہ کیا ہے وہ سب پورا ہوگا اور کسی نوع کی تبدیل واقع نہیں ہوگی ۔ یہی سعادت عظمٰی ہے کہ جو ان لوگوں کو ملتی ہے کہ جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔‘‘
(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 264۔ 265 حاشیہ نمبر11)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ اور احبابِ جماعت کے کشفی واقعات (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” مجھے اللہ جلّ شانُہٗ نے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ وہ بعض امراء اور ملوک کو بھی ہمارے گروہ میں داخل کرے گا اور مجھے اس نے فرمایا کہ ’’میں تجھے برکت پر برکت دوں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“
)بركات الدعاء ، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 3)

مزید پڑھیں

رؤیا کی حالت ترقی کرتی کشف کا رنگ اختیار کر لیتی ہے (تقریر نمبر 3)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
(جنگِ مَوتہ کے موقع پر) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضوان اللہ علیہم کی (مدینہ میں) خبر آنے سے پہلے ہی اُن کے شہید ہو جانے کے متعلق لوگوں کو بتا دیا تھا۔ چنانچہ آپؐ نے فرمایا: اب زید نے جھنڈا سنبھالا ہوا ہے لیکن وہ شہید ہوگئے۔ پھر جعفر نے جھنڈا سنبھال لیا ہے اور وہ بھی شہید ہوگئے۔ پھر ابنِ رواحہ نے جھنڈا سنبھالا ہے اور وہ بھی جامِ شہادت نوش کرگئے۔ یہ فرماتے ہوئے آپؐ کی چشمانِ مبارک اَشک بار تھیں۔ (پھر آپؐ نے فرمایا) یہاں تک کہ اب اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (یعنی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) نے جھنڈا سنبھال لیاہے، حتیٰ کہ اُس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے کافروں پر فتح عطا فرمائی ہے۔
(صحیح بخاری، کتاب المغازي ، باب غزوۃ مؤتہ من أرض الشام)

مزید پڑھیں

خواب اَوررؤیائے صالحہ، نبوّت کے چھیالیس حصّوں میں سے ایک ہے (تقریر نمبر2)

حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری سفر لاہور سے قبل خواب میں دیکھا کہ
” وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نور الدین صاحب ایک کتاب لئے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو! اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور مَیں ابوبکر ہوں‘‘
(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ35)

مزید پڑھیں

خواب اَوررؤیائے صالحہ، نبوّت کے چھیالیس حصّوں میں سے ایک ہے (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اللہ تعالیٰ نے وحی والہام کا مادّہ ہر شخص میں رکھ دیا ہے۔ کیونکہ اگر یہ مادّہ نہ رکھا ہوتا تو پھر حجت پوری نہ ہو سکتی۔ اس لیے جو نبی آتا ہے اس کی نبوت اور وحی والہام کے سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی فطرت میں ایک ودیعت رکھی ہوئی ہے اور وہ ودیعت خواب ہے۔ اگر کسی کو کوئی خواب سچی کبھی نہ آئی ہو تو وہ کیونکر مان سکتا ہے کہ الہام اور وحی بھی کوئی چیز ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا (البقرہ: 287)۔ اس لیے یہ مادّہ اس نے سب میں رکھ دیا ہے۔‘‘
( تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد 4 سورۃ الشوریٰ صفحہ 146)

مزید پڑھیں

Someone is always listening

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” دعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قوّتیں رکھی ہیں ۔ خدا نے مجھے بار بار الہامات کے ذریعہ یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دعا ہی کے ذریعہ سے ہوگا ۔“
(سیرت مسیح موعودؑاز یعقوب علی عرفانی صاحب ؓ صفحہ 518)

مزید پڑھیں

”تُخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’جب ہم بہار کی موسم میں 1905ء میں باغ میں تھے تو مجھے اپنی جماعت کے لوگوں میں سے جو باغ میں تھے کسی ایک کی نسبت یہ الہام ہوا تھا کہ خدا کا ارادہ ہی نہ تھا کہ اُس کو اچھا کرے مگر فضل سے اپنے ارادہ کو بدل دیا۔ اِس الہام کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ سید مہدی حسین صاحب جو ہمارے باغ میں تھے اور ہماری جماعت میں داخل ہیں اُن کی بیوی سختؔ بیمار ہو گئی۔ وہ پہلے بھی تپ اور ورم سے جو مُنہ اور دونوں پیروں اور تمام بدن پر تھی بیمار تھی اور بہت کمزور تھی اور حاملہ تھی پھر بعد وضع حمل جو باغ میں ہوا اس کی حالت بہت نازک ہو گئی اور آثار نومیدی ظاہر ہو گئے اور میں اُس کے لئے دعا کرتا رہا آخر خدا تعالیٰ کے فضل سے اُس کو دو بارہ زندگی حاصل ہوئی۔‘‘
(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ378)

مزید پڑھیں

مشکلیں کیا چیز ہیں مشکِل کُشا کے سامنے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ سالہ زندگی جو مکّہ میں گزری۔ اس میں جس قدر مصائب اور مشکلات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آئیں ہم تو اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ دل کانپ اٹھتا ہے جب ان کا تصوّر کرتے ہیں۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عالی حوصلگی، فراخ دلی، استقلال اور عزم واستقامت کا پتہ لگتا ہے کیسا کوہ وقّار انسان ہے کہ مشکلات کے پہاڑ ٹوٹے پڑتے ہیں مگر اس کو ذرا بھی جنبش نہیں دے سکتے۔ وہ اپنے منصب کے ادا کرنے میں ایک لمحہ سست اور غمگین نہیں ہوا۔ وہ مشکلات اس کے ارادے کو تبدیل نہیں کر سکیں‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 516)

مزید پڑھیں

تیرنا ہو تو کبھی ، دریا کے مخالف تیرو

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
’’ ں ں
ئَ
م نےمحض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پا یا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے بر گزیدوں کو دی گئی تھی اور میر ں ے
لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر ں ں
ئَ
م اپنے سیّدومولیٰ، فخرالانبیاء اور خیر الور ی حضرت محمد مصطفیٰ ںصلی اللہ علیہ ںوسلم ںکے ںراہوں کی پیروی نہ کرتا۔ سو ں ں
ئَ
م نے جو کچھ پا یا ں
اس پیروی سے پایا اور ں ں
ئَ
م اپنے سچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس ںنبی ںصلی اللہ علیہ وسلم ںکے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کاملہ کا حصہ
پاسکتا ہے۔‘ں‘
)حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 65-64 (

مزید پڑھیں