وَ لِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی فَادۡعُوۡہُ بِہَا اللہ کی سَو رحمتیں اَور ایک حصّہ رحم کا مخلوق کے لئے (حصہ دوم) (تقریر نمبر 5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ نوع انسان پر شفقت اور اس سے ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور ا ﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے یہ ایک زبردست ذریعہ ہے۔ مگر مَیں دیکھتاہوں کہ اس پہلو میں بڑی کمزوری ظاہر کی جاتی ہے۔ دوسروں کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ ان پر ٹھٹھے کیے جاتے ہیں۔ ان کی خبر گیری کرنا اور کسی مصیبت اور مشکل میں مدد دینا تو بڑی بات.ہے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد4صفحہ 438-439 ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

وَ لِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی فَادۡعُوۡہُ بِہَا صفَتِ رحیمیّت انسان کو بلند بھی کرتی ہے اور جھکاتی بھی ہے (حصہ اول) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”اَلرَّحِیْم یعنی وہ خدا نیک عملوں کی نیک تر جزا دیتا ہے اور کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور اس کام کے لحاظ سے رحیم کہلاتا ہے اور یہ صفَتِ رحیمیّت کے نام سے موسوم.ہے۔“
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 373)

مزید پڑھیں

وَ لِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی فَادۡعُوۡہُ بِہَا (اَلرَّحْمٰنُ وہ جس کا رحم بہت وسیع جو ہر ایک پر حاوی ہے) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”رحمانیت کا مظہر تام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے کیونکہ محمد کے معنے ہیں بہت تعریف کیا گیا اور رحمن کے معنے ہیں بلا مُزد۔ بِن مانگے بلاتفریق، مؤمن وکافر کو دینے والا اور یہ صاف بات ہے کہ جو بِن مانگے دے گا، اس کی تعریف ضرور کی جائے گی۔ پس محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) میں رحمانیت کی تجلّی تھی“
(ملفوظات، جلد اوّل صفحہ 395، جدید ایڈیشن)

مزید پڑھیں