شِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُور (تقریر نمبر 3)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ایسی شے ہے جو قلوب کو اطمینان عطا کرتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد:49) پس جہاں تک ممکن ہو ذکر الٰہی کرتا رہے اس سے اطمینان حاصل ہوگا۔ ہاں اس کے واسطے صبر اور محنت درکار ہے۔ اگر گھبرا جاتا اور تھک جاتا ہے تو پھر یہ اطمینان نصیب نہیں ہوسکتا۔ دیکھو! ایک کسان کس طرح پر محنت کرتا ہے اور پھر کسی صبر اور حوصلہ کے ساتھ باہر اپنا غلہ بکھیر آتا ہے۔ بظاہر دیکھنے والے یہی کہتے ہیں کہ اُس نے دانے ضائع کر دیئے لیکن ایک وقت آجاتا ہے کہ وہ ان بکھیرے ہوئے دانوں سے ایک خرمن جمع کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ پر حسن ظن رکھتا ہے اور صبر کرتا ہے ۔ اسی طرح پر مومن جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک تعلق پیدا کر کے استقامت اور صبر کا نمونہ دکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس پر مہربانی کرتا ہے اور اسے وہ ذوق شوق اور معرفت عطا کرتا ہے جس کا وہ طالب ہوتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 7صفحہ93-92)
