قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں تقویٰ کی حقیقی روح
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کثرت سے کیا کرتے تھے کہ :
”اے اللہ! مَیں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور غنا کا سوال کرتا ہوں۔‘‘
(ترمذی کتاب الدعوات)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کثرت سے کیا کرتے تھے کہ :
”اے اللہ! مَیں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور غنا کا سوال کرتا ہوں۔‘‘
(ترمذی کتاب الدعوات)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف کی اصطلاح کے روسے خدا تعالیٰ رحیم اس حالت میں کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دعا اور تضرّع اور اعمالِ صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضییعِ اعمال سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔“
(تفسیر سورۃ الفاتحہ از حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ 83 – 85)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ جس بات کو وہ چاہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جو کچھ وہ دیوے کوئی اس کو ردّ نہیں کر سکتا وہ اپنے دین کا حافظ ہے اور تمام ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کریں ۔‘‘
( روحانی خزائن جلد8نور الحق الحصۃ الاولیٰ صفحہ 24)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ حج سے صرف اتنا ہی مطلب نہیں کہ ایک شخص گھر سے نکلے اور سمندر چیر کر چلا جاوے اور رسمی طور پر کچھ لفظ منہ سے بول کر ایک رسم ادا کرکے چلا آوے۔ اصل بات یہ ہے کہ حج ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہے جو کمال سلوک کا آخری مرحلہ ہے۔ سمجھنا چاہیے کہ انسان کا اپنے نفس سے انقطاع کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں کھویا جاوے اور تعشُّق باللہ اور محبتِ الٰہی ایسی پیدا ہوجاوے کہ اس کے مقابلہ میں نہ اُسے کسی سفر کی تکلیف ہو اور نہ جان ومال کی پرواہ ہو، نہ عزیزواقارب سے جدائی کا فکر ہو، جیسے عاشق اور محبّ اپنے محبوب پر جان قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے اسی طرح یہ بھی کرنے سے دریغ نہ کرے۔ اس کا نمونہ حج میں رکھا ہے۔ جیسے عاشق اپنے محبوب کے گرد طواف کرتا ہے اسی طرح حج میں بھی طواف رکھاہے۔‘‘
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 102۔ 103، ایڈیشن 2003ء)
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حجاج کے حق میں بیان کی:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْحَآجِّ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهٗ الْحَآجُّ
)مستدرک حاکم جلد1صفحہ441(
اے اللہ! حاجیوں کو بھی بخش دے اور ان کو بھی جن کے لئے حاجیوں نے بخشش مانگی ہے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ فرماتے ہیں:
’’ قرآن کریم کی بہت تعظیم ہے کہ یہ شعائر اللہ میں سے اعظم ہے۔‘‘
(حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ 148)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے باوجود بیماری اور خرابئ صحت مسجد آ کر با جماعتِ ادا کرنے کے حوالے سے اپنی کیفیت یوں بیان فرمائی:
” میرے سر کی حالت آج بھی اچھی نہیں چکر آ رہا ہے جب جماعت کا وقت آتا ہے تو اس وقت خیال گزرتا ہے کہ جب جماعت ہو گی اور مَیں شامل نہ ہوں گا اور افسوس ہوتا ہے اس لئے افتاں وخیزاں چلا آتا ہوں۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ212)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’درود شریف جو حصولِ استقامت کا ایک زبردست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو مگر نہ رسم اور عادت کے طورپر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور احسان کو مدنظر رکھ کر اور آپؐ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لئے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ قبولیت دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا‘‘۔
(
حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں
”غالباً 1901ء کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ مَیں حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھا کہ حضور علیہ السلام نے توحیدِ باری تعالیٰ پر ایک تقریر فرمائی اور اس میں ارشاد کیا کہ
بعض لوگ کسی کے احسان پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنے کے بغیر ہی جَزَاکَ اللّٰہُ کہہ دیتے ہیں حالانکہ بہ نظرِ غایت دیکھا جائے تو از روئے معرفت یہ کلمہ بھی اپنے اندر ایک گونہ شرک کا پہلو رکھتا ہے کیونکہ احسان کرنے والے کی ذات اور وہ چیز جس کےذریعے وہ محسن بنا ہے وہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں۔ اس لیے ممنونِ.احسان کو چاہیے کہ وہ جَزَاکَ اللّٰہُ کہنے سے قبل اللہ تعالیٰ کی توصیف وتحمید بیان کرے اور احسان ہونے پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے کیونکہ معرفت اور حقیقت کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ سب سے اوّل خالقِ اسباب کا شکریہ ادا کیا جائے پھر جَزَاکَ اللّٰہُ اس شخص کا بھی کہہ دے۔“
(حیاتِ قدسی صفحہ 134)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اِنْ شَآءَ اللّٰہُ کہنا نہایت ضروری ہے کیونکہ انسان کے تمام معاملات اس کے اپنے اختیار میں نہیں۔ وہ طرح طرح کے مصائب اور مکارہ و موانع میں گھرا ہواہے۔ممکن.ہے کہ جو کچھ ارادہ اس نے کیا ہے وہ پُورا نہ ہو۔ پس اِنْ شَآءَ اللّٰہُ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے جو تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہے مدد طلب کی جاتی ہے۔آجکل کے ناعاقبت اندیش و نادان لوگ اس پر ہنسی اڑاتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد10 صفحہ370 ایڈیشن 1984ء)