ایمان  اور اُس کی ستّر شاخیں (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ یقیناً سمجھو کہ ہر ایک پاکبازی اور نیکی کی اصلی جڑ خدا پر ایمان لانا ہے جس قدر انسان کا ایمان باللہ کمزور ہوتا ہے اسی قدر اعمالِ صالحہ میں کمزوری اور سستی پائی جاتی ہے لیکن جب ایمان قوی ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کی تمام صفات کاملہ کے ساتھ یقین کر لیا جائے اسی قدر عجیب رنگ کی تبدیلی انسان کے اعمال میں پیدا ہو جاتی ہے۔ خدا پر ایمان رکھنے والا گناہ پر قادر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ ایمان اس کی نفسانی قوتوں اور گناہ کے اعضاء کو کاٹ دیتا ہے۔ دیکھو! اگر کسی کی آنکھیں نکال دی جاویں تو وہ آنکھوں سے بد نظری کیونکر کر سکتا ہے اور آنکھوں کا گناہ کیسے کرے گا اور اگر ایسا ہی ہاتھ کاٹ دیئے جاویں یا شہوانی قویٰ کاٹ دیئے جاویں۔ پھر وہ گناہ جو اُن اعضاء سے متعلق ہیں کیسے کر سکتا ہے؟ ٹھیک اسی طرح پرجب ایک انسان نفس مطمئنہ کی حالت میں ہوتا ہے تو نفس مطمئنہ اسے اندھا کر دیتا ہے اور اس کی آنکھوں میں گناہ کی قوت نہیں رہتی ۔ وہ دیکھتا ہے پھر نہیں دیکھتا۔ کیونکہ آنکھوں کے گناہ کی نظر سلب ہو جاتی ہے۔ وہ کان رکھتا ہے مگر بہرہ ہوتا ہے اور وہ باتیں جو گناہ کی ہیں نہیں سن سکتا۔ اسی طرح پر اس کی تمام نفسانی اور شہوانی قوتیں اور اندرونی اعضاء کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ اس کی ان ساری طاقتوں پر جن سے گناہ صادر ہو سکتا تھا ایک موت واقع ہو جاتی ہے اور وہ بالکل ایک میت کی طرح ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ ہی کی مرضی کے تابع ہوتا ہے۔ وہ اس کے سوا ایک قدم نہیں اُٹھا سکتا۔ یہ وہ حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کامل اطمینان اسے دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جو انسان کا اصل مقصود ہونا چاہیے اور ہماری جماعت کو اسی کی ضرورت ہے اور اطمینان کامل کے حاصل کرنے کے واسطے ایمانِ کامل کی ضرورت ہے۔ پس ہماری جماعت کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان حاصل کریں ۔‘‘
( ملفوظات جلد6صفحہ 244-245 ،ایڈیشن1984ء )

مزید پڑھیں

بچے، جماعت کا قیمتی اثاثہ ہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ ایسے بچے جن کو اس طرح بچپن میں مالی قربانی کی عادت پڑ جائے وہ آئندہ نسلوں کی قربانیوں کی ضمانت بن جایا کرتے ہیں ۔ اللہ کرے کہ یہ روح ہمارے بچوں میں بڑھتی چلی جائے …..بچوں کو اس کی اہمیت کا احساس دلائیں، قربانی کی روح ان میں پیدا کریں۔ جو بچے اس مادی دور میں اس طرح قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں گے، اس طرح قربانی کرتے ہوئے پروان چڑھیں گے، وہ نہ صرف جماعت کا بہترین وجود بنیں گے بلکہ اپنے روشن مستقبل کی بھی ضمانت بن جائیں گے۔ لہو ولعب سے بچتے ہوئے، فضولیات سے بچتے ہوئے لغویات سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں گے۔‘‘
(خطبات مسرور جلد 6صفحہ5)

مزید پڑھیں

اٰمَنُوۡا اورعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کا حسین امتزاج

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما تے ہیں:
’’ایمان کے ساتھ عمل کی ضرورت ہے ورنہ ایمان بَدُوں عمل مُردہ ہے اور جب تک عمل نہ ہو وہ ثمرات اور نتائج پیدا نہیں ہوتے جو اعمال کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ مگر اعمال کی قوت اور توفیق معرفت اور یقین سے پیدا ہوتی ہے۔ جس قدر یہ قوت بڑھتی ہے اُسی قدر اعمالِ صالحہ کی توفیق ملتی ہے اوروہ برکات حاصل ہوتی ہیں جن سے انسان آسمان کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔‘‘

مزید پڑھیں

مسلمان اور مؤمن (قرآن اور احادیث کے آئینہ میں )

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے مسلمان کے جان ومال اور عزتیں محفوظ رہیں۔‘‘
(بخاري کتاب الايمان)

مزید پڑھیں

اسلام ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’نوافل سے مومن میرا مقرّب ہو جاتا ہے ایک فرائض ہوتے ہیں دوسرے نوافل یعنی ایک تو وہ احکام ہیں جو بطور حق واجب کے ہیں اور نوافل وہ ہیں جو زائد از فرائض ہیں اور وہ اس لئے ہیں کہ فرائض میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہونوافل سے پوری ہو جاوے۔ لوگوں نے نوافل صرف نماز ہی کے نوافل سمجھے ہوئے ہیں نہیں یہ بات نہیں۔ ہر فعل کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں۔ انسان زکوٰۃ دیتا ہے تو کبھی زکوٰۃ کے سوا بھی دے۔ رمضان میں روزے رکھتا ہے کبھی اس کے سوا بھی رکھے قرض لے تو کچھ ساتھ زائد دے کیونکہ اس نے مروّت کی ہے۔ نوافل متمّم فرائض ہوتے ہیں‘‘
(ملفوظات جلد2 صفحہ79-80)

مزید پڑھیں

دائیں ہاتھ سے کھانا کھانے اور انگلیاں چاٹنے میں حکمت اور فوائد

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے اپنے دائیں ہاتھ سے کھانا چاہیے اور جب کوئی مشروب نوش کرے تو اسے دائیں ہاتھ سے نوش کرنا چاہیے۔ اس لئے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہی سے پیتا ہے۔
(مسلم بلوغ المرام حدیث: 1250)

مزید پڑھیں

حق مہر کی اہمیت (خلفاء کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ جہاں تک خلع اور طلاق کا تعلق ہے اگر کوئی خاوند صرف مہر کی ادائیگی سے بچنے کے لئے عورت کو تنگ کرتا ہے کہ وہ خلع لے لے اور سمجھتا ہے کہ اِس طرح اُس کو مہر نہیں دینا پڑے گا تو وہ بڑا احمق ہے اسے جماعت چھوڑ دینی چاہیے۔ مَیں تمہیں شریعت اسلامیہ سے استہزاء نہیں کرنے دوں گا جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہیں کرنے دیا تھا ۔‘‘
( خطبات ناصر جلد 7صفحہ421 )

مزید پڑھیں

حق مہر اور اُس کی اہمیت )تقریر نمبر 1)

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ مَیں نے مہر کی تعیین چھ ماہ سے ایک سال تک کی آمدن کی ہے یعنی مجھ سے کوئی مہر کے متعلق مشورہ کرے تو مَیں یہ مشورہ دیا کرتا ہوں کہ اپنی چھ ماہ کی آمد سے ایک سال تک کی آمد بطور مہر مقرر کر دو اور یہ مشورہ میرا اِس امر پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة و السلام سے الوصیت کے قوانین میں دسویں حصہ کی شرط رکھوائی ہے۔ گویا اسے بڑی قربانی قرار دیا ہے۔ اس بناء پر میرا خیال ہے کہ اپنی آمدنی کا دسواں حصہ باقی اخراجات کو پورا کرتے ہوئے مخصوص کر دینا معمولی قربانی نہیں بلکہ ایسی قربانی ہے کہ جس کے بدلے میں ایسے شخص کو جنت کا وعدہ دیا گیا ہے اس حساب سے ایک سال کی آمد جو گویا متواتر دس سال کی آمد کا دسواں حصہ ہوتا ہے بیوی کے مہر میں مقرر کر دینا مہر کی اغراض کو پورا کرنے کے لئے بہت کافی ہے بلکہ میرے نزدیک انتہائی حدّ ہے ۔ ‘‘
(الفضل12؍دسمبر1940ء)

مزید پڑھیں

کیا نظرِبد حقیقت ہے؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” مَیں دیکھتا ہوں کہ اولیاء اللہ میں کسی ایسی بات کا ہونا بھی سنت اللہ میں چلا آتا ہے جیسا کہ خوبصورت بچے کو جب ماں عمدہ لباس پہنا کر باہر نکالتی ہے تو اس کے چہرے پر ایک سیاہی کا داغ بھی لگا دیتی ہے تاکہ وہ نظرِ بد سے بچا رہے۔ ایسا ہی خدا بھی اپنے پاکیزہ بندوں کے ظاہری حالات میں ایک ایسی بات رکھ دیتا ہے جس سے بد لوگ اس سے دور رہیں اور صرف نیک ہی اس کے گرد جمع رہیں۔ سعید آدمی چہرے کی اصلی خوبصورتی کو دیکھتا ہے اور شقی کا دھیان اس داغ کی طرف رہتا ہے۔“
(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ 209-210)

مزید پڑھیں

’’اچھے بھلے کو دیکھ کے دیوانہ کر دیا ‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین باتیں جس میں ہوں وہ ایمان کا مزہ پا لیتا ہے۔ اِن میں سے دو باتیں دیوانگی کے متعلق ہیں۔ اوّل اللہ اور اُس کے رسول تمام دوسری چیزوں سے بڑھ کر اُسے پیارے ہوں اور دوم یہ کہ جس انسان سے بھی محبت کرے صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے محبت کرے۔
(بخاری کتاب الایمان)

مزید پڑھیں