مؤمنین کا بُلند مقام و مرتبہ اَور فرائض و ذمّہ داریاں(حضرت مسیح موعود ؑ کے ارشادات کے تناظر میں)(تقریرنمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ” ںخدا تعالیٰ ںفرماتا ہے کہ کا فروہ ں ہی ںجو حیات ںدنیا ںپر راضی ہو گئے اور اطمینان ںپاگئے ں ہی۔ خدا تعالیٰ ںکی طرف حرکت کی ںضرورت کو وہ بالکل محسوس ہی نہیں کرتے قِیْمُ
ُ
لاَّ ن
َّ
ف
ا
ً
ن
ْ
قِیَّامَّۃِ وَّز
ْ
ہُمْ يَّوْمَّ ال
َّ
ل )الکہف: ں 106 ( میں ںگناہ کا ذکر نہیں ںہے۔ اس کا باعث صرف ں ں یہ ںہے کہ ان لوگوں نے دنیا ںکی خواہشوں ںکو مقدّم رکھا ہوا تھا۔ ںایک ںںاَور جگہ اللہ تعا ں لیٰں
فرماتا ہے کہ وہ لوگ دنیا ںکا حظّ ںپاچکے۔ وہاں بھی ںگناہ کا ذکر نہیں ںبلکہ دنیا ںکی ںلذّات ںجن کو خدا تعالیٰ نے جائز ں کیاہے اُن میں ںمنہمک ہو جانے کا ذکر ہے۔ اس قسم کے لوگوں کا
مرتبہ ں عناللہ کچھ نہ ہوگا اور نہ ان کو ں عزّت کا مقام دیا جائے گا۔ شیریں زندگی اصل میں ایک شیطان ہے جو کہ انسان کو دھو کادیتی ہے۔ مؤمن تو خود مصیبت خریدتاں ہےں ۔
ورنہ اگر وہ مداہنہ برتے تو ہر طرح آرام سے رہ سکتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس طرح کرتے تو اس قدر جنگیں کیوں ہوتیں لیکن آپ نے دںین کو مقدّمں رکھا
اس لئے سب دشمن ہو گئے۔ ں “ ں
)ملفوظات جلد 7 ایڈیشن 1984 ۔ ں صفحہ 108 (

مزید پڑھیں

مؤمنین کا بُلند مقام و مرتبہ اَور فرائض و ذمّہ داریاں(حضرت مسیح موعود ؑ کے ارشادات کے تناظر میں)(تقریرنمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
’’ از کو چہرہ دیکھ کر شناخت کرلیتے ہی۔ ایمان لانے والے تین قسم کے آدمی ہوتے ہی۔ ایک تو
وہ لوگ بہت تعریف کے قابل ہی جو کسی راس وہ جو چہرہ دیکھ کر ایمان
ب ہ حاصل ہو جاتا ہے
لاتے ہی دوسرے وہ جو نشان دیکھ کر ایمان لاتے ہی۔ تیسرا ایک ارذل گروہ کہ جب ہر طرح سے گل اور کوئی وجہ ایمان بالغیب کی باقی نہیں رہتی ں تو
اُس وقت ایمان لاتے ہیجیسے فرعون کہ جب غرق ہونے لگا تو اُس وقت إقرار کیا ۔ ‘‘ ں ں
)ملفوظات جلد 6 صفحہ 217 ۔ 218 ں ( ں

مزید پڑھیں

ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
’’ یاد رکھو ! ایمان ایک راز ہوتا ہے جو ں مؤمن اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوتا ہےںاور جس کو مخلوق میں سے اُس مؤمن کے سوا دوسرا نہیں جان سکتاں ۔ یْدِیْ بِ عَّبْ ِ
ن
َّ
دَّ ظ
ْ
ا عِن
َّ
آن ں
ں
کی حقیقت یہی ہے بعض اوقات وہ لوگ جو علوم ںحقّہ ںاور معارف الٰہیہ ںسے بہرہ ور نہیں ہوتے۔ کسی ںمؤ ں
من کے ان تعلقات کے عدم ںعلم کی وجہ سے جو اللہ تعا ں
ل ںکے ساتھں
اُس کو ہوتے ہی۔ اُس کی بعض حالتوں مثلاً معاملات رزق و معاش پر حیرت اور تعجّب ںظاہر کرتے ہی اور کبھی یہ تعجّب ںاُن کو بدظنّی ںاور گمراہی تک لے جاتا ہے۔ ںاں س لئے
اُن کی نظر اپنے ہی محدود اسباب ں تک ہوتی ہےاور وہ اس راز اور ںسِرّ ںسے ںجو ں ں ں
ئَ
اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ رکھتا ہےنا واقف ہوتے ہی۔ م چاہتا ہوں کہ ہمارے دوست ںاللہ ں ںتعا ں لیٰ
کے ساتھ اپنے ںا س راز کو ایس بنائیں جو صحابہ کرا ں م کا تھا۔‘ں‘ ں
) ملفوظات جلد 2 ایڈیشن 1984 ء صفحہں 98 ( ں

مزید پڑھیں

ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
” ںایمان ںبالغیب ںکے ںیہ ںمعنی ں ں ہی ںکہ وہ خدا سےاَڑ نہیں ں غیب
ٔ
باندھتے۔ بلکہ جو بات پردہ ںمیں ں حّہ کے لحاظ سے قبول کرتے ہی
ج
ہو۔ اس کو قرائن مر ںاور دیکھ ںلیتے ں ں ہی ںکہ صدق ں
کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ں ہی۔ ںیہ بڑی غلطی ہے کہ انسان یہ خیال رکھے کہ آفتاب کیں طرح ہر ایک امر اس پر منکشف ہو جاوے۔ اگر ایس ہو تو پھر بتلاؤ کہ اس کے ں
ثواب حاصل کرنے کا کونسا موقعہ ملا؟ ں کیا ںاگر ہم آفتاب کو د ں یکھ ںکر ں کہی ںکہ ہم اُس پر ایمان ںلائے تو ہم کو ثواب ملتا ہے؟ ہرگز ں نہیں۔ کیوں ں ؟ ںصرف اس لئے کہ اس ں میںں
غیب ںکا پہلو کوئی ںبھی ںنہیں۔ لیکن ںجب ملائکہ، خدا اور ں ں قیامت ںوغیرہ ںپر ایمان ںلاتے ں ہی ںتو ثواب ملتا ہے۔ اس کی ںیہی ںوجہ ہے کہ ان پر ایمان ںلانے میں ںایک ںپہلو غیب ںکا پڑا
ہوا ہے۔ ایمان لانے کے لئے ضرو ں ریں ہے کہ کچھ اخفاء بھی ہو اور طالب حق چند قرائن صدق کے لحاظ سے ان باتوں کو مان لے۔ ں “ ں
)ملفوظات جلد 6 ں ایڈیشن 1984 ء صفحہ 218 – 219 ں (

مزید پڑھیں

ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
تو ہمیشہ دعا کرتا ہوں مگر تم لوگوں کو بھی چاہئ کہ ہمیشہ دعا میں لگے رہو۔نمازیں پڑھو اَور توبہ کرتے رہو۔ جب یہ حالت ہو
ئَ
’’ م گی تو اللہ تعالیٰ حفاظت کرے گا اَور ا ں گر
سارے گھر میں ایک شخص بھی ایس ہو گا تو اللہ تعالیٰ اُس کے باعث سے دوسروں کی بھی حفاظت کرے ں کھ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے سوا نہیں آتا اَور وہ اُس
ُ
گا۔ کوئی بَلا اَور د
وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمان اَور مخالفت کی جاوے۔ ایسے وقت پر عام ایمان کام نہیں آتا بلکہ خاص ایمان کام آتا ہے۔ جو لوگ عام ایمان رکھتے ہی وہ اُن بَلاؤ ں
سے حصّہ لیتے ہی اَور اللہ تعالیٰ اُن کی پروا نہیں کرتا مگر جو خاص ایمان رکھتے ہی اللہ تعالیٰ اُن کی طرف رجوع کرتا ہے اَور آپ اُن کی حفاظت فرماتا ہے۔
انَّ لل
َّ
مَّنْ ک انَّ
َّ
هِ ک
الل ہٗ۔
َّ
هُ ل بہت سے لوگ ہی جو زبان سے
االل
لاَّ اِلّٰہَّ اِل هُ کھ یا
ُ
کھ نہیں اُٹھاتے۔کوئی د
ُ
کا اقرار کرتے ہی اَور اپنے اسلام اَور ایمان کا دعو ی کرتے ہی مگر وہ اللہ تعالیٰ کے لئے د
تکلیف یا مقدّمہ آ جاوے تو فوراً خدا کو چھوڑنے کو تیارہو جاتے ہی اَور ا س کی نافرمانی کر بیٹھتے ہی۔ اللہ تعالیٰ اُن کی کوئی ںپروا نہیں ںکرتا مگر جو خاص ایمان رکھتا ہو اَور ہر حا ں ل
کھ اُٹھا لیتا ہے اَوردو مصیبتیں اُس پر جمع نہیں کر
ُ
کھ اُٹھانے کو تیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اُس سے د
ُ
میں خدا کے ساتھ ہو اَور د کھ ہی ہے اَور مؤمن پر دں و
ُ
کھ کا اصل علاج د
ُ
تا۔ د
بَلائیں جمعنہیں کی جاتیں۔‘ں‘ ں
) ملفوظات جلد 5 صفحہ 67 ۔ 68 ں ( ں

مزید پڑھیں

ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
’’ اس شرط سے دین کو کبھی قبول نہ کرنا چا ں ہئ ںکہ ں ں
ئَ
م مالدار ہو جاؤں گا۔ مجھے فلاں عہدہ ں ں مل ںجاوے ں ں
گا۔ یاد رکھو کہ شرطی ایمان لانے والے سے خدا تعال بیزار ں ہےں ۔ں
بعض وقت مصلحت ںا ں لٰہ یہی ہوتی ہے کہ دنیا میں انسان کی کوئی مراد حاصل نہیں ہوتی ۔ طرح طرح کے آفات، ںبلائیں بیماریاں اور نامرادیاں لاحق حال ہوتی ہی مگر اُن
سے گھبرانا نہ چاہیے۔ موت ہر ایک کے واسطے کھڑی ہے اگر بادشاہ ہو جاوے گا تو کیاموت سے بچ جاوے گا؟ غریبی میں بھی مرنا ہے۔ بادشاہی میں بھی مرنا ہے اس ں لئے
سچّی توبہ کرنے والے کو اپنے ارادوں میں دنیا کی خواہش نہ ملانی چاہئں ۔‘ں‘ ں
)ملفوظات جلد 5 صفحہ 301 (ں ں
مشاہدات

مزید پڑھیں

ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ”یہ ںخوب ںیا ں د ںرکھو کہ اللہ تعالے کسی ںنابینا ںمذہب کی ںتا ں ئی ں ں نہیں ںکرتا اور کوئی ںنصرت اسے نہیں ںد ں ی ںجاتی۔ اسلام کی ںسچائی ں ں کی ںیہی ںبڑی ںزبردست دلیل ںہے کہ ہر زمانہ ں میں
اللہ . ں
تعال اس کی ںنصرت فرماتا ہے اور اس زمانہ میں ں ں بھی ںخدا تعالیٰ ںنے مجھے ں بھیجہے ں ں ں
ئَ
تا م اس کی تازہ بتازہ ںنصرتوں کا ثبوت دوں ۔ چنانچہ تم ں میں ںسے کوئی بھی ںا ں یس ںنہیں ہو ں گا
جس نے خدا تعالیٰ ںکے نشانات نہ دیکھے ںہوں۔ اس کے بالمقابل ہمیں ںکوئی ںبتائے کہ وید ں ں کیا ں ں لایا ں؟ وہ تو بالکل ادھورا ہے۔ دوسرے لوگوں کو تو خواب بھی ںآجاتی ںہے مگر ں و ں ید
والوں کے نزدیک ںخواب بھی ںبے حقیقت چیز ںہے اور وہ بھی ںنہیں ںآسکتی جبکہ وہ دروازہ جو اللہ تعالیٰ ںکی ںطرف جانے کے لئے ںیقینی ں ںدروازہ ہے ، بند ہے تو اور وسائل خدا ر ں سیں
کے ں کیاہو سکتے ں ہیں ؟
ں
ئَ
م سچ
کہتا ہوں کہ جہان ں
ئَ
م نے اس فرقہ کے حالات دیکھے ں ہی، ان میں شوخیوں کے سوا کچھ نہیں ں دیکھا یا بعض ںایسے لوگ اس میں داخل ہوتے ں ہیکہ انہیں خبر ں بھیں
نہیں ہوتی کہ مذہب کی اصل غرض ں کیاں ہے ں ؟ ں
غرض اسلام ایک ایس پاک مذہب ہے جو ساری نیکیوں کا حقیقی سرچشمہ اور منبع ہے۔ اس لئے کہ نیکیوں کی جڑھ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمانں اور وہ بدُوں اس کے پیدا نہیںں
ہوتا کہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کے عجائبات اور نشانات تازہ بتازہ ں دیکھتا رہے اورں یہ بجز اسلامں کے کسی دوسرے کو حاصل نہیں۔ اگر ہے تو کوئیں پیش کرے۔ ں “
)ملفوظات جلد 8 ایڈیشنں 1984 ۔ صفحہں 316 ں ( ں

مزید پڑھیں

قرآن کریم کے آئینہ میں (تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
” ں ں
ئَ
م ںتو ں ں کبھی ں ں نہیں ںمان سکتا کہ جوشخص ںدل ںسے خدا تعالیٰ کی طرف قدم ںرکھے ںوہ ضائع ہو ۔ مؤمن آدمی کبھی ںضائع ںنہیں ںکیا جاتا ۔ ںاُس ںکو ں ں دین ں ں بھی ںملتا ںہے اور دنیا میں ں ں بھیں
عزّت ملتی ہے اور مالں بھی ں “
)ملفوظات جلد 9 صفحہ 409 ( ں

مزید پڑھیں

قرآن کریم کے آئینہ میں (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہی: ں
’’ یہ جو اللہ تعالیٰ رجوع کرتا ہے اپنے ایسے بندے پر جو کئے ہوئے گناہوں پر نادم بھی ہو اور اس کی معافی بھی مانگ رہا ہو توایک د ودفعہ تک محدود نہیں ہے۔ مستقل انسا ں ن
استغفار کرتا رہتا ہے، مستقل اس سے معافی مانگتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ہمیشہ اس کی نیت دیکھ ں کر اس کے گناہوں کو بخشتا رہتا ہے۔ یہ نہیں کہ ہر مرتبہ جان بوجھ ں کے
گناہ کرتے چلے جاؤ بلکہ نیت ایسی ہو کہ شرمندگی ہو اور گناہوں سے بچنے کی کوشش بھی ہو تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ہمیشہ معاف کرتا چلا جاتا ہے۔ ’’ ا ں ور جب تک کوئی گناہگار توبہں
کی حالت میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ خاصہ اس کا ضرور اس پر ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ ‘‘ں ں
)براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 ں صفحہ 187-186 حا ں شیں (

مزید پڑھیں

اتقوا فراسۃ المومن، فانہ ينظر بنور اللہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
’’ ایمان یہی ہے کہ خدائی نصرتوں کو انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ جب وہ خداتعالیٰ کی نصرتوں کو دیکھتا ہے تب اُس کا ایمان بڑھتا ہے ںاَور معرفت اور بصیرت کی آ ں نکھ
کھلنے لگتی ہے۔ جب تک خداتعالیٰ کی نصرتوں کی چمک نظر نہیں آتی۔ اُس وقت تک یہ حالت تذبذب میں رہتا ہے لیکن جب اُن کی چمکار نظر آ جاتی ہے اُس وقت سینہ ں کی
ور نظر آتا ہے۔ وہ حالت ہوتی ہے جب اُس کے لئے کہا جاتا ہے۔
ُ
ور ہو جاتی ہی اور اندر ایک صفائی اور ن
ُ
غلاظتیں د
ورِ الل
ُ
رُ بِن
ُ
ظ
ْ
ہُ يَّن
إِن
َّ
مُؤْمِنِ ف
ْ
ال
َّ
وا فِرَّاسَّۃ
ُ
ق
اِت هِ ۔ ‘‘
)ملفوظات جلد 5 صفحہ 373 ں ( ں

مزید پڑھیں