إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے کا اسلامی حکم (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ صبر وصلوٰۃ اور شہادت پر تسلیم ورضا کا ردّ عمل دکھانے والوں کی راہ پر ڈال ایسے لوگوں کی راہ پر ڈال جو ابتلاؤں اور نقصانات پر صبر سے کام لیتے ہیں اور تیرے حضور ہر قسم کی قربانیاں دیتے ہوئے یہ عرض کرتے ہیں کہ اِنَّا لِلّٰہِ واِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ کہ سب کچھ گیا لیکن ہم بھی تو خدا ہی کے ہیں۔ ہم بھی چلے جائیں تو کچھ ہاتھ سے دینے والے نہیں ہوں گے۔ اِنَّا لِلّٰہِ ہم خدا کے تھے اور خدا کے ہیں اور ہم نے بھی تو آخر اسی کے پاس جانا ہے جہاں ہمارا سب کچھ جا رہا ہے۔‘‘
(خطبات طاہر جلد10 صفحہ298)

مزید پڑھیں

إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے کا اسلامی حکم (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ثمرات میں اولاد بھی داخل ہے اور محنتوں کے بعد آخر کی کامیابیاں بھی مراد ہیں ان کے ضائع ہونے سے بھی سخت صدمہ ہوتا ہے۔ امتحان دینے والے اگر کبھی فیل ہوجاتے ہیں تو بارہا دیکھا گیا ہے کہ وہ خودکشیاں کرلیتے ہیں……غرض اس قسم کے ابتلاء جن پر آئیں پھر اللہ تعالیٰ ان کو بشارت دیتا ہے وَبَشِّرِ الصّٰبِرِینَ یعنی ایسے موقع پر جہد کے ساتھ برداشت کرنے والوں کو خوشخبری اور بشارت ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں اِنَّا لِلّٰہِ واِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ۔ یاد رکھو کہ خدا کا خاص بندہ اور مقرّب تب ہی ہوتا ہے کہ ہر مصیبت پر خدا ہی کو مقدّم رکھے۔ غرض ایک وہ حصہ ہوتا ہے جس میں خدا اپنی منوانا چاہتا ہے۔ دعا کے معنیٰ تو یہی ہیں کہ انسان خواہش ظاہر کرتا ہے کہ یوں ہو، پس کبھی مولیٰ کریم کی خواہش مقدّم ہونی چاہیے اور کبھی اللہ کریم اپنے بندہ کی خواہش کو پورا کرتا ہے۔‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد دوم صفحہ273)

مزید پڑھیں

استغفار، حضرت مسیح موعودؑ اَور خلفاء کی نظر میں (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ یہ سچی بات ہے کہ توبہ اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں اور خداتعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ(البقرۃ: 223 ) سچی توبہ کرنے والا معصوم کے رنگ میں ہوتا ہے۔ پچھلے گناہ تو معاف ہو جاتے ہیں پھر آئندہ کے لیے خدا سے معاملہ صاف کر لے۔ اس طرح پر خدا کے اولیاء میں داخل ہو جائے گا اور پھر اس پر کوئی خوف و حزن نہ ہو گا۔ ‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ595-594، ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

استغفار کی ضرورت اور برکات (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ توبہ استغفار کرتے رہو کیونکہ یہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ جو استغفار کرتا ہے اسے رزق میں کشائش دیتا ہے۔‘‘
(تفسیرحضرت مسیح موعودؑ جلد دوم صفحہ365)

مزید پڑھیں

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ  کا استعمال (حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ واضح ہو کہ حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی مستحق تعریف کے اچھے فعل پر کی جائے نیز ایسے انعام کنندہ کی مدح کا نام ہے جس نے اپنے ارادہ سے انعام کیا ہو۔ اور اپنی مشیت کے مطابق احسان کیا ہو۔ اور حقیقت محمد کما حقہ صرف اسی ذات کے لئے متحقق ہوتی ہے جو تمام فیوض وانوار کا مبدء ہو اور علی وجہ البصیرت کسی پر احسان کرے نہ کہ غیر شعوری طور پر یا کسی مجبوری سے۔ اور حمد کے یہ معنی صرف خدائے خبیر وبصیر کی ذات میں ہی پائے جاتے ہیں۔ اور وہی محسن ہے اور اول وآخر میں سب احسان اسی کی طرف سے ہیں۔ اور سب تعریف اسی کے لئے ہے اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی اور ہر حمد جو اس کے غیروں کے متعلق کی جائے اس کا مرجع بھی وہی ہے۔ ‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ، سورۃ الفاتحہ صفحہ82)

مزید پڑھیں

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ کا بابرکت استعمال (تقریر نمبر1)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”حمد کے معنی تعریف کے ہیں۔ عربی میں تعریف کے لئے کئی الفاظ آتے ہیں ۔ حمد، مدح، شکر، ثنا اللہ تعالیٰ نے حمد کا لفظ چنا ہے جو بلاوجہ نہیں۔ شکر کے معنی احسان کے اقرار اور اس پر قدردانی کے اظہار کے ہوتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ لفظ استعمال ہو تو صرف قدردانی کے معنی ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ حمد اس سے زیادہ مکمل لفظ ہے کیونکہ حمد صرف احسان کے اقرار کا نام نہیں ہے بلکہ ہر حسین شے کے حسن کے احساس اور اس پر اظہار پسندیدگی اور قدردانی کا نام بھی ہے۔ پس یہ لفظ زیادہ وسیع ہے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد اول صفحہ 18)

مزید پڑھیں

سُبْحَانَ اللّٰہِ پڑھنے کے فوائد اور برکات (تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اسی طرح انسان کامل کے نفس کا حال ہے کہ احکام الہی کی تخم ریزی سے عجیب سرسبزی لے کر اس کے اعمال صالحہ کے پودے نکلتے ہیں اور ایسے عمدہ اور غایت درجہ کے لذیذ اس کے پھل ہوتے ہیں کہ ہر یک دیکھنے والے کو خداتعالیٰ کی پاک قدرت یاد آکر سُبْحَانَ اللّٰہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنا پڑتا ہے۔‘‘
(تفسیرحضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد ہشتم صفحہ263)

مزید پڑھیں

سُبْحَانَ اللّٰہِ پڑھنے کے فوائد اور برکات (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کے ذکر میں فرمایا۔
’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ولی اللہ اور صاحب برکات وہی شخص ہے جس کو یہ جوش حاصل ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا جلال ظاہر ہو۔ نماز میں جو سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ اور سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہا جاتا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کے جلال کے ظاہر ہونے کی تمنّا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی ایسی عظمت ہو۔ جس کی نظیر نہ ہو۔ نماز میں تسبیح وتقدیس کرتے ہوئے یہی حالت ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ہے کہ طبعاً جوش کے ساتھ اپنے کاموں سے اور اپنی کوششوں سے دکھاوے کہ اس کی عظمت کے برخلاف کوئی شے مجھ پر غالب نہیں آسکتی۔ یہ بڑی عبادت ہے۔ جو لوگ اس کی مرضی کے مطابق جوش رکھتے ہیں۔ وہی مؤیّد کہلاتے ہیں اور وہی بر کتیں پاتے ہیں ۔‘‘
(ملفوظات جلد1صفحہ395 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ کا استعمال

حضرت مسیح موعود علیہ السلام توکّل علیٰ اللہ کی تعریف میں فرماتے ہیں:
’’ توکّل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی امر کےحاصل کرنے کے واسطے مقرر کئے ہوئے ہیں ان کو حتی المقدور جمع کرو اور پھر خود دعاؤں میں لگ جاؤ کہ اے خدا! تو ہی اس کا انجام بخیر کر ۔ صدہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں۔ جو ان اسباب کو بھی برباداور تہ وبالا کر سکتے ہیں، ان کی دست برد سے بچا کر ہمیں سچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا۔‘‘
(ملفوظات جلد 3صفحہ 146،ایڈیشن1988ء)

مزید پڑھیں

جنت کے خزانہ ’’ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ‘‘ کو پڑھنے کی ہدایت

حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّلؓ استغفار اور لَاحَوْل کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’…لاف زنی وغیرہ کی غلطیاں انسان میں جو ہوتی ہیں ان کا علاج اور نیز ہر ایک مرض کا علاج کثرت سے استغفار اور لَاحَوْل پڑھنا ہے۔ خدا تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہئے کہ وہ سابقہ گناہوں کے بد نتائج سے محفوظ رکھے اورآئندہ بدی کے ارتکاب سے حفاظت بخشے۔
استغفار اور لَاحَوْل کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! تیری قوّت کے بغیر میں کوئی بدی نہیں چھوڑ سکتا اور نہ تیری قوت کے بغیر کوئی نیکی کا کام کرسکتا ہوں۔ تب خدا نیکی کی توفیق بخشے گا۔‘‘
( حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ 36)

مزید پڑھیں