حقیقی مؤمن کی خصوصیات (حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ایک مؤمن کے لئے سال اور دن اس صورت میں مبارک ہوتے ہیں جب وہ اس کی توبہ کی قبولیت کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی روحانی ترقی کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی مغفرت کا باعث بن رہے ہو… نئے سال کے پہلے دن کو ہی اس طرح دعاؤں کے ساتھ سجاؤکہ سارا سال ہی قبولیت دعا کے نظارے نظر آتے چلے جائیں…حقیقی مؤمن وہی ہے جو تقوی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اعمال بجا لانے کی کوشش کرے۔ اس دعا کے ساتھ اپنے ہردن اورہرسال میں داخل ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ تقویٰ پر قائم رکھے اور دین و دنیا کی حسنات سے نوازتا رہے ۔‘‘
(خطبہ جمعہ 1؍جنوری 2010ء)

مزید پڑھیں

حقیقی مؤمن کی خصوصیات (حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر1)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
اگر ہماری مسجدیں بنیں تو ایسی نمازیں ادا کرنے کے لیے مسجدیں بنیں۔ ہم مسجدیں بنانے کی طرف توجہ دیں تو اس معراج کو حاصل کرنے کے لیے۔ یہ ہماری معراج ہونی چاہیے۔ یہی وہ ذریعہ ہے جو خدا تعالیٰ تک لے جاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے۔ پس مایوس نہیں ہونا چاہیے کہ یہ مقام کس طرح ملے۔ مسلسل کوشش سے یہ مقام اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔“
(خطبہ جمعہ 25؍ اکتوبر 2019ء)

مزید پڑھیں

لوگوں کی عزّت وناموس (اسلام کی آفاقی تعلیم اور احمدی مسلمان کی ذمّہ داری)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”غرض نوع انسان پر شفقت اور اس سے ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے یہ ایک زبردست ذریعہ ہے۔ مگر مَیں دیکھتا ہوں کہ اس پہلو میں بڑی کمزوری ظاہر کی جاتی ہے۔ دوسروں کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ ان پر ٹھٹھے کیے جاتے ہیں ان کی خبرگیری کرنا اور کسی مصیبت اور مشکل میں مدد دینا تو بڑی بات ہے۔ جو لوگ غرباء کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش نہیں آتے بلکہ ان کو حقیر سمجھتے ہیں مجھے ڈر ہے کہ وہ خود اس مصیبت میں مبتلا نہ ہو جاویں۔ اللہ تعالیٰ نے جن پر فضل کیا ہے اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ احسان اور سلوک کریں اور اس خداداد فضل پر تکبر نہ کریں اور وحشیوں کی طرح غرباء کو کچل نہ.ڈالیں۔“

مزید پڑھیں

بچے ہماری تقریریں کم اور زندگی زیادہ یاد رکھتے ہیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔“
(ملفوظات، جلد 8 صفحہ 110)

مزید پڑھیں

Someone is always listening

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” دعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قوّتیں رکھی ہیں ۔ خدا نے مجھے بار بار الہامات کے ذریعہ یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دعا ہی کے ذریعہ سے ہوگا ۔“
(سیرت مسیح موعودؑاز یعقوب علی عرفانی صاحب ؓ صفحہ 518)

مزید پڑھیں

اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) (قرآن کریم کی روشنی میں ) )تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’خدا نے یہ چاہا ہے کہ کسی دوسرے کی بندگی نہ کرو اور والدین سے احسان کرو۔ حقیقت میں کیسی ربوبیت ہے کہ انسان بچہ ہوتا ہے اور کسی قسم کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس حالت میں ماں کیا کیا خدمات کرتی ہے اور والد اس حالت میں ماں کی مہمّات کا کسطرح متکفّل ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ناتواں مخلوق کی خبر گیری کے لئے دو محل پیدا کر دئیے ہیں اور اپنی محبت کے انوار سے ایک پَرتو محبت کا اُن میں ڈال دیا، مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ ماں باپ کی محبت عارضی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت حقیقی ہےاور جبتک قلوب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا القاء نہ ہو تو کوئی فردِ بشرخواہ وہ دوست ہو یا کوئی برابر کے درجہ کا ہو یا کوئی حاکم ہو، کسی سے محبت نہیں کر سکتا اور یہ خدا کی کمال ربوبیّت کا راز ہے کہ ماں باپ بچوں سے ایسی محبت کرتے ہیں کہ اُن کے تکفّل میں ہر قسم کے دُکھ شرح صدر سے اُٹھاتے ہیں یہاں تک کہ اُن کی زندگی کے لئے مرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 315۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

مزید پڑھیں

اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) (قرآن کریم کی روشنی میں ) )تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ اولاد چیز کیا ہے؟ بچپن سے ماں اُس پر جان فدا کرتی ہے مگر بڑے ہو کر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے لڑکے اپنی ماں کی نافرمانی کرتے ہیں اور اُس سے گستاخی سے پیش آتے ہیں ۔ پھر اگر فرمانبردار بھی ہوں تو دکھ اور تکلیف کے وقت وہ اس کو ہٹا نہیں سکتے ۔ ذرا سا پیٹ میں درد ہو تو تمام عاجز آجاتے ہیں۔ نہ بیٹا کام آسکتا ہے نہ باپ نہ ماں نہ کوئی اور عزیز ۔ اگر کام آتا ہے تو صرف خدا۔‘‘
( تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد8صفحہ5)

مزید پڑھیں

اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ ) تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ وہ دین کی خادم ہو۔ اسی طرح بیوی کرے تاکہ اس سے کثرت سے اولاد پیدا ہو اور وہ اولاد دین کی سچی خدمت گزار ہواور نیز جذباتِ نفس سے محفوظ رہے۔ اس کے سوا جس قدر خیالات ہیں وہ خراب ہیں ۔ رحم اور تقویٰ مدّنظر ہو تو بعض باتیں جائز ہوجاتی ہیں ۔ اس صورت میں اگر مال بھی چھوڑتا ہے اور جائداد بھی اولاد کے واسطے چھوڑتا ہے تو ثواب ملتا ہے۔ لیکن اگر صرف جانشین بنانے کا خیال ہے اور اس نیّت سے سب ہمّ وغم رکھتا ہے تو پھر گناہ.ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 600-599)

مزید پڑھیں

ماں باپ کبھی نہیں مرتے ؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ نیک اولاد، اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی اولاد جہاں اپنی عاقبت سنوارنے والی ہو گی، وہاں نیک اولاد کے عمل اور اُن کی دعائیں جو وہ والدین کے لئے کر رہے ہیں، والدین کے درجات اگلے جہان میں بھی بلند کرنے کا باعث بن رہی ہوں گی۔‘‘
(خطبہ جمعہ3 ؍مئی2013ء )

مزید پڑھیں

کفّارات اور درجات کیا ہیں؟ (تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس زندگی کے کُل انفاس اگر دنیاوی کاموں میں گزر گئے تو آخرت کے لئے کیا ذخیرہ کیا؟ تہجد میں خاص کر اُٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔ درمیانی نمازوں میں بہ.باعث ملازمت کے ابتلا آ جاتا ہے۔ رازق اللہ تعالیٰ ہے۔ نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہئے۔ ظہروعصر کی کبھی کبھی جمع ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے اس لئے یہ گنجائش رکھ دی۔ مگر یہ گنجائش تین نمازوں کے جمع کرنے میں نہیں ہو سکتی۔ جبکہ ملازمت میں اور دوسرے کئی امور میں لوگ سزا پاتے ہیں (اور موردِ عتابِ حُکّام ہوتے ہیں) تو اگر اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیف اٹھاویں تو کیا خوب ہے‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 6۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

مزید پڑھیں