ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 4)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
” ںایمان ںبالغیب ںکے ںیہ ںمعنی ں ں ہی ںکہ وہ خدا سےاَڑ نہیں ں غیب
ٔ
باندھتے۔ بلکہ جو بات پردہ ںمیں ں حّہ کے لحاظ سے قبول کرتے ہی
ج
ہو۔ اس کو قرائن مر ںاور دیکھ ںلیتے ں ں ہی ںکہ صدق ں
کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ں ہی۔ ںیہ بڑی غلطی ہے کہ انسان یہ خیال رکھے کہ آفتاب کیں طرح ہر ایک امر اس پر منکشف ہو جاوے۔ اگر ایس ہو تو پھر بتلاؤ کہ اس کے ں
ثواب حاصل کرنے کا کونسا موقعہ ملا؟ ں کیا ںاگر ہم آفتاب کو د ں یکھ ںکر ں کہی ںکہ ہم اُس پر ایمان ںلائے تو ہم کو ثواب ملتا ہے؟ ہرگز ں نہیں۔ کیوں ں ؟ ںصرف اس لئے کہ اس ں میںں
غیب ںکا پہلو کوئی ںبھی ںنہیں۔ لیکن ںجب ملائکہ، خدا اور ں ں قیامت ںوغیرہ ںپر ایمان ںلاتے ں ہی ںتو ثواب ملتا ہے۔ اس کی ںیہی ںوجہ ہے کہ ان پر ایمان ںلانے میں ںایک ںپہلو غیب ںکا پڑا
ہوا ہے۔ ایمان لانے کے لئے ضرو ں ریں ہے کہ کچھ اخفاء بھی ہو اور طالب حق چند قرائن صدق کے لحاظ سے ان باتوں کو مان لے۔ ں “ ں
)ملفوظات جلد 6 ں ایڈیشن 1984 ء صفحہ 218 – 219 ں (
