گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اصل یہ ہے کہ صالحین اور فانین فی اللہ کی محبت ایک عمدہ شے ہے لیکن حفظ مراتب ضروری ہے۔
گر حفظ مراتب نہ گنی زندیقی
پس خدا کو خدا کی جگہ، رسول کو رسول کی جگہ سمجھو اور خدا کے کلام کو دستور العمل ٹھہرا لو۔ “
(ملفوظات جلد2 صفحہ 305)

مزید پڑھیں

حفظ ِمراتب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچے دل سے پیروی کرنا اور آپ سے محبت رکھنا انجام کار انسان کو خدا کا پیارا بنا دیتا ہے ۔ اس طرح پر کہ خود اس کے دل میں محبت الہٰی کی ایک سوزش پیدا کر دیتا ہے۔ تب ایسا شخص ہر ایک چیز سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف جھک جاتا ہےاور اس کا اُنس و شوق صرف خدا تعالیٰ سے باقی رہ جاتا ہے۔ تب محبت الہٰی کی ایک خاص تجلّی اس پر پڑتی ہے اور اس کو ایک پورا رنگ عشق اور محبت کا دیکر قوی جذبہ کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ تب جذباتِ نفسانیہ پر وہ غالب آ جاتا ہے اور اس کی تائید اور نصرت میں ہر ایک پہلو سے خدا تعالیٰ کے خارق عادت افعال نشانوں کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ 67-68)

مزید پڑھیں

تربیتِ اولاد اور مالی قربانی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لئے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لیے سعی اور دعا کرو ۔ جس قدر کوشش تم ان کے لئے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اُسی قدر کوشش اس امر میں کرو “
(ملفوظات جلد صفحہ109)

مزید پڑھیں

انسانی جسم بطور ایک خِلعتِ فَاخرہ

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”انسان کے تمام اعمال کا منبع اُس کا دل ہے۔ اگر انسان کے دل میں نیک اور پاکیزہ جذبات ہوں گے تو اس کے سارے اعمال لازماً نیکی کے رستہ پر چلیں گے لیکن اگر دل کے جذبات ناپاک اور گندے ہوں گے تو اعمال بھی لامحالہ گندے رستہ پر پڑ جائیں گے کیونکہ دل کے جذبات بیج کا رنگ رکھتے ہیں اور عمل وہ درخت ہے جو اُس کے بیج سے پیدا ہوتا ہے۔ “
( چالیس جواہر پارے صفحہ 115)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ نبوت (حضور علیہ السلام کی تحریرات سے) )تقریرنمبر 10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” مَیں رسول اور نبی نہیں ہوں باعتبار نئی شریعت اور نئے دعویٰ اور نئے نام کے اور مَیں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیّت کاملہ کے وہ آئینہ ہوں جس میں محمدیؐ شکل اور محمدی نبوت کا کامل اِنعکاس ہے۔ “
(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 381 حاشیہ)

مزید پڑھیں

خوابیں، رؤیا اور وحی و الہام احادیث کی روشنی میں (تقریر نمبر9)

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا یا (فرمایا) گویا کہ اس نے مجھے بیداری میں دیکھا۔ شیطان میرا تمثّل اختیار نہیں کرسکتا۔
( مسلم کتاب الرؤیا باب قول النبی من رانی فی المنام فقد رانی ۔ 4193 از حدیقۃ الصالحین حدیث976)

مزید پڑھیں

مُحَدَّث وہ ہے جن کو کثرت سے الہام اور کشوف ہوتے ہیں (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف نے جیسا کہ جسمانی تمدّن کے لئے یہ تاکید فرمائی ہے کہ ایک بادشاہ کے زیر حکم ہو کر چلیں۔ یہی تاکید روحانی تمدّن کے لئے بھی ہے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ یہ دعا سکھلاتا ہے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ۔ پس سوچنا چاہئے کہ یوں تو کوئی مؤمن بلکہ کوئی انسان بلکہ کوئی حیوان بھی خداتعالیٰ کی نعمت سے خالی نہیں۔ مگر نہیں کہہ سکتے کہ ان کی پیروی کے لئے خداتعالیٰ نے یہ حکم فرمایا ہے۔ لہٰذا اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ جن لوگوں پر اکمل اور اتمّ طور پر نعمتِ روحانی کی بارش ہوئی ہے، ان کی راہوں کی ہمیں توفیق بخش کہ تا ہم ان کی پیروی کریں۔ ‘‘
(ضرورۃ الامام، روحانی خزائن جلد 13صفحہ494)

مزید پڑھیں

وحی کی تعریف اور اقسام (تقریر نمبر 7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’الہام کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ جو کچھ دل میں ڈالا جاوے نیک ہو یا بد وہ الہام ہے اور اس میں یہ بھی ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الفاظ ہوں مگر اِس جگہ ہماری مراد الہام سے وحی الٰہی ہے اور وحی اس کو کہتے ہیں کہ خدا کا کلام مع الفاظ کسی پر نازل ہو۔ ‘‘
(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 74 حاشیہ )

مزید پڑھیں

الہام خدا کا فعل ہےاور بندہ کی الہام میں فضیلت اعمالِ صالحہ میں ہے (تقریر نمبر 6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’الہام کیا چیز ہے؟ وہ پاک اور قادر خدا کا ایک برگزیدہ بندہ کے ساتھ یا اس کے ساتھ جس کو برگزیدہ کرنا چاہتا ہے ایک زندہ اور با قدرت کلام کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ.ہے۔‘‘
(اسلامی اصول فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10صفحہ439-438)

مزید پڑھیں

مَا الْمُبشِّرات (تقریر نمبر 5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ان کو اسی زندگی میں بشارتیں ملیں گی یعنی وہ خدا سے نور الہام کا پائیں گے اور بشارتیں سنیں گے جن میں ان کی بہتری اور مدح اور ثنا ہوگی اور خدا ان کی سچائیوں کو روشن کرے گا ۔ خدا نے جو جو وعدہ کیا ہے وہ سب پورا ہوگا اور کسی نوع کی تبدیل واقع نہیں ہوگی ۔ یہی سعادت عظمٰی ہے کہ جو ان لوگوں کو ملتی ہے کہ جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔‘‘
(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 264۔ 265 حاشیہ نمبر11)

مزید پڑھیں