حضرت مسیح موعودؑ اور احبابِ جماعت کے کشفی واقعات (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” مجھے اللہ جلّ شانُہٗ نے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ وہ بعض امراء اور ملوک کو بھی ہمارے گروہ میں داخل کرے گا اور مجھے اس نے فرمایا کہ ’’میں تجھے برکت پر برکت دوں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“
)بركات الدعاء ، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 3)

مزید پڑھیں

رؤیا کی حالت ترقی کرتی کشف کا رنگ اختیار کر لیتی ہے (تقریر نمبر 3)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
(جنگِ مَوتہ کے موقع پر) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضوان اللہ علیہم کی (مدینہ میں) خبر آنے سے پہلے ہی اُن کے شہید ہو جانے کے متعلق لوگوں کو بتا دیا تھا۔ چنانچہ آپؐ نے فرمایا: اب زید نے جھنڈا سنبھالا ہوا ہے لیکن وہ شہید ہوگئے۔ پھر جعفر نے جھنڈا سنبھال لیا ہے اور وہ بھی شہید ہوگئے۔ پھر ابنِ رواحہ نے جھنڈا سنبھالا ہے اور وہ بھی جامِ شہادت نوش کرگئے۔ یہ فرماتے ہوئے آپؐ کی چشمانِ مبارک اَشک بار تھیں۔ (پھر آپؐ نے فرمایا) یہاں تک کہ اب اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (یعنی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) نے جھنڈا سنبھال لیاہے، حتیٰ کہ اُس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے کافروں پر فتح عطا فرمائی ہے۔
(صحیح بخاری، کتاب المغازي ، باب غزوۃ مؤتہ من أرض الشام)

مزید پڑھیں

مشاہدات کی مالا کے 1300 موتی

من آنم کہ من دانم ہمارے پیارے اور محبوب امام حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اِن دنوں شکرِ الٰہی پر خطبات ارشاد فرما رہے ہیں۔ اِس سلسلہ میں اپنے چار خطبات میں اپنے ربّ کی مہربانیوں اور احسانات پر اُس کا شکر ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے […]

مزید پڑھیں

خواب اَوررؤیائے صالحہ، نبوّت کے چھیالیس حصّوں میں سے ایک ہے (تقریر نمبر2)

حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری سفر لاہور سے قبل خواب میں دیکھا کہ
” وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نور الدین صاحب ایک کتاب لئے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو! اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور مَیں ابوبکر ہوں‘‘
(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ35)

مزید پڑھیں

خواب اَوررؤیائے صالحہ، نبوّت کے چھیالیس حصّوں میں سے ایک ہے (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اللہ تعالیٰ نے وحی والہام کا مادّہ ہر شخص میں رکھ دیا ہے۔ کیونکہ اگر یہ مادّہ نہ رکھا ہوتا تو پھر حجت پوری نہ ہو سکتی۔ اس لیے جو نبی آتا ہے اس کی نبوت اور وحی والہام کے سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی فطرت میں ایک ودیعت رکھی ہوئی ہے اور وہ ودیعت خواب ہے۔ اگر کسی کو کوئی خواب سچی کبھی نہ آئی ہو تو وہ کیونکر مان سکتا ہے کہ الہام اور وحی بھی کوئی چیز ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا (البقرہ: 287)۔ اس لیے یہ مادّہ اس نے سب میں رکھ دیا ہے۔‘‘
( تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد 4 سورۃ الشوریٰ صفحہ 146)

مزید پڑھیں

حضرت مسیحِ موعودؑ کی حضرت محمد مصطفیٰؐ سے محبت کے عملی اظہار

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”نوع انسان کے لیے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن، اور تمام آدم زادوں کے لیے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔ سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبیؐ کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو۔“
(کشتی نوح، صفحہ 13)

مزید پڑھیں

حسِّ مزاح، انسان کی چھٹی حسّ اور زندگی کے ہر مقام سے گزرنے کا ہنر

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
مَا رَآنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي (صحیح بخاری)
یعنی مَیں جب سے اسلام لایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جب بھی دیکھا آپؐ کے رُخِ انور پر ایک دل نشین مسکراہٹ سج گئی۔

مزید پڑھیں

چالیس اقوال رسولؐ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنۡبِ کَمَنۡ لَّا ذَنۡبَ لَہُ (سنن ابن ماجہ)
ترجمہ : گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جس نے گناہ کیا ہی نہیں۔
Translation: The one who repents from a sin is like one who has not committed the sin.

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کے وجود کی علّتِ غائی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ یہود کی اخلاقی حالت بھی بہت خراب ہو گئی تھی اور خدا کی محبت ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ اب میرے زمانہ میں بھی یہی حالت ہے۔ سو مَیں بھیجا گیا ہوں تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو سو یہی افعال میرے وجود کی علّتِ غائی ہیں۔ مجھے بتلایا گیا ہے کہ پھر آسمان زمین سے نزدیک ہو گا۔ بعد اِس کے کہ بہت دُور ہوگیا تھا۔ سو مَیں اِنہی باتوں کا مجدّد ہوں اور یہی کام ہیں جن کے لئے مَیں بھیجا گیا ہوں اور مِنجملہ اِن اَمور کے جو میرے مامور ہونے کی علّتِ غائی ہیں مسلمانوں کے ایمان کو قوِی کرنا ہے اوراِن کو خدا اور اُس کی کتاب اور اُس کے رسول کی نسبت ایک تازہ یقین بخشا اوریہ طریق ایمان کی تقویت کا دو طَور سے میرے ہاتھ سے ظہور میں آیا ہے۔اوّل قرآن شریف کی تعلیم کی خوبیاں بیان کرنی اور اُس کے اعجازی حقائق اورمعارف اور انوار اور برکات کو ظاہر کرنے سے جن سے قرآن شریف کا مِنجانب اللہ ہونا ثابت ہوتا ہے چنانچہ میری کتابوں کو دیکھنے والےاس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ کتابیں قرآن شریف کے عجائب اسرار اورنکات سے پُر ہیں اور ہمیشہ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جس قدر مسلمانوں کا علم قرآن شریف کی نسبت ترقی کرے گا اُسی قدر اُن کا ایمان بھی ترقی پذیر ہو گا۔ ‘‘
(کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 293۔ 296۔ حاشیہ)

مزید پڑھیں

غلُوّ سے اجتناب

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ
(سنن النسائی)
کہ دین میں غلوّ سے بچو! کیونکہ تم سے پہلی امّتوں کو دین میں غلوّ اور حد سے تجاوز کرنے ہی نے ہلاک کیا۔

مزید پڑھیں