مسلمان اور مؤمن (قرآن اور احادیث کے آئینہ میں )
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے مسلمان کے جان ومال اور عزتیں محفوظ رہیں۔‘‘
(بخاري کتاب الايمان)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے مسلمان کے جان ومال اور عزتیں محفوظ رہیں۔‘‘
(بخاري کتاب الايمان)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’نوافل سے مومن میرا مقرّب ہو جاتا ہے ایک فرائض ہوتے ہیں دوسرے نوافل یعنی ایک تو وہ احکام ہیں جو بطور حق واجب کے ہیں اور نوافل وہ ہیں جو زائد از فرائض ہیں اور وہ اس لئے ہیں کہ فرائض میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہونوافل سے پوری ہو جاوے۔ لوگوں نے نوافل صرف نماز ہی کے نوافل سمجھے ہوئے ہیں نہیں یہ بات نہیں۔ ہر فعل کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں۔ انسان زکوٰۃ دیتا ہے تو کبھی زکوٰۃ کے سوا بھی دے۔ رمضان میں روزے رکھتا ہے کبھی اس کے سوا بھی رکھے قرض لے تو کچھ ساتھ زائد دے کیونکہ اس نے مروّت کی ہے۔ نوافل متمّم فرائض ہوتے ہیں‘‘
(ملفوظات جلد2 صفحہ79-80)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے اپنے دائیں ہاتھ سے کھانا چاہیے اور جب کوئی مشروب نوش کرے تو اسے دائیں ہاتھ سے نوش کرنا چاہیے۔ اس لئے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہی سے پیتا ہے۔
(مسلم بلوغ المرام حدیث: 1250)
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ جہاں تک خلع اور طلاق کا تعلق ہے اگر کوئی خاوند صرف مہر کی ادائیگی سے بچنے کے لئے عورت کو تنگ کرتا ہے کہ وہ خلع لے لے اور سمجھتا ہے کہ اِس طرح اُس کو مہر نہیں دینا پڑے گا تو وہ بڑا احمق ہے اسے جماعت چھوڑ دینی چاہیے۔ مَیں تمہیں شریعت اسلامیہ سے استہزاء نہیں کرنے دوں گا جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہیں کرنے دیا تھا ۔‘‘
( خطبات ناصر جلد 7صفحہ421 )
حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ مَیں نے مہر کی تعیین چھ ماہ سے ایک سال تک کی آمدن کی ہے یعنی مجھ سے کوئی مہر کے متعلق مشورہ کرے تو مَیں یہ مشورہ دیا کرتا ہوں کہ اپنی چھ ماہ کی آمد سے ایک سال تک کی آمد بطور مہر مقرر کر دو اور یہ مشورہ میرا اِس امر پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة و السلام سے الوصیت کے قوانین میں دسویں حصہ کی شرط رکھوائی ہے۔ گویا اسے بڑی قربانی قرار دیا ہے۔ اس بناء پر میرا خیال ہے کہ اپنی آمدنی کا دسواں حصہ باقی اخراجات کو پورا کرتے ہوئے مخصوص کر دینا معمولی قربانی نہیں بلکہ ایسی قربانی ہے کہ جس کے بدلے میں ایسے شخص کو جنت کا وعدہ دیا گیا ہے اس حساب سے ایک سال کی آمد جو گویا متواتر دس سال کی آمد کا دسواں حصہ ہوتا ہے بیوی کے مہر میں مقرر کر دینا مہر کی اغراض کو پورا کرنے کے لئے بہت کافی ہے بلکہ میرے نزدیک انتہائی حدّ ہے ۔ ‘‘
(الفضل12؍دسمبر1940ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” مَیں دیکھتا ہوں کہ اولیاء اللہ میں کسی ایسی بات کا ہونا بھی سنت اللہ میں چلا آتا ہے جیسا کہ خوبصورت بچے کو جب ماں عمدہ لباس پہنا کر باہر نکالتی ہے تو اس کے چہرے پر ایک سیاہی کا داغ بھی لگا دیتی ہے تاکہ وہ نظرِ بد سے بچا رہے۔ ایسا ہی خدا بھی اپنے پاکیزہ بندوں کے ظاہری حالات میں ایک ایسی بات رکھ دیتا ہے جس سے بد لوگ اس سے دور رہیں اور صرف نیک ہی اس کے گرد جمع رہیں۔ سعید آدمی چہرے کی اصلی خوبصورتی کو دیکھتا ہے اور شقی کا دھیان اس داغ کی طرف رہتا ہے۔“
(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ 209-210)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین باتیں جس میں ہوں وہ ایمان کا مزہ پا لیتا ہے۔ اِن میں سے دو باتیں دیوانگی کے متعلق ہیں۔ اوّل اللہ اور اُس کے رسول تمام دوسری چیزوں سے بڑھ کر اُسے پیارے ہوں اور دوم یہ کہ جس انسان سے بھی محبت کرے صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے محبت کرے۔
(بخاری کتاب الایمان)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ اللّٰه – اللہ تعالیٰ کے اخلاق میں رنگین ہو جاوے جب تک اِس مرتبہ تک نہ پہنچ جائے نہ تھکے نہ ہارے۔ اِس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا ہو جاتا ہے جو عبادت الٰہی کی طرف اُسے لئے جاتا ہے اور وہ حالت اُس پر وارد ہو جاتی ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ کی ہوتی ہے۔‘‘
( الحکم 24؍ مئی 1901ء صفحہ4)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔ جو زنا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ زنا کی راہ بہت بُری راہ ہے یعنی منزلِ مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کے لیے سخت خطرناک ہے۔“
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ342 )
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ دل کی مثال ایک بڑی نہر کی سی ہے جس میں سے اَور چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں جن کو سُواَ کہتے ہیں یا راجباہا کہتے ہیں۔ دل کی نہر میں سے بھی چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں مثلاً زبان وغیرہ ۔ اگر چھوٹی نہر یعنی سُوئے کا پانی خراب اور گندہ اور مَیلا ہو تو قیاس کیا جاتا ہے کہ بڑی نہر کا پانی خراب ہے۔ پس اگر کسی کو دیکھو کہ اس کی زبان یا دست وپا وغیرہ میں سے کوئی عضو ناپاک ہے تو سمجھو کہ اُس کا دل بھی ایسا ہی ہے۔‘‘
)تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد 2صفحہ 459)