حق مہر اور اُس کی اہمیت )تقریر نمبر 1)

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ مَیں نے مہر کی تعیین چھ ماہ سے ایک سال تک کی آمدن کی ہے یعنی مجھ سے کوئی مہر کے متعلق مشورہ کرے تو مَیں یہ مشورہ دیا کرتا ہوں کہ اپنی چھ ماہ کی آمد سے ایک سال تک کی آمد بطور مہر مقرر کر دو اور یہ مشورہ میرا اِس امر پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة و السلام سے الوصیت کے قوانین میں دسویں حصہ کی شرط رکھوائی ہے۔ گویا اسے بڑی قربانی قرار دیا ہے۔ اس بناء پر میرا خیال ہے کہ اپنی آمدنی کا دسواں حصہ باقی اخراجات کو پورا کرتے ہوئے مخصوص کر دینا معمولی قربانی نہیں بلکہ ایسی قربانی ہے کہ جس کے بدلے میں ایسے شخص کو جنت کا وعدہ دیا گیا ہے اس حساب سے ایک سال کی آمد جو گویا متواتر دس سال کی آمد کا دسواں حصہ ہوتا ہے بیوی کے مہر میں مقرر کر دینا مہر کی اغراض کو پورا کرنے کے لئے بہت کافی ہے بلکہ میرے نزدیک انتہائی حدّ ہے ۔ ‘‘
(الفضل12؍دسمبر1940ء)

مزید پڑھیں

کیا نظرِبد حقیقت ہے؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” مَیں دیکھتا ہوں کہ اولیاء اللہ میں کسی ایسی بات کا ہونا بھی سنت اللہ میں چلا آتا ہے جیسا کہ خوبصورت بچے کو جب ماں عمدہ لباس پہنا کر باہر نکالتی ہے تو اس کے چہرے پر ایک سیاہی کا داغ بھی لگا دیتی ہے تاکہ وہ نظرِ بد سے بچا رہے۔ ایسا ہی خدا بھی اپنے پاکیزہ بندوں کے ظاہری حالات میں ایک ایسی بات رکھ دیتا ہے جس سے بد لوگ اس سے دور رہیں اور صرف نیک ہی اس کے گرد جمع رہیں۔ سعید آدمی چہرے کی اصلی خوبصورتی کو دیکھتا ہے اور شقی کا دھیان اس داغ کی طرف رہتا ہے۔“
(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ 209-210)

مزید پڑھیں

’’اچھے بھلے کو دیکھ کے دیوانہ کر دیا ‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین باتیں جس میں ہوں وہ ایمان کا مزہ پا لیتا ہے۔ اِن میں سے دو باتیں دیوانگی کے متعلق ہیں۔ اوّل اللہ اور اُس کے رسول تمام دوسری چیزوں سے بڑھ کر اُسے پیارے ہوں اور دوم یہ کہ جس انسان سے بھی محبت کرے صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے محبت کرے۔
(بخاری کتاب الایمان)

مزید پڑھیں

انسانی قویٰ اور ملائکہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ اللّٰه – اللہ تعالیٰ کے اخلاق میں رنگین ہو جاوے جب تک اِس مرتبہ تک نہ پہنچ جائے نہ تھکے نہ ہارے۔ اِس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا ہو جاتا ہے جو عبادت الٰہی کی طرف اُسے لئے جاتا ہے اور وہ حالت اُس پر وارد ہو جاتی ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ کی ہوتی ہے۔‘‘
( الحکم 24؍ مئی 1901ء صفحہ4)

مزید پڑھیں

ہاتھ اور پاؤں کا زنا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔ جو زنا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ زنا کی راہ بہت بُری راہ ہے یعنی منزلِ مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کے لیے سخت خطرناک ہے۔“
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ342 )

مزید پڑھیں

دل کا زنا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ دل کی مثال ایک بڑی نہر کی سی ہے جس میں سے اَور چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں جن کو سُواَ کہتے ہیں یا راجباہا کہتے ہیں۔ دل کی نہر میں سے بھی چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں مثلاً زبان وغیرہ ۔ اگر چھوٹی نہر یعنی سُوئے کا پانی خراب اور گندہ اور مَیلا ہو تو قیاس کیا جاتا ہے کہ بڑی نہر کا پانی خراب ہے۔ پس اگر کسی کو دیکھو کہ اس کی زبان یا دست وپا وغیرہ میں سے کوئی عضو ناپاک ہے تو سمجھو کہ اُس کا دل بھی ایسا ہی ہے۔‘‘
)تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد 2صفحہ 459)

مزید پڑھیں

دل کی گلیوں میں اعتکاف

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا تعالیٰ نے صرف قرآن کریم میں ہاتھ پیر کے گناہوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ کان اور آنکھ اور دل کے گناہوں کا بھی ذکر کیا ہے جیسا کہ وہ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِکَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا یعنی کان اور آنکھ اور دل جو ہیں ان سب سے باز پرس کی جائے گی ۔ اب دیکھو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کان اور آنکھ کےگناہ کا ذکر کیا ایسا ہی دل کے گناہ کا بھی ذکر کیا مگر دل کا گناہ خطرات اور خیالات نہیں ہیں کیونکہ وہ تو دل کے بس میں نہیں ہیں بلکہ دل کا گناہ پختہ ارادہ کر لینا ہے۔صرف ایسے خیالات جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں گناہ میں داخل نہیں ۔ ہاں اس وقت داخل ہو جائیں گے جب ان پر عزیمت کرے اور ان کے ارتکاب کا ارادہ کرلیوے۔ “
(نور القرآن ، روحانی خزائن جلد 9صفحہ428-427)

مزید پڑھیں

’’انسان کا سینہ بیتُ اللہ اور دل حجرِاسود ہے‘‘ (مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس گھر کو بتوں سے صاف کرو۔ فرمایا …… (البقرہ: 126) یعنی میرے گھر کو فرشتوں کے لئے پاک کرو۔انسان کا دل خدا کا گھر ہے یہ خدا کا گھر اس وقت کہلائے گا اور اس وقت فرشتوں کا طواف گاہ بنے گا جب یہ اوہام باطلہ وعقائد فاسدہ سے بالکل پاک وصاف ہو۔ جب تک انسان کا دل صاف نہ ہو اس کی عملی حالت درست نہیں ہو سکتی‘‘
(ملفوظات جلد10 صفحہ74-75 حاشیہ)

مزید پڑھیں

ٹائٹل بمقابلہ رینک (Title v/s Rank)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ چاہیے کہ اسلام کی ساری تصویر تمہارے وجود میں نمودار ہو اور تمہاری پیشانیوں میں اثر سجود نظر آوے اور خدائے تعالیٰ کی بزرگی تم میں قائم ہو۔ اگر قرآن اور حدیث کے مقابل پر ایک جہان عقلی دلائل کا دیکھو تو ہرگز اس کو قبول نہ کرو اور یقیناً سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے۔ توحید پر قائم رہو اور نماز کے پابند ہو جاؤ اور اپنے مولیٰ حقیقی کے حکموں کو سب سے مقدم رکھو اور اسلام کے لئے سارے دکھ اٹھاؤ۔ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔‘‘
(روحانی خزائن جلد3ازالہ اوہام صفحہ552)

مزید پڑھیں