کانوں کی افادیت اور اِن کا درست و برمحل استعمال

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ جب انسان اپنے نفس کو کھو دیتا ہے اور غیر اللہ کی طرف التفات نہیں رہتی اور کسی کو اپنی نظر میں نہیں دیکھتا اور خدا ہی کو دیکھتا اور اس کو ہی سناتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ بھی اس کو سناتا ہے۔ مگر وہ لوگ جن کے باوجودیکہ دوکان ہوتے ہیں مگر وہ حرص، ہوا، غصّہ، کینہ وغیرہ ہر قسم کی طاقتوں کی باتیں سنتے ہیں وہ خدا تعالٰی کی بات کیوں کر سُن سکتے ہیں ہاں ایک قوم ہوتی ہے جو باقی سب کو ذبح کر ڈالتے ہیں اور سب طرف سے کانوں کو بند کر لیتے ہیں نہ کسی کی سنتے ہیں نہ کسی کو سناتے ہیں انہیں ہی خدا بھی اپنی سناتا ہے اور ان کی سنتا ہے اور وہی مبارک ہوتا ہے۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 105)

مزید پڑھیں

کان کا زنا

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
” حفص بن عاصم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ انسان کے جھوٹے ہونے کے لئے یہی علامت کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔ اب دیکھیں یہ عادت عموماً لوگوں میں ہوتی ہے۔ جماعت میں بھی یہ برائی بعض لوگوں میں بہت زیادہ ہے مجھے بھی کوئی لوگ لکھ دیتے ہیں بعض کسی کے بارے میں کہ اس نے یہ کیا اور وہ کیا اور جب تحقیق کرو تو بات غلط نکلتی ہے اور جب لکھنے والے سے پوچھا جائے کہ کس نے کہا تمہیں یہ بات تو غلط ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا تھا اور اس سننے پر ہی وہ دنیا میں شور مچا دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو غور کرنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو جھوٹا قرار دیا ہے۔“
(خطبہ جمعہ 24 ؍اپریل 2026ء)

مزید پڑھیں

زبان کا زنا

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے یوں بیان فرمایا ہے۔
’’ پہلے زمانے میں تو کہا جاتا تھا کہ عورتیں زیادہ باتیں کرتی ہیں لیکن اب تو مَردوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ غلط قسم کی باتوں کی مجلسوں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ وقت ضائع کرتے ہیں اور لغویات میں مبتلا ہو کر بجائے عورتوں کی اصلاح کرنے کے خود بگڑتے چلے جا رہے ہیں اور پھراس کی وجہ سے بعض دفعہ تو یہ شکایت آتی ہے اور عورتیں شکایت کرتی ہیں کہ مَرد ہمیں کہتے ہیں کہ تم پردے چھوڑ دو۔ فلاں مجالس میں آنا شروع کر دو یا ایسی سوسائٹی میں بیٹھو۔“
(خطاب جلسہ سالانہ لجنہ جرمنی از ایوانِ مسرور 30 اگست 2025ء)

مزید پڑھیں

آنکھ کا زنا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ قرآن شریف نے جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مدنظر رکھ کر حسب حال تعلیم دیتا ہے کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے۔ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ وَیَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَزۡکٰی لَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ (النور: 31) کہ تُوایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔ یہ وہ عمل ہے جس سے ان کے نفوس کا تزکیہ ہو گا ۔ فروج سے مراد صرف شرمگاہ ہی نہیں بلکہ ہر ایک سوراخ جس میں کان وغیرہ بھی شامل ہیں اور ان میں اس امر کی مخالفت کی گئی ہے کہ غیر محرم عورت کا راگ وغیرہ سنا جاوے۔ پھر یاد رکھو کہ ہزار در ہزار تجارب سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے آخر کار انسان کو ان سے رکنا ہی پڑتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 135)

مزید پڑھیں

اپنے اندر بیماریوں کو ڈیلیٹ کرنے کا شعار بنائیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوسری شرطِ بیعت میں فرمایا ہے کہ
’’ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔ ‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ159 اشتہار ’’تکمیل تبلیغ‘‘، اشتہار نمبر51)

مزید پڑھیں

تصویر اَور فوٹو میں فرق اور اِن کا مشرکانہ استعمال (تقریر نمبر5)

ایک شخص نے حضرت مصلح موعودؓ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فوٹو کا ذکر کیا اور عرض کیا لوگ کہتے ہیں یہ بُت پرستی ہے؟ اس کے جواب میں آپؓ نے فرمایا کہ
’’کیا بُت پرستی؟ کیا کسی کی شکل دیکھنا بُت پرستی ہے ۔ رہا یہ امر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ایسا نہیں ہوا اس وقت تو کیمرہ ایجاد بھی نہیں ہوا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع کیا ہے وہ فوٹو نہیں بلکہ تصویر ہے۔ مصوّر انسانی جذبات کا اظہار تصویر میں دکھاتا ہے مگر فوٹو گرافر صرف شکل دکھاتا ہے۔ اس میں باطنی جذبات کا اظہار نہیں ہوتا۔ انبیاء کی تصویر اسی لیے ناجائز ہے کہ انبیاء کا کیریکٹر اپنے اندر گوناگوں خصوصیات رکھتا ہے اور ممکن ہی نہیں کوئی مصوّر ان کا نقشہ تصویر میں دکھا سکے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر نہیں بلکہ فوٹو ہے اور یہ محض شکل ہے۔ مصوّر کی غرض یہ ہوتی ہے کہ تصویر کے چہرے پر ایسے اثرات ڈالے جس سے اس انسان کے اخلاق پر روشنی پڑے اور انبیاء کے باطنی کمالات کا اظہار کوئی مصوّر نہیں کر سکتا۔ بالکل ممکن ہے ایک مصوّر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر کھینچے مگر آپ کے چہرے پر وحشت کا اثر ڈالے وہ تصویر تو ہو گی مگر لوگوں کے دلوں میں اس سے نفرت پیدا ہوگی۔ حدیث میں جو تصویر کا ذکر آ تا ہے اس سے مصوّر کی بنائی ہوئی تصویر ہی مراد ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فوٹو آپ کی صورت کا عکس ہے اورعکس کو تو وہابیوں نے بھی جائز تسلیم کیا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے شیشہ میں انسان اپنی شکل دیکھے اور اگر عکس نا جائز ہے تو پھر شیشہ دیکھنا بھی جائز نہیں ہونا چا ہئے۔ اسی طرح پانی میں بھی عکس آ جا تا ہے مگر اسے کوئی نا جائز نہیں کہتا۔ ان میں اور فوٹو میں فرق صرف یہ ہے کہ فوٹو تو انسان کی شکل محفوظ رکھتا ہے مگر شیشہ یا پانی کا عکس محفوظ نہیں رہتا۔‘‘
(الفضل 14 اپریل 1931 صفحہ6،5 ۔ ماخوذاز فرمودات مصلح موعودؓ دربارہ فقہی مسائل)

مزید پڑھیں

’’دیکھو! کیا کہتی ہے تصویر تمہاری‘‘ )تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوٹو گرافی کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ مَیں نے دیکھا ہے کہ آج کل یورپ کے لوگ جس شخص کی تالیف کو دیکھنا چاہیں اوّل خواہشمند ہوتے ہیں جواُس کی تصویر دیکھیں کیونکہ یورپ کے ملک میں فراست کے علم کو بہت ترقی ہے اور اکثر اُن کی محض تصویر کو دیکھ کر شناخت کر سکتے ہیں کہ ایسا مُدعی صادق ہے یا کاذب اور وہ لوگ بباعث ہزارہا کوس کے فاصلہ کے مجھ تک پہنچ نہیں سکتے اور نہ میرا چہرہ دیکھ سکتے ہیں لہٰذا اُس ملک کے اہلِ فراست بذریعہ تصویر میرے اندرونی حالات میں غور کرتے ہیں۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو انہوں نے یورپ یا امریکہ سے میری طرف چٹھیاں لکھی ہیں اور اپنی چٹھیوں میں تحریر کیا ہے کہ ہم نے آپ کی تصویر کو غور سے دیکھا اور علمِ فراست کے ذریعہ سے ہمیں ماننا پڑا کہ جس کی یہ تصویر ہے وہ کاذب نہیں ہے اور ایک امریکہ کی عورت نے میری تصویر کو دیکھ کر کہا کہ یہ یسوع یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21 صفحہ366)

مزید پڑھیں

تصویریں بولتی اور تبلیغ کا کام کرتی ہیں (تقریر نمبر3)

جلسہ سالانہ برطانیہ 2018ء کے موقع پر گوادے لوپ کے ایک نومبائع پیٹرس میاکو (Patrice Mayeko) صاحب کہتے ہیں کہ
’’جلسہ میں منعقد کی جانے والی تمام نمائشیں بہت فائدہ مند تھیں۔ خاص طور پر آرکائیو اور مخزن تصاویر اور ریویو آف ریلیجنز نے مجھے بہت متاثر کیا۔ یہ نمائشیں مجھے بہت پسند آئیں اور انہوں نے میرے احمدیت کی تاریخ کے بارے میں علم میں بہت اضافہ کیا۔‘‘

مزید پڑھیں