گلشنِ احمد کی ہیں ہم چہچہاتی بُلبلیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں:
’’ناصرات بھی عہد کرتی ہیں۔ ان کو بھی اپنے عہدوں کو نبھانا چاہئے۔ چودہ پندرہ سال کی عمر ہوش کی عمر ہوتی ہے اور اچھا بُرا سمجھنے کی عمر ہوتی ہے اور یہ آخری عمر ہے ناصرات کی اور اس عمر میں ہی بہت ساری خواہشات بھی ہوتی ہیں۔ اگر دنیا کی طرف نظر ہو تو دنیاوی خواہشات دین پر حاوی ہو جاتی ہیں۔ اس لئے ہر احمدی بچی کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور اپنے عہد کو بار بار دہراتے رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر احمدی بچی بجائے فضول دنیاوی خواہشات کے پیچھے چلنے کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے کوشش کرنے والی ہو اور وہ اعلیٰ مقاصدناصرات کے عہد میں یہ بیان کئے گئے ہیں کہ مذہب، قوم اور وطن کی خدمت کے لئے تیار رہنا، ہمیشہ سچائی پر قائم رہنا، خلافت احمدیہ کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہنا۔ پس اگر ہماری بچیاں اس عہد کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں تو جہاں اپنی زندگیاں محفوظ کر لیں گی وہاں آئندہ نسلوں کی زندگیوں کو بھی محفوظ کرنے والی ہوں گی اور انہیں خلافت سے جوڑنے والی ہوں گی۔“
(خطبہ جمعہ 30؍ستمبر2016ء)

مزید پڑھیں

بچے، جماعت کا قیمتی اثاثہ ہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ ایسے بچے جن کو اس طرح بچپن میں مالی قربانی کی عادت پڑ جائے وہ آئندہ نسلوں کی قربانیوں کی ضمانت بن جایا کرتے ہیں ۔ اللہ کرے کہ یہ روح ہمارے بچوں میں بڑھتی چلی جائے …..بچوں کو اس کی اہمیت کا احساس دلائیں، قربانی کی روح ان میں پیدا کریں۔ جو بچے اس مادی دور میں اس طرح قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں گے، اس طرح قربانی کرتے ہوئے پروان چڑھیں گے، وہ نہ صرف جماعت کا بہترین وجود بنیں گے بلکہ اپنے روشن مستقبل کی بھی ضمانت بن جائیں گے۔ لہو ولعب سے بچتے ہوئے، فضولیات سے بچتے ہوئے لغویات سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں گے۔‘‘
(خطبات مسرور جلد 6صفحہ5)

مزید پڑھیں

اٰمَنُوۡا اورعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کا حسین امتزاج

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما تے ہیں:
’’ایمان کے ساتھ عمل کی ضرورت ہے ورنہ ایمان بَدُوں عمل مُردہ ہے اور جب تک عمل نہ ہو وہ ثمرات اور نتائج پیدا نہیں ہوتے جو اعمال کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ مگر اعمال کی قوت اور توفیق معرفت اور یقین سے پیدا ہوتی ہے۔ جس قدر یہ قوت بڑھتی ہے اُسی قدر اعمالِ صالحہ کی توفیق ملتی ہے اوروہ برکات حاصل ہوتی ہیں جن سے انسان آسمان کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔‘‘

مزید پڑھیں

اسلام ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’نوافل سے مومن میرا مقرّب ہو جاتا ہے ایک فرائض ہوتے ہیں دوسرے نوافل یعنی ایک تو وہ احکام ہیں جو بطور حق واجب کے ہیں اور نوافل وہ ہیں جو زائد از فرائض ہیں اور وہ اس لئے ہیں کہ فرائض میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہونوافل سے پوری ہو جاوے۔ لوگوں نے نوافل صرف نماز ہی کے نوافل سمجھے ہوئے ہیں نہیں یہ بات نہیں۔ ہر فعل کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں۔ انسان زکوٰۃ دیتا ہے تو کبھی زکوٰۃ کے سوا بھی دے۔ رمضان میں روزے رکھتا ہے کبھی اس کے سوا بھی رکھے قرض لے تو کچھ ساتھ زائد دے کیونکہ اس نے مروّت کی ہے۔ نوافل متمّم فرائض ہوتے ہیں‘‘
(ملفوظات جلد2 صفحہ79-80)

مزید پڑھیں

حق مہر کی اہمیت (خلفاء کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ جہاں تک خلع اور طلاق کا تعلق ہے اگر کوئی خاوند صرف مہر کی ادائیگی سے بچنے کے لئے عورت کو تنگ کرتا ہے کہ وہ خلع لے لے اور سمجھتا ہے کہ اِس طرح اُس کو مہر نہیں دینا پڑے گا تو وہ بڑا احمق ہے اسے جماعت چھوڑ دینی چاہیے۔ مَیں تمہیں شریعت اسلامیہ سے استہزاء نہیں کرنے دوں گا جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہیں کرنے دیا تھا ۔‘‘
( خطبات ناصر جلد 7صفحہ421 )

مزید پڑھیں

حق مہر اور اُس کی اہمیت )تقریر نمبر 1)

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ مَیں نے مہر کی تعیین چھ ماہ سے ایک سال تک کی آمدن کی ہے یعنی مجھ سے کوئی مہر کے متعلق مشورہ کرے تو مَیں یہ مشورہ دیا کرتا ہوں کہ اپنی چھ ماہ کی آمد سے ایک سال تک کی آمد بطور مہر مقرر کر دو اور یہ مشورہ میرا اِس امر پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة و السلام سے الوصیت کے قوانین میں دسویں حصہ کی شرط رکھوائی ہے۔ گویا اسے بڑی قربانی قرار دیا ہے۔ اس بناء پر میرا خیال ہے کہ اپنی آمدنی کا دسواں حصہ باقی اخراجات کو پورا کرتے ہوئے مخصوص کر دینا معمولی قربانی نہیں بلکہ ایسی قربانی ہے کہ جس کے بدلے میں ایسے شخص کو جنت کا وعدہ دیا گیا ہے اس حساب سے ایک سال کی آمد جو گویا متواتر دس سال کی آمد کا دسواں حصہ ہوتا ہے بیوی کے مہر میں مقرر کر دینا مہر کی اغراض کو پورا کرنے کے لئے بہت کافی ہے بلکہ میرے نزدیک انتہائی حدّ ہے ۔ ‘‘
(الفضل12؍دسمبر1940ء)

مزید پڑھیں

کیا نظرِبد حقیقت ہے؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” مَیں دیکھتا ہوں کہ اولیاء اللہ میں کسی ایسی بات کا ہونا بھی سنت اللہ میں چلا آتا ہے جیسا کہ خوبصورت بچے کو جب ماں عمدہ لباس پہنا کر باہر نکالتی ہے تو اس کے چہرے پر ایک سیاہی کا داغ بھی لگا دیتی ہے تاکہ وہ نظرِ بد سے بچا رہے۔ ایسا ہی خدا بھی اپنے پاکیزہ بندوں کے ظاہری حالات میں ایک ایسی بات رکھ دیتا ہے جس سے بد لوگ اس سے دور رہیں اور صرف نیک ہی اس کے گرد جمع رہیں۔ سعید آدمی چہرے کی اصلی خوبصورتی کو دیکھتا ہے اور شقی کا دھیان اس داغ کی طرف رہتا ہے۔“
(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ 209-210)

مزید پڑھیں

’’اچھے بھلے کو دیکھ کے دیوانہ کر دیا ‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین باتیں جس میں ہوں وہ ایمان کا مزہ پا لیتا ہے۔ اِن میں سے دو باتیں دیوانگی کے متعلق ہیں۔ اوّل اللہ اور اُس کے رسول تمام دوسری چیزوں سے بڑھ کر اُسے پیارے ہوں اور دوم یہ کہ جس انسان سے بھی محبت کرے صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے محبت کرے۔
(بخاری کتاب الایمان)

مزید پڑھیں

انسانی قویٰ اور ملائکہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ اللّٰه – اللہ تعالیٰ کے اخلاق میں رنگین ہو جاوے جب تک اِس مرتبہ تک نہ پہنچ جائے نہ تھکے نہ ہارے۔ اِس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا ہو جاتا ہے جو عبادت الٰہی کی طرف اُسے لئے جاتا ہے اور وہ حالت اُس پر وارد ہو جاتی ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ کی ہوتی ہے۔‘‘
( الحکم 24؍ مئی 1901ء صفحہ4)

مزید پڑھیں

ہاتھ اور پاؤں کا زنا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔ جو زنا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ زنا کی راہ بہت بُری راہ ہے یعنی منزلِ مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کے لیے سخت خطرناک ہے۔“
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ342 )

مزید پڑھیں