صحابیاتِ رسولؐ کی قربانیاں
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” صحابیات نے جو قربانیاں کیں آج تک دنیا کے پردے پر اُس کی مثال نہیں ملتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جنگ کے لئے جانے لگے تو ایک صحابیہ بھی لشکر میں آشامل ہوئی، جب صحابہؓ نے اُس کو منع کیا تو اُس عورت نے کہا کیوں! ہم کیوں نہ جائیں۔ کیا ہم پر اسلام کی خدمت فرض نہیں؟ اس کا یہ جواب سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایااسے بھی ساتھ لے چلو اور زخمیوں کو پانی پلانے اور اُن کی مرہم پٹی کرنے کا کام اُس کے سپرد کر دیا…اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھاکہ جب آپ جنگ کے لئے جاتے تو کچھ عورتوں کو بھی ساتھ لے جاتے جو نرسنگ کا کام کرتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں۔ اکثر دفعہ آپؐ کی بیویاں بھی جنگ میں شامل ہوتیں اور نرسنگ کا کام کرتیں۔ جنگِ اُحد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہؓ بھی شامل تھیں۔ کوئی جنگ ایسی نہیں جس میں صحابیات پیچھے رہی ہوں۔“
(فریضۂ تبلیغ، انوارالعلوم جلد18صفحہ 400-403)
