بابت تاریخ ’’مشاہدات‘‘ کے دو سال

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کوئی محدود طاقتوں والا نہیں ہے۔ اگر وہ چاہے کہ نبی کے زمانے میں بھی نبی سے کئے گئے تمام وعدے اور فتوحات کو اس زمانہ میں اور اس کی زندگی میں پورا کر دے تو کر سکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بعد میں آنے والے بھی ان فتوحات اور انعامات سے حصہ لینے والے بن جائیں۔ پس اس زمانہ کے تیز وسائل ہمیں اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ ان کا صحیح استعمال کریں۔ انہیں کام میں لائیں اور صحابہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے زمانہ کے امام کے معین و مددگار بن جائیں اور مددگار بن کر اس کے مشن کو پورا کرنے والے ہوں۔ تیز رفتار وسائل اس طرف توجہ مبذول کروا رہے ہیں کہ ہم اس تیز رفتاری کو خدا تعالیٰ کا انعام سمجھتے ہوئے اس کے دین کے لئے استعمال کریں ……پس خداتعالیٰ نے اس نشر کے اس زمانہ میں جدید طریقے مہیا فرما دیئے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے پاس آج کل کے وسائل اور جدید طریقے موجودنہیں تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے تبلیغِ اسلام کا حق ادا کر دیا۔ آج کل ہمارے پاس یہ طریقے موجود ہیں ….. جو تیزی میڈیا میں آج کل ہے آج سے چند دہائیاں پہلے ان کا تصوّر بھی نہیں تھا۔ پس یہ مواقع ہیں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائے ہیں کہ اسلام کی تبلیغ اور دفاع میں ان کو کام میں لاؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ جدید ایجادات اس زمانہ میں ہمارے لئے اس نے مہیا فرمائی ہیں۔ ہمارے لئے یہ مہیا کر کے تبلیغ کے کام میں سہولت پیدا فرما دی ہے اور ہماری کوشش اس میں یہ ہونی چاہئے کہ بجائے لغویات میں وقت گزارنے کے، ان سہولتوں سے غلط قسم کے فائدے اٹھانے کے ان سہولتوں کا صحیح فائدہ اٹھائیں، ان کو کام میں لائیں اور اگر اُس گروہ کا ہم حصہ بن جائیں جو مسیح محمدی کے پیغام کو دنیا میں پہنچا رہا ہے تو ہم بھی اس گروہ میں شامل ہو سکتے ہیں، ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جن کی خداتعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ15 ؍اکتوبر 2010ء)

مزید پڑھیں

بابت خلافت خلافت از افاضات حضرت مسیح موعود علیہ السلام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’خلیفہ کے معنےجانشین کے ہیں، جو تجدید دین کرے، نبیوں کے زمانہ کے بعد جو تاریکی پھیل جاتی ہے اس کو دور کرنے کے واسطے جو ان کی جگہ آتے ہیں، انہیں خلیفہ کہتے ہیں“
(ملفوظات، جلد چہارم صفحہ 383 )

مزید پڑھیں

نظام خلافت (تعارف ، تعریف، اہمیت اور اقسام)

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
مَا کَانَت نُبوَّۃُ قَطُّ اِلَا تَبِعَتْہَا خِلَافَۃٌ
یعنی ہر نبوت کے بعد لازماًخلافت کا سلسلہ قائم ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

قرآن کی رمضان سے نسبت، تعلق اور اِس کی  اہمیت و برکات (خلاصہ خطبہ جمعہ حضورِ ایدہ اللہ فرمودہ 14  مارچ 2025ء)

حضرت جبرئیل علیہ السلام ہر سال جو بھی قرآن کریم نازل ہوا ہوتا تھا اس کا ایک دور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل کروایا کرتے تھے اور آپؐ کی زندگی کے آخری سال میں تو دو دفعہ مکمل ہوا۔ تو قرآن کریم کی اہمیت اور نسبت رمضان کےساتھ بہت زیادہ ہے۔ پس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے اور قرآن کریم کو پڑھنے، سننے اور درسوں میں شامل ہونے وغیرہ کی طرف توجہ دینی چاہئے۔

مزید پڑھیں

عشقِ الٰہی وَسّے منہ پر وَلیاں ایہہ نشانی

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’کوئی صاحبِ نور دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا جاتا ہے اور جب وہ آتا ہے تو اُس کی طرف مستعد روحیں کھنچی چلی آتی ہیں اور پاک فطرتیں خودبخود روبحق ہوتی جاتی ہیں اور جیسا کہ ہرگز ممکن نہیں کہ شمع کے روشن ہونے سے پروانہ اس طرف رخ نہ کرے ایسا ہی یہ بھی غیرممکن ہے کہ ہر وقت ظہور کسی صاحبِ نور کے صاحبِ فطرت سلیمہ کا اس کی طرف بارادت متوجہ نہ ہو‘‘
)روحانی خزائن جلد 1صفحہ646(

مزید پڑھیں

پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی یا پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’نبیوں کا عظیم الشان کما ل یہ ہے کہ وہ خدا سے خبریں پاتے ہیں۔ چنانچہ قرآن شریف میں آیاہے فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ (الجن: 27تا28) یعنی خدا تعالیٰ کے غیب کی باتیں کسی دوسرے پر ظاہر نہیں ہوتیں ہاں اپنے نبیوں میں سے جس کو وہ پسند کرے۔ جو لوگ نبوت کے کمالات سے حصہ لیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو قبل از وقت آنے والے واقعات کی اطلاع دیتاہے اور یہ بہت بڑا عظیم الشان نشان خدا کے مامور اور مُرسَلوں کاہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اَور کوئی معجزہ نہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 412)

مزید پڑھیں

سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ کا نادر و نایاب نسخہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا تھا جو ہر بُرائی میں ملوث تھا۔ چوری بہت کرتا تھا۔ ڈاکہ بھی ڈالتا تھا۔ زنا بھی کرتا تھا اور جھوٹ بھی بولتا تھا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے یہی نصیحت فرمائی تھی کہ جھوٹ ترک کردو۔ وہ جھوٹ ترک کرنے کے پختہ عزم کے ساتھ دربارِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوا اور جب بھی بُرائی کی طرف بڑھا۔ ہمیشہ یہی خیال دل میں جنم لیتا کہ اگر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا یہ کام کیا ہے؟ اگر وہ بُرا کام کیا ہو اور مَیں کہوں کہ نہیں کیا تو یہ جھوٹ ہوگا جبکہ خدا مجھے دیکھ رہا ہو گا اور اگر کہا۔ کیا ہے تو یہ اپنی ذات میں قابل سرزنش ہے اوریوں اس نے تمام بُرائیوں اور بدیوں کو خیر آباد کہہ دیا۔ اس کے سامنے ایک ذات سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی اور اگر اس عظیم ذات کو پیدا کرنے والی ہستی کو ہم اپنی زندگیوں میں مدنظر نظر رکھیں تو کیا کایا نہیں پلٹ سکتی۔

مزید پڑھیں

’’ زکریا والی توبہ کرو‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
”سچی توبہ درحقیقت ایک موت ہے جو انسان کے ناپاک جذبات پر آتی ہے اور ایک سچی قربانی ہے جو انسان اپنے پورے صدق سے حضرت احدیت میں ادا کرتا ہے اور تمام قربانیاں جو رسم کے طور پر ہوتی ہیں اسی کا نمونہ ہے۔ “
(قادیان کے آریہ اور ہم، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 447-448)

مزید پڑھیں

وہی اُس کے مقرب ہیں جو اپنا آپ کھوتے ہیں

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے۔ محمدؐ جو جلالی نام تھا اور احمدؐ جوکہ جمالی نام تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی نام احمدؐ کی صفت پر ہے اور یہ دَور بھی جمالی یعنی محبت و پیار کا دَور ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے فرقہ کا نام ’’مسلمان فرقہ احمدیہ‘‘ رکھ کر اس کی توجیہ یہ فرمائی کہ
’’ اِس فرقہ کا نام مسلمان فرقہ احمدیہ اس لئے رکھا گیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دوسرا احمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسم محمد جلالی نام تھا اور اِس میں یہ مخفی پیشگوئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن دشمنوں کو تلوار کے ساتھ سزا دیں گے جنہوں نے تلوار کے ساتھ اسلام پر حملہ کیا اور صد ہا مسلمانوں کو قتل کیا۔ لیکن اسم احمد جمالی نام تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آشتی اور صلح پھیلائیں گے۔ سو خدا نے ان دو ناموں کی اس طرح پر تقسیم کی کہ اوّل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ کی زندگی میں اسم احمدکا ظہور تھا اور ہر طرح سے صبر اور شکیبائی کی تعلیم تھی اور پھر مدینہ کی زندگی میں اسم محمد کا ظہور ہوا اور مخالفوں کی سرکوبی خدا کی حکمت اور مصلحت نے ضروری سمجھی لیکن یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں اسم احمد ظہور کرے گا اور ایسا شخص ظاہر ہوگا جس کے ذریعہ سے احمدی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی اور تمام لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ پس اِسی وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام احمدیہ رکھا جائے تا اِس نام کو سنتے ہی ہر ایک شخص سمجھ لے کہ یہ فرقہ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلانے آیا ہے اور جنگ اور لڑائی سے اِس فرقہ کو کچھ سروکار نہیں۔ سو اے دوستو! آپ لوگوں کو یہ نام مبارک ہو اور ہر ایک جو امن اور صلح کا طالب ہو یہ فرقہ بشارت دیتا ہے۔ نبیوں کی کتابوں میں پہلے سے اس مبارک فرقہ کی خبر دی گئی ہے اور اس کے ظہور کے لئے بہت سے اشارات ہیں۔ زیادہ کیا لکھا جائے خدا اس نام میں برکت ڈالے۔ خدا ایسا کرے کہ تمام روئے زمین کے مسلمان اِسی مبارک فرقہ میں داخل ہوجائیں تا انسانی خونریزیوں کا زہر بکلی اُن کے دلوں سے نکل جائے اور وہ خدا کے ہو جائیں اور خدا اُن کا ہو جائے۔ اے قادرو کریم! تو ایسا ہی کر۔ آمین‘‘
(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد15 صفحہ 527۔ 528)

مزید پڑھیں