خلافت کے فیوض و برکات ( تقریر نمبر 2)
خدا تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود ؓ .کو آپ کے دور خلافت کی ابتدا میں فرمایا:
’’مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت! تم پر خلافت کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ ‘‘
(منصب خلافت صفحہ 27)
خدا تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود ؓ .کو آپ کے دور خلافت کی ابتدا میں فرمایا:
’’مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت! تم پر خلافت کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ ‘‘
(منصب خلافت صفحہ 27)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو چھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا وے ۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لیے تم میری اس بات سے جو مَیں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ قدرت نہیں آسکتی جب تک مَیں نہ جاؤں۔ لیکن جب مَیں جاؤں گا تو خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لیے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔ مَیں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور مَیں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہو گے… اور چاہیے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں“
(الوصیت، ر وحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305)
(تقریر نمبر5 بابت خلا فتِ خامسہ)
مکرم شیخ عمر احمد منیر صاحب۔ راولپنڈی لکھتے ہیں کہ جنوری 2003ء میں مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ مَیں لندن میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے پیچھے نماز جمعہ ادا کررہا ہوں۔ سلام پھیرنے کے بعد جاتے ہوئے حضور کی نظر جب مجھ پر پڑتی ہے تو مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کب آئے ہیں ۔ حضور کی قدم بوسی کے لئے آگے بڑھتا ہوں اور حضور سے مصافحہ کرتا ہوں تو حضور فرماتے ہیں ۔ شیخ صاحب! میرے بعد اب آپ نے صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب سے مصافحہ کرنا ہے۔ اتنی دیر میں مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب حضور کے ساتھ آکر کھڑے ہوجاتے ہیں اور مَیں فوراً صاحبزادہ صاحب سے مصافحہ کرلیتا ہوں تو حضور رحمہ اللہ میری کمر پر تھپکی دیتے ہیں اور اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے حضرت ام طاہررضی اللہ عنہا کو مخاطب ہوکرایک مرتبہ فرمایا:
”مجھے خداتعالیٰ نے الہاماً بتایا ہے کہ طاہر ایک دن خلیفہ بنے گا۔“
(ایک مرد خداصفحہ208)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”مجھے بھی خداتعالیٰ نے ایسی خبردی ہے کہ مَیں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گاجودین کا ناصر ہوگااور اسلام کی خدمت پر کمربستہ ہوگا۔“
(الفضل8؍اپریل1915ء)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اپنے خطبہ جمعہ 25؍جون 1937ء میں فرماتے ہیں:
” مَیں ابھی سترہ سال کا تھا۔ جو کھیلنے کودنے کی عمر ہوتی ہے کہ اس سترہ سال کی عمر میں خداتعالیٰ نے الہاماً میری زبان پر یہ کلمات جاری کئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ہاتھوں سے ایک کاپی پر لکھ لئے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْااِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ کہ وہ لوگ جو تیرے متبع ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں قیامت تک اُن لوگوں پرفوقیت اور غلبہ دے گا ۔جو تیرے منکر ہوں گے۔ “
(روزنامہ الفضل قادیان 09؍جولائی 1937ءصفحہ 4)
حضرت سید احمد نور صاحب کابلیؓ بیان کرتے ہیں :
”ایک دفعہ عجب خان تحصیلدار جو ہمارے یہاں آئے ہوئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے گھر جانے کی اجازت لے کر شہید مرحوم(یعنی حضرت شہزادہ عبدالطیف صاحب شہید) کے پاس آئے اور کہا کہ مَیں نے حضرت صاحب سے اجازت لے لی ہے لیکن مولوی نور الدین صاحب سے نہیں لی۔ شہید مرحوم نے فرمایا کہ مولوی صاحب سے جاکر ضرور اجازت لینا کیونکہ مسیح موعودؑ کے بعد یہی اوّل خلیفہ ہوں گے۔ چنانچہ جب شہید مرحوم جانے لگے تو مولوی صاحب سے حدیث بخاری کے دو تین صفحے پڑھے اور ہم سے فرمایا کہ یہ مَیں نے اس لئے پڑھے ہیں کہ تا مَیں ان کی شاگردی میں داخل ہوجاؤں حضرت صاحب کے بعد یہ خلیفہ اوّل ہوں گے۔“
(شہید مرحوم کے چشم دید واقعات از سید احمد نور کابلی صاحب صفحہ9-10)
شاخِ مُثمَرم مبارک وہ جو اب ایمان لایاصحابہ سے ملا جب مجھ کو پایاوہی مَے ان کو ساقی نے پلا دیفسبحان الّذی اخزی الاعادی مجھے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے محوّلہ بالا قطعہ اشعار میں سے دوسرے مصرع ؏ ”صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا“ پر دس تقاریر پر مشتمل ادارہ […]
مزید پڑھیںحضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’محض کسی ذات سے تعلق رکھنے والے عموماً ٹھوکر کھایا کرتے ہیں۔ میرے خیال میں تو انبیاء کی صفات بھی ان کے درجہ اور عہدہ کے لحاظ سے ہی ہوتی ہیں نہ کہ ان کی ذات کے لحاظ سے۔ پس تمہیں درجہ (خلافت) کی قدر کرنی چاہیے، کسی کی ذات کو نہ دیکھنا چاہیے“
(درس القرآن صفحہ 73)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’خلافتِ رابعہمیں ترقیات کا ایک اَور باب کھلا۔ اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور نصرت کے نئے نظارے ہم نےدیکھے۔ اشاعتِ اسلام کے نئے نئے رستے کھلے۔ خلیفۂ وقت کےہاتھ کاٹنے کا سوچنے والوں کے اپنے ہاتھ کٹ گئے اور فضا میں ان کے جسم بکھر گئے لیکن جماعت کی ترقی کے قدم نہیں رکے۔ تبلیغ کے میدان میں وسعت پیدا ہوئی۔ ایم ٹی اے کا آغاز ہوا جس سے ہر گھر میں جماعت کا پیغام پہنچنا شروع ہوا۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا تکمیل کی طرف بڑھنا ہے اور یہی چیز ہے اگر کوئی سمجھے تو۔ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا پورا ہونا نہیں تو اَور کیا تھا۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 27 مئی 2022 ء )