تقریر بابت رمضان المبارک 2025ء حضرت خلیفۃُ المسیح الرابعؒ کے فتاویٰ بابت روزے
عید کے بعد جو نفلی روزے ہیں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کئے تھے اور جن لوگوں کو توفیق رکھنے کی ہوان کو رکھنے چاہئیں۔ اس سے ان کی ایک قسم کی وصیت ادا ہوجاتی ہے کیونکہ 30 روزے میں 6 اور ڈال لو تو چھتیس بن گئے اور سال کے 360 دن اور 36 روزے یہ ان کی گویا وصیت ہوگئی تو بدن کی بھی وصیت ہوجاتی ہے۔ اس پہلو سے جو رکھ سکتے ہیں جن کو توفیق ہے وہ رکھیں شوق سے بعضوں کو رمضان میں ہی مشکل ہوتی ہے اور ان کے لئے زائد روزے رکھنا طبیعت کے لحاظ سے یا بیماری کے لحاظ سے آسان نہیں ہوتا۔ اس لئے ان کو اجازت ہے وہ بیشک نہ رکھیں۔
(لجنہ سے ملاقات، الفضل 8؍مئی 2000ء)
