محترمہ صاحبزادی امۃ المتین صاحبہ   بنت حضرت مصلح موعودؓ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 18اکتوبر2013ء میں صاحبزادی امۃ المتین صاحبہ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا :
’’خلافت سے بڑا وفا کا تعلق تھا۔ اور میری خالہ تھیں لیکن خلافت کے بعد جو ہمیشہ تعلق تھا، احترام اور محبت اور پیار اور عزت کا بہت بڑھ گیا تھا۔ بلکہ شروع میں جب پہلی دفعہ لندن آئی ہیں تو کسی کو کہا کہ مَیں تو اب کھل کے بات نہیں کر سکتی۔ اب بھی، پچھلے سال بھی جلسے پر آئی ہوئی تھیں، کافی بیمار تھیں لیکن پھر بھی جلسے پر لندن آئیں اور اُن سے ملاقات ہوئی۔‘‘

مزید پڑھیں

مکرمہ صاحبزادی  قدسیہ بیگم صاحبہ  اہلیہ مکرم  صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ کی وفات پر خطبہ جمعہ میں آپ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا :
’’بیٹے کی شہادت پر انہوں نے بڑا صبر دکھایا۔ مَیں خود بھی اس کا گواہ ہوں۔ بڑے صبر اور حوصلے سے یہ صدمہ برداشت کیا۔ جب مَیں (غلام قادر شہید کا ) افسوس کرنے ان کے پاس گیا تو بڑے مسکرا کر انہوں نے قادر شہید کی خوبیوں کا ذکر کیا اور بڑا حوصلہ دکھایا۔ مجھ سے خط و کتابت رکھتی تھیں اور جو آخری خط مجھے لکھا اُس میں بھی یہی فقرہ تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی تقویٰ عطا فرمائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے وارث ہوں اور آپ کی نسل ہونے کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ اللہ کرے کہ یہ دعا ان کی ساری اولاد میں اور سارے خاندان کے بارے میں پوری ہو۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ7ستمبر2012ء )

مزید پڑھیں

مکرم صاحبزادہ  مرزا مجید احمد صاحب

صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب کی بہو صاحبزادہ مرزا غلام قادر شہید کی بیوہ امۃ الناصرنصرت صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ
’’اپنے بیٹے مرزا غلام قادر شہید کی شہادت پر بہت صبر کا نمونہ دکھایا اور کہتی ہیں کہ شہادت کے بعد مرزا مجید احمد صاحب اور آپ کی اہلیہ بہت زیادہ قادر شہید کے بچوں کا خیال رکھتے۔ پھر بیماری کا بڑا لمبا عرصہ تھا اور بہت صبر اور ہمت کے ساتھ انہوں نے گزارا۔‘‘

مزید پڑھیں

خیالات کی ہجرت

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ کون سی ہجرت افضل ہے تو آپؐ نے فرمایا
مَنْ ہَجَرَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ
کہ جن باتوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ان کو چھوڑ دینا۔
(سنن ابوداؤد جلد اول کتاب الصلوٰۃ)

مزید پڑھیں

غَضِّ بَصَر

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور دل اور ہمارے خطرات سب پاک رہیں اس لئے اُس نے یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم فرمائی سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قویٰ کو پوشیدہ کارروائیوں کا موقع بھی نہ ملے اور ایسی کوئی بھی تقریب نہ آئے۔ جس سے بد خطرات جنبش کر سکیں۔ اسلامی پردہ کی یہی فلاسفی ہے اوریہی ہدایت شرعی ہے۔“
(اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ5)

مزید پڑھیں

صبرواستقامت اور اِس کی  اہمیت وبرکات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”صادق اور مومن کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ نہایت اخلاص اور انشراح صدر کے ساتھ خدا کی رضا کو مقدم کر لیتا ہے اور اُس پر خوش ہوجاتا ہے۔ کوئی شکوہ اور بدظنی نہیں کرتا۔ اس لئے خداتعالیٰ فرماتا ہے وَبَشِّرِالصّٰبِرِیْنَ پس صبر کرنے والوں کو بشارت دو، یہ نہیں فرمایا کہ دعا کرنے والوں کو بشارت دو بلکہ فرمایا کہ صبر کرنے والوں کو۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ انسان اگر بظاہر اپنی دعاؤں میں ناکامی دیکھے تو گھبرا نہ جاوے بلکہ صبر اور استقلال سے خداتعالیٰ کی رضا کو مقدم کرے۔“
(الحکم 10اکتوبر 1902ء)

مزید پڑھیں

جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فر ماتے ہیں ۔
مَیں نے ایک دفعہ کشف میں اللہ تعالیٰ کو تمثُّل کے طور پر دیکھا۔ میرے گلےمیں ہاتھ ڈال کر فرمایا ۔’’جے تُوں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو‘‘
(تذکرہ طبع چہارم صفحہ 390)

مزید پڑھیں

  60 تقاریر بابت افراد خاندان حضرت مسیح موعودؑ   (حصہ اول)

الحمدللّٰہ ثم الحمدللّٰہ! مجھ حقیر اور بے نفس انسان کو مامُورِ  زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو غیرمعمولی محبت و عقیدت ہے اس کا اظہار خاکسار بہت دفعہ اپنے آپ سے مخاطب ہو کر یوں کرتا رہا ہے کہ کاش! خاکسار بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دَور میں ہوتا۔  مال، وقت،عزت و آبرو کی قربانی کرتا اور ایک پیسہ، دو پیسہ اعلائے کلمۃُ الاسلام کے لیے چندہ دیتا اور میرا نام بھی تاابد روحانی خزائن کی جلدوں میں لکھا جاتا ۔ گو یہ مبارک و مقدس موقع میرے لیے مقدر نہ تھا لیکن آج آپؑ سے اِسی محبت و عقیدت کا نتیجہ ہے کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی نسلِ طیبہ پر قلم اٹھانے اور 100 سے زائد اپنےنام زندہ کر جانے والوں کی سیرت و سوانح پر تقاریر کی صورت میں مضامین لکھنے کی توفیق ملی

مزید پڑھیں