پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام دشمنوں کی تدبیروں اور اللہ تعالیٰ کی تقدیروں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’کیا کیا مکر ہیں جو کر رہے ہیں اور کیا کیا منصوبے ہیں جو اندر ہی اندر ان کے گھروں میں ہو رہے ہیں۔ مگر کیا وہ خدا پر غالب آجائیں گے اور کیاوہ اس قادر مطلق کے ارادے کو روک دیں گے جو تمام نبیوں کی زبانی ظاہر کیا گیا ہے۔ وہ اس ملک کے شریر اور بد قسمت دولت مند دنیا داروں پر بھروسہ رکھتے ہیں مگر خدا کی نظر میں وہ کیا ہیں ؟صرف ایک مرے ہوئے کیڑے۔ اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔ وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کوجو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہےنامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی…مَیں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اورکوئی نہیں جو اُس کو روک سکے۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ67)

مزید پڑھیں

اسلام میں قیامِ توحید کی اہمیت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’ہم سب ابرار، اخیار امت کی عزت کرتے ہیں اور ان سے محبت رکھتے ہیں لیکن ان کی محبت اور عزت کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ ہم ان کو خدا بنا لیں … یاد رکھو! انبیاء علیہم السلام کو جو شرف اور رتبہ ملا وہ صرف اسی بات سے ملا ہے کہ انہوں نے حقیقی خدا کو پہچانا اور اس کی قدر کی۔ اسی ایک ذات کے حضور انہوں نے اپنی ساری خواہشوں اور آرزوؤں کو قربان کیا، کسی مردہ اور مزار پر بیٹھ کر انہوں نے مرادیں نہیں مانگی ہیں“
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 522-524)

مزید پڑھیں

’’اُٹھو! نمازیں پڑھیں اور قیامت کا نمونہ دیکھیں‘‘ ( الہام حضرت مسیحِ موعودؑ)

ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی کو مخاطب ہوکر فرمایا ’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ کےتکرار سے‘‘ سے مشکلات دُور ہوتی ہیں۔
(سیرة المہدی جلد دوم حصہ چہارم صفحہ 28 روایت نمبر1016)

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا (تقریر نمبر 10)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
’’ ایک دفعہ مَیں کشتی میں بیٹھا دریا کی سیر کر رہا تھا اور بھائی عبد الرحیم صاحب میرے ساتھ تھے ۔ میرے لڑکے ناصر احمد نے بچپن کے لحاظ سے کہا کہ ابا جان! اگر اس وقت ہمارے پاس کوئی مچھلی بھی ہوتی تو بڑا مزا آتا ۔ اس وقت یکدم میرے دل میں خیال پیدا ہوا لوگ تو خواجہ خضر سے کچھ اور مراد لیتے ہیں مگر مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ خضر ایک فرشتہ ہے جس کے قبضہ میں اللہ تعالیٰ نے دریا رکھے ہوئے ہیں ۔ جب ناصر احمد نے یہ بات کہی تو مَیں نے کہا خواجہ خضر ہم آپ کے علاقہ میں سے گزر رہے ہیں۔ ہماری دعوت کیجیے اور ہمیں کھانے کے لیے مچھلی دیجئے ۔ جونہی مَیں نے یہ فقرہ کہا بھائی جی کہنے لگے آپ نے یہ کہہ دیا کہ خواجہ خضر ہماری دعوت کریں ۔ اس سے تو بچے کی عقل ماری جائے گی ۔ مگر ابھی بھائی جی کا یہ فقرہ ختم ہی ہوا تھا کہ یکدم ایک بڑی سی مچھلی کود کر ہماری کشتی میں آ پڑی اور مَیں نے کہا بھائی جی! لیجئے مچھلی آگئی ۔ چنانچہ اس کے بعد ہم نے وہ مچھلی پکا کر تبرک کے طور پر سب ہمراہیوں کو تھوڑی چکھائی کہ یہ ہمارے خدا کی طرف سے مہمان نوازی ہوئی ہے ۔“
( سوانح فضل عمر جلد پنجم صفحہ98)

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا (تقریر نمبر 9)

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’آئندہ دنیا کے افق پر احمدیت کی فتوحات اُبھر رہی ہیں۔ شہداء کی قربانیاں ہمارے ایمانوں میں بھی اضافے کا موجب بن رہی ہیں۔ ہمیں صرف اس بات پر ہی تسلی نہیں پکڑنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ قربانیوں کو ضائع نہیں کرتا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مَیں تجھے فتوحات دوں گا، یہ تو ہوگا اور ان شاء اللہ تعالیٰ یقیناً ہو گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 31 دسمبر 2010ء)

مزید پڑھیں

خلافت کی اساس، اطاعت  کے رُوح پرور واقعات

حضرت مصلح موعودؓ کو اطاعتِ خلافت کا سرٹیفکیٹ تو خود حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے بایں الفاظ عطا فرمایا:
’’میاں محمود بالغ ہے اُس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے … مَیں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار ہے کہ تم (میں سے) ایک بھی نہیں۔‘‘
(اخبار بدر 4 جولائی 1912ء)

مزید پڑھیں

خلافت احمدیہ کے خلاف سازشوں کا بدانجام (خلافتِ ثالثہ اور رابعہ کا ذکر) ( تقریر نمبر2)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خلافت ثالثہ کے متعلق فرمایا:
’’ مَیں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر کھڑا ہو جائے گا….اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکر لیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد19صفحہ161)

مزید پڑھیں

خلافتِ احمدیہ کے خلاف سازشوں کا بدانجام ( خلافتِ ثانیہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ذکر) ( تقریر نمبر 1)

دہلی کے رسالہ’’اسلامی دنیا‘‘نے جولائی1935ء میں لکھا:
’’مجلس احرار جیسی افتراق انگیز انجمنوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے ایسے ہی غداروں کے ہاتھوں مسلمان ذلیل ہوئے ہیں۔ مجلسِ احرار کی اس غدارانہ رَوِش کے بعد مسلمانوں کو معلوم ہو گیا کہ عطاء اللہ شاہ بخاری کی مجلس احرار کُوفیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی جنہوں نے آلِ رسول کو اور عاشقانِ اسلام کو بُلا کر یزید کے ہاتھوں شہید کرا دیا تھا۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد7صفحہ561)

مزید پڑھیں

خلافت راشدہ کے خلاف سازشیں (خلافتِ ثالثہ و رابعہ کا تذکرہ) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو تعلق تھا اور آپؐ کی نظر میں ان کا جو مقام تھا اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ حضرت عثمانؓ سے بغض رکھنے والے ایک شخص کا جنازہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا۔ اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص کا جنازہ لایا گیا تا کہ آپؐ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں لیکن آپؐ نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔ کسی نے عرض کی یا رسول اللہؐ ! اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپؐ نے کسی کی نمازجنازہ چھوڑی ہو۔ اس پر آپؐ نے فرمایا یہ شخص عثمانؓ سے بغض رکھتا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ بھی اس سے دشمنی رکھتاہے۔‘‘ (سنن الترمذی ابواب المناقب باب فی مناقب عثمان…… حدیث نمبر 3709)
( خطبہ جمعہ فرمودہ 9 اپریل 2021 ء )

مزید پڑھیں

خلافت راشدہ کے خلاف سازشیں (خلافتِ اُولیٰ و ثانیہ کا ذکر) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’حضرت ابوبکر صدیق ؓ.کا دورِخلافت چاروں خلفائے راشدین میں سے مختصر دور تھا جو کہ تقریباً سوا دو سال پر مشتمل تھا لیکن یہ مختصر سا دور خلافت راشدہ کا ایک اہم ترین اور سنہری دور کہلانے کا مستحق تھاکیونکہ حضرت ابوبکرؓ .کو سب سے زیادہ خطرات اور مصائب کاسامنا کرنا پڑا اور پھر خدا تعالیٰ کی غیرمعمولی تائید و نصرت اور فضل کی بدولت حضرت ابوبکرؓ کی کمال شجاعت اور جوانمردی اور فہم و فراست سے تھوڑے ہی عرصہ میں دہشت و خطرات کے سارے بادل چھٹ گئے اور سارے خوف امن میں تبدیل ہو گئے اور باغیوں اور سرکشوں کی ایسی سرکوبی کی گئی کہ خلافت کی ڈولتی ہوئی امارت مستحکم اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گئی۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 4مارچ2022 ء )

مزید پڑھیں