خلافتِ راشدہ کے خلاف سازشوں کے المناک اثرات

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔
’’دیکھو! ہم ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔ مگر تم نے کبھی غور کیا کہ یہ تبلیغ کس طرح ہو رہی ہے۔ ایک مرکز ہے جس کے ماتحت وہ تمام لوگ جن کے دلوں میں اسلام کا درد ہے اکٹھے ہو گئے ہیں اور اجتماعی طور پر اسلام کے غلبہ اور اس کے احیاء کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ وہ بظاہر چند افراد نظر آتے ہیں مگر ان میں ایسی قوت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ بڑے بڑے اہم کام سرانجام دے سکتے ہیں۔ جس طرح آسمان سے پانی قطروں کی صورت میں گرتا ہے پھر وہی قطرے دھاریں بن جاتی ہیں اور وہی دھاریں ایک بہنے والے دریا کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ اس طرح ہمیں زیادہ سے زیادہ قوت اور شوکت حاصل ہوتی چلی جا رہی ہے… اس کی وجہ محض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلافت کی نعمت عطا کی ہے جس سے وہ لوگ محروم ہیں۔ اس خلافت نے تھوڑے سے احمدیوں کو بھی جمع کر کے انہیں طاقت بخشی ہے جو منفردانہ طور پر کبھی حاصل نہیں ہو سکتی“
(الفضل، 25مارچ1951)

مزید پڑھیں

خلافت ، پہرہ اور امام کی حفاظت

حضرت شیخ محمد اسماعیل سرساوی صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعودؑ نے نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
ہم نے خلافت کی حقیقت کو سمجھا تھا کہ خلافت ہی ایسی ضروری ہے کہ جس کے بغیراسلام کی حفاظت ہو نہیں سکتی۔ پس ہم نے اپنے وقت میں اپنے خلیفہ کی بھی حفاظت کماحقہ کرکے دکھا دی تھی اور حفاظت بھی کماحقہ کرکے اپنے پیارے خدا کی خوشنودی حاصل کرلی تھی۔ اب ہم تو بوڑھے ہو گئے اور ہڈیاں بھی ہماری کھوکھلی ہوگئیں۔ ٹھوکریں ہی کھاتے رہے اور ٹھوکریں کھاتے ہی اس دنیا سے گزر جائیں گے۔ اب تمہارا نوجوانوں کا ہی کام ہے کہ آگے آگے قدم رکھو اور اپنے پیارے خلیفہ کی بھی حفاظت کرو اور خلافت کی بھی حفاظت کرو۔
(رجسٹر روایات صحابہ نمبر6 صفحہ78)

مزید پڑھیں

نظامِ خلافت اور زکٰوۃ

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔
’’ دیکھ لو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زکوٰۃ کی وصولی کا باقاعدہ انتظام تھا۔ پھر جب آپؐ کی و فات ہوگئی اور حضرت ابو بکرؓ خلیفہ ہوگئےتو اہلِ عرب کے کثیر حصہ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ حکم صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص تھا بعد کے خلفاء کے لئے نہیں مگر حضرت ابو بکرؓ نے ان کے اس مطالبہ کو تسلیم نہ کیا بلکہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ اونٹ کے گھٹنے کو باندھنے والی رسی بھی زکوٰۃ میں دینے سے انکار کریں گے تو مَیں ان سے جنگ جاری رکھوں گا اور اُس وقت تک بس نہیں کروں گا جب تک اُن سے اُسی رنگ میں زکوٰۃ وصول نہ کرلوں جس رنگ میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ادا کیا کرتے تھے چنانچہ آپ اس مہم میں کامیاب ہوئےاور زکوٰۃ کا نظام پھر جاری ہوگیا۔ جو بعد کے خلفاء کےزمانوں میں بھی جاری رہا۔مگرجب سے خلافت جاتی رہی مسلمانوں میں زکوٰۃ کی وصولی کا بھی کوئی انتظام نہ رہا اور یہی اللہ تعالیٰ اِس آیت (استخلاف)میں فرمایا تھا کہ اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو مسلمان زکوٰۃ کے حکم پر عمل نہیں کر سکتے۔‘‘
(تفسیر کبیر سورۃ نور آیت347-348)

مزید پڑھیں

استحکامِ  خلافت اور ہماری ذمہ داریاں

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” مَیں یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اِعتَصَام حَبلُ اللّٰہ کے ساتھ ہو۔ قرآن تمہارا دستورالعمل ہو۔ باہم کوئی تنازع نہ ہو کیونکہ تنازع فیضانِ الٰہی کو روکتا ہے …… چاہیے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میَّت غسَّال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مُردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسے وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں۔ استغفار کثرت سے کرواور دعاؤں میں لگے رہو۔ وحدت کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ دوسرے کے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی میں کوتاہی نہ کرو۔ تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آ سکتا ،پس اس نعمت کا شکر کرو کیونکہ شکر کرنے پر ازدیاد نعمت ہوتا ہے“
(خطبات نور صفحہ131 )

مزید پڑھیں

خلافت کے ذریعہ وحدت ِقومی

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد اپنے دور خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر مورخہ 26دسمبر1908ء کو جو پُر معارف خطاب فرمایا تھا، اس میں حضورفرماتے ہیں:
’’حقیقی بات یہی ہے کہ ضرورت ہے اجتماع کی اور شیراہ اجتماع قائم رہ سکتا ہے ایک امام کے ذریعے اور پھر یہ اجتماع کسی ایک خاص وقت میں کافی نہیں۔ مثلاً صبح کو امام کے پیچھے اکٹھے ہوئے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اب ظہر کو کیا ضرورت ہے، عصر کو کیا، پھر شام کو کیا، پھر عشاء کو کیا۔ پھر ہر جمعہ کو اکٹھے ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر عید کے دن کیا ضرورت ہے، پھر حج کیا ضرورت ہے؟ اسی طرح ایک وقت کی روٹی کھالی تو پھر دوپہر کے وقت کیا ضرورت ہے۔ جب ان باتوں میں تکرار کی ضرورت ہے تو اس اجتماع میں بھی یہی تکرار ضروری ہے۔ یہ میں اس لیے بیان کرتا ہوں تا تم سمجھو کہ ہمارے امام چلے گئے تو پھر بھی ہم میں اسی وحدت، اتفاق، اجتماع اور پر جوش روح کی ضرورت ہے“
(بدر، 7جنوری 1909ء، صفحہ4۔ 5)

مزید پڑھیں

خلافت کے ذریعہ توحید کا قیام

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ آیتِ استخلاف کے فُٹ نوٹ میں تحریر فرماتے ہیں کہ
’’نبوّت کی آمد کا مقصد دنیا میں توحید کا قیام ہے ۔ چنانچہ خلافتِ حقّہ کی بھی یہی نشانی رکھی ہے کہ اِس کا آخری مقصد توحید کا قیام ہے۔‘‘
( قرآنِ کریم اردو ترجمہ صفحہ 606)

مزید پڑھیں

خلافت کے فیوض و برکات ( تقریر نمبر 2)

خدا تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود ؓ .کو آپ کے دور خلافت کی ابتدا میں فرمایا:
’’مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت! تم پر خلافت کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ ‘‘
(منصب خلافت صفحہ 27)

مزید پڑھیں

’’وہ( خلافت) دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا‘‘ (دائمی خلافت کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ اور خلفاء کے ارشادات)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو چھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا وے ۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لیے تم میری اس بات سے جو مَیں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ قدرت نہیں آسکتی جب تک مَیں نہ جاؤں۔ لیکن جب مَیں جاؤں گا تو خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لیے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔ مَیں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور مَیں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہو گے… اور چاہیے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں“
(الوصیت، ر وحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305)

مزید پڑھیں

خلافتِ حقَّہ  اور اشاراتِ الہٰیہ (تقریر نمبر5 بابت خلا فتِ خامسہ)

(تقریر نمبر5 بابت خلا فتِ خامسہ)
مکرم شیخ عمر احمد منیر صاحب۔ راولپنڈی لکھتے ہیں کہ جنوری 2003ء میں مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ مَیں لندن میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے پیچھے نماز جمعہ ادا کررہا ہوں۔ سلام پھیرنے کے بعد جاتے ہوئے حضور کی نظر جب مجھ پر پڑتی ہے تو مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کب آئے ہیں ۔ حضور کی قدم بوسی کے لئے آگے بڑھتا ہوں اور حضور سے مصافحہ کرتا ہوں تو حضور فرماتے ہیں ۔ شیخ صاحب! میرے بعد اب آپ نے صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب سے مصافحہ کرنا ہے۔ اتنی دیر میں مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب حضور کے ساتھ آکر کھڑے ہوجاتے ہیں اور مَیں فوراً صاحبزادہ صاحب سے مصافحہ کرلیتا ہوں تو حضور رحمہ اللہ میری کمر پر تھپکی دیتے ہیں اور اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے ۔

مزید پڑھیں

خلافتِ حقَّہ  اور اشاراتِ الہٰیہ (تقریر نمبر4 بابت خلا فتِ رابعہ)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے حضرت ام طاہررضی اللہ عنہا کو مخاطب ہوکرایک مرتبہ فرمایا:
”مجھے خداتعالیٰ نے الہاماً بتایا ہے کہ طاہر ایک دن خلیفہ بنے گا۔“
(ایک مرد خداصفحہ208)

مزید پڑھیں