صحبتِ صالحین کی اہمیت ( خلفاء کے اِرشادات کی روشنی میں)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحبت صالحین کے متعلق میں فرماتے ہیں کہ
’’انسان ہمیشہ اپنے گندے جلیسوں کی و جہ سے تباہی کے گڑھے میں گرا کرتا ہے۔ وہ پہلے تواپنے دوستوں کی مصاحبت پر فخر کرتا ہے۔ مگر جب اسے کسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ لَیْتَنِیْ لَمْ اَ تَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا کہ اے کاش! مَیں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا اس نے تو مجھے گمراہ کردیا۔ اسی و جہ سے قرآن کریم نے مومنوں کو خاص طور پر نصیحت فرمائی ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(التوبہ: 119)یعنی اے مومنو! تم ہمیشہ صادقوں کی معیت اختیار کیا کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے گردوپیش کی اشیاء سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا مگر وہ اپنی دوستی اور ہم نشینی کے لئے ان لوگوں کا انتخاب کرے گا جو اعلیٰ اخلاق کے مالک ہوں گے اور جن کا مطمح نظر بلند ہو گا تو لازماً وہ بھی اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرے گا اور رفتہ رفتہ اس کی یہ کوشش اس کے قدم کو اخلاقی بلندیوں کی طرف بڑھانے والی ثابت ہوگی۔ لیکن اگر وہ بُرے ساتھیوں کا انتخاب کرے گا تو وہ اسے کبھی راہ راست کی طرف نہیں لے جائیں گے۔ بلکہ اسے اخلاقی پستی میں دھکیلنے والے ثابت ہوں گے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ481)

مزید پڑھیں

صحبتِ صالحین کے ذرائع

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ کتب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے متعلق فرماتے ہیں:
’’آپؑ کی کتب پڑھنے کی طرف بھی بہت توجہ دینی چاہئے یہ بات بھی صحبتِ صادقین کے زمرے میں آتی ہے کہ آپؑ کے علم کلام سے فائدہ اٹھایا جائے۔‘‘
(خطبات مسرور جلد سوم صفحہ394)

مزید پڑھیں

سادھ سنگت ( چند مثالوں کی روشنی میں)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ )التوبہ (119:بھی اسی واسطے فرمایا گیا ہے۔ سادھ سنگت بھی ایک ضرب المثل ہے۔ پس یہ ضروری بات ہے کہ انسان باوجود علم کے اور باوجود قوّت۔وشوکت کے امام کے پاس ایک سادہ لوح کی طرح پڑا رہے تا اس پر عمدہ رنگت آوے۔ سفید کپڑا اچھا رنگا جاتا ہے اور جس میں اپنی خودی اور علم کا پہلے سے کوئی میل کچیل ہوتا ہے اس پر عمدہ رنگ نہیں چڑھتا۔ صادق کی معیت میں انسان کی عقدہ کشائی ہوتی ہے اور اسے نشانات دئے جاتے ہیں جن سے اس کا جسم منور اور روح تازہ ہوتی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد4 صفحہ262۔263 ایڈیشن 2016ء)

مزید پڑھیں

اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللّٰهِ ( سیرتِ رسولؐ کے آئینہ میں)

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’قرابت نوازی ،حسن خلق اور خوشگوار ہمسائیگی سے بستیاں آباد ہوتی ہیں اور عمریں دراز ہوتی ہیں۔‘‘

مزید پڑھیں

وَخَلْقُ اللّٰہِ عَیَالِیْ (مسیح موعودؑ) مخلوقِ خدا میرا عیال اور خاندان ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میری نصیحت یہی ہے کہ دو باتوں کویاد رکھو۔ ایک خداتعالیٰ سے ڈرو دوسرے اپنے بھائیوں سے ایسی ہمدردی کرو جیسی اپنے نفس سے کرتےہو۔‘‘
(ملفوظات جلد5 صفحہ40)

مزید پڑھیں

ذِکْرُاللّٰہِ مَالِیْ (مسیح موعودؑ) یاد الٰہی میری دولت ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمدِ الٰہی ہے ،استغفار ہے اور درود شریف۔ تمام وظائف … کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اِس سے ہر ایک قسم کے غم وہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپؐ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اسی لئے فرمایا ہے اَ لَا بِذِکرِ اللّٰہِ تَطمَئِنُّ القُلُوبُ (الرعد:29)۔ اطمینان، سکینتِ قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اَور کوئی ذریعہ نہیں…میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو ۔ اس سے تمہیں اطمینانِ قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خدا تعالیٰ چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔ نماز یادِ الٰہی کا ذریعہ ہے اسی لئے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکرِی۔“
(الحکم 31 مئی 1903ء صفحہ9)

مزید پڑھیں

وَالصَّالِحُوْنَ اِخْوَانِیْ (مسیح موعودؑ) صالحین میرے بھائی ہیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’صادقوں کی صحبت میں رہنا بہت ضروری ہے خواہ انسان کیسا علم رکھتا ہو۔ طاقت رکھتا ہو، لیکن صحبت میں رہنے سے جو اس کے شبہات دور ہوتے ہیں اور اسے علم حاصل ہوتا ہے وہ دوسرے طور سے حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
۔(البدر جلد2 نمبر8 مورخہ 13مارچ 1903ء صفحہ59)

مزید پڑھیں

اَلْمَسْجِدُ مَکَانِیْ(مسیح موعودؑ) مسجد میرا مکان ہے

حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ ارکانِ اسلام میں سب سے زیادہ زور نماز پر دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ نمازیں سنوار کر پڑھاکرو۔
(سیرت المہدی جلد3 صفحہ126 )

مزید پڑھیں

حضور اکرمؐ کے ارفع و اعلیٰ اخلاق کی روشنی میں بنیادی اخلاق کی تعلیم (خلاصہ خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ )

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”سب سے اکمل نمونہ اور نظیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔جو جمیع اخلاق میں کامل تھے۔ اسی لئے آپ کی شان میں فرمایا۔ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔“
( ملفوظات جلد 1صفحہ 133 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ( تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’منہ کی پھونکیں کیا ہوتی ہیں ؟ یہی کہ کسی نے ٹھگ کہہ دیا، کسی نے دکاندار اور کافر اور بے دین کہہ دیا۔ غرض یہ لوگ ایسی باتوں سے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں، مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ نور اللہ کو بجھاتے بجھاتے خود ہی جل کر ذلیل ہوجاتے ہیں۔‘‘
(الحکم جلد 5، مورخہ 24؍جنوری 1901ء)

مزید پڑھیں