مکرم صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب کی وفات پرخطبہ جمعہ میں آپ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا :
’’اللہ تعالیٰ محترم صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب سے مغفرت کا سلوک فرمائے، رحم کا سلوک فرمائے، آپ کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے بچوں کو بھی حقیقت میں اُس خون کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس کی طرف وہ منسوب ہوتے ہیں۔ مجھ سے بھی ان کا بہت گہرا تعلق تھا۔ خلافت سے پہلے بھی تھااور خلافت کے بعد تو پیار کا یہ تعلق بہت بڑھ گیا تھا۔ لیکن اس میں عاجزی اور اخلاص اور وفا کا بے انتہا اظہار تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا رہے اور ان کی اولاد کو بھی خلافت سے خاص تعلق رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 21 فروری2014ء )

مزید پڑھیں

زار بھی ہوگا تو ہوگا اُس گھڑی باحالِ زار

جب 1991ء میں روس کے ٹکڑے ہو گئے تو برطانوی حکومت کے مطالبے پر پھر سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور معلوم ہوا کہ زار اور اس کے خاندان کو نہایت بے دردی اور سفّاکی سے 17؍ جولائی 1918ء کو Ipatiev House کے تہ خانے میں قتل کردیاگیا تھا جہاں اُن کو 30؍ اپریل سے قید کر کےرکھا گیا تھا۔ اُسی دن زار کے قریبی ساتھیوں بشمول ڈاکٹر Eugene اور شاہی خاندان کے 65؍ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ ان کی قیمتی اشیاء چوری کر لی گئیں اور ان کے مردہ جسموں کو ضائع کرنے کے لیے 750 لیٹر مٹی کا تیل اور 180 کلوگرام تیزاب استعمال کیا گیا تا کہ ان کا کوئی نام و نشان بھی باقی نہ رہے۔

مزید پڑھیں

کَشتیاں چلتی ہیں تا ہوں کُشتیاں

ایک واقفہ نو کے سوال کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام”کَشتیاں چلتی ہوں ہیں تا ہوں کُشتیاں“سے کیا مراد ہے ۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
”مختلف مطلب نکلتے ہیں ۔ جنگوں کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے اور حکومتوں کے اُلٹنے کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے ۔ پانی میں بھی جنگیں ہوتی ہیں۔ جنگ عظیم ہوئی تو وہاں بھی کَشتیاں ہوتی ہیں ۔ سب میرین چلتی ہیں ۔ داؤ پیچ استعمال ہوتے ہیں ۔“

مزید پڑھیں

بادشاہ تیرے کپڑوں سےبرکت ڈھونڈیں گے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اُس نے مجھے بشارت دی کہ مَیں تجھے برکت دوں گا اور بہت برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“
(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 179 حاشیہ)

مزید پڑھیں

محترم پیر معین الدین صاحب

پیر معین الدین صاحب کو قرآن کریم سے بہت محبت تھی۔ اس کے مضامین پر بہت غور اور تدبر کیا کرتے تھے ۔ آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کی تفسیر کبیر کا خلاصہ چار جلدوں میں شائع فرمایا آپ کی خواہش تھی کہ ’’مخزنِ.معارف‘‘ کی طرز پر سارے قرآن کریم کی تفسیر مکمل کریں ۔ آپ کے پاس حضرت مصلح موعودؓ کا وہ قرآن مجید بھی موجود تھا جس کو حضرت مصلح موعودؓ درس کے موقع پر استعمال فرمایا کرتے تھے ۔ اِس سے آپ کی قرآنِ کریم سے محبت دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

محترمہ صاحبزادی امۃ المتین صاحبہ   بنت حضرت مصلح موعودؓ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 18اکتوبر2013ء میں صاحبزادی امۃ المتین صاحبہ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا :
’’خلافت سے بڑا وفا کا تعلق تھا۔ اور میری خالہ تھیں لیکن خلافت کے بعد جو ہمیشہ تعلق تھا، احترام اور محبت اور پیار اور عزت کا بہت بڑھ گیا تھا۔ بلکہ شروع میں جب پہلی دفعہ لندن آئی ہیں تو کسی کو کہا کہ مَیں تو اب کھل کے بات نہیں کر سکتی۔ اب بھی، پچھلے سال بھی جلسے پر آئی ہوئی تھیں، کافی بیمار تھیں لیکن پھر بھی جلسے پر لندن آئیں اور اُن سے ملاقات ہوئی۔‘‘

مزید پڑھیں

مکرمہ صاحبزادی  قدسیہ بیگم صاحبہ  اہلیہ مکرم  صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ کی وفات پر خطبہ جمعہ میں آپ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا :
’’بیٹے کی شہادت پر انہوں نے بڑا صبر دکھایا۔ مَیں خود بھی اس کا گواہ ہوں۔ بڑے صبر اور حوصلے سے یہ صدمہ برداشت کیا۔ جب مَیں (غلام قادر شہید کا ) افسوس کرنے ان کے پاس گیا تو بڑے مسکرا کر انہوں نے قادر شہید کی خوبیوں کا ذکر کیا اور بڑا حوصلہ دکھایا۔ مجھ سے خط و کتابت رکھتی تھیں اور جو آخری خط مجھے لکھا اُس میں بھی یہی فقرہ تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی تقویٰ عطا فرمائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے وارث ہوں اور آپ کی نسل ہونے کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ اللہ کرے کہ یہ دعا ان کی ساری اولاد میں اور سارے خاندان کے بارے میں پوری ہو۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ7ستمبر2012ء )

مزید پڑھیں

مکرم صاحبزادہ  مرزا مجید احمد صاحب

صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب کی بہو صاحبزادہ مرزا غلام قادر شہید کی بیوہ امۃ الناصرنصرت صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ
’’اپنے بیٹے مرزا غلام قادر شہید کی شہادت پر بہت صبر کا نمونہ دکھایا اور کہتی ہیں کہ شہادت کے بعد مرزا مجید احمد صاحب اور آپ کی اہلیہ بہت زیادہ قادر شہید کے بچوں کا خیال رکھتے۔ پھر بیماری کا بڑا لمبا عرصہ تھا اور بہت صبر اور ہمت کے ساتھ انہوں نے گزارا۔‘‘

مزید پڑھیں

  60 تقاریر بابت افراد خاندان حضرت مسیح موعودؑ   (حصہ اول)

الحمدللّٰہ ثم الحمدللّٰہ! مجھ حقیر اور بے نفس انسان کو مامُورِ  زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو غیرمعمولی محبت و عقیدت ہے اس کا اظہار خاکسار بہت دفعہ اپنے آپ سے مخاطب ہو کر یوں کرتا رہا ہے کہ کاش! خاکسار بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دَور میں ہوتا۔  مال، وقت،عزت و آبرو کی قربانی کرتا اور ایک پیسہ، دو پیسہ اعلائے کلمۃُ الاسلام کے لیے چندہ دیتا اور میرا نام بھی تاابد روحانی خزائن کی جلدوں میں لکھا جاتا ۔ گو یہ مبارک و مقدس موقع میرے لیے مقدر نہ تھا لیکن آج آپؑ سے اِسی محبت و عقیدت کا نتیجہ ہے کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی نسلِ طیبہ پر قلم اٹھانے اور 100 سے زائد اپنےنام زندہ کر جانے والوں کی سیرت و سوانح پر تقاریر کی صورت میں مضامین لکھنے کی توفیق ملی

مزید پڑھیں