حضرت چراغ بی بی صاحبہ والدہ ماجدہ حضرت مسیح موعودؑ

حضرت چراغ بی بی صاحبہ ایک دور اندیش اور معاملہ فہم خاتون تھیں ۔ اپنے خاوند حضرت مرزا غلام مرتضٰی صاحب کے لیے ایک بہترین مشیراور آپ کی غمگسار تھیں ۔ حضرت غلام مرتضٰی صاحب آپ کی باتوں کی بہت احساس کیا کرتے تھے اور ان کی مرضی کے خلاف گھر کے معاملات میں دخل نہیں کرتے تھے ۔

مزید پڑھیں

حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب والدِ ماجد حضرت مسیح موعودؑ

حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب ایک عالم بھی تھے اور علم دوست بھی ، کتب خانہ کا خاص طور پر شوق تھا اور بہت سی کتابیں آپ کے کتب خانہ میں موجود تھیں۔آپ کی ایک بہت بڑی لائبریری تھی۔ اپنی اولادکو بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ وپیراستہ کرنے کا ازحدخیال تھا۔

مزید پڑھیں

چھوٹی چیزیں، بڑے نتائج(حضرت مسیح موعودؑ کے کلمات کی روشنی میں)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” جو شخص پورے طور پر اطاعت نہیں کرتا وہ اس سلسلہ کو بد نام کرتا ہے۔“
(ملفوظات جلد4 صفحہ73 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی نظر میں حضرت امام حسینؓ کا مقام ومرتبہ

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ سے اپنی ایک مناسبت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’مجھے حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ کے ساتھ ایک لطیف مناسبت ہے اور اس مناسبت کی حقیقت کو مشرق و مغرب کے ربّ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور مَیں حضرت علیؓ اور آپ کے دونوں بیٹوں سے محبت کرتا ہوں اور جواُن سے عداوت رکھے اس سے مَیں عداوت رکھتا ہوں‘‘
(سرالخلافۃ اُردو ترجمہ صفحہ112)

مزید پڑھیں

مالی قربانی کی اہمیت از ارشادات خلفائے حضرت مسیح موعودؑ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےذریعہ جماعت احمدیہ میں نظام وصیت قائم کیا۔ نظام وصیت ایک عظیم نظام ہے۔ ہر پہلو کے لحاظ سے۔ نظام وصیت کے ذریعہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جو ممبر ہیں یا داخل ہیں سلسلہ عالیہ احمدیہ میں ان میں سے ایک گروہ ایسا ہو جو اسلامی تعلیم کی روح سے ذمہ داریوں کو اس قدر توجہ اور قربانی سے ادا کرنے والا ہو کہ ان میں اور دوسرے گروہ میں ایک مابہ الامتیاز پیدا ہو جائے۔ نظام وصیت صرف 1/10 ما لی قربانی کا نام نہیں ہے۔ یہ نظام ہے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمانی رفعتوں تک پہنچانے کا۔‘‘
(خطبہ جمعہ 30 اپریل 1982ء)

مزید پڑھیں

مالی قر بانی کی ترغیب (از ارشادات حضرت مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یہ ظاہر ہے کہ تم دو چیز سے محبت نہیں کر سکتے اور تمہارے لئے ممکن نہیں۔ کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔ صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔ پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ جو خدا سے محبت کرے اور ا گر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کرکے اس کی راہ میں مال خر چ کرے گا۔ تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی ۔ کیونکہ مال خودبخود نہیں آتا ۔ بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔ پس جو شخص خدا کیلئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے۔ وہ ضرور اسے پائے گا۔ “
(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ497-498)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سفرِ آخرت

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو وصال سے کچھ عرصہ قبل خدا تعالیٰ کی طرف سے واضح طور پر وفات کی خبریں دی گئیں۔ دسمبر 1905ء میں حضور نے ’’رسالہ الوصیت‘‘میں جماعت کو اس عظیم سانحہ کی خبر دیتے ہوئے فرمایا۔
’’خدائے عزّوجل نے متواتر وحی سے مجھے خبر دی ہے کہ میرا زمانہ وفات قریب ہے اور اس بارے میں اُس کی وحی اس قدر تواتر سے ہوئی کہ میری ہستی کو بنیاد سے ہلا دیا اور اس زندگی کو میرے پر سرد کر دیا۔ الہام ہوا۔ قَرُبَ اَجلُکَ الْمُقَّدَر۔ تیری اجل قریب آ گئی ہے۔ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ اس دن سب پر اُداسی چھا جائے گی۔“

مزید پڑھیں

اسلام کے فتح نصیب جرنیل اغیار کی نظر میں

سید حبیب ایڈیٹر روزنامہ ’’سیاست‘‘ لاہور نے لکھا:
’’مسلمانوں کے بہکانے کے لئے عیسائیوں نے دین حقہ اسلامیہ اور اس کے بانی صلعم پر بے پناہ حملے شروع کر دئیے جن کا جواب دینے والا کوئی نہ تھا…. اس وقت کے آریہ اور مسیحی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے۔ اِکے دُکے جو عالم دین بھی کہیں موجود تھے وہ ناموس شریعت حقہ کے تحفظ میں مصروف ہوگئے مگر کوئی کامیاب نہ ہوا۔ اس وقت مرزا غلام احمدصاحب میدان میں اترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریہ پدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کر لیا۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوبی اور خوش اسلوبی سے ادا کیا۔ اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دئیے۔ اسلام کے متعلق ان کے بعض مضامین لاجواب ہیں۔ ‘‘

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی قبولیتِ دعا کے عظیم الشان نشان

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میں کثرت قبولیت کا نشان دیا گیا ہوں۔کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کرسکے۔ میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میری دعائیں 30 ہزار کے قریب قبول ہوچکی ہیں اور ان کا میرے پاس ثبوت ہے۔‘‘
(روحانی خزائن جلد13 صفحہ 497)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کو ماننا کیوں ضروری ہے؟

حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے امام مہدی کی بیعت اور اطاعت کرنے کے متعلق تعلیم دیتے ہوئے فرمایا۔
”جس نے امام مہدی کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔“
(بحارالانوار جلد 13 صفحہ 17)

مزید پڑھیں