دشمنوں کی ہلاکت اور اُن کی ذلت ورسوائی(حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیوں کی روشنی میں)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو الہاماً فرمایا:
اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ
یعنی جوتجھے ذلیل کرنے کاارادہ کرے گامَیں اس کو ذلیل کروں گا۔
(براہین احمدیہ،روحانی خزائن جلد 1صفحہ601)
پھر فرمایا
وَنُمَزِّقُ الْاَعْدَاءَ کُلَّ مُمَزَّقٍ
یعنی مَیں تیرے دشمن کو ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا
(تذکرہ صفحہ550)
اور پھر ایک موقع پر اللہ تعالیٰ آپؑ کو مخاطب ہو کر فرماتا ہے۔
یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنَ الْعِدَا وَیَسْطُوْبِکُلِّ مَنْ سَطَا
یعنی اللہ دشمنوں سے تجھے بچائے گا اورہرایک جوتجھ پر حملہ کرتاہے اُس پر حملہ کرے گا۔
(تذکرہ صفحہ 558)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کا بیماروں اورمریضوں سےحُسنِ سلوک

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
”ہر ایک اپنے لئے کوشش کرتا ہے مگر انبیاء علیھم السلام دوسروں کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ لوگ سوتے ہیں اور وہ ان کے لئے جاگتے ہیں اور لوگ ہنستے ہیں اور وہ ان کے لئے روتے ہیں اور دنیا کی رہائی کے لئے ہر ایک مصیبت کو بخوشی اپنے پر وارد کرلیتے ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 117-118 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کا صبراورعفو و درگزر

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’یقیناً یاد رکھو کہ مومن متقی کے دل میں شر نہیں ہوتا۔مومن جس قدر متقی ہوتا جاتا ہے اسی قدر وہ کسی کی نسبت سزا اور ایذاء کو پسند نہیں کرتا۔مسلمان کبھی کینہ پرور نہیں ہو سکتا۔ہاں دوسری قومیں ایسی کینہ پرور ہوتی ہیں کہ اُن کے دل سے دوسرے کی بات کینہ کی کبھی نہیں جاتی اور بدلہ لینے کے لئے ہمیشہ کوشش میں لگے رہتے ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے مخالفوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے۔کوئی دُکھ اور تکلیف جو وہ پہنچا سکتے تھے اُنہوں نے پہنچایا ہے۔لیکن پھر بھی اُن کی ہزاروں خطائیں بخشنے کو ہم اب بھی تیار ہیں۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو یاد رکھو کہ ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو ہمدردی کرو اور بلاتمیز مذہب و قوم ہر ایک سے نیکی کرو۔‘‘
(تقریریں صفحہ29)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کے ننانوے اسمائے حسنیٰ( از حضرت میر محمد اسمٰعیلؓ)

خدا تعالیٰ کے 99 نام احادیث میں آئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی 99 نام کتابوں میں موجود ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ الہامی نام جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیئے۔ وہ سب جمع کئے تو 99 ہی بن گئے۔

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ اور بنی نوع انسان کی ہمدردی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’اس کے بندوں پر رحم کرو ان پر زبان یا ہاتھ کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو اور کسی پر تکبر نہ کروگو اپنا ماتحت ہو، کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤتا قبول کیے جاؤ…بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو ۔ نہ ان کی تحقیراور عالم ہوکر نادانوں کو نصیحت کرو۔ نہ خودنمائی سے ان کی تذلیل اور امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو نہ خود پسندی سے ان پر تکبرہلاکت کی راہوں سے ڈرو‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد نمبر 19صفحہ11 -12

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی مہمان نوازی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام مہمانوں کو کثرت سے فرماتے تھے کہ
’’آپ مہمان ہیں آپ کو جس چیز کی تکلیف ہو مجھے بے تکلّف کہیں کیونکہ مَیں تو اندر رہتا ہوں اور نہیں معلوم ہوتاکہ کس کو کیا ضرورت ہے۔ آجکل مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے بعض اوقات خادم بھی غفلت کر سکتے ہیں۔ آپ اگر زبانی کہنا پسند نہ کریں تو مجھے لکھ کر بھیج دیاکریں۔ مہمان نوازی تو میرا فرض ہے۔‘‘ ۔۔۔۔۔
۔(سیرت حضرت مسیح موعودؑ از حضرت یعقوب علی عرفانی ؓصفحہ142)

مزید پڑھیں

سیرت حضرت مسیح موعودؑ کے بعض شیریں واقعات

حضرت ڈاکٹر میرمحمد اسماعیل صاحبؓ اپنی ایک روایت میں حضرت مسیح موعودؑ کےاخلاقِ حسنہ کا نہایت ہی پیارے انداز سے ذکر کرنے کے بعدآپؑ کے اخلاق کے متعلق لکھتے ہیں کہ
’’اگر حضرت عائشہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ بات سچی کہی تھی کہ کَانَ خُلُقُہٗ الْقُرْآن تو ہم حضرت مسیح موعودؑ کی نسبت اسی طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ کَانَ خُلُقُہٗ حُبَّ مُحَمَّدٍ وَ اِتَّبَاعَہٗ علیہ الصّلٰوۃ و السلام‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل حصہ سوم صفحہ 827روایت نمبر975)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی اپنی اولاد کے حق میں دعائیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
” مَیں التزامًا چند دعائیں ہر رو مانگا کرتاہوں۔
اوّل: اپنے نفس کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ خداوند کریم مجھ سے وہ کام لے جس سے اُس کی عزت و جلال ظاہر ہو اور اپنی رضا کی پوری توفیق عطا کرے۔
دوم: پھر اپنے گھر کے لوگوں کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ اِن سے قرّہ عین عطا ہو اور اللہ تعالیٰ کی مرضیات کی راہ پر چلیں۔
سوم: پھر اپنے بچوں کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ یہ سب دین کے خدام بنیں۔
چہارم: پھر اپنے مخلص دوستوں کے لئے نام بنام۔
پنجم: اور پھر اُن سب کے لئے جو اِس سلسلہ سے وابستہ ہیں۔ خواہ ہم اُنہیں جانتے ہیں یا نہیں جانتے۔“
( الحکم 17 جنوری 1900ء جلد4 صفحہ 2 تا 11 خط 4 بنام مولوی عبد الکریم)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کا حُلیہ اور اخلاق و عادات

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ایک اعلیٰ درجہ کے مردانہ حُسن کے مالک تھے ۔ آپ علیہ السلام کی شکل مبارک ایسی وجیہہ اور دلکش تھی کہ دیکھنے والااس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا۔ آپ علیہ السلام کا چہرہ کتابی تھا اور رنگ سفیدی مائل گندمی تھا اور خدوخال نہایت متناسب تھے۔ سرکے بال نہایت ملائم اور سیدھے تھے مگر بالوں کے آخری حصہ میں کسی قدر خوبصورت خم پڑتا تھا ۔ ڈاڑھی گھنی تھی مگر رخسار بالوں سے پاک تھے۔ قد درمیانہ تھا اور جسم خوب سڈول اور متناسب تھا اور ہاتھ پاؤں بھرے بھرے اور ہڈی فراخ اور مضبوط تھی۔

مزید پڑھیں

مجددِ اعظم۔حضرت مرزاغلام احمد قادیانؑی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
” اللہ نے میرا نام نبی رکھا ہے سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگااور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کرسکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤٍں۔ مگر میں ان معنوں سے نبی نہیں ہوں کہ گویا میں اسلام سے اپنے تئیں الگ کرتا ہوں یا اسلام کا کوئی حکم منسوخ کرتا ہوں۔ میری گردن اس جوئے کے نیچے ہے جو قرآن شریف نے پیش کیا اور کسی کی مجال نہیں کہ ایک نقطہ یا شعشہ قرآن شریف کا منسوخ کرسکے ۔‘‘
(بدر11جون 1908ء صفحہ10 کالم 1-2)

مزید پڑھیں