” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (تقریر نمبر2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
” مؤمن کو چاہئے کہ بڑا بلند پرواز ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو کیونکہ ساری بلند پروازگیوں کی انتہاء اللہ کی رضا ہے۔ بلند پروازگی کے بالمقابل مؤمن کا ایک نزول بھی ہوتا ہے اور یہ نزول قرآن شریف میں شفقت علی خلق اللہ کہلاتا ہے ۔ اس نزول میں بھی ایک بلند پروازگی ہوتی ہے اور مؤمن بڑا ہی مستقل مزاج ہوتا ہے۔“
(ارشادات نور جلد 1 صفحہ 143(

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (تقریر نمبر1)

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سورۃ النمل آیت17 کے تحت فٹ نوٹ میں تحریر فرماتے ہیں۔
” ہم دوسری جگہ لکھ چکے ہیں کہ طَیۡرٌکے معنیٰ آسمانی پرواز کرنے والے لوگوں ( یعنی برگزیدہ لوگوں ) کے ہوتے ہیں ۔ وہی معنیٰ اِس جگہ پرندوں کے ہیں۔“
(فٹ نوٹ ۔ تفسیر صغیر سورۃ النمل آیت : 17 صفحہ 619)

مزید پڑھیں

حق مہر کی اہمیت (خلفاء کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ جہاں تک خلع اور طلاق کا تعلق ہے اگر کوئی خاوند صرف مہر کی ادائیگی سے بچنے کے لئے عورت کو تنگ کرتا ہے کہ وہ خلع لے لے اور سمجھتا ہے کہ اِس طرح اُس کو مہر نہیں دینا پڑے گا تو وہ بڑا احمق ہے اسے جماعت چھوڑ دینی چاہیے۔ مَیں تمہیں شریعت اسلامیہ سے استہزاء نہیں کرنے دوں گا جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہیں کرنے دیا تھا ۔‘‘
( خطبات ناصر جلد 7صفحہ421 )

مزید پڑھیں

تین سلام

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ اپنے گھروں کو اس انعام سے فائدہ اٹھانے والا بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری تربیت کے لئے ہمارے علمی اور روحانی اضافے کے لئے ہمیں دیا ہے تاکہ ہماری نسلیں احمدیت پر قائم رہنے والی ہوں۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے آپ کو ایم ٹی اے سے جوڑیں۔ اب خطبات کے علاوہ اور بھی بہت سے لائیو پروگرام آرہے ہیں جوجہاں دینی اور روحانی ترقی کا باعث ہیں وہاں علمی ترقی کا بھی باعث ہیں۔ جماعت اس پر لاکھوں ڈالر ہر سال خرچ کرتی ہے اس لئے کہ جماعت کے افراد کی تربیت ہو۔ اگر افراد جماعت اس سے بھر پور فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو اپنے آپ کو محروم کریں گے…ایم ٹی اے کی ایک اور برکت بھی ہے کہ یہ جماعت کو خلافت کی برکات سے جوڑنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ پس اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 2013 ء)

مزید پڑھیں

”بڑے شہروں میں غفلت کے سامان بہت مہیا ہوجاتے ہیں“ (حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّلؓ)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے دو امان نازل ہوئے تھے ایک تو ان میں سے اٹھ گیا یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود مگر دوسری امان قیامت تک باقی ہے اور وہ استغفار ہے۔ مَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ(سورۃ الانفال :34)۔ پس استغفار کرتے رہا کرو کہ پچھلی بُرائیوں کے بدنتائج سے بچے رہو اور آئندہ بدیوں کے ارتکاب سے۔“
(ارشادات نور جلد اوّل صفحہ 69)

مزید پڑھیں

عید اور عید سے متعلق فقہی مسائل

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’عید کا دن صرف اچھے کپڑے پہن کر اچھے کھانے کھا کر گزارنے کا نام نہیں ہے بلکہ عید کے لیے عید گاہ میں آتے جاتے اور سارا دن بھی ذکر الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں صرف کرنا چاہیے۔ نمازوں کا بھی باقاعدہ خیال رکھنا چاہیے۔ نمازوں کی حاضری کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔‘‘
(خطبہ عید الفطر فرمودہ14نومبر2004ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل  (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’معتکف کے لیے بڑی تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے کہ وہ اپنی عبادت میں مصروف ہوتا ہے پردہ کے لیے ایک چادر ہی ٹانگی ہوتی ہے نا۔ پردہ کے پیچھے سے ایک ہاتھ اندر داخل ہوتا ہے جس میں مٹھائی اور ساتھ پرچی ہوتی ہے کہ میرے لیے دعا کرو یا نمازی سجدے میں پڑا ہوا ہے اوپر سے پردہ خالی ہوتا ہے تو اوپر سے کاغذ آکر اس کے اوپر گر جاتا ہے (ساتھ نام ہوتا ہے)کہ میرے لیے دعا کرو۔ یا ایک پُراسرار آواز پردے کے پیچھے سے آتی ہے آہستہ سے کہ مَیں فلاں ہوں میرے لیے دعا کرو۔ یہ سب غلط طریقے ہیں۔‘‘
(خطبات مسرور جلد2 صفحہ 781۔ 782)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل  (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر1)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’بات وہی ہے کہ اصل بنیاد تقویٰ پرہے، حکم بجا لاناہے، حکم یہ ہے کہ تم مریض ہو یا سفر میں ہو، قطع نظر اس کے کہ سفر کتناہے، جو سفر تم سفر کی نیت سے کررہے ہو وہ سفر ہے اور اس میں روزہ نہیں رکھناچاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاہے کہ دو تین کوس کا سفر بھی سفر ہے اگر سفر کی نیت سے ہے۔‘‘
(خطبات مسرور جلد2 صفحہ742 )

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’پس استغفار اور نیک اعمال جب ہمیں رمضان کے آخری عشرے میں داخل کریں گے تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے مطابق آگ سے آزاد کرانے کا عشرہ ہو گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ 19؍ ستمبر 2008ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’یہ رمضان ہمیں ایک دفعہ پھر موقع دے رہا ہے کہ ہم خدا کے آگے جھکیں جس طرح جھکنے کا حق ہے۔ اُس کی عبادت کریں، جس طرح عبادت کرنے کا حق ہے تو اللہ.تعالیٰ ہماری دُعاؤں کا یقیناً جواب دے گا اور یہ عہد کریں کہ آئندہ ہم اِن عبادتوں کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ اگر یہ ہو جائے تو اِس سے ہم اِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالیٰ جماعت کی سالوں میں ہونے والی ترقیات کو دِنوں میں واقع ہوتے دیکھیں گے۔ اِس لئے مَیں پھر یہی کہوں گا کہ اپنی عبادتوں کو زندہ کریں۔ دوسروں کے پاس دُعائیں کروانے کی بجائے خود اللہ تعالیٰ کی ذات کی قدرتوں کا تجربہ حاصل کریں۔‘‘
(خطبہ جمعہ 22؍اکتوبر2004ء)

مزید پڑھیں