فاسٹ  چارجنگ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ انسان کو انوار اور برکات سے حصّہ نہیں مل سکتا ۔ جب تک وہ اسی طرح عمل نہ کرے جس طرح خدا فرماتا ہے کہ كُونُوا مَعَ الصّادِقِین ۔ بات یہی ہے کہ خمیر سے خمیر لگتا ہے اور یہی قاعدہ ابتداء سے چلا آتا ہے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ کے ساتھ برکات اور انوار تھے جن میں سے صحابہ نے بھی حصّہ لیا پھر اسی طرح خمیر کی لاگ کی طرح آہستہ آہستہ ایک لاکھ تک ان کی نوبت آئی۔‘‘
(البدر جلد نمبر 4 مؤرخہ 21 نومبر 1902ء صفحہ31)

مزید پڑھیں

’’ تصویر سےبھی ایک تعلق پیدا ہوتاہے ‘‘ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
” مالی کے ریجن سِکَاسَو کے مبلغ لکھتے ہیں مروان کولی بالی صاحب احمدیہ مشن ہاؤس آئے اور کہا کہ وہ بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ریڈیو احمدیہ شوق سے سنتے تھے اور جماعت کی اکثر باتوں سے مطمئن تھے لیکن بیعت کرنے کو دل نہیں مانتا تھا۔ کہنے لگے: کل جب میری ریڈیو سنتے سنتے آنکھ لگ گئی تو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان میں چاند نہایت روشن ہے اور چاند میں دو اشخاص کی تصویریں نظر آ رہی ہیں۔ ایک تصویر بڑی اور ایک چھوٹی ہے اور قریب کھڑے بچے شور مچا رہے ہیں کہ یہ امام مہدی علیہ السلام اور ان کے خلیفہ کی تصویر ہے۔ وہ آ گئے ہیں۔ مروان صاحب کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے خواب میں ہی قریب کھڑے بزرگ سے دریافت کیاکہ کیا آپ کو بھی تصویر نظر آ رہی ہے، جس پر بزرگ نے تو نفی میں جواب دیا لیکن کہتے ہیں میرا دل مطمئن ہو گیا کہ احمدیت ہی سچی جماعت ہے جو امام مہدی کے ظہور کا اعلان کر رہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلفاء کی تصویریں دیکھیں توحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی تصویر کو پہچان لیا۔ ساتھ میری تصویر بھی تھی اور کہا یہی تو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔“
(خطبہ جمعہ 11؍اگست2023ء )

مزید پڑھیں

’’ تصویر سےبھی ایک تعلق پیدا ہوتاہے ‘‘ (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہم نے اپنی تصویر محض اس لحاظ سے اُتروائی تھی کہ یورپ کو تبلیغ کرتے وقت ساتھ تصویریں بھیج دیں، کیونکہ ان لوگوں کا عام مزاج اس قسم کا ہوگیا ہے کہ وہ جس چیز کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اس کی تصویر دیتے ہیں جس سے وہ قیافہ کی مدد سے بہت سے صحیح نتائج نکال لیتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ18-19)

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (روحانی ہجرت) (تقریر نمبر 5)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ کے ساتھ فرمایا کہ
’’ جس شخص نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی خاطر ہجرت کی اس کی خوشنودی کے لئے اپنے وطن اور خواہشات کو ترک کر دیا تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسولؐ کے لئے ہو گی۔ ‘‘
(بخاری کتاب الایمان باب النیّۃ فی الایمان)

مزید پڑھیں

ایمان کے دو حصّے، ایک صبر اور دوسرا شکر ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر 22)

حضرت اسامہ بن زیدؓ نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس سے کوئی نیکی کی گئی اور اس نے اس کے کرنے والے سے کہا جَزَاکَ اللّٰہُ۔ جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین جزا دے تو اس نے تعریف کا حق ادا کر دیا۔
(جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ باب ماجاءفی الثناء بالمعروف حدیث2035)

مزید پڑھیں

بدگمانی، آکاس بیل کی طرح تمام نیکیوں کو بھسم کر دیتی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
’’ اکثر لوگوں میں بدظنّی ںکا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بھائی سے نیک ں ظنّینہیں رکھتے اور ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بُرے بُرے خیالات کر ں نے
لگتے ہی اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہی کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔ اس لئے ں ل ضروری ہے ں کہ
ّ
او
ں
ّ
حت
ی ںالوسع ںاپنے بھائیوں پر بدظنّی ںنہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظنّ ںرکھا جاوے کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔ اور اُنس پیدا ہوتا ہے اور آپس میں قوّت ںپیدا ہوتی ہے او ں ر
اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کینہ، بغض حسد وغیرہ سے بچا رہتا ہے‘ں‘ ں
)ملفوظات جلد 4 صفحہ 214 ۔ 215 ا ں یڈیشن 1988 ء( ں

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (از روئے قرآن کریم ) (تقریر نمبر4)

حضرت خلیفۃُ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے سورۃ الانبیاء آیت 80 کے تحت فٹ نوٹ میں تحریر فرمایا ہے کہ
” ( طیّور کا لفظ استعارہ ہے یعنی ) وہ انسان جن کو روحانی طور پر اُڑنے کی طاقت دی گئی اور وہ تیز رفتار سوار جو پرندوں کی طرح تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے تھے۔ حضرت سلیمانؑ کی فوج کے سب سے تیز رسالہ کو بھی پرندوں کا لشکر قرار دیا گیا ہے۔ “

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (تقریر نمبر3)

حضرت خلیفۃُ المسیح الثالث رحمہ اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
”لیکن ایک شخص جسے مثلاً اللہ تعالیٰ نے ترقی کرنے کی سوا کائیاں عطا کی ہوں مگر وہ اپنے نکمے پن کی وجہ سے ان میں سے پچاس کو ضائع کر دے تو وہ اس سیب کی طرح ہے جس کا آدھا حصہ گلا سڑا ہواہوتا ہے یا اس کی حالت اس آم کی سی ہے جس کی ایک طرف کیڑا لگ جاتا ہے اور دوسری طرف سے قابلِ استعمال بھی ہوتا ہے یا ایک ایسی سیڑھی کی طرح ہے جو درمیان میں سے ٹوٹ گئی ہو یا اس کی مثال ایسے پرندے کی ہے جس کے اڑن پروں ( پرندوں کے جو پر ہوتے ہیں ان کے بعض حصے پرندے کو اڑنے میں مدد دیتے ہیں اور بعض اس کے Balance ( توازن ) کو قائم رکھنے میں مدد دیتےہیں ) میں سے دو چار پَر گر گئے ہوں اور وہ اتنی پرواز کے قابل نہ رہا ہو جتنی پرواز کی طاقت اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کر رکھی ہے۔ ہم نے بعض دفعہ شکار کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ اگر کسی مرغابی کے پر کا اگلا حصہ معمولی سا بھی زخمی ہو جائے تو وہ اپنی ڈار کے ساتھ اُڑ نہیں سکتی ۔ غرض جو چیز اپنی ڈار کے ساتھ اڑ نہیں سکتی اس کے متعلق آپ سمجھ سکتے ہیں کہ پھر وہ منافقوں کی ڈار کے ساتھ مل جاتی ہے۔ منافق کے اندر بھی پہلے تھوڑی سی کمزوری پیدا ہوتی ہے پھر گلے شکوے پیدا ہوتے ہیں جس کی ذمہ داری دراصل خود اس پر عائد ہوتی ہے پھر وہ ایسی تکلیف محسوس کرتا ہے جو درحقیقت کسی اور کی پیدا کردہ نہیں ہوتی ۔“
(خطبات ناصر جلد 2 صفحہ 752(

مزید پڑھیں