صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے صحابہؓ کی مالی قربانیوں کا خود بھی ذکر فرمایا کرتے تھے ۔ آپؑ فرماتے ہیں:
”میاں شادی خان لکڑی فروش ساکن سیالکوٹ ہیں۔ ابھی وہ ایک کام میں ڈیڑھ سو روپے چندہ دے چکے ہیں اور اب اس کام کے لیے دو سو روپے چندہ بھیج دیا ہے اور یہ وہ متوکّل شخص ہے کہ اگر اس کے گھر کا تمام اسباب دیکھا جائے تو شاید تمام جائداد پچاس روپیہ سے زیادہ نہ ہو۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ‘‘چونکہ ایامِ قحط ہیں اور دنیوی تجارت میں صاف تباہی نظر آتی ہے تو بہتر ہے کہ ہم دینی تجارت کر لیں اس لیے جو کچھ اپنے پاس تھا سب بھیج دیااور درحقیقت وہ کام کیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔‘‘
)مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 315۔ اشتہار یکم جولائی1900ء)

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 6)

حضرت میاں محمد دین صاحبؓ 313 اصحاب میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ آپ بچپن میں پنجوقتہ نمازوں اور تہجد کا اہتمام کرتے تھے مگر پھر اپنے ماحول کے زیر اثر تارک صلوٰۃ ہوگئے اور دہریت کا شکار ہوتے گئے۔ تقدیرِ الٰہی کے تابع آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ پڑھنے کی توفیق ملی اور ہستی باری تعالیٰ کے دلائل پڑھ کر دہریت کے سارے زنگ اُتر گئے۔ اُسی وقت کپڑے دھوئے اور گیلے کپڑے پہن کر ہی نماز پڑھنی شروع کی۔ محویت کے عالَم میں ایک طویل نماز پڑھی۔ فرماتے ہیں یہ نماز ’’براہین‘‘ نے پڑھائی اور بعد ازاں آج تک کوئی نماز مَیں نے نہیں چھوڑی۔

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 5)

مکرم مولانا محمد صدیق امرتسری مرحوم سابق مبلغ سیرا لیون اپنی سوانح عمری میں تحریر کرتے ہیں:
جہاں تک مجھے یاد ہے سیرالیون میں الحاج علی روجرز واحد ایسے مسلمان ہیں جنہوں نے احمدی ہوتے ہی الحاج مولانا نذیر احمد علی کی تحریک پر محض اسلام کی تعلیم پر صحیح طور پر عمل کرنے کی خاطر اور خوفِ خدا دل میں رکھتے ہوئے اور قیام شریعت کی غرض سے اپنی 15 بیویوں میں سے صرف چار دیندار اور مناسب حال منتخب کر کے باقی گیارہ بیویوں کو طلاق دے کر با عزت و احترام رخصت کر دیا تھا۔ حالانکہ ان میں سے اکثر اچھے خاندان اور امیر گھرانوں کی با اولاد خواتین تھیں۔
(روح پرور یادیں صفحہ424)

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 4)

حیدرآباد دکن سے بیعت کرنے والے سب سے پہلے خوش قسمت حضرت میر مردان علی صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں:
’’اگر ہماری جانیں بھی حضورؑ کے قدموں پر نثار ہوجائیں تو ہم حقِ خدمت سے سُبکدوش نہیں ہو سکتے۔ ‘‘
(الحکم 21؍جنوری 1903ء صفحہ 4)

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 3)

حضرت قاضی ضیاء الدین صاحبؓ آف قاضی کوٹ ضلع گوجرانوالہ حضورؑ کے دعویٰ سے بہت پہلے فروری 1885ء میں حضورؑ کی زیارت سے پہلی بار مشرف ہوئے اور صرف پانچ روزہ قیام میں حضورؑ کی صحبت سے اس قدر متأثر ہوئے کہ واپس روانگی سے پہلے مسجد اقصیٰ کی دیوار پر یہ فارسی شعر لکھ گئے۔
حسن و خوبی و دلبری بر تو تمام
صحبتے بعد از لقائے تو حرام

یعنی حسن و خوبی اور دل کشی کا خدا داد ملکہ آپؑ کی ذات پر مکمل ہو چکا ہے۔ اس لیے اب کوئی بھی صحبت آپؑ کی صحبت اور ملاقات کے بعد حرام ہے۔
(اصحاب احمد جلد ششم صفحہ11)

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحبؓ کے محاسن کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اُن کے مال سے جس قدرمجھے مدد پہنچی ہے مَیں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اُس کے مقابل پر بیان کر سکوں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم از روحانی خزائن جلد3صفحہ520)

مزید پڑھیں

صحابہ مسیح موعودؑ کی مالی قربانیوں کے ایمان افروز واقعات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے …بہتیرے ان میں سے ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لیے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔‘‘
(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14صفحہ306)

مزید پڑھیں

حضرت غلام رسول راجیکی کے قبولیت دعا کے واقعات

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:
وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَ لۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ (البقرۃ: 187)
اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہیے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔

مزید پڑھیں