
تربیت اولاد کی تاء
” تربیت“ ایک ایسا لفظ ہے جو دل و دماغ اور ذہن میں آتے ہی جب زبان سے باہر اُترتا ہے تو انسان کے وجود کو پکار کر اَور اُسے مخاطب کر کے فیملی اور خاندان کے کوریڈور سے راستہ بناتے ہوئے اور اُس میں موجود ہر مرد ،خاتون اور چھوٹے،بڑے کو اُس کی ذمّہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہوا جب معاشرے، ماحول اور محلے میں بودوباش رکھنے والے لوگوں سے مخاطب ہوتا ہے تو اُنہیں اُن کی عظیم ذمّہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہے جو اسلام احمدیت میں قرآن کریم اور سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک اسٹیج یعنی احادیث اور سنّتِ رسولؐ اور آج کے آخری دَورمیں اقوالِ مسیح موعودؑ و خلفائے کرام سے مزیّن ہوتی ہے۔ اِس معاشرے میں جو افراد اپنی پیدائش کے اغراض و مقاصد کو سمجھتے ہیں وہ مربّی کہلاتے ہیں۔ جو اپنے محدود دائرہ میں اپنے ربّ کے رہنما اصولوں کو اپناتے ہوئے نہ صرف اپنی اولاد کی پرورش اور نگہداشت کرتے ہیں بلکہ تعلیم و تربیت اور اصلاحِ احوال کی ذمّہ داریاں نبھاتے ہیں۔
”تربیتِ اولاد“ اتنا وسیع و بلیغ لفظ ہے جسے ایک اسلامی اصطلاح کے طور پر متعارف کروانا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ میرا مربّی ہونے کے ناطے رجحان اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اور نشوونما تک ہی نہیں رہا ہے بلکہ جہاں جہاں بطورمربّی قیام رہا جماعت کے بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ رہی جسے خاکسار نے اپنی خدا داد طاقت و استطاعت کے مطابق احمدی بچوں اور نوجوانوں سے ذاتی تعلق رکھ کر، اُن کے گھروں میں جا کر، تربیتی اجلاسات، میٹنگز اور سٹنگزمیں اُنہیں دعوت دے کر گفتگو کے ذریعہ، چھوٹےچھوٹے بروشرز ،ہینڈ بلز اور کتابچوں کے ذریعہ اُن کی تربیتی امور کو نبھایا۔ پھر افریقہ میں پورے ساؤتھرن صوبہ کے مربّی ہونے، پاکستان میں مربّی ضلع لاہور، مربّی ضلع پشاور اور مربّی ضلع اسلام آباد اور پھر نائب ناظر اصلاح ارشاد مرکزیہ، قائد تربیت مجلس انصار اللہ پاکستان اور ایڈیٹر روزنامہ الفضل ربوہ ، ایڈیٹر گلدستہ علم و ادب لندن اورایڈیٹرروزنامہ الفضل آن لائن لندن کے ناطے جب تربیتی ذمّہ داریاں بڑھیں تو تربیتی اغراض کے لیے اپنے تربیتی دائرہ کو وسیع کرنا پڑا ۔ ”مشاہدات“ کی جب بِناء ڈالی تو تین سال کےقلیل عرصہ میں 1300 سے زائد منتخب عناوین پر مضامین و تقاریر لکھنے کی توفیق پائی۔ آج جب خاکسار نے ”تربیتِ اولاد“ پر اپنی تقاریر کو Compile کرنے کے لئے ”تربیتِ اولاد“ پر تقاریر کے عناوین کے چناؤ کی کوشش کی تو یہ احساس لوہے کی میخ کی طرح مضبوطی سے دل میں گڑھ گیا کہ میرے تو 1300 کے1300” مشاہدات“ کا تعلق کسی نہ کسی رنگ میں لفظِ” تربیت“ اور لفظِ ”اصلاح“ سے ہے تاہم اِن میں سے اپنی ٹیم کے ممبران سے مشورہ کے بعد تربیت، تعلیم اور اصلاح کے قریب قریب جو عناوین منتخب کئے تو اُن کی تعداد بھی 150 کے لگ بھگ ہو گئی جسے عزیزم زاہد محمود نے 50،50 تقاریر کی صورت میں تین مجموعوں کی شکل دی ہے۔ اُن میں سے پہلی 50 تقاریر حصّہ اوّل کے طورپر پیش ہیں۔ یہ ”مشاہدات“ کے مجموعاتِ تقاریر کی 44 ویں کاوش ہے۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
اس کتاب میں شامل تقاریر کی تیاری میں جن احباب و خواتین یا ان کے مضامین تیار کرنے میں تعاون کرنے والے تمام دوست و خواتین کے لئے دعا کی درخواست ہے۔ جن میں مکرم منہاس محمود صاحب (جرمنی)، مکرم حافظ جہانزیب قریشی صاحب(بیلجیئم)، مکرم تمثیل احمدصاحب، مکرمہ عائشہ چوہدری صاحبہ(جرمنی) خاص طور پر شکریہ کے مستحق ہیں۔ کتاب مدوّن کرنے میں یہ کتاب آپ کے ہاتھوں میں عزیزان فضل عمرشاہد، زاہد محمود، سعید الدین احمد اور عامر محمود کی کوششوں سے پہنچ رہی ہے۔ جَزَاھُمُ اللّٰهُ خَيْرًا كَثِيْرًا وَجَزَاھُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء
مکرم سید طفیل شہبازصاحب قادیان دارالامان سے تحریر کرتے ہیں:
” مشاہدات کے اسلحہ خانہ سے ایک سے ایک بڑھ کر میزائل آہستہ آہستہ لانچ کیا جا رہا ہے۔ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے مشاہدات کی تعداد ایک سے ہزار ہوویں یعنی ایک سے شروع ہو کر اب 1300 تک پہنچ چکی ہے۔ ماشاء اللہ۔ بہت خوب، پُرانی کتب کا از سر نو اجراء اس کے علاوہ ہیں۔ 6500 صفحات سے زائد اس کی مجموعی ضخامت ہوچکی ہوگی۔ اللہ مزید توفیق عطا فرمائے۔ آمین“۔
ایک اَور میسج میں تحریر کرتے ہیں کہ
” مشاہدات اب ایک برانڈ بنتا جا رہا ہے۔“
مکرم ڈاکٹر دلاور احمد صاحب قادیان دارالامان سے تحریر کرتے ہیں:
” مشاہدات میں علم ومعرفت کے خزانے کو دیکھ کر رشک آتا ہے۔ “
۔خاکسار
۔۔۔اسلام ،احمدیت کا ادنیٰ خادم
۔۔۔ابوسعیدحنیف احمد محمود
۔۔۔۔ ۔واقفِ زندگی ،مربّی سلسلہ حال برطانیہ
۔۔۔۔۔ ( شاہد۔ عربی فاضل)
(سابق ایڈیٹر روز نامہ الفضل ربوہ و الفضل آن لائن لندن و نائب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ)
۔۔۔۔.۔20؍اکتوبر2026ء
ویب سائیٹ: www.mushahedat.com
فون نمبر: +44 73 7615 9966
ای میل: hanifahmadmahmood@hotmail.com
انڈیکس
انڈیکس
| نمبر شمار | مشاہدات | عنوان | صفحہ |
| 1 | 964 | تربیتِ اولاد | 1 |
| 2 | 1234 | ”متاعِ آسمانی“)تربیتِ اولاد( | 9 |
| 3 | 47 | تر بیتِ اولا د اور انصار کی ذمّہ داریاں | 17 |
| 4 | 44 | عہد انصار اللہ اور ہماری ذمّہ داریاں | 26 |
| 5 | 46 | تربیت اولاد اور ماؤں کی ذمّہ داریاں (جدید ایجادات کی روشنی میں) | 31 |
| 6 | 29 | عہد لجنہ اماء اللہ اور ہماری ذمّہ داریاں | 41 |
| 7 | 49 | تربیتِ اولاد کے گُر | 49 |
| 8 | 159 | آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی والدین کو بچوں سے دوستانہ تعلق کی تعلیم | 55 |
| 9 | 81 | آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا بچوں کے ساتھ شفقت و محبت بھرا سلوک | 67 |
| 10 | 156 | آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں کو نصائح | 74 |
| 11 | 251 | رحمۃ للعالمینؐ اور عالَمِ اَطفال | 86 |
| 12 | 1016 | آنحضورؐکے دور کے مسلمان بچوں کے سنہری کارنامے | 97 |
| 13 | 323 | حضرت مسیح موعودؑ کا بچوں سے پیار و شفقت اور اُن کی تعلیم و تربیت | 102 |
| 14 | 331 | حضرت مسیح موعودؑ کی اپنی اولاد کے حق میں دعائیں | 110 |
| 15 | 237 | خلفائے احمدیت کی بچوں سے شفقتیں اور حسنِ سلوک | 120 |
| 16 | 34 | والدین سے حسن سلوک | 132 |
| 17 | 1291 | ماں باپ کبھی نہیں مرتے ؟ | 140 |
| 18 | 201 | دُعَاءُ الْوَالِدِ لِوَلَدِ ہٖ کَدُعَاءِ النَّبِیِّ لِاُ مَّتِہ | 151 |
| 19 | 735 | اَلْوَلَدُ سِرٌّ لِاَبِیْہِ | 163 |
| 20 | 28 | اَلْجَنَّۃُ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّہَاتِ | 171 |
| 21 | 1153 | ماں کا نعم البدل کوئی نہیں | 179 |
| 22 | 73 | اچھے احمدی کی اچھی ماں ۔زندہ باد | 191 |
| 23 | 976 | سچّے احمدی کی ماں ۔ زندہ باد | 199 |
| 24 | 186 | احمدی خاتون کے فرائض | 208 |
| 25 | 936 | اولاد دین کی پہلوان ہو (سیرت حضرت مسیح موعودؑ کے تناظر میں ) | 216 |
| 26 | 1292 | اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ(تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) )تقریر نمبر 1) | 226 |
| 27 | 1293 | اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ(تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) (قرآن کریم کی روشنی میں ))تقریر نمبر 2) | 234 |
| 28 | 1294 | اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ(تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) (قرآن کریم کی روشنی میں ))تقریر نمبر 3) | 244 |
| 29 | 1215 | بچے، جماعت کا قیمتی اثاثہ ہیں | 253 |
| 30 | 951 | نَونِہالانِ جماعت | 266 |
| 31 | 539 | احمدی بچوں کا مقام اور ان کے فرائض | 272 |
| 32 | 322 | ایک احمدی مسلم بچے کی ذمّہ داریاں | 277 |
| 33 | 955 | آؤ بچو! لغویات سے کیسے بچیں؟ | 281 |
| 34 | 96 | اطفال کا وعدہ اور بچوں کی ذمّہ داریاں | 288 |
| 35 | 30 | میں اپنا ناصرات کا عہد کیسے پورا کر سکتی ہوں؟ | 296 |
| 36 | 20 | ہیں دیں کی ناصرات ہم،بہار کائنات ہم | 301 |
| 37 | 169 | ہم چھوٹی لجنہ،ناصرات الاحمدیہ کے فرائض | 305 |
| 38 | 1221 | گلشنِ احمد کی ہیں ہم چہچہاتی بُلبلیں | 313 |
| 39 | 16 | میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گی | 320 |
| 40 | 11 | اَلْحَیَاءُ مِنَ الْایْمَانِ | 328 |
| 41 | 92 | خدام الاحمدیہ کا عہد اور نوجوانوں کی ذمّہ داریاں | 333 |
| 42 | 116 | قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی | 343 |
| 43 | 77 | نوجوانوں کو کلائیوں پر دھاگے کے بینڈ، بالی اور لاکٹ پہننے کی ممانعت | 353 |
| 44 | 154 | اَلشَّبَابُ شُعْبَةٌ مِّنَ الْجُنُوْنِ | 364 |
| 45 | 459 | ایک احمدی خادم کے اوصاف ۔ پانچ بنیادی اخلاق | 377 |
| 46 | 74 | پانچ بنیادی اخلاق | 394 |
| 47 | 977 | اسپورٹس مَین سَپِرٹ | 405 |
| 48 | 931 | آج کا نوجوان بطور ایک اُمید کے | 406 |
| 49 | 296 | اچھے دوست بنانے کی اہمیت | 416 |
| 50 | 715 | اللہ ہمارا بہترین دوست ہے | 422 |
ظظظظ
