اسلام میں کفّارہ، فدیہ، دیت، ہدی، قضا اور توبہ کی شرعی حقیقت (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” سو اس طور کی طبیعتیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں کہ جن کا وجود روزمرّہ کے مشاہدات سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کے نفس کا شورش اور اشتعال جو فطرتی ہے کم نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جو خدا نے لگا دیااس کو کون دور کرے ہاں خدا نے ان کا ایک علاج بھی رکھا ہے۔ وہ کیا ہے؟ توبہ واستغفاراور ندامت، یعنی جبکہ بُرا فعل جو ان کے نفس کا تقاضا ہے ان سے صادر ہو یا حسب خاصہ فطرتی کوئی بُرا خیال دل میں آوے تو اگر وہ توبہ واستغفار سے اس کا تدارک چاہیں تو خدا اس گناہ کو معاف کر دیتا ہے۔ جب وہ بار بار ٹھوکر کھانے سے بار بار نادم اور تائب ہوں تو وہ ندامت اور توبہ اس آلودگی کو دھو ڈالتی ہے۔ یہی حقیقی کفّارہ ہے جو اس فطرتی گناہ کا علاج ہے۔“
( براہینِ احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 186۔187، حاشیہ)

مزید پڑھیں

اسلام میں کفّارہ کی حقیقت اور تلافی کا فلسفہ (تقریر نمبر1)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ عُرْضَۃً: اللہ کے نام کو نیکی کرنے میں روک نہ بناؤ مثلاً خدا کی قسم کھا کر یہ کہہ دیا : مَیں فلاں کے ساتھ نیکی نہیں کروں گا، فلاں کے گھر نہ جاؤں گا۔ وغیرہ۔‘‘
(حقائق الفرقان جلد 1 صفحہ 362-361)

مزید پڑھیں

”تُخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’جب ہم بہار کی موسم میں 1905ء میں باغ میں تھے تو مجھے اپنی جماعت کے لوگوں میں سے جو باغ میں تھے کسی ایک کی نسبت یہ الہام ہوا تھا کہ خدا کا ارادہ ہی نہ تھا کہ اُس کو اچھا کرے مگر فضل سے اپنے ارادہ کو بدل دیا۔ اِس الہام کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ سید مہدی حسین صاحب جو ہمارے باغ میں تھے اور ہماری جماعت میں داخل ہیں اُن کی بیوی سختؔ بیمار ہو گئی۔ وہ پہلے بھی تپ اور ورم سے جو مُنہ اور دونوں پیروں اور تمام بدن پر تھی بیمار تھی اور بہت کمزور تھی اور حاملہ تھی پھر بعد وضع حمل جو باغ میں ہوا اس کی حالت بہت نازک ہو گئی اور آثار نومیدی ظاہر ہو گئے اور میں اُس کے لئے دعا کرتا رہا آخر خدا تعالیٰ کے فضل سے اُس کو دو بارہ زندگی حاصل ہوئی۔‘‘
(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ378)

مزید پڑھیں

5 تقاریربعنوان مَنۡطِقُ الطَّیۡرِ

ہم مجلس اطفال الاحمدیہ میں وقت گزار کر مجلس خدام الاحمدیہ میں داخل ہو رہے تھےتو ایک دلچسپ Indoor گیم جو ذہانت والی گیم کہلاتی تھی عام تھی۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ہی جاری کرکے اسے ”مشاہدہ معائنہ“ کا نام دیا تھاجس میں ایک میز یا چارپائی پر بہت سی چھوٹی چھوٹی اشیاء رکھ دی جاتی تھیں۔ جن کی تعداد ایک دفعہ تو 70 کے آس پاس تھی اور اُسے چادر سے ڈھانپ دیا جاتا تھ

مزید پڑھیں

مشکلیں کیا چیز ہیں مشکِل کُشا کے سامنے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ سالہ زندگی جو مکّہ میں گزری۔ اس میں جس قدر مصائب اور مشکلات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آئیں ہم تو اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ دل کانپ اٹھتا ہے جب ان کا تصوّر کرتے ہیں۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عالی حوصلگی، فراخ دلی، استقلال اور عزم واستقامت کا پتہ لگتا ہے کیسا کوہ وقّار انسان ہے کہ مشکلات کے پہاڑ ٹوٹے پڑتے ہیں مگر اس کو ذرا بھی جنبش نہیں دے سکتے۔ وہ اپنے منصب کے ادا کرنے میں ایک لمحہ سست اور غمگین نہیں ہوا۔ وہ مشکلات اس کے ارادے کو تبدیل نہیں کر سکیں‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 516)

مزید پڑھیں

’’ تصویر سےبھی ایک تعلق پیدا ہوتاہے ‘‘ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
” مالی کے ریجن سِکَاسَو کے مبلغ لکھتے ہیں مروان کولی بالی صاحب احمدیہ مشن ہاؤس آئے اور کہا کہ وہ بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ریڈیو احمدیہ شوق سے سنتے تھے اور جماعت کی اکثر باتوں سے مطمئن تھے لیکن بیعت کرنے کو دل نہیں مانتا تھا۔ کہنے لگے: کل جب میری ریڈیو سنتے سنتے آنکھ لگ گئی تو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان میں چاند نہایت روشن ہے اور چاند میں دو اشخاص کی تصویریں نظر آ رہی ہیں۔ ایک تصویر بڑی اور ایک چھوٹی ہے اور قریب کھڑے بچے شور مچا رہے ہیں کہ یہ امام مہدی علیہ السلام اور ان کے خلیفہ کی تصویر ہے۔ وہ آ گئے ہیں۔ مروان صاحب کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے خواب میں ہی قریب کھڑے بزرگ سے دریافت کیاکہ کیا آپ کو بھی تصویر نظر آ رہی ہے، جس پر بزرگ نے تو نفی میں جواب دیا لیکن کہتے ہیں میرا دل مطمئن ہو گیا کہ احمدیت ہی سچی جماعت ہے جو امام مہدی کے ظہور کا اعلان کر رہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلفاء کی تصویریں دیکھیں توحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی تصویر کو پہچان لیا۔ ساتھ میری تصویر بھی تھی اور کہا یہی تو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔“
(خطبہ جمعہ 11؍اگست2023ء )

مزید پڑھیں

’’ تصویر سےبھی ایک تعلق پیدا ہوتاہے ‘‘ (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہم نے اپنی تصویر محض اس لحاظ سے اُتروائی تھی کہ یورپ کو تبلیغ کرتے وقت ساتھ تصویریں بھیج دیں، کیونکہ ان لوگوں کا عام مزاج اس قسم کا ہوگیا ہے کہ وہ جس چیز کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اس کی تصویر دیتے ہیں جس سے وہ قیافہ کی مدد سے بہت سے صحیح نتائج نکال لیتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ18-19)

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (روحانی ہجرت) (تقریر نمبر 5)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ کے ساتھ فرمایا کہ
’’ جس شخص نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی خاطر ہجرت کی اس کی خوشنودی کے لئے اپنے وطن اور خواہشات کو ترک کر دیا تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسولؐ کے لئے ہو گی۔ ‘‘
(بخاری کتاب الایمان باب النیّۃ فی الایمان)

مزید پڑھیں

شِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ (خلفاء کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 4)

حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
”یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ۙ وہُدًی ورَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ
ترجمہ ۔ اے لوگو! تمہارے پاس آئی نصیحت تمہارے ربّ کی طرف سے اور وہ قرآن شفاء ہے ان بیماریوں کے لئے جو سینے میں (شبہات پیدا کرتی) ہیں اور ہدایت اور رحمت ہے مؤمنوں کے لئے۔
هُدًی۔ بیمار کے لئے پہلے ازالۂ مرض کی ضرورت ہوتی ہے پھر قوّت‎ کی ۔ قرآن مجید روحانی امراض کو دور کر کے ترقیات کے لئے قوت دیتا ہے۔ “
(حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ 116 ایڈیشن 2024ء)

مزید پڑھیں

شِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُور (تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ایسی شے ہے جو قلوب کو اطمینان عطا کرتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد:49) پس جہاں تک ممکن ہو ذکر الٰہی کرتا رہے اس سے اطمینان حاصل ہوگا۔ ہاں اس کے واسطے صبر اور محنت درکار ہے۔ اگر گھبرا جاتا اور تھک جاتا ہے تو پھر یہ اطمینان نصیب نہیں ہوسکتا۔ دیکھو! ایک کسان کس طرح پر محنت کرتا ہے اور پھر کسی صبر اور حوصلہ کے ساتھ باہر اپنا غلہ بکھیر آتا ہے۔ بظاہر دیکھنے والے یہی کہتے ہیں کہ اُس نے دانے ضائع کر دیئے لیکن ایک وقت آجاتا ہے کہ وہ ان بکھیرے ہوئے دانوں سے ایک خرمن جمع کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ پر حسن ظن رکھتا ہے اور صبر کرتا ہے ۔ اسی طرح پر مومن جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک تعلق پیدا کر کے استقامت اور صبر کا نمونہ دکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس پر مہربانی کرتا ہے اور اسے وہ ذوق شوق اور معرفت عطا کرتا ہے جس کا وہ طالب ہوتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 7صفحہ93-92)

مزید پڑھیں