قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں تقویٰ کی حقیقی روح
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کثرت سے کیا کرتے تھے کہ :
”اے اللہ! مَیں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور غنا کا سوال کرتا ہوں۔‘‘
(ترمذی کتاب الدعوات)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کثرت سے کیا کرتے تھے کہ :
”اے اللہ! مَیں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور غنا کا سوال کرتا ہوں۔‘‘
(ترمذی کتاب الدعوات)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دشمنان احمدیت کو صد سالہ خلافت جوبلی کے تاریخی خطاب میں مخاطب ہو کر فرمایا تھا ۔
” اے دشمنان احمدیت! مَیں تمہیں دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر تم خلافت کے قیام میں نیک نیت ہو تو آؤ! اور مسیح محمدی کی غلامی قبول کرتے ہوئے اس کی خلافت کے جاری و دائمی نظام کا حصہ بن جاؤ ورنہ تم کوششیں کرتے کرتے مرجاؤ گے اور خلافت قائم نہ کرسکو گے ۔ تمہاری نسلیں بھی اگر اسی ڈگر پر چلتی رہیں تو وہ بھی کسی خلافت کو قائم نہیں کرسکیں گی ۔ قیامت تک تمہاری نسل در نسل یہ کوشش جاری رکھے تب تک کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ “
( خطاب 27 مئی 2008ء)
کنجی(پیش لفظ ) ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 10 ؍اپریل 2026 ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شرک سے نفرت اور توحید کے قیام کے لیے آپؑ کی کوششوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ اس ضمن میں حضور علیہ السلام نے […]
مزید پڑھیںحضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو کہ انسان کو چاہئے کہ… اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ:12) پر عمل کرے۔ خداتعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی تحدیث کرنی چاہئے۔اس سے خدا تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے اور اُس کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے ایک جوش پیدا ہوتا ہے۔ تحدیث کے یہی معنی نہیں ہیں کہ انسان صرف زبان سے ذکر کرتارہے بلکہ جسم پر بھی اس کا اثر ہونا چاہئے۔ ‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ زیر سورۃ الضحیٰ آیت12 )
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ اگر حکومت اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے واضح حکم کے خلاف کوئی حکم دے تو پھر بہرحال اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کا حکم مقدّم ہے۔ لیکن اگر مذہبی معاملات میں دخل اندازی نہیں ہے تو پھر حُکّام، چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم اُن کی اطاعت ضروری ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ5دسمبر2014ء )
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف کی اصطلاح کے روسے خدا تعالیٰ رحیم اس حالت میں کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دعا اور تضرّع اور اعمالِ صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضییعِ اعمال سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔“
(تفسیر سورۃ الفاتحہ از حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ 83 – 85)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ جس بات کو وہ چاہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جو کچھ وہ دیوے کوئی اس کو ردّ نہیں کر سکتا وہ اپنے دین کا حافظ ہے اور تمام ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کریں ۔‘‘
( روحانی خزائن جلد8نور الحق الحصۃ الاولیٰ صفحہ 24)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ حج سے صرف اتنا ہی مطلب نہیں کہ ایک شخص گھر سے نکلے اور سمندر چیر کر چلا جاوے اور رسمی طور پر کچھ لفظ منہ سے بول کر ایک رسم ادا کرکے چلا آوے۔ اصل بات یہ ہے کہ حج ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہے جو کمال سلوک کا آخری مرحلہ ہے۔ سمجھنا چاہیے کہ انسان کا اپنے نفس سے انقطاع کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں کھویا جاوے اور تعشُّق باللہ اور محبتِ الٰہی ایسی پیدا ہوجاوے کہ اس کے مقابلہ میں نہ اُسے کسی سفر کی تکلیف ہو اور نہ جان ومال کی پرواہ ہو، نہ عزیزواقارب سے جدائی کا فکر ہو، جیسے عاشق اور محبّ اپنے محبوب پر جان قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے اسی طرح یہ بھی کرنے سے دریغ نہ کرے۔ اس کا نمونہ حج میں رکھا ہے۔ جیسے عاشق اپنے محبوب کے گرد طواف کرتا ہے اسی طرح حج میں بھی طواف رکھاہے۔‘‘
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 102۔ 103، ایڈیشن 2003ء)
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حجاج کے حق میں بیان کی:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْحَآجِّ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهٗ الْحَآجُّ
)مستدرک حاکم جلد1صفحہ441(
اے اللہ! حاجیوں کو بھی بخش دے اور ان کو بھی جن کے لئے حاجیوں نے بخشش مانگی ہے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ فرماتے ہیں:
’’ قرآن کریم کی بہت تعظیم ہے کہ یہ شعائر اللہ میں سے اعظم ہے۔‘‘
(حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ 148)